Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode04

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode04

ذاکر پولیس کو کال کرنے کے بعد امبولینس کی مدد سے ہانی کو ہوسپیٹل لے گیا.
……
فاخرہ نے ماخر اور ناصر کو اپنے کمرے میں آنے کا بلاوا فادرہ کے ہاتھ بھیجا اورناصر بھاگا چلا آیا
” ماں جی آپ نے ام کو بولایا ? “
” بیٹھو بہت ضروری بات کرنی ہے “
ناصر چیر پر جا بیٹھا
” کہیے ماں جی “
” ماخر کو بھی آنے دو پھر بتاتی ہوں “
ناصر نے سر ہلادیا.
آدھے گھنٹے کے انتظار کے بعد بھی ماخر نا آیا تو فاخرہ کو غصہ آنے لگا
” برخودار ماخر کو بلا کر لاؤ “
ناصر اٹھ کر باہر کی طرف بڑھا اور ماخر کے کمرے کا رخ کیا.
ماخر چیر پر بیٹھا چائے سے لطف اندوز ہورہا تھا
” لالہ ماں جی آپ کو بلارہی ہیں “
” ام نہیں آئے گا ” ماخر نے بگڑے ہوئے لہجے میں کہا
” کیوں ? “
ماخر خاموش رہا. ناصر واپس فاخرہ کے کمرے میں چلا آیا
” لالہ نے آنے سے انکار کردیا ہے “
فاخرہ سرخ چہرہ لیے ہوئے ماخر کے کمرے میں چلی آئیں. ماخر فاخرہ کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا
” برخودار تمہیں زرا شرم نا آئی اپنی ماں کو انکار کرتے ہوئے ? “
” ماں جی آپ …..”
” چپ ایک دم چپ تمہارا باپ آج زندہ ہوتا تو تمہاری اس گستاخی پر زبان گدی سے کھنچ لیتا “
ماخر سر جھکا کر کھڑا ہوگیا
” آگلے جمعے عامرہ کی رخصتی کردی جائے گی کوئی اعتراض ہو تو شام کو میرے کمرے میں آکر بتا دینا.” کہہ کر فاخرہ نے باہر کی طرف قدم بڑھائے.
……..
پیٹ زیادہ زخمی ہونے کی وجہ سے ٹانکے لگانے پڑے تھے جبکہ ٹانگوں پر ویسے ہی پٹیاں کردی گئی تھیں.
ذاکر ٹانگ پر پٹی کروا کر پچھلے پانچ گھنٹے سے ہانی کا ہاتھ پکڑ کر چیر پر بیٹھا تھا.
” جگر کچھ دیر آرام کرلے جب بھابھی کو ہوش آئے گا میں تجھے جگا دوں گا ” ناری نے ذاکر کے قندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
ذاکر نے نا میں سر ہلایا
” ذاکر یار بھابھی بلکل ٹھیک ہیں “
” ان آدمیوں کے بارے میں کچھ پتہ چلا ? “
” ہتھیاروں پر جمع خون دیکھ کر لگتا ہے پروفیشنل کیلر ہیں باقی ابھی انویسٹیگیشن ہورہی ہے. ویسے مجھے لگتا ہے بھابھی کو مروانے کے لیے کسی نے ان دو آدمیوں کا انتخاب کیا تھا “
” اگر ایک پرسینٹ بھی تمہارا اندازا سہی نکلا تو وہ دونوں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور جس کے کہنے پر انہوں نے قتل کرنے کی کوشش کی تھی اس کو تو زندہ زمین میں گاڑ دوں گا “
ناری خاموش ہوگیا ذاکر کو سمجھانا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا.
” جگر میں جارہا ہوں اللہ حافظ “
” کچھ پتہ چلے تو بتانا “
” ٹھیک ہے فی امان اللہ ” کہتے ہوئے ناری باہر کی طرف بڑھا
ذاکر نے اپنے ہاتھ میں موجود روئی جیسے ہاتھ پر ہونٹ رکھ دیے اور آہستہ سے کہا
” مائی لیٹل گرل جب تک میں زندہ ہوں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا یہ میرا وعدہ ہے ” اور بیڈ پر سر ٹکا دیا.
…….
” کام ہوگیا ? ” ماخر نے رعب دار لہجے میں کہا
” نہیں ہوا “
” کیوں نہیں ہوا ? “
” ویڈیو میل کر رہا ہوں دیکھ لیجیے گا ” اور کال کاٹ دی
ماخر کو انگلینڈ جانے سے فاخرہ نے منا کر دیا تھا جس پر ماخر کو تپ چڑگئی اور اس نے حمر کو کال کرکے مدد طلب کی. حمر نے ماخر کو کنڑیکٹ کیلرز کے باس کا نمبر دے کر مزید مدد کرنے سے انکار کر دیا مگر ماخر اتنی سی مدد پر بھی بہت خوش ہوا اور کال پر حمر کا حوالہ دے کر ہانی کو کڈنیپ کرکے پاکستان لانے کا کہا باس مان گیا اور پے منٹ پہلے کرنے کا کہا ماخر نے پے منٹ کر دی اور مطمین ہوگیا کہ ہانی کے پیچھے ذاکر بھی پاکستان بھاگا چلا آئے گا.
ماخر ویڈیو دیکھ کر ساکت رھ گیا
” یہ ہانی نے تلوار بازی کب سیکھی ? اور ذاکر کیسے ہانی تک پہنچا ? “
ماخر نے غصے سے لیپ ٹاپ اٹھا کر دیوار پر مارا
” ذاکر پاکستان تو تمہیں آنا ہی ہوگا ” اور ذاکر کو پاکستان بلانے کے طریقے سوچنے لگا.
دروازے پر دستک کی آواز پر چونکا
” خان صائب (صاحب) ماں جی بلا رہی ہیں ” ماخرہ نے سر جھکا کر کہا
” آتا ہوں ” ماخر نے منہ بسور کر جواب دیا
ماخرہ کمرے سے نکل گئی.
” اب ماں جی نے کیوں بلایا ہے ? ” ماخر خود سے سوال کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور فاخرہ کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے.
فاخرہ کے کمرے میں تمام گھر والے موجود تھے سوائے خان اور علیزہ کے.
” جی ماں جی “
” آؤ برخودار ” فاخرہ نے نرم لہجے میں کہا
ماخر ناصر کی ساتھ والی چیر پر جا بیٹھا
” آج سوموار ہے اگلے جمعے کو عامرہ کی رخصتی کردی جائے گی کیا کسی کو کوئی اعتراض ہے ? “
” ماں جی خان ہوسپیٹل میں ہے ” ماخرہ نے کہا
” ام کو بھی پتہ ہے ” فاخرہ نے آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا
” جیسا آپ مناسب سمجھیں ” ماخر دوپہر کے وقت فاخرہ سے کافی بے عزتی کروا چکا تھا اس لیے ہامی بھرنے میں ہی عافیت جانی.
” دادی ماں ام ایک بات کہنا مانگتا ہے ” عامرہ نے جھجکتے ہوئے کہا
” بولو لڑکی “
” ام کی خوائش ہے کہ ہانی اور ذاکر لالہ بھی اس تقریب میں شامل ہوں ” عامرہ نے لہجے کو مظبوط رکھتے ہوئے کہا
” ہرگز نہیں ” ماخر نے سخت لہجے میں کہا
” برخودار تم کون ہوتے ہو یہ فیصلہ کرنے والے ام ابھی زندہ بیٹھا ہے یہ فیصلہ ام کرے گا اور ام کا فیصلہ ہے کہ عامرہ کی خوائش پوری کی جائے “
عامرہ کا دل بلیوں اچھلنے لگا.
عامر عامرہ کو گھورتے ہوئے اٹھ کر کمرے سے نکل گیا اور عامرہ کا دل بیٹھنے لگا.
ماخر اور ماخرہ بھی اٹھ کر کمرے سے نکل گئے.
” لڑکی ام کو ہانی کا نمبر دے دینا ام خود دو تین دن تک ہانی کو کال کرے گا ” فاخرہ نے عامرہ کو مخاتب کیا
” جی دادی ماں ” عامرہ اٹھ کر کمرے سے نکل گئی
” عامر ناراض ہوگئے ” کہتے ہوئے عامر کے کمرے کا رخ کیا.
……
آخر کار بارہ گھنٹے گزرنے کے بعد ہانی کو ہوش آگیا تھا اور ذاکر کو دیکھ کر پھوٹ ہھوٹ کر رونے لگی ذاکر تڑپ اٹھا
” جانِ ذاکر کیا ہوا ? ” ہانی کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا
” ذاکر .. ” ہانی بولنے لگی مگر الفاظ گلے میں ہی اٹک گئے
” ہانی ریلکس کچھ بھی نہیں ہوا کسی نے تمہیں ہاتھ تک نہیں لگایا ” ذاکر نے ہانی کی سوچ پڑھتے ہوئے کہا
ہانی کو تھوڑا سکون محسوس ہوا اور آنکھیں بند کرلیں.
ذاکر ہانی کے چہرے پر جھکا اور آنکھوں پر ہونٹ رکھ دیے ساتھ ہی آنکھوں سے ایک آنسوں ٹوٹ کر ہانی کے ماتھے پر گرا.
ہانی نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں
” ذاکر آپ رو کیوں رہے ہیں ? “
” ہانی میں تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو ذاکر جیتے جی مر جاتا ” ہانی کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے کر ذاکر نے آنسوں کو آنکھوں کی باڑ پار کرنے سے روکتے ہوئے کہا
ہانی نے ذاکر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
” Don’t be sad i’m always with you. I’m in your soul So how can you be separated from me ? “
ذاکر کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی. آنکھیں بند کیں اور پیشانی پر ہونٹ رکھ دیے.
……..
عامر کے کمرے میں داخل ہوکر لائٹ جلائی تو عامر اوندھے منہ بیڈ پر لیٹا تھا.
” عامر “
عامر خاموش رہا
” عامر ام سے ناراض ہیں ? “
” جب ام پہلے منا کر چکا تھا کہ ہانی کو نہیں بلانا تو پھر یہ کیوں کیا تم نے ? کیا ام کی بات تمہارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ? ” عامر نے سرد لہجے میں کہا
عامرہ کی آنکھ سے آنسوں گرا
” عامر ایسی بات نہیں ہے. ہانی سب کو بہت مس کرتی ہے اور سب سے ملنا بھی چاہتی ہے “
” تم ہانی سے رابطے میں ہو ? “
عامرہ نے صرف ہاں میں گردن ہلا دی.
عامر اٹھ بیٹھا
” ام کو بتاؤ ہانی کیسی ہے ذاکر اس کا خیال رکھتا ہے کہ نہیں ? ” عامر نے بے تابی سے پوچھا
” ہانی بہت خوش ہے ذاکر لالہ اس کا بہت خیال رکھتے ہیں “
عامر ہنسنے لگا
” چلو ٹھیک ہے ام کو کوئی اعتراض نہیں “
عامرہ نے دل میں شکر ادا کیا
” ایک کپ چائے بنا دو “
” ابھی لاتی ہوں ” عامرہ نے ہنستے ہوئے باہر کی طرف قدم بڑھائے.
…….
ماخر کمرے میں غصے سے ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا مگر پھر یک دم رک گیا
” یہی تو ام بھی چاہتا تھا کہ ذاکر پاکستان آئے “
” ذاکر ام انتظار کرے گا جلدی آنا ” کہتے ہوئے ماخر کے چہرے پر کمینگی سے بھری مسکراہٹ ابھر آئی.
……
ہانی کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا مگر مکمل ریسٹ کی ضرورت تھی.
ذاکر نے ہیکر سے دو ہفتہ کے لیے کمپنی نا آنے کی اجازت لے لی اور مکمل طور پر ہانی کا خیال رکھ رہا تھا.
رات کے درمیانہ پہر میں ہانی نے سوئے ہوئے ذاکر کو ہلایا
” ذاکر “
” ہمم ” کہہ کر ذاکر نے کروٹ بدلی
” مجھے نیند نہیں آرہی “
ذاکر کی طرف سے جواب نا پاکر ہانی نے تھوڑا سا اوپر ہوکر دیکھا ذاکر پھر سے سو چکا تھا.
ہانی نے ذاکر کے بکھرے بالوں کو سیٹ کیا
ذاکر کی آنکھ کھل گئی اور ہانی کی طرف کروٹ لی
” تمہیں رات کو بھی سکون نہیں ہے “
ہانی نے منہ پھولا لیا
” اب میں نے کیا کیا ہے ? “
” مجھے نیند آرہی ہے اس لیے اب نا چھیڑنا ” ذاکر نے نیند سے بھری آنکھیں کرتے ہوئے کہا
” مجھے نیند نہیں آرہی “
” کیوں ? ” بند آنکھوں سے سوال کیا گیا
” میرا بولنے کو دل کر رہا ہے “
ذاکر نے جھٹ سے آنکھیں کھول لیں
” اللہ اللہ لڑکی سارا دن تم چپ نہیں کرتی اور اب بھی تمہارا بولنے کو دل کر رہا ہے “
” آپ کو میرے بولنے پر اعتراض ہے ? ” ہانی نے منہ پھولا لیا
” نہیں زیادہ بولنے پر “
” میں تو بولنا شروع کرنے لگی ہوں “
ذاکر نے گھورا
” خبردار جو بولنا شروع کیا مجھے نیند آرہی ہے چپ کرکے تم بھی سو جاؤ “
ہانی بولنے لگی مگر ذاکر نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور آنکھیں بند کرلیں.
ہانی چہرے سے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی مگر ذاکر نے ہاتھ نا ہٹایا. ہاتھ ہٹانے کی کوشش ترک کرکے برا سا منہ بنا لیا.
….
کال کی آواز پر ذاکر کی آنکھ کھل گئی اور ہانی کے موبائل پر انجان نمبر سے کال آتی دیکھ کر کال پک کرلی.
” ہیلو “
” ہانی “
بوڑھی عورت کی آواز سن کر ذاکر نے موبائل کان سے ہٹا کر دیکھا مگر پھر واپس کان کو لگا کر کہا
” آپ کون ? “
” تم یقینا ذاکر ہو ? “
” آپ ہیں کون ? “
” ہانی کی دادی ماں فاخرہ نور “
ذاکر کے ماتھے پر بل پڑگئے
” جی بولیں کیوں فون کیا ہے ? “
ذاکر کی غصے سے بھری آواز سن کر ہانی جاگ گئی
” ذاکر کیا تم نے اب تک ام کو معاف نہیں کیا ? “
” نہیں “
ہانی ذاکر کو اپنے موبائل پر بات کرتے ہوئے دیکھ کر ٹھٹکی
” ہانی کہاں ہے ? “
” آپ کو ہانی سے کیا کہنا ہے ? ” ہانی نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا کہ کس کی کال ہے. ذاکر نے چپ رہنے کا اشارہ کیا
” جمعے کو عامرہ کی رخصتی ہے اور ام سب کی خوائش ہے کہ تم اور ہانی اس میں شرکت کرو “
” ہم نہیں آئیں گے ” کہہ کر فون بند کردیا
” ذاکر کس کی کال تھی ? “
” تمہاری دادی ماں کی “
ہانی کا منہ کھل گیا
” کیا کہا انہوں نے ? “
ذاکر نے ساری بات ہانی کے گوش گزار دی.
” ذاکر ہم کو جانا چاہیے “
” آج ٹانکے کھولوانے ہوسپٹل جانا ہے جلدی سے منہ ہاتھ دھوکر کپڑے بدل لو ” ذاکر نے بات بدلتے ہوئے کہا
” ذاکر پلیز “
ذاکر نے بیڈ سے اتر کر ہانی کو اٹھایا اور واش روم کے پاس جاکر اتار دیا
” منہ دھو کر آؤ “
ہانی نے کسی اور وقت بات کرنے کا سوچ کر واش روم کا رخ کیا.
ذاکر ہانی کو ہوسپٹل لے آیا اور ٹانکے کھولوانے کے بعد چیک اپ کروا کر گھر لے آیا.
ہانی کو اب بھی ریسٹ کی ضرورت تھی اس لیے ہانی کو سونے کا کہہ کر موبائل لے کر کمرے سے نکل گیا
” ناری کم از کم ایک ہفتہ ہوگیا ہے اور ابھی تک تم نے ان آدمیوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا “
” یار وہ آدمی منہ کھولنے کا نام ہی نہیں لے رہے کرنٹ کے جھٹکے تک لگوائے ہیں مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہوا “
” کچھ بھی کرو مگر جلدی پتہ لگواؤ “
” کوشش کر رہا ہوں. بھابھی کی طبیت کیسی ہے ? “
” آگے سے کافی بہتر ہے “
” اللہ ان کو صحت و تندرستی عطا کرے “
” آمین “
” اللہ حافظ “
” اللہ حافظ ” کہہ کر کال بند کی اور کمرے میں چلا آیا.
ہانی بیڈ کی جگہ دیوان پر لیٹی تھی
” کیا تم ٹھیک ہو ? ” ذاکر نے دیوان کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے پریشانی سے پوچھا
” ہاں بلکل ٹھیک ہوں “
ذاکر نے دیوان پر بیٹھ کر ہانی کا سر اپنی گود میں رکھ لیا اور ہاتھ سے بال سلجھانے لگا
” پریشان ہو ? “
” ذاکر میں پاکستان جانا چاہتی ہوں “
” کیوں ? “
” مجھے سب بہت یاد آتے ہیں ماں جی اور عامرہ سے تو بات ہوجاتی ہے مگر لالہ اور بابا نے کبھی بات نہیں کی. اب دادی ماں بولا رہی ہیں تو چلتے ہیں نا “
ذاکر خاموش رہا
ہانی نے معصوم سا منہ بنا کر کہا
” ذاکر پلیز “
” نہیں ” ذاکر نے سخت لہجے میں صاف انکار کردیا.
ہانی بڑبڑائی
” benim kızgın adam ” ( My angry man )
ذاکر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی.
” ذاکر مان جائیں نا پلیز “
” لیٹل گرل نو ” ذاکر نے ہانی کے بالوں کو چھیڑتے ہوئے کہا
ہانی نے ذاکر کا ہاتھ بالوں سے ہٹاکر کہا
” ٹھیک ہے میں اکیلی چلی جاؤں گی “
ذاکر کی رگیں تن گئیں مگر چند لمحوں کے بعد پاسپورٹ کا خیال آتے ہی چہرے پر مسکراہٹ ابھر آئی.
” Aşkım ” ( My love )
ہانی کو لگا ذاکر پاکستان جانے کے لیے مان گیا ہے اور ہنسنے لگی.
” تم چاہ کر بھی نہیں جا پاؤ گی ” کہتے ہوئے ذاکر دیوان سے اٹھ گیا اور ہانی کی مسکراہٹ سمٹ گئی.
ذاکر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا اور ہانی کا دل کر رہا تھا اونچی اونچی روئے.
#جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *