Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode09

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode09

صبح صبح خان ہاؤس میں ہلچل مچی ہوئی تھی.
ناشتے کے بعد سب لوگ اپنے کپڑے پریس کرنے اور تیاری کرنے میں مصروف تھے.
فاخرہ بیگم نے ہانی کو اپنے کمرے میں آنے کا بلاؤا بھیجا.
….
ذاکر اور ہانی دونوں بے خبر سورہے تھے دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز پر ذاکر کی آنکھ کھل گئی اور نیند پوری نا ہونے کی وجہ سے بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی چیخا
” کون ہے ? “
” لالہ بجو کو نانی ماں بلا را ہے “
” یار تیری بجو سو رہی ہے “
” نانی ماں نے جلدی آنے کا کہا ہے “
” کہہ دو مصروف ہے نہیں آسکتی ” اور ہانی کی طرف کھسکا
ہانی کے براؤن براؤن بال کمبل سے جھانک رہے تھے ذاکر نے ہاتھ بڑھا کر کمبل ہٹایا اور ہانی کا معصوم معصوم چہرہ نظر آنے لگا.
براؤن پٹھانی فراک میں ملبوس کھلے بالوں کے ساتھ چھوٹی بچی لگ رہی تھی. منہ ہلکا سا کھلا تھا ذاکر کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرگئی.
کان میں سرگوشی کی
” مائی لیٹل گرل “
ہانی کسمسائی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھرگئی.
” ہمم ” کہہ کر کروٹ بدلنے لگی. ذاکر نے روکا اور پیشانی پر ہونٹ رکھ دیے
” مائی لیڈی “
ہانی نے جھٹ سے آنکھیں کھول لیں اور ذاکر کو اپنے نزدیک دیکھ کر پلکیں خود با خود جھک گئیں
” Aşkım “
ہانی کی پلکیں لرزنے لگیں
” بولو بھی کب سے بولا رہا ہوں “
” جی “
” تم اتنی پیاری کیوں ہو ? ” جھکی آنکھوں کو چھوتے ہوئے سوال کیا
” پتہ نہیں “
ذاکر ہانی کے جواب پر ہنسنے لگا
” ہنس کیوں رہے ہیں ? ” ہانی نے خفگی سے گھورا
ذاکر ہانی کے چہرے پر جھک گیا اور آنکھیں بند کرکے ماتھے پر ماتھا ٹکا دیا
” ہانی مجھ سے مزید ناراضگی نہیں دیکھائی جارہی “
” آپ ناراضگی کا دیکھاوا کررہے تھے ? ” ہانی نے حیرانگی سے دیکھا
” ہاں وہ سب بس وقتی غصہ تھا میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوسکتا مائی لیٹل کیوٹ گرل ” ہانی جھینپ گئی
ذاکر نے آنکھیں کھول لیں اور ہانی کی بند آنکھوں پر ہونٹ رکھ دیے.
“Aşkım senin için ölümsüzdür ” ( My love is immortal for you )
” لالہ نانی ماں بولائی جا را ہے ” دروازے کے پار سے عبداللہ کی اکتائی ہوئی آواز آئی
ذاکر نے برا سا منہ بنایا اور اٹھ بیٹھا. ہانی کو ہنستے ہوئے دیکھ کر ہانی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا
” یار تیری بجو اب بھی سورہی ہے ” ہانی ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی
” لالہ ” عبداللہ نے لالہ لفظ کو لمبا کھینچا
” عبداللہ اب تمہاری آواز نہیں آنی چاہیے جب بتا دیا ہے کہ ہانی سو رہی ہے تو کیوں دماغ خراب کررہے ہو ” ذاکر نے تپے ہوئے لہجے میں کہا
” ٹھیک ہے اب آواز نہیں آئے گا ” مردہ سی آواز میں کہہ کر لاؤنج میں چلا آیا
ذاکر نے ہانی کے چہرے سے ہاتھ ہٹایا
” ہوسکتا ہے دادی ماں نے کچھ ضروری بات کرنی ہو ” ہانی نے پرسوچ لہجے میں کہا
” فضول لڑکی دادی ماں کو نہیں مجھے سوچو “
” کیوں ? ” ہانی نے سوالیا نظروں سے دیکھا
” کیونکہ مجھے تم پے پیار آئی جارہا ہے ” ذاکر نے آنکھوں میں شرارت سموئے ہانی کو دیکھتے ہوئے کہا
ہانی جھینپ گئی. ذاکر نے مسکراتے ہوئے ہانی کو اپنے حصار میں قید کرلیا.
……
” عبداللہ ” آخرہ عبداللہ کو لاؤنج میں صوفے پر لیٹے لڑکیوں کو تاڑتے ہوئے دیکھ کر غصے میں آگئیں
” جی ماں جی ” پرسکون لہجے میں گویا ہوا
” ام نے کہا تھا مردان خانے میں رہا کرو “
” ماں جی آدمیوں کی شکلیں دیکھ دیکھ کر ام تھک گیا ہے ” عبداللہ نے منہ بسور کر کہا
” اٹھو جلدی اور مردان خانے میں جاؤ “
” ماں جی ” عبداللہ برا سا منہ بناکر اٹھ کھڑا ہوا
……
دوپہر کے کھانے کے بعد فاخرہ نے آخرہ کے ہاتھ ہانی کو بلاؤا بھیجا.
ہانی فریش ہوکر واش روم سے نکلی اور ذاکر کو بے خبر سوتے دیکھ کر مسکراتی ہوئی شیشے سامنے جاکھڑی ہوئی.
” بچہ دروازہ کھولو ” آخرہ نے دروازہ کھٹکھٹایا
ہانی نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے اور دروازہ کھول دیا
” میرا بچہ سب ٹھیک تو ہے نا ماں جی صبح سے تم کو بولا را ہے تم آیا کیوں نہیں ? ” آخرہ نے ہانی کی پیشانی چوم لی
” کیا کہنا ہے دادی ماں نے ? “
” یہ تو ام کو بھی نہیں پتہ اور یہ ذاکر کیا سارا دن سویا ہی رہتا ہے ? دن میں مشکل سے ایک بار نظر آتا ہے “
” نہیں سارا دن تو نہیں سوتے. میں زرا دادی ماں کی بات سن کے آتی ہوں ” کہہ کر کمرے سے نکل گئی
آخرہ سوئے ہوئے ذاکر کی طرف بڑھیں اور بالوں میں ہاتھ پھیر کر ماتھے پر بوسہ دیا
” ام کا بچہ “
ذاکر کو ہافرہ کے شفقت سے بھرے لمس جیسا لمس محسوس ہوا تو فورن آنکھیں کھول لیں.
” سوری بچہ ام کی وجہ سے تم جاگ گیا دراصل تمہارے چہرے کی مصومیت دیکھ کر ام کو اپنی بہن یاد آگئی تھی تو ام خود کو روک نا پایا “
” اٹس اوکے ” ذاکر کو ہافرہ یاد آنے لگی
” بچہ تم ام کو ماں جی بولو گے تو ام کو خوشی ہوگا اور تم کو ہافرہ کی کمی بھی محسوس نہیں ہوگا ” آخرہ نے ذاکر کی آنکھوں میں تیرتی اداسی دیکھ کر ساتھ لگالیا اور بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
” ٹھیک ہے ام آپ کو ماں جی ہی کہے گا “
” او ہو یہ کیا ہو را ہے ? ” عبداللہ کی پرشوخ آواز پر ذاکر ہنسنے لگا
” تمہاری ماں جی میری ماں جی بن گئیں ہیں “
” او ہو ماں جی مبارک ہو لڑکا ہوا ہے ” عبداللہ نے سیٹی مار کر کہا
ذاکر کا قہقہ بلند ہوا اور آخرہ نے جوتا اتار کر مارا. عبداللہ بروقت سایڈ پر ہوگیا ورنہ جوتا بازو پر لگنا تھا
” عبداللہ تمہاری زبان دن با دن بے لگام ہوتی جارہی ہے “
” ماں جی ام کی پیاری ماں جی غصہ مت کریں ” عبداللہ ڈرتا ڈرتا آخرہ کی طرف بڑھا
” مکھن نا لگاؤ اور یہاں کیا کررہے ہو مردان خانے میں جاؤ “
” ماں جی آدمی دیکھ دیکھ کر ام پاگل ہوجائے گا ” عبداللہ رونے والا ہوگیا
ذاکر مسلسل ہنس رہا تھا
آخرہ دوسری جوتی اتارنے لگیں تو عبداللہ باہر کی طرف بھاگا مگر جوتا ہوا میں اچھلتا ہوا سیدھا کمر میں جالگا اور عبداللہ چیخنے لگا
” ہائے اللہ ہائے ماں جی کمر ٹوٹ گیا ام کا “
” ڈرامے نا کرو چلو مردان خانے میں ” آخرہ نے بیڈ سے اٹھ کر عبداللہ کو کان سے پکڑلیا
” ذاکر کھانا لگواتی ہوں فریش ہوکر آجانا ” آخرہ نے پیار سے بھرے لہجے میں کہا
” اوکے ماں جی ” ذاکر نے احتراماً سر جھکا کر کہا
” ذاکر لالہ آپ دنیا کے سب سے لکی آدم ہیں جو آخرہ بیگم بنتِ نور خان آپ سے پیار بھرے لہجے میں بات کر را ہے ” آخرہ کی بھی ہنسی نکل گئی
” عبداللہ انسان بن جاؤ “
ذاکر نے مشکل سے ہنسی روکی
” ماں جی آپ انسان ہیں ? “
” کیا مطلب ? ” آخرہ گھورنے لگیں
” مطلب اگر آپ انسان ہیں تو ہاتھ ملائیں ام بھی انسان ہے کیونکہ ام آپ کا ہی بچہ ہے ” اور دانتوں کی نمائش کی
آخرہ عبداللہ کو گھورنے لگیں اور کان سے کھینچتی ہوئیں باہر کی طرف بڑھیں
” لالہ کھانے کے بعد ام کی قبر پر آجانا مطلب مردان خانے میں ” عبداللہ نے ہانک لگائی
ذاکر ہنستا ہوا بیڈ سے اتر کر وارڈ روب کی طرف بڑھا
…..
ہانی نے فاخرہ کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا
” آؤ بچہ ” ہانی کی مخصوص دستک پر فاخرہ نے نرمی سے کہا
” آپ نے بولایا دادی ماں “
” ہاں بچے آؤ یہاں بیٹھو ” اپنے پاس تخت پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
” تمہیں دلہن کے روپ میں دیکھنے کی ام کو بہت خوائیش ہے بچہ آج کے دن عامرہ کے ساتھ ساتھ ام تم کو بھی دلہن کا لباس پہنانا چاہتا ہے. کیا تم ام کی خوائیش کا احترام کرتے ہوئے دلہن کا جوڑا پہنو گی ? “
ہانی نے سر جکھا کر ناچاہتے ہوئے بھی ہامی بھرلی اور فاخرہ سے دعائیں لے کر کمرے سے نکل گئی.
” ہانی ذاکر کھانا کھا رہا ہے تم بھی کھالو کتنی کمزور ہوتی جارہی ہو ” آخرہ نے ہانی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا
ہانی کچن میں چلی آئی اور ذاکر کے سامنے والی چیر پر بیٹھ گئی.
” کیا کہا تمہاری دادی ماں نے ? “
” مجھے دلہن کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہیں “
ذاکر کا حیرت کی وجہ سے منہ کھل گیا
” مطلب ? “
” عامرہ کے ساتھ ساتھ مجھے بھی تیار کروائیں گئیں اور ان کی التجا ہے کہ آپ شیروانی زیب تن کرلیں “
ذاکر ہنسنے لگا
” آپ آج کل زیادہ ہنسنے لگے ہیں ” ہانی نے گھورا
” تمہاری دادی ماں کس خوش فہمی میں ہیں انہیں کیا لگتا ہے کہ میں اس گھر میں ہوں تو مطلب کہیں نا کہیں میرے دل میں ان کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوگیا ہے نہیں بلکل نہیں میں یہاں صرف تمہاری وجہ سے ہوں. ذاکر شاہ کل بھی فاخرہ بیگم سے نفرت کرتا تھا آج بھی کرتا ہے اور ہمیشہ کرتا رہے گا. انہیں لگتا ہے کہ ان کی التجا کرنے پر میں شیروانی پہن لوں گا اور آہستہ آہستہ وہ التجائیں کر کرکے میرے دل میں جگہ بنالیں گی. نرم نظروں سے دیکھیں گیں اور میں پگھل جاؤں گا تو یہ ان کی سب سے بڑھی بھول ہے. میں اپنی مام کا بدلا نہیں لے سکا کیونکہ وہ بوڑھی ہوچکیں ہیں ان کو سزا ان کا ضمیر دے گا ذاکر شاہ معاف نہیں کرتا اور نا کبھی معاف کرے گا. فاخرہ کو اپنے ہاتھوں سے موت نہیں دے سکا تو کیا ہوا ضمیر کی موت ماروں گا “
ہانی ذاکر کے لہجے کی پھنکار پر ڈر گئی تھی
” ذاکر آپ ….”
” کھانا شروع کرو ” ذاکر نے بمشکل اپنے اندر سر اٹھاتے طوفان کو روکا تھا اور لہجے کو نارمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا.
ہانی چپ چاپ پلیٹ پر جھک گئی.
…….
ہانی اور عامرہ کو بیوٹیشن نے تیار کیا تھا.
دونوں نے بلڈ ریڈ کلر کا لہنگا پہنا تھا اور دونوں پر بہت جچ رہا تھا. ہاں ہانی کی بات الگ تھی پرستان کا راستہ بھٹکی ہوئی خوبصورت پری لگ رہی تھی چہرے پر عجیب سی بے چینی اور اکتاہٹ واضح ہورہی تھی.
عامرہ پرسکون اور تھوڑی شرمائی شرمائی ہوئی تھی.
عامر نے سکن کلر کی شیروانی زیب تن کی تھی اور کافی ہنڈسم لگ رہا تھا.
ذاکر نے وائیٹ شلوار قمیض زیب تن کرکے اوپر پٹھانی چادر لی تھی اور پاؤں میں پشاوری چپل پہنی تھی. ذاکر کی چھب ہی سب سے الگ تھی جیسے ہی لان میں آیا سب کی نظریں ذاکر کی طرف اٹھیں تھیں.
فریش فریش سا سب میں نمایا ہورہا تھا. چہرے پر بلا کا اعتماد تھا جس سے اگلے بندے کا اعتماد ڈگمگا جاتا تھا اور ذاکر کے پرفیوم کی زبردست خشبو لان میں پھیل گئی تھی. شاہانہ انداز میں چلتا ہوا عبداللہ پاس آکر کھڑا ہوگیا.
” یہ سب گھور کیوں رہے ہیں ? “
” لالہ آپ آج نظر لگ جانے کی حد تک ڈیشنگ لگ رہیں ہے “
ذاکر جھینپ گیا
….
عبداللہ اور ذاکر سن گلاسسز لگائے لان میں ساتھ ساتھ کرسی جوڑے بیٹھے تھے.
” لالہ بجو بوڑھی ہوگیا ہے نا ? “
” نہیں تو “
” لالہ بجو آپ کے سامنے بوڑھی عورت لگتا ہے “
” دیکھ یار اپنی پیاری بیوی کے بارے میں کچھ اوٹ پٹانگ برداشت نہیں کروں گا “
” لالہ ” عبداللہ نے منہ بسور کر کہا
” پرہیز علاج سے بہتر ہے ” ذاکر نے سمجھانے والے انداز میں کہا
” ٹھیک ہے ویسے بھی ام کو نرس لڑکی اچھا نہیں لگتا “
عبداللہ ادھر ادھر دیکھنے لگا
” لالہ کتنی پیاری لڑکی ہے نا ? “
ذاکر نے گلاسسز نیچے کرکے عبداللہ کی نظروں کے تاقب میں دیکھا اور ایک نازک سی پٹھانی لڑکی نظر آئی.
” ہاں یار یہ تو سچ میں بہت پیاری ہے “
” کون سی والی بھلا ? ” ہانی کی آواز پر دونوں اچھل پڑے
ذاکر نے ہانی کی طرف رخ کیا اور ہانی کا آنکھوں کو چندھا دینے والا حسن ذاکر کو ساکت کرگیا
” شاہانہ ” ذاکر کے منہ سے بےاختیار نکلا
ہانی جھینپ گئی
عبداللہ نے ہانی کو دیکھ کر چیخ مار دی
” ہائے اللہ بجو یہ لال بھوتنی کیوں بنی ہیں ? “
ہانی نے زور دار گھونسا عبداللہ کی کمر میں جڑ دیا
” زبان بند رکھو “
اتنے میں عامرہ اور عامر کو سٹیج پر لاکر بیٹھایا گیا.
فاخرہ لان میں داخل ہوئیں تو سب کھڑے ہوگئے سوائے ذاکر کے. ذاکر نے کھڑے ہونے کی زحمت نا کی.
فاخرہ نے ذاکر کو دیکھا اور آنکھوں میں قرب لیے سٹیج کی طرف قدم بڑھائے. عامر اور عامرہ نے باری باری فاخرہ کے ہاتھ پر بوسہ دیا پھر ہاتھ آنکھوں کو لگالیا.
” ام کی دعا ہے تم دونوں اپنی زندگی کی ساری بہاریں ایک ساتھ گزارو “
اور ڈھیر ساری دعائیں دیں.
فاخرہ نے ہانی کو ساتھ لگائے ڈھیر سارا پیار کیا اور دعائیں دیں.
” ڈرامے بازیاں ” ذاکر نے دل میں سوچا
فاخرہ ذاکر کی طرف بڑھیں اور پیار دینے لگیں. ذاکر نے سر پیچھے کرلیا
” ذاکر کو آپ کے پیار اور دعاؤں کی ضرورت نہیں ہے اس لیے دور رہیں تو بہتر ہوگا ” ذاکر کرخت لہجے میں گویا ہوا
” ذاکر …”
” میرا نام مت لیں ورنہ مجھے اپنے نام سے نفرت ہوجائے گی ” ذاکر پھنکار اٹھا
سب ذاکر کی طرف دیکھنے لگے. ماخر اور ناصر غصے سے ذاکر کی طرف بڑھے مگر فاخرہ نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور اندر کی جانب قدم بڑھائے.
” ذاکر آپ کو ایسے بولنا نہیں چاہیے تھا ” ہانی نے ڈرتے ڈرتے کہا
” ایک عورت ہو کر دوسری عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والی عورت کا احترام ذاکر کبھی نہیں کرے گا. “
اور غصے بھرا اندر کی طرف بڑھا
……
عامرہ کو عامر کے روم میں چھوڑ کر ہانی اپنے کمرے میں چلی آئی.
ذاکر آنکھیں موندے صوفے کی بیک سے سر ٹکا کر بیٹھا تھا
” ذاکر ” ہانی کی آواز پر ذاکر نے آنکھیں کھول لیں اور سرخ انگارہ آنکھیں ہانی پر گاڑ دیں
” آپ ناراض ہیں ? “
” نہیں ” اور واپس صوفے کی بیک پر سر ٹکا دیا
ہانی ذاکر پاس صوفے پر بیٹھ گئی اور ذاکر کا ہاتھ اپنے نازک ہاتھوں میں لے لیا
” ذاکر ڈونٹ بی سیڈ. یہ دنیا مکافات عمل ہے ہر شخص کو اپنے کیے کا خمیارہ بھگتنا پڑتا ہے دادی ماں کو بھی ان کے کیے کا خمیارہ بھگتنا پڑے گا ” ہانی نے ذاکر کی جگہ خود کو رکھ کر جب سے سوچا تھا تب سے فاخرہ حد درجہ بری لگ رہیں تھیں.
ذاکر نے گہرا سانس خارج کرکے ہانی کے سجے سنورے سراپے پر نظر دوڑائی
” Güzel , Harika Bayan ” ( beautiful , wonderful lady )
ہانی جھینپ گئی.
……..
عامرہ سجے سنورے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی ہولے ہولے کانپ رہی تھی. اتنے میں عامر کمرے میں داخل ہوا اور عامرہ پاس آکر بیٹھ گیا.
مخملی ڈبیہ سے رنگ نکال کر ہاتھ میں پہنائی.
” عامرہ ہمارا پیار امر ہوا ” کہہ کر عامرہ کی پیشانی پر ہونٹ رکھ دیے.
…….
ذاکر کے کہنے پر ہانی نے لہنگا بدل کر سکن کلر کی پٹھانی فراک پہن لی تھی اور صوفے پر بیٹھی عجیب بے چینی کا شکار تھی.
” ذاکر تھوڑی دیر کے لیے گھر سے باہر چلتے ہیں ” ہانی نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا
” یار رات کے بارہ بج رہے ہیں “
” مجھے عجیب سی بےچینی ہورہی ہے ایسا لگ رہا ہے کچھ غلط ہونے والا ہے “
ذاکر بیڈ سے اتر کر ہانی پاس چلا آیا
” Aşkım iyi misin ? ” ( my love are you alright ? )
اور ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کیا باڈی ٹمپریچر بلکل نارمل تھا
” Evet Ben iyiyim Endişelenme ” ( yes i am fine don’t worry )
ذاکر نے ہانی کو ساتھ لگاکر پیشانی پر ہونٹ رکھ دیے.
ہانی کو ساتھ لگائے بیڈ کی طرف بڑھا اور کوٹ اٹھاکر کہا
” Hadi gidelim ” ( let’s go )
اور دونوں چلتے ہوئے کمرے سے نکل گئے.
گھر سے نکل کر سنسان سڑک پر چلتے ہوئے دونوں خاموش تھے ہانی نے خاموشی توڑی
” ذاکر “
” ہمم “
” ہم واپس انگلینڈ کب جائیں گے ? “
ذاکر نے گردن موڑ کر ہانی کو دیکھا
” ایک دن بعد ” ہانی خاموش ہوگئی.
ہانی اور ذاکر نے جیسے ہی چوک پار کیا دو آدمی چوک میں کھڑی گاڑی سے نکل کر ہانی اور ذاکر کی طرف بڑھے. ایک نے ذاکر کے منہ پر رومال رکھا اور ذاکر ہاتھ پاؤں مار کر بلآخر بے ہوش ہوگیا ہانی چیخ مار کر ذاکر کی طرف بڑھی دوسرے آدمی نے ہانی کا بازو پکڑ کر پیٹ میں چھرا گھونپ دیا. درد کی وجہ سے ہانی بلبلا اٹھی.
دونوں آدمیوں نے ذاکر کو اٹھایا اور گاڑی کی طرف قدم بڑھائے. ہانی نے آنکھیں میچ کر ہونٹ سختی سے دباتے ہوئے پیٹ سے چھرا نکال دیا. پیٹ سے خون رسنے لگا ہاتھ خون سے بھر چکے تھے اور آنکھیں ڈبڈبائی ہوئیں تھیں ہانی اپنی تکلیف بھلائے پھر سے ذاکر کی طرف بڑھی. ذاکر کو گاڑی میں ڈال کر ایک آدمی نے ہانی کو زور دار دھکا دیا.
ہانی کا سر دیوار سے جالگا اور خون رسنے لگا
” ذاکر ” ہانی چیخی اور بے ہوش ہوگئی
آدمی نے ہانی کی تصویر کھینچی اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹاٹ کرکے بھاگا لے گیا.
” کام ہوگیا ? ” ماخر کی آواز آدمی کے کان میں لگی بلیو ٹوتھ سے ابھری
” جی صائب ہوگیا “
” ذاکر کو گاؤں کی حویلی میں لے جاؤ اور ہانی کی تصویر دیکھا کر یقین دلا دینا کہ ہانی مر چکی ہے “
” ٹھیک ہے صائب جی ام حویلی پینچ کر فون کرے گا “
” اوکے ” ماخر کے چہرے پر کمینگی سے بھری مسکراہٹ ابھر آئی
…..
عبداللہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ ڈیرے سے واپس آرہا تھا کہ چوک میں پڑے وجود پر نگاہ پڑتے ہی بریک پر پاؤں رکھ دیا.
” کیا ہوا ? ” ایک دوست نے پوچھا
عبداللہ چپ چاپ گاڑی سے نکل کر چوک کی طرف بڑھا اور ہانی کے خون میں ڈوبے وجود پر نگاہ پڑتے ہی ٹانگیں کانپ اٹھیں
” بجو ” اور ہانی کی طرف بڑھا سانس چیک کی بلکل مدھم سی سانس چل رہی تھی.
سارے لڑکے گاڑی سے نکل آئے.
اپنا کوٹ اتار کر شرٹ اتاری اور شرٹ ہانی کے پیٹ پر باندھ کر ہانی کو اٹھالیا
” یار یہ تو کیا کررہا ہے ?”
” گاڑی کا دروازہ کھولو ” عبداللہ چیخا
ایک دوست نے اگے بڑھ کر گاڑی کا پیچھلا دروازہ کھول دیا.
عبداللہ ہانی کو لیٹا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور گاڑی سٹاٹ کردی.
شرارتی سے عبداللہ کے چہرے پر اس وقت بلا کی سختی تھی اور ہونٹ سختی سے آپس میں پیوست تھے.
……
ہانی کا خون کافی زیادہ بہہ چکا تھا اور خون کی ضرورت تھی.
عبداللہ نے فون کرکے سب کو ہوسپٹل بلوالیا.
سب اپنی اپنی جگہ ساکت رھ گئے. ناصرہ کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی ہانی کی یہ حالت دیکھنا ناصرہ کے بس میں نہیں تھا.
عامر اور ناصر کا بلڈ ہانی کے بلڈ سے میچ ہوگیا تھا اور دونوں کے جسم سے ایک ایک خون کی بوتل نکال کر ہانی کو لگادی گئی تھی.
” یہ سراسر پولیس کیس ہے پلیز رپورٹ درج کروائیں ” ڈاکڑ نے ناصر سے کہا
” جی ٹھیک ہے ہانی اب کیسی ہے ? “
” الحمدللہ پیشنٹ اب خطرے سے باہر ہیں. بے ہوشی کی حالت میں بار بار کسی ذاکر نامی شخص کا نام لے رہی ہیں. ذاکر کون ہے? ” ڈاکٹر نے ہانی کی حالت خطرے سے باہر بتاکر ساتھ میں ذاکر کا پوچھا
” پیشنٹ کے شوہر ہیں “
” آپ میں سے کون ہے ?”
” ام میں سے کوئی نہیں ہے “
” پھر ان کو بلوا لیجیے اور خوش خبری بھی دے دیجیے گا کہ وہ باپ بننے والے ہیں “
سب نے حیرت سے ڈاکٹر کو دیکھا
” کیا ہوا ? “
” کچھ نہیں شکریہ ڈاکٹر صائب کیا ام ہانی سے مل سکتا ہے ? ” ناصر نے بروقت حیرت چھپا کر شکریہ ادا کیا
” ہوش میں آنے کے بعد آپ پیشنٹ سے مل سکتے ہیں “
” شکریہ ڈاکٹر صائب “
…..
ہوش میں آتے ہی ہانی چیخنے لگی تھی
” ذاکر کو وہ لوگ مار دیں گے “
عامر نے ہانی کا ہاتھ پکڑ کر دبایا
” کون لوگ ? اور تمہیں کس نے چھرا مارا تھا ? “
” پتہ نہیں کون لوگ تھے میں نہیں جانتی. وہ ذاکر کو لے گئے ہیں. وہ ذاکر کو مار دیں گے لالہ ذاکر کو بچالیں “ہانی پھوٹ پھوٹ کے رو دی
” ماخر خان اگر تم نے یہ سب کیا ہے تو آج تمہاری خیر نہیں ” عامر نے دل میں سوچا
” ہانی گڑیا ام ذاکر کو کچھ نہیں ہونے دے گا ڈونٹ وری
…..
ذاکر کو حویلی لاکر اندھیرے تہہ خانے میں زنجیروں سے باندھ دیا گیا تھا اور سب تہہ خانے سے نکل گئے تھے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *