Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode01

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode01

خان کچھ ماہ سے ہوسپٹل میں ایڈمٹ تھا. آنکھیں اور ٹانگیں مکمل طور پر ناکارہ ہوچکیں تھیں.
ڈاکٹر نے ماخر کو اپنے اوفس میں بولوایا تھا اور ماخر بھاگا بھاگا ڈاکٹر کے اوفس میں چلا آیا تھا.
” بیٹھیں ماخر صاحب “
ماخر چیر کھنچ کر بیٹھ گیا
” جی ڈاکٹر صاحب “
” مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ خان کی آنکھیں اور ٹانگیں بلکل ناکارہ ہوچکیں ہیں “
” ڈاکٹر صاحب کیا خان اب بغیر آنکھوں اور ٹانگوں کے اپنی باقی کی زندگی گزارے گا ? “
” ایک حل ہے کہ خان کی آنکھیں کسی اور کی آنکھوں سے بدل دی جائیں اور مصنوعی ٹانگیں لگولیں جائیں “
” ڈاکٹر صاحب ام کو سوچنے کے لیے کچھ وقت چاہیے “
” ٹھیک ہے “
ماخر کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی طرف بڑھا.
….
ہانی نے فریز سے چوکلیٹ نکال کر کھولی اور کھاتے ہوئے ڈریسنگ روم میں داخل ہوئی. ذاکر کو تیاری کے آخری مرحل پر دیکھ کر ہانی سمائل روکتے ہوئے ذاکر کی طرف بڑھی اور ذاکر کے آگے جاکر کھڑی ہوگئی.
” ہانی ” ذاکر نے ٹائی باندھنا چھوڑ کر برا سا منہ بناکر کہا
ہانی نے چوکلیٹ ذاکر کی طرف بڑھائی ذاکر نے نا میں سر ہلایا.
” تم کھاؤ اور پلیز مجھے تیار ہونے دو “
ہانی نے چوکلیٹ ختم کرکے ریپر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا اور چوکلیٹ والے ہاتھ سے ذاکر کی شرٹ کھنچ کر قریب کرنا چاہا تھا مگر ذاکر چیخا
” اللہ اللہ میری شرٹ “
ذاکر ہانی کو پیچھے کر کے شیشہ دیکھنے لگا. شرٹ پر چوکلیٹ لگ چکی تھی.
” اللہ مجھے صبر دے ورنہ میں اس لڑکی کا قتل کردوں گا “
ہانی پاس کھڑی ہنس رہی تھی.
” ہاہ پھر تو آپ جیل چلے جاؤ گے “
ذاکر خطرناک ارادے لیے ہوئے ہانی کی طرف بڑھا. ہانی باہر کی طرف بھاگنے لگی تھی مگر ذاکر نے بازو پکڑ کر کھنچا ہانی ذاکر کے سینے سے جالگی. ذاکر نے جلدی سے ہانی کے گرد بازو حمائل کیے
” کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ ? ایسی حرکتیں تم صرف تب کرتی ہو جب تمہارے دماغ میں کچھ الٹا سیدھا چل رہا ہوتا ہے. اب شرافت سے بتاؤ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں ? “
ہانی نے پیچھے ہوکر معصوم سا منہ بنایا اور ذاکر کو دیکھتے ہوئے کہا
” کچھ بھی نہیں “
” ویسے تم اتنی معصوم ہو نہیں جتنا معصوم تم منہ بناتی ہو “
” ذاکر ” ہانی نے خفگی سے بھرے لہجے میں کہا
” ہاں تو جھوٹ تو نہیں بول رہا میں ” کہتے ہوئے ذاکر جھکا
” آپ لیٹ ہورہے ہیں ” ہانی نے کپکپاتی آواز میں ذاکر کو پیچھے کرتے ہوئے کہا
” ضالم لڑکی “
ذاکر ہانی کو چھوڑ کر پیچھے ہوا اور وارڈ روب کی طرف بڑھا
” اللہ اللہ اتنی معصوم ہوں “
” ہاں بہت معصوم ہو. دنیا بھر کی مصومیت تم پر آکر ختم ہوجاتی ہے “ذاکر نے طنزیا کہا
” نوازش “
وارڈ روب سے شرٹ نکال کر ذاکر شرٹ بدلنے لگا. ہانی نے ذاکر سے نظر بچاکر چابی اٹھائی اور ڈریسنگ روم سے نکل گئی.
چابی کے چھلے کو انگلی میں گھوماتے ہوئے ہانی پورچ کی طرف بڑھی اور کار کی فرنٹ سایڈ پر چڑ کر بیٹھ گئی.
ذاکر نے شرٹ چینج کرکے ٹائی باندھی اور کوٹ بازو پر رکھ کر گاڑی کی چابی لینے کے لیے ٹیبل کی طرف بڑھا مگر ٹیبل پر چابی کو نا پاکر ہانی کو آوازیں دیتا ہوا باہر آگیا. ہانی کو گاڑی پر بیٹھی دیکھ ذاکر ہانی کی طرف بڑھا
” چابی دو “
” کون سی چابی ? “
” ہانی میں لیٹ ہورہا ہوں “
” تو مجھے کیوں بتارہے ہیں “
ذاکر نے کچھ بھی کہے بغیر ہانی کا ہاتھ کھنچ کر ہانی کو نیچے اتارا اور شرٹ کی پوکٹس چیک کرنے لگا.
” ٹھیک ہے دیتی ہوں مگر اس شرط پر کے آپ مجھے اپنے ساتھ لے کر جائیں گے “
” ہانی مجھے تنگ مت کرو “
” ذاکر میں اکیلی گھر میں کیا کروں گی ? “
” ٹھیک ہے میری ماں چلو “
ہانی نے چابی ذاکر کی طرف بڑھائی.
” اگر تم نے وہاں جاکر ایسی ویسی کوئی حرکت کی تو مار پڑے گی “
” آپ مجھے ماریں گے ? “
” ہاں “
ہانی برا سا منہ بناکر ذاکر کو دیکھنے لگی.
…..
کمپنی کے بیک ڈور پر گاڑی روک کر ذاکر نے ہانی کو اترنے کا اشارہ کیا ہانی چپ چاپ گاڑی سے اترگئی.
ذاکر گاڑی سے اترا اور گاڑی کی چابی ملازم کو دے کر ہانی کی طرف بڑھا. ہانی کا ہاتھ پکڑ کر قدم اندر کی طرف بڑھائے.
سب سے ہلکی پھلکی سلام دعا کرکے ذاکر ہانی کو اپنے ڈریسنگ روم میں لے آیا.
ہانی پہلی بار ذاکر کے ساتھ کمپنی آئی تھی اور ڈریسنگ روم دیکھ کر ہانی کا منہ کھلا رھ گیا. کمرا ایک گھر کے برابر تھا ڈبل بیڈ ‘ چھوٹا سا کچن ‘ واش روم ‘ ایک قد آدم الماری ‘ ایک چھوٹا سا روم جو شاید جم تھا اور ہر دیوار پر لگے شیشے ہانی تعریف کیے بنا نا رھ سکی.
” شاہانہ “
اتنے میں کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی ذاکر دروازہ کھولنے چلا گیا اور ہانی جم کی طرف بڑھی.
” Hello zakir “
رینا کو دیکھ کر ذاکر کا موڈ خراب ہوگیا.
” hy “
رینا ذاکر کو ہٹاتی ہوئی کمرے میں داخل ہوگئی
” how are u ? “
” i’m fine “
ہانی لڑکی کی آواز سن کر جم سے نکل آئی. رینا کی ڈریسنگ دیکھ کر ہانی کی نظریں خود با خود جھک گئیں.
ذاکر ہانی کی طرف بڑھا اور ہانی کا ہاتھ پکڑ کر کہا
” she is my wife Hoorain zakir “
رینا نے ہانی کو سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے کہا
” اوہ “
اتنے میں ہیکر کی اسسٹنٹ اندر داخل ہوئی
” ذاکر سر آپ کو بولا رہے ہیں “
” ٹھیک ہے آتا ہوں “
ذاکر نے ہانی کا ہاتھ ہلکا سا دبا کر چھوڑ دیا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے.
” مجھے اردو بھی آتی ہے ” رینا نے ہانی کو چپ کھڑے دیکھا تو سمجھی کے حورین کو انگلش نہیں آتی اس لیے طنزیا کہا
” مجھے انگلش آتی ہے ” ہانی نے جتانے والے انداز میں کہا
” لگتا تو نہیں ہے ” رینا طنزیا ہنسی
ہانی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی رینا پاس آکر کھڑی ہوگئی
” تم کہنا کیا چاہتی ہو ? “
” ذاکر کا ٹیسٹ کافی خراب ہے ” رینا نے ہانی کو سر سے پیر تک حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
ہانی نے کچھ کہنے کہ بجائے زور دار پنچ رینا کے منہ پر مارا رینا لڑکھڑائی اور دھڑم سے قالین پر گرگئی.
ہانی کا دل کر رہا تھا رینا کے بال زور زور سے کھنچے.
ہانی ابھی رینا پر جھکی ہی تھی کہ ذاکر روم میں داخل ہوا اور ہانی کو قالین پر پڑی رینا کے سر کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیکھ کر بھاگتے ہوئے ہانی تک پہنچا.
ہانی کو پکڑ کر پیچھے کیا مگر ہانی پورے خوش و خروش سے رینا کے بالوں کو کھنچنے کے موڈ میں تھی اس لیے ذاکر سے خود کو چھڑوا کر پھر سے رینا کی طرف بڑھی ذاکر نے ہانی کو اٹھایا اور بیڈ کی طرف بڑھا ہانی پوری کوشش کررہی تھی خود کو چھڑوانے کی
” چھوڑو مجھے آج میں اس کو بتاتی ہوں کہ ذاکر کا ٹیسٹ خراب ہے یا نہیں “
ذاکر کسی نا کسی طرح ہانی کو بیڈ تک لے آیا.
رینا منہ پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی. رینا کو منہ میں خون کا ذائقہ محسوس ہورہا تھا
” جنگلی عورت “
” تمہیں تو میں ابھی بتاتی ہوں جنگلی عورت کہتے کس کو ہیں ” ہانی اور زیادہ ذاکر کی بازوں سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی.
” رینا باہر جاؤ اور دروازہ بند کردینا ” رینا بھاگ کر کمرے سے نکل گئی.
” ہانی ریلکس “
” ذاکر مجھے چھوڑو مجھے اس کی طبیت سیٹ کرنے دو اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسے بات ….”
ذاکر نے ہانی کو چپ کروا دیا.
ذاکر کی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی ہانی ذاکر کی گرفت سے نکل آئی اور ذاکر کی طرف دیکھنے سے پرہیز کرتی ہوئی گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے لگی.
” صرف دو منٹ کے لیے میں ہیکر کے پاس گیا تھا اور تم نے بچاری کا منہ ہلاکر رکھ دیا ” ذاکر نے ہنسی روکتے ہوئے کہا
” وہ اسی قابل تھی “
” اس کو مارا کیوں تھا ? “
” مجھے سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے اس نے کہا ذاکر کا ٹیسٹ خراب ہے “
ذاکر ہنسنے لگا
” حد ہے صرف اتنی سی بات پر اتنا زیادہ غصہ. ہانی کنڑول “
” یہ اتنی سی بات تھی ? “
” اللہ اللہ ” کہتے ہوئے ذاکر فریزر کی طرف بڑھا اور پانی کی بوتل نکال کر پانی گلاس میں انڈیل کر ہانی کی طرف بڑھایا.
ہانی ایک ہی سانس میں سارا پانی پی گئی اور گلاس ذاکر کی طرف بڑھایا.
” چلو گھر چلتے ہیں “
” فیشن شو ? “
” فیشن شو ڈیلے ہوگیا ہے اسی لیے ہیکر نے بولایا تھا “
” ہممم اوکے چلو “
…….
” خان ہزار بار کا کیا ہوا سوال ام ایک بار پھر سے کرنے لگا ہے. کس نے کی ہے تمہاری یہ حالت ? “
” ابا حضور ام کو چاہیے کہ ام یہ جنگ یہیں ختم کردیں “
” لڑکے تم کہنا کیا چاہتے ہو ? “
” ابا حضور ام زندہ رہنا مانگتا ہے “
” ذاکر نے کی ہے نا تمہاری یہ حالت ? “
” نہیں ابا حضور ذاکر تو کومہ میں تھا “
” ٹھیک ہے تم نہیں بتانا چاہتے تو نا بتاؤ مگر ایک بات ام کہے دیتا ہے جس نے تمہاری یہ حالت کی ہے اس کی آنکھوں سے ہی تمہاری آنکھیں بدلی جائیں گیں یہ ماخر خان کا وعدہ ہے ” کہتے ہوئے ماخر باہر کی طرف بڑھا
” ابا حضور ابا حضور ” خان آوازیں ہی دیتا رھ گیا.
……..
ذاکر کمرے میں بیٹھا اپنی اسائمنٹ بنا رہا تھا. ہانی گیلے جوتوں پہنے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی اور پیر پھسلنے کی وجہ سے زمین بوس ہوگئی
” ہائے اللہ ” ہانی کے منہ سے بے ساختہ نکلا
ذاکر جلدی سے لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکھ کر ہانی کی طرف بڑھا
” ہانی کیا تم ٹھیک ہو ? “
” ہائے اللہ لگ رہا ہے کمر ٹوٹ گئی ہے “
ذاکر نے ہانی کو اٹھاکر بیڈ پر لیٹایا
” سایڈ بدلو میں دیکھتا ہوں زیادہ چوٹ تو نہیں لگی “
ہانی نے بغیر سوچے سمجھے سایڈ بدل لی مگر ذاکر کا لمس پاکر چیخ ماری
” کیا ہوا ? ” ذاکر نے پریشانی سے کہا
ہانی کچھ بھی کہے بغیر ذاکر کا ہاتھ پیچھے کرکے سیدھی لیٹ گئی
” کچھ نہیں میں ٹھیک ہوں “
” ارے چیک تو کرنے … “
” نہیں نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں ” اور کمر میں شدید درد ہونے کے باوجود اٹھ بیٹھی
” جیسا تم مناسب سمجھو ” کہتے ہوئے ذاکر اٹھ کر دیوان پر جابیٹھا.
” ذاکر مجھے شوپنگ کرنے جانا ہے ” ہانی نے شدید درد کی وجہ سے ڈاکٹر پاس جانے کا سوچتے ہوئے جھوٹ بول دیا
” ابھی ? “
” ہاں “
” چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں “
” نہیں میں اکیلی جاؤں گی “
” کسی کی پٹائی کرنے کو دل کر رہا ہے ” ذاکر نے آنکھیں سکیڑ کو ہانی کو دیکھتے ہوئے کہا
” نہیں تو “
” ٹھیک ہے جاؤ “
ہانی درد کی وجہ سے ہونٹ سختی سے دباتی ہوئی بیڈ سے اتر گئی
” تمہاری کمر میں شدید درد ہورہا ہے نا ? ” کہتے ہوئے ذاکر دیوان سے اٹھ کھڑا ہوا.
“نہیں بلکل نہیں “
ذاکر ڈریسنگ روم میں گیا اور فسٹ ایڈ بوکس نکال کر واپس روم میں آیا ” چپ چاپ بیڈ پر لیٹ جاؤ “
” مجھے درد نہیں ہورہا “
ذاکر نے فسٹ ایڈ بوکس بیڈ پر پھنکا اور ہانی کو اٹھاکر بیڈ پر لیٹا دیا. ہانی اٹھنے لگی ذاکر نے روک دیا. ہانی بولنے لگی مگر ذاکر پہلے بول اٹھا
” آنکھیں بند کرکے جیل لگاؤں گا کیونکہ پہلے ہی تمہاری کمر پر پڑا نیل میں دیکھ چکا ہوں “
ہانی چپ کرگئی. ذاکر نے جیل لگاکر آنکھیں کھول لیں اور ہاتھ دھونے کے لیے واش روم کی طرف بڑھا.
ہانی کو نیند کی گولی دے کر سلا دیا اور ہنستے ہوئے ہانی کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے.
” تم درد چھپاؤ یا ظاہر کرو مگر ذاکر تمہارا درد محسوس کرسکتا ہے ” کہتے ہوئے ذاکر واپس دیوان پر جاکر بیٹھ گیا.
…….
ماخر نے فیکڑی پہنچ کر تمام کیمراز کے سی سی ٹی وی فوٹیج منگوائے اور دیکھنے لگا. جس دن خان کو بے انتہا مارا گیا تھا اس دن کی ویڈیو کٹ کردی گئی تھی.
ماخر نے تمام امپلائز کو اپنے روم میں آنے کا حکم دیا اور سر سیٹ کی پشت پر ٹکا دیا.
……..
ہانی سوکر اٹھی تو ذاکر کو کمرے میں نا پاکر اٹھ کھڑی ہوئی. منہ ہاتھ دھوکر کوٹ اٹھایا اور کمرے سے نکل آئی.
” تمہارے صاحب جی کہاں ہیں ? “
” پتہ نہیں جی گاڑی لے کر تھوڑی دیر پہلے ہی نکلے ہیں “
ہانی کوٹ کی پوکٹس میں ہاتھ ڈالتی ہوئی مین گیٹ سے نکل گئی. ہانی کے کان میں بار بار ذاکر کے الفاظ گونج رہے تھے
” تم درد چھپاؤ یا ظاہر کرو مگر ذاکر تمہارا درد محسوس کرسکتا ہے “
ہانی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
” ذاکر مجھے ڈر ہے اگر میں نے تمہیں قریب آنے دیا تو تم مجھ سے بہت دور چلے جاؤ گے کیونکہ ہمیشہ میرے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے ” ہانی افسردہ ہوگئی
پاس سے گزرتے لڑکے نے ہانی کو دیکھ کر سیٹی ماری اور کہا
” hy beauty “
ہانی نے چونک کر لڑکے کو دیکھا مگر ہانی لڑکے کے الفاظ نہیں سن پائی تھی اس لیے چپ چاپ پھر سے چلنے لگی مگر پھر سوچا چھیڑا ہی ہوگا شکل سے ہی بدتمیز لگ رہا ہے اور لڑکے کے بال کھنچنے کے بعد زور زور سے لڑکے کو مارنے لگی اچانک پولیس کی گاڑی رکنے کی آواز پر ہانی زور دار ٹانگ لڑکے کے پیٹ پر مار کر بھاگی.
پولیس کی گاڑی کو اپنا تاقب کرتا دیکھ کر ہانی بھاگ کر ایک تنگ سی گلی میں گھس گئی. گلی چھوٹی ہونے کی وجہ سے بھاگ کر دوسری سایڈ سے نکلی. سیٹی بجاکر ٹیکسی روکی اور اندر بیٹھ گئی.
گھر پہنچ کر ہانی ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوتی ہوئی کمرے میں آئی اور دیوان پر دھڑم سے گری
” ہاہاہاہا ہانی ذاکر سہی کہتا ہے ہانی تم بدل گئی ہو. میں واقعی بدل گئی ہوں “
ذاکر کی گاڑی پورچ میں رکنے کی آواز پر ہانی نے جلدی سے ہنسی روک کر لیپ ٹاپ اٹھاکر اون کرلیا.
ذاکر غصے سے بھرا کمرے میں داخل ہوا
” ہانی “
ہانی نے لیپ ٹاپ سے نظر ہٹائے بنا کہا
” ہاں جی “
” آج پھر سے تمہاری پولیس سٹیشن سے کمپلین آئی ہے “
ہانی ہنستی ہوئی لیٹ ٹاپ بند کرکے اٹھ کھڑی ہوئی اور چلتی ہوئی ذاکر پاس آکر کھڑی ہوگئی.
” کیا کمپلین آئی ہے ? “
” تم نے پہلے لڑکے کے بال کھنچے پھر خوب پٹائی کی اور جب پولیس کو دیکھا تو بھاگ گئی “
” ہاں وہ میرا فائٹنگ کا کورس کمپلیٹ ہوگیا ہے نا تو ٹیچر نے کہا تھا فائٹنگ کرتی رہنا تاکہ بھولے نا “
ذاکر کا منہ کھل گیا
” اللہ مجھے صبر دے. اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ تم راہ چلتے لوگوں کو مارنا شروع کردو “
ہانی ذاکر کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے قریب ہوئی اور معصوم سا منہ بناکر کہا
” ذاکر …”
” خبر دار جو مکھن لگانے کی کوشش کی پیپر کب کے ختم ہوگئے ہیں. تم نے ایک بار بھی قریب نہیں آنے دیا اور جب کچھ الٹا سیدھا کرلیتی ہو تو مکھن لگانے خود قریب آجاتی ہو حد ہے مطلبی لڑکی” ذاکر نے ہانی کی بات کاٹ کر کہا
ہانی نے اپنی حرکت پکڑے جانے پر ہنسی روکتے ہوئے کہا
” سرتاج جی غصہ ناکریں “
ذاکر فل غصے میں تھا مگر ہانی کے سرتاج جی کہنے پر ہنسنے لگا.
” تمہیں تو بندہ ڈانٹ بھی نہیں سکتا فٹافٹ بیگ پیک کرکے اپنے میکے چلی جاتی ہو “
” میکے تو نہیں جاتی ” ہانی نے برا سا منہ بناکر کہا
” ہوسٹل کو تم نے میکہ ہی تو سمجھا ہوا ہے محترمہ کو ڈانٹنے کی دیر ہے بس پھر محترمہ کی سپیڈ دیکھنے کے قابل ہوتی ہے جھٹ سے بیگ پیک کیا اور ہوسٹل کا رخ کرلیا “.
ذاکر کی بات پر ہانی کھل کر ہنسی. ذاکر بس خاموشی سے ہانی کو ہنستے ہوئے دیکھنے لگا پھر کان میں سرگوشی کی
” ہنی میں تمہیں اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی بے پناہ چاہوں گا “
ہانی کی ہاٹ بیٹ کی رفتار تیز ہوگئی.
#جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *