Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode03

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode03

عامر نے عامرہ کی رخصتی کی درخواست سیدھی فاخرہ کے سامنے پیش کی تھی
” دیکھو لڑکے خان ابھی ہوسپٹل میں ہے اس لیے عامرہ کی رخصتی ابھی نہیں ہوسکتی “
” دادی ماں تو ام عامرہ کو ایسے ہی اپنے کمرے میں لے جائے گا “
” لڑکے ام کے سامنے زبان نا چلاؤ “
” دادی ماں …” فاخرہ نے مزید بولنے سے روک دیا
” تم اب جا سکتے ہو “
” آج رات عامرہ ام کے کمرے میں ہی گزارے گی. آپ رخصتی نہیں کرنا چاہتیں تو نا کریں ” عامر غصے سے کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا
فاخرہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئیں اور کمرے سے نکل کر فادرہ ( نوکرانی ) کو آوازیں دینے لگی
” جی مالکن ” فادرہ بھاگتی ہوئی آئی اور سر جھکا کر کھڑی ہوگئی
” عامرہ کو بلا کر لاؤ “
فادرہ سر ہلاتے ہوئے عامرہ کے کمرے کی طرف بڑھی.
….
عامر فاخرہ کے کمرے سے نکل کر سیدھا عامرہ کے روم میں چلا آیا.
عامرہ بے خبر سو رہی تھی عامر اندر داخل ہوا اور دروازہ لاک کرلیا. چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا بیڈ کی طرف بڑھا اور بیڈ پر بیٹھ کر عامرہ کو پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگا.
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی
” بی بی جی مالکن بولا رہی ہیں “
زور زور سے دروازہ پیٹنے کی آواز پر عامرہ کی آنکھ کھل گئی اور عامر کو اپنے چہرے پر جھکا ہوا دیکھ کر چیخنے لگی تھی مگر عامر نے جھٹ سے منہ پر ہاتھ رکھ دیا.
” آج کی رات تم ام کے کمرے میں گزارے گا “
عامرہ کا گلا خشک ہوگیا اور کپکپاتی انگلیوں سے ہاتھ ہاٹنے لگی. عامر نے ہاتھ پیچھے کر لیا
” مگر رخصتی ? “
” دادی ماں رخصتی کے لیے نہیں مان رہیں “
” عامر آپ ان ….”
عامر نے پھر سے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
” ان کی بہت پرواہ ہے ام کی پرواہ تو کبھی کی نہیں “
عامرہ رونے والی ہوگئی.
عامر نے ہاتھ ہٹایا اور اٹھ کھڑا ہوا پھر جھک کر عامرہ کو اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھا
” عامر ..”
” ششش “
عامرہ نے زور سے آنکھیں بند کرلیں.
عامرہ کو اٹھائے ہوئے ہی عامر نے بڑی مشکل سے لاک کھولا اور باہر کی طرف بڑھا. فاخرہ عامر کے بازؤں میں عامرہ کو دیکھ کر غصے میں آگئیں
” لڑکے یہ کیا حرکت ہے ? “
” دادی ماں آپ مان جاتیں تو ایسا نا ہوتا “
” لڑکے عامرہ کو نیچے اتارو “
” نہیں” عامرہ بند آنکھوں سے خیر کی دعا مانگ رہی تھی.
عامر اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھنے لگا
” لڑکے رک جاؤ “
عامر چپ چاپ اپنے کمرے میں داخل ہوا اور پیر سے دروازہ بند کرکے عامرہ کو بیڈ پر بیٹھا کر واپس دروازے کی طرف بڑھا.دروازے کو لاک لگا کر ہنستا ہوا ڈری ہوئی عامرہ کو دیکھنے لگا
” اتنا ڈر کیوں رہی ہو ? ” چلتا ہوا بیڈ پر آکر بیٹھ گیا
” وہ دادی ماں ” عامرہ نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا
” صبح ہونے دو تھوڑا غصہ کریں گئیں پر وہ مان جائیں گئیں ” کہتے ہوئے عامرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا
” عامرہ گبھراؤ نہیں بس دادی ماں کا فیصلہ بدلنے کے لیے تمہیں اپنے کمرے میں لایا ہوں “
عامرہ سر ہلا کر رھ گئی.
عامر عامرہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
” تم رخصتی پر کس رنگ کا جوڑا پہنو گی ? “
عامرہ خاموش رہی
” بتاؤ نا پلیز ام بھی اسی رنگ کی شیروانی سلاوائے گا “
” گرے اور بلیک “
” واؤ نائس چلو ٹھیک ہے ام بھی اسی رنگ کی شیروانی پہنے گا “
عامرہ ہنسنے لگی پھر سنجیدہ ہوکر کہا
” رخصتی پر ہانی کو بلوائیں گے نا ? “
” نہیں ” عامر سخت لہجے میں بولا
” کیوں ? ہانی بے قصور ہے “
” ام جانتا ہے مگر وہ ذاکر شاہ بھی ہانی کے ساتھ آئے گا اس لیے ام ہانی کو نہیں بلائے گا “
” ذاکر لالہ بہت نائس ..”
” چپ ” عامر نے گود سے سر اٹھایا اور بات کاٹتے ہوئے کہا
عامرہ ڈر کر چپ کر گئی.
عامر بیڈ سے اٹھا اور دوسری سایڈ پر جاکر لیٹ گیا. عامرہ رونے لگی
سسکیوں کی آواز پر عامر نے سایڈ بدلی اور عامرہ کا ہاتھ پکڑ کر کھنچا.
عامرہ عامر کے سینے سے جالگی. عامر نے آنسوں پر ہونٹ رکھ دیے
” سب کچھ بھول جاؤ بس ام کو محسوس کرو “
…..
فاخرہ کی رات آنکھوں میں کٹی تھی. صبح ہوتے ہی فاخرہ کمرے سے نکل آئیں اور ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھ کر بڑبڑانے لگیں
” گھر کا ایک فرد بھی ام کو سکون سے جینے نہیں دے گا “
” کیا ہوا ماں جی ? ” ناصرہ رات والے واقع سے ناواقف تھیں اس لیے پوچھنے لگی. فاخرہ بولنا شروع ہوگئیں اب ناصرہ کی خیر نہیں تھی
” اپنی اولاد کی تریبت نا تو ماخرہ نے اچھی کی اور نا ہی تم نے. تیری نکمی اولاد ایک بات تک نہیں مانتی کل رات بغیر رخصتی کے تیرا بے شرم لڑکا عامرہ کو اٹھاکر اپنے کمرے میں لے گیا تھا “.
ناصرہ شرمندہ ہوگئیں.
…..
عامر اور عامرہ جلدی اٹھ گئے تھے مگر عامر عامرہ کو باہر جانے کی اجازت نہیں دے رہا تھا
” دیکھیں دس بج گئے ہیں اب ام کو جانے دیں “
” ابھی نہیں “
” پھر کب ? “
فاخرہ نے تنگ آکر عامر کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا
” لڑکے دروازہ کھولو “
عامر کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی عامرہ کے نزدیک ہوکر کہا
” چلو فریش ہوکر آؤ “
” نہیں ام کا دل نہیں کر رہا “
عامر نے آنکھیں دیکھائیں
” جلدی اٹھو “
عامرہ برے برے منہ بناتی ہوئی اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھی.
عامر بیڈ سے اتر کر دروازے کی طرف قدم بڑھانے لگا اور دروازہ کھول دیا
” اوہ دادی ماں آپ صبح صبح …” جمائی روکتے ہوئے عامر نے کہا
” دس بج رہے ہیں “
عامر نے کلاک کی طرف دیکھا
” اف اتنا زیادہ ٹائم ہوگیا ام کو تو فیکڑی جانا تھا “
” عامرہ کہاں ہے ? “
” نہا رہی ہے ” کہتے ہوئے عامر نے سمائل روک لی
فاخرہ کا غصہ عروج پر پہنچ گیا
” بے شرم لڑکے اب ام تمہیں کیا کہے ? “
” کیا مطلب ? ” عامر نے معصوم سا منہ بناکر کہا
” ام نے اگلے ہفتے رخصتی کا فیصلہ کیا ہے “
عامر کا دل بلیوں اچھلنے لگا
” ویسے اب رخصتی کی ضرورت نہیں ہے ” عامر نے پرسکون لہجے میں کہا
فاخرہ غصے سے بھریں واپس چلی گئیں اور عامر ہنسنے لگا
” مانا آپ بہت تیز ہیں مگر ام سے زیادہ نہیں “
……
ذاکر یونیورسٹی سے آتے ہی دھڑم سے بیڈ پر گرگیا
” لیٹل گرل سر ہی دبا دو بہت درد ہورہا ہے “
ہانی نے غصے سے کہا ” گلا نا دبا دوں ” اور دیوان پر جا بیٹھی.
ذاکر نے سر اٹھاکر ہانی کے سرخ اناری چہرے کو دیکھا
” دبا دو ” اور مسکراہٹ روک لی
ہانی غصے سے بھری گلا دبانے کے ارادے سے دیوان سے اٹھی اور بیڈ کی طرف قدم بڑھائے.
ہانی جیسے ہی بیڈ کے پاس پہنچی ذاکر نے ہاتھ کھنچ کر اپنے اوپر گرا لیا. پوزیشن چینج کی اور ہانی کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑلیے.
ہانی تڑپ اٹھی
” میرے ہاتھ چھوڑیں “
” نہیں تم نے بال ہی کھنچنے ہیں “
” ذاکر “
” اوں ہوں ” اور ہانی کے بالوں میں چہرا چھپانے لگا
ہانی خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی.
” ذاکر مجھے چھوڑ دیں ورنہ … “
” کیا ? ” ذاکر آنکھوں میں شرارت لیے ہانی کو دیکھ رہا تھا
” میں ناراض ہوں ” ہانی ذاکر کی نظروں سے کنفیوز ہورہی تھی
” منانے کی ہی کوشش کررہا ہوں “
” ایسے مناتے ہیں ? ” ہانی نے خفگی سے بھرے لہجے میں کہا
” شاید. ویسے مجھے کیا پتہ کیسے مناتے ہیں. پہلی بار زندگی میں کسی کو منا رہا ہوں ” ذاکر نے معصوم سا منہ بناکر کہا
ہانی ذاکر کے معصومانہ انداز پر ہنسی نا روک سکی
” تم مان گئی ? “
” نہیں ” ہانی نے سیرس ہوکر کہا
” ٹھیک ہے پھر میں اپنا منانے کا طریقہ جاری رکھتا ہوں ” اور ہانی کے چہرے پر جکھا
” نہیں. میں ناراض نہیں ہوں “
” سچ میں ? “
” ہاں. اب چھوڑیں مجھے ” ہانی نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
ذاکر نے شرارت کی اور اٹھ کھڑا ہوا.
” بدتمیز ” کہہ کر ہانی نے جلدی سے کمبل چہرے تک اوٹھ لیا.
ذاکر گاڑی کی چابی لے کر جیسے ہی کمرے سے نکلا ہانی نے چہرے سے کمبل ہٹایا اور اٹھ بیٹھی.
” جب دل کرتا ہے گھر سے نکل جاتے ہیں اور اگر میں گھر سے نکل جاؤں تو ڈانٹنا شروع کردیتے ہیں. حد ہے “
کہتے ہوئے بیڈ سے اتر گئی اور دیوان سے موبائل اٹھاکر واپس بیڈ پر آکر بیٹھ گئی
” دس کالز “
ہانی نے عامرہ کو کال ملا لی
” کہاں تھی اتنی دیر سے ? ” عامرہ خفگی سے بھرے لہجے میں بولی
” فون سائلنٹ پر تھا “
” اوہ میں سمجھی… “
” کیا ? “
” کچھ نہیں ذاکر لالہ ابھی گھر سے گئے ہیں نا ? “
” ہاں مگر تمہیں کیسے پتہ ? “
” اوہ تبھی فون نہیں اٹھا رہی تھی “
” کہنا کیا چاہتی ہو ? “
” ہاہاہاہا “
” عامرہ کیا مسلہ ہے ? ہنس کیوں رہی ہو ? “
” خود سمجھ جاؤ خیر جلد ہی ام کی رخصتی ہے ” عامرہ نے ہنستے ہوئے کہا
” ہائے سچیں میں …” ہانی کہتے کہتے رک گئی
” ہانی ذاکر لالہ کی وجہ سے عامر تمہیں بلانا نہیں چاہتے “
” اور ذاکر کے بغیر میں آنا نہیں چاہتی ” ہانی نے سنجیدہ لہجے میں کہا ” ہاں بلکل عامر بھی فون کریں تب بھی ذاکر لالہ کے بغیر آنے کی ہامی نا بھرنا “
” ٹھیک ہے مبارک ہو “
” خیر مبارک “
” باقی سب کیسے ہیں ? “
” ٹھیک ہیں “
” اوکے پھر اللہ حافظ ” کہتے ہوئے ہانی نے کال کاٹ دی.
عامرہ کا فون سن کر ہانی افسردہ ہوگئی تھی.
ہانی اٹھ کھڑی ہوئی اور دیوان سے سٹالر اٹھاکر شیشے کی طرف بڑھی سٹالر لے کر موبائل پوکٹ میں ڈال لیا.
ذاکر کو بغیر بتائے کوٹ پہنتے ہوئے گھر سے نکل آئی اور پنٹ کی پوکٹس میں ہاتھ ڈال کر چلنے لگی. ابھی تھوڑا سا ہی فاصلہ تہہ کیا تھا جب ہانی کو محسوس ہوا کوئی اس کا پیچھا کررہا ہے مڑ کر دیکھا پر کوئی نہیں تھا ہانی پھر سے سیدھا منہ کرکے چلنے لگی.
کچھ دیر بعد قدموں کی چاپ سنائی دی ہانی نے ڈرتے ہوئے مڑ کر پیچھے دیکھا مگر پیچھے اب بھی کوئی نا تھا ہانی بھاگنے لگی اور بھاگتے بھاگتے بہت دور نکل آئی . پینٹ کی پوکٹ سے موبائل نکالنے لگی مگر آواز پر چونکی
” hy cute lady “
دو بڑے بڑے آدمی جن کے چہرے سے ہی وحشی پن چھلک رہا تھا پتا نہیں کہاں سے نکل کے ہانی سامنے آکر کھڑے ہوگئے اور گھور گھور کر ہانی کو دیکھنے لگے.
” ذاکر ” ڈر کی وجہ سے ہانی کے منہ سے بے اختیار نکلا
ایک آدمی اگے بڑھا اور منہ پر رومال رکھ کر بے ہوش کردیا.
…….
ہانی کو ہلکا ہلکا ہوش آرہا تھا جب آواز سنی
” take off her cloth “
ہانی کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی.
” ہانی اپنی عزت کی حفاظت کرو ” ہانی کا دماغ دل صرف یہی بات بار بار کہہ رہا تھا.
” میرے مولا میری مدد کرنا ” ہانی نے دل میں التجا کی
آدمی نے آگے بڑھ کر رسی کھولی اور سٹالر کو ابھی ہاتھ ہی لگایا تھا جب ہانی نے ایک زور دار ٹانگ آدمی کے پیٹ میں ماری.
آدمی لڑکھڑا کر سمبھل گیا
دوسرا آدمی ” You bitch ” کہتے ہوئے ہانی کی طرف بڑھا
ہانی نے اردگرد نظر دوڑائی کے شاید کچھ مل جائے. کچھ دور ٹیبل پر ہر قسم کا ہتھیار موجود تھا جن پر خون لگا ہوا تھا ہانی کی روح تک کانپ گئی اور آدمی کا دھیان نا رہا.
آدمی نے ایک زور دار تمانچہ ہانی کے منہ پر رسید کیا ہانی دھڑم سے ٹیبل کے پاس جاگری. دونوں آدمی ٹیبل کی طرف بڑھے اور تلواریں اٹھائیں. ایک آدمی نے جھک کر ہانی کو کوٹ سے کھنچ کر اٹھایا. ہانی نے اٹھتے اٹھتے ٹیبل پر پڑی تلوار اٹھالی اور تلوار کی بیک سایڈ آدمی کے ماتھے پر ماری آدمی لڑکھڑایا اور ہانی کا کوٹ ہاتھ سے چھوٹ گیا.
ہانی تلوار چلانے میں ماہر نہیں تھی مگر فائٹنگ سیکھنے کے ساتھ تلوار بازی بھی تھوڑی بہت سیکھی تھی.
دونوں آدمی تلوار لے کر کھڑے ہانی کو گھور رہے تھے.
ہانی نے خود کو حوصلہ دیتے ہوئے بسم اللہ پڑھی اور وحشی آدمیوں کی طرف قدم بڑھانے لگی.
……
ذاکر گھر آکر کھانا لگانے کا کہہ کر ہانی کا پوچھنے لگا
” صاحب جی بی بی جی کافی دیر پہلے گھر سے نکل گئیں تھیں “
” کچھ اندازہ ہے کتنی دیر پہلے نکلی تھی ? “
” آپ کے جانے سے پانچ دس منٹ بعد “
” چار گھنٹے ہوگئے اتنی دیر تو ہانی کبھی باہر نہیں رہی ” کہتے ہوئے ہانی کو کال ملا لی بیل جا تو رہی تھی مگر ہانی فون اٹھا نہیں رہی تھی
” اف یہ لاپرواہ لڑکی “
ذاکر نے ہانی کی لوکیشن چیک کی اور باہر کی طرف بڑھا.
” آج پکا ہانی مار کھائے گی کتنی بار کہا ہے بتاکر جایا کرو. اللہ اللہ یہ لڑکی میری ایک بھی بات نہیں مانتی ضدی لڑکی “.
….
ہانی کا پیٹ اور بازو زخمی ہوچکا تھا. ایک آدمی کا ہاتھ اور بازو کٹ چکا تھا اور دوسرے کی ٹانگ اور کمر زخمی ہوگئی تھی مگر دونوں آدمیوں میں ابھی بھی لڑنے کی کافی ہمت تھی.
ہانی دو ٹرینڈ آدمیوں سے لڑتی لڑتی نڈھال ہوچکی تھی اور لگتا تھا ابھی گر جائے گی
” اے میرے اللہ میری عزت کی حفاظت کریں بے شک آپ بہترین محافظ ہیں. مجھ میں ہمت ختم ہورہی ہے میری عزت لٹنے سے پہلے میرے جسم سے میری روح کو کھنچ لیں. اے اللہ تعالی آپ کو آپ کے پیارے حبیب کا واسطہ ہے میری عزت پر آنچ نا آنے دینا. ” ہانی بار بار یہی الفاظ دھرا رہی تھی.
بند ہوتے دماغ کے ساتھ ہانی کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور منہ سے الفاظ نکلے
” اے میرے مالک میری عزت “
اسی لمحے ذاکر فیکڑی میں داخل ہوا ” یہ ہانی فیکڑی میں کیا کر رہی ہے اور وہ بھی اس فیکڑی میں جو خود با خود چلتی ہے “
ذاکر اندر کی طرف قدم بڑھا رہا تھا جب اچانک ذاکر کے دل کو کچھ ہوا.
” ہانی ٹھیک تو ہے ? “
اچانک دو آدمیوں کے ہنسنے کی آواز سنائی دی. ذاکر کے قدم رک گئے ” ہانی ” ذاکر آواز کی سمت بھاگا اور دو آدمیوں کو ہاتھ میں تلوار پکڑے ہنستے ہوئے زمین کی طرف دیکھتا پاکر زمین کی طرف دیکھا ہانی زخمی حالت میں زمین پر پڑی تھی. ذاکر کا خون کھول اٹھا اور آدمیوں کی طرف بڑھا
” Who are u & what are u doing here ? “
ذاکر نے زمین پر پڑی تلوار اٹھائی اور بے تہاشہ سرخ آنکھوں سے آدمیوں کی طرف قدم بڑھانے لگا
انسان غصے میں وحشی بن جاتا ہے ذاکر بھی اس وقت وحشی بن چکا تھا جسے کوئی پرواہ نہیں تھی کہ انجام کیا ہوگا.
ذاکر آدمیوں کو اچھے سے زخمی کرکے نڈھال کر چکا تھا اور اب دنوں آدمی بے سود زمین پر پڑے تھے.
ذاکر کی ٹانگ زخمی ہوگئی تھی ذاکر لنگڑاتے ہوئے ہانی کی طرف بڑھا اور شرٹ اتار کو ہانی کے پیٹ پر باندھ دی جو سب سے زیادہ زخمی ہوا تھا.
ہانی کی شرٹ خون سے بھر چکی تھی پینٹ پر جگہ جگہ کٹ لگے ہوئے تھے کوٹ کی حالت بھی ابتر تھی صرف واحد سٹالر تھا جو سہی سلامت تھا.
ہانی کا سٹالر دیکھ کر ذاکر ماضی میں کھوگیا.
ہانی شیشے سامنے کھڑی بالوں ساتھ لڑائی میں مصروف تھی ذاکر کمرے میں داخل ہوا اور ہانی کو دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی .
” مائی لیٹل گرل دیکھو میں آپ کے لیے کیا لے کر آیا ہوں “
ہانی نے مڑ کر دیکھا ذاکر گلدستہ اور شوپنگ بیگ لے کر کھڑا تھا.
ذاکر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا ہانی کی طرف بڑھا اور گلاستہ ہانی کی طرف بڑھایا
” وائیٹ فلاورز کیوں ? “
ذاکر نے شوپنگ بیگ ٹیبل پر رکھا اور ہانی کا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے دبایا
” مائی لیڈی فلاورز کا کلر معانی نہیں رکھتا دینے والے کے جذبات معانی رکھتے ہیں. ذاکر شاہ کو اپنی ہانی سے محبت نہیں عشق ہے پھر فلاورز کسی بھی رنگ کے ہوں بیان وہ میرے عشق کو ہی کریں گے “
ہانی ذاکر کے گلے لگ گئی
ذاکر نے ہانی کے گرد بازو حمائل کرکے آنکھیں بند کرلیں.
اچانک بال یاد آنے پر ہانی چیخی
” میرے بال “
ذاکر نے بازو ہٹائے اور شوپنگ بیگ سے سٹالر نکال کر ہانی کی طرف بڑھایا
” واؤ شاہانہ پر مجھے سٹالر لینا نہیں آتا “
ذاکر نے ہانی کے ہاتھ سے سٹالر پکڑ کر خود سیٹ کرکے پن لگا دی اور بغیر پلک جھپکے ہانی کو دیکھنے لگا.
ہانی نے شیشہ دیکھا اور چھلانگیں لگانے لگی
” ذاکر کتنا اچھا لگ رہا ہے نا.”
” ہاں بہت خوبصورت لگ رہا ہے. ہانی میں چاہتا ہوں تم دوبارہ کبھی سٹالر کے بغیر گھر سے نا نکلو. تمہارے بال کسی کو نظر نا آئیں “
” ٹھیک ہے. میں کبھی سٹالر کو سر سے سرکنے تک نہیں دوں گی مگر شرط یہ ہے کہ آپ روز ایسے ہی میرے سر پر سٹالر سیٹ کریں گے “
” اوکے مائی بیوٹیفل لیڈی ” ذاکر نے کہتے ہوئی پیشانی پر ہونٹ رکھ دیے.
” ہانی تم نے آج اپنی زبان سے کہی بات پوری کردی ” ذاکر نے آہستہ سے کہا۔
#جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *