Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila NovelR50749 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode08
No Download Link
388.3K
13
Rate this Novel
Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode01 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode02 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode03 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode04 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode05 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode06 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode07 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode08 (Watching)Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode09 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode10 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode11 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode12 Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Last Episode
Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode08
Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode08
ہانی اردگرد سے بے خبر بھاگتی چلی جارہی تھی تین بار اکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا تھا.
ذاکر بھاگتا ہوا دونوں آدمیوں سے آگے نکل گیا. ہانی ون وے سڑک پر دوڑ رہی تھی آمنے سامنے سے آتی دو گاڑیوں کے درمیان سے ہانی گزر گئی جبکہ وہ دونوں آپس میں ٹکرا گئیں. ہانی نے بس ایک نظر مڑ کر دیکھا اور پھر سے بھاگنے لگی.
ہانی بے خبر بھاگ رہی تھی اور ذاکر ہانی کے پیچھے بھاگ رہا تھا. جب ایک ہی گلی میں دوسرا چکر لگا تو ذاکر ٹھٹکا اور رک گیا. اردگرد نظر دوڑائی اور دیواروں پر لگے کیمرے دیکھ کر چونکا.
” پاکستان اور سٹریٹ کیمراز اٹس امباسیبل. یقینا یہاں کچھ ہونے والا ہے “
دونوں آدمی ذاکر سے آگے نکل گئے. ذاکر اردگرد دیکھ کر چلتا ہوا ایک چھوٹی سی گلی کی نکڑ پر کیمرے کی آنکھ سے بچ کر کھڑا ہوگیا. ذاکر کو یقین تھا ہانی اور آدمیوں کا گزر پھر سے یہیں سے ہوگا اور واقعی ایسا ہی ہوا. ہانی گلی کے پاس سے گزرنے لگی تو ذاکر نے بازو پکڑ کر کھینچا.
ہانی ذاکر کے سینے سے جالگی سر اٹھاکر دیکھا اور ذاکر کو دیکھ کر دھڑکن بے ترتیب ہوئی
” ہانی بھاگو ” کہہ کر ذاکر نے ہانی کا ہاتھ پکڑا اور بھاگ پڑا.
دونوں بھاگتے ہوئے گلی کی دوسری سایڈ سے نکلے اور ایک کونے میں چھپ کر کھڑے ہوگئے. بس ذاکر کا تھوڑا سا کوٹ نظر آرہا تھا باقی ہانی مکمل طور پر چھپی ہوئی تھی. ذاکر ہانی سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑا تھا.
تینوں آدمی ذاکر اور ہانی کی تلاش میں ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے.
” اگر آج ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی زندہ سلامت گھر آیا تو تم لوگ زندہ نہیں رہو گے ” ماخر کی گرجدار آواز تینوں کے کانوں میں لگی بلیوٹوتھ سے ابھری
” صائب وہ گم گیا ہے دونوں کہیں بھی نظر نہیں آرہا “
” ڈھونڈو انہیں قافلے کے آنے سے پہلے ” ماخر کا میڑ گھوم گیا.
ذاکر اور ہانی کا سانس بھاگنے کی وجہ سے پھول گیا تھا. ذاکر نے چہرے سے رومال ہٹایا.
” ہانی… کیا… ضرورت تھی یہ سب کرنے کی ? ” ذاکر نے پھولے ہوئے سانس کے ساتھ کہا
” جس آدمی کے پیچھے میں بھاگ رہی تھی وہ آدمی انگلینڈ والے تلوار بازوں میں سے ایک تھا. اسی لیے اس کے پیچھے بھاگی تھی “
” وہ تو جیل میں ہیں تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی پاگل لڑکی “
” نہیں بلکل نہیں میں ان دونوں کے چہرے کبھی بھی بھول نہیں سکتی “
” آفیسر ڈیوڈ کی اب خیر نہیں ” ذاکر نے کڑے تیوروں کے ساتھ کہا
” کون آفیسر ڈیوڈ ? “
” یار بعد میں بتاؤں گا ابھی یہاں سے بھاگنے کی سوچو کب تک ہم یہیں کھڑے رہیں گے. وہ آدمی تمہیں ایک ہی گلی میں بار بار چکر لگوا رہا تھا اور اس گلی میں کیمرے بھی لگے ہوئے تھے ہانی ضرور وہاں کچھ نا کچھ ہونے والا تھا “
” میں نے اردگرد دیکھا ہی نہیں مجھے پر تو بس اس آدمی کو مارنے کا جنون سوار تھا ” معصوم سا منہ بناکر کہا
ذاکر کا دل کیا سر پیٹ لے کتنی بےوقوف لڑکی ہے
” یہ چاقو تم نے شوز میں کب سے رکھنا شروع کردیا? ” ذاکر نے گھورتے ہوئے پوچھا
ہانی ہنس پڑی اور کوٹ کے بٹن کھول کر کوٹ ہٹایا. شرٹ کے اوپر باندھے بیلٹ میں گن لگی دیکھ کر ذاکر کا منہ کھل گیا.
” کیا یہ اصلی ہے ? ” اور ہاتھ بڑھا کر بیلٹ سے گن نکال لی
” یس “
ذاکر صدمے کی حالت میں ایک بار ہانی کو دیکھ رہا تھا اور ایک بار پسٹل کو.
ہانی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی.
ذاکر نے کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کیا. ہانی کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی
” تم آخر ہو کیا چیز ? دیکھنے میں تو بس اک نازک سی گڑیا لگتی ہو ” کہتے ہوئے ہانی کے گال کے ساتھ اپنا گال مس کیا
” ذاکر آپ کیسی حرکتیں کر رہے ہیں ? ” ہانی نے آہستہ آواز میں کہا
” ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے اور ویسے بھی میں تم سے ناراض ہوں اس لیے ایسی ویسی کوئی حرکت نہیں کروں گا ڈونٹ وری ” کہہ کر ہانی کو چھوڑ دیا
” ذاکر میں آپ کو کیسے مناؤں ? ” ہانی اک دم سے رونے والی ہوگئی
” میں نہیں ماننے والا “
” ذاکر ڈونٹ ڈو دس ٹو می پلیز “
ذاکر کے موبائل پر کال آئی اور بیل کی آواز پر ایک آدمی چونکا. اردگرد دیکھا اور بیل کی آواز کی طرف قدم بڑھائے
ذاکر جھنجلا اٹھا
” اوہ شٹ اب ہم پکڑے جائیں گے ” اور جلدی سے موبائل نکال کر اوف کیا
آدمی کی ہلکی سی جھلک پر ذاکر نے جھٹ ہانی کو اپنے حصار میں لیا اور چہرے پر جھک گیا.
ذاکر کے چوڑے شانوں کی وجہ سے ہانی کی ہلکی سی جھلک بھی نظر نہیں آرہی تھی صرف شوز ہی نظر آرہے تھے. جو ہلکے سے اندھیرے کی وجہ سے بلیو کی بجائے بلیک لگ رہے تھے.
آدمی حیران رھ گیا
” پاکستان میں بھی رومینس کھلے عام ہوتا ہے آج پتہ چلا ہے ” اور واپس سڑک کی طرف بڑھا
ذاکر کے گرفت ڈھیلی کرنے پر ہانی نظریں جھکائے پیچھے ہٹی.
” سوری اپنی اور تمہاری جان بچانے کے لیے … مگر یہ مت سمجھنا کہ میں اب ناراض نہیں ہوں ” اور دو قدم پیچھے ہٹ کر سڑک پر نظر دوڑائی تینوں آدمیوں میں سے صرف ایک آدمی بہت زیادہ فاصلے پر کھڑا نظر آیا. اردگرد دیکھا اور بینچ پر بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر شرارت سوجھی.
ذاکر نے مسکراہٹ روکتے ہوئے پوکٹ سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی اور سگریٹ ہونٹوں کے درمیان دبا لیا. لائٹر نکال کر سگریٹ جلایا اور سگریٹ پینے لگا.
ہانی نے سر اٹھاکر ذاکر کو دیکھا
ذاکر کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھ کر ہانی کا منہ کھل گیا.
” اللہ اللہ یہ کیا کر رہے ہیں ? “
” کیا ? ” ذاکر جھٹ سے انجان بن گیا
ہانی ذاکر کو گھورنے لگی.
” اوہ کیا تمہاری نظر کمزور ہوگئی ہے ? اچھا دیکھو میری انگلیاں نظر آرہی ہیں یا نہیں ? ” کہتے ہوئے ہانی کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا
ہانی نے زور دار مکا ذاکر کے بازو پر مارا اور ہونٹوں کے درمیان سے سگریٹ کھنچ لیا.
” خبردار جو دوبارہ سگریٹ کو ہاتھ لگایا اور یہ سگریٹ پینے کا مشورہ کس نے دیا تھا ? “
” عبداللہ نے کہا تھا سگریٹ پینے والے لڑکے لڑکیوں کو بہت پسند ہوتے ہیں اور وہ جو سامنے بنچ پر لڑکی بیٹھی ہے نا میں تو بس اس کو امپرس کرنے کے لیے سگریٹ پی رہا تھا ورنہ تم جانتی ہو میں سگریٹ نہیں پیتا ” ذاکر نے معصوم سا منہ بناکر کہا
” ذاکر….. ” ہانی کا دل کر رہا تھا ذاکر کا گلہ دبا دے.
” یس “
ہانی نے تھوڑا آگے ہوکر پہلے لڑکی کو دیکھا اور پھر ذاکر کی جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالی. ڈبی نیچے پھینک دی.
” خبردار جو اب سگریٹ پیا اور میرے علاوہ کسی لڑکی کو دیکھا تو جان لے لوں گی ” ہانی نے گھورتے ہوئے کہا
” میری آنکھیں میری مرضی. جس کو دل کرے گا اس کو ضرور دیکھوں گا ” ذاکر نے بگڑے ہوئے لہجے میں کہا
ہانی کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا
” میں دیکھنے نہیں دوں گی “
” وہ کیسے ? “
” آنکھیں نکال لوں گی آپ کی “
ذاکر لاجواب ہوگیا اور ہانی کی آنکھوں میں در آئی سختی کو دیکھنے لگا
” پاگل لڑکی ” ذاکر ہنسا
” میں بلکل سیرس ہوں “
” تو…” ذاکر نے سوالیا نظروں سے دیکھا
ذاکر کا پل میں بدل جانا ہانی کو رولا رہا تھا.
ذاکر نے اردگرد نظر دوڑائی تو دور دور تک اُن تینوں آدمیوں میں سے کوئی بھی نظر نا آیا.
ذاکر نے سیٹی ماری ٹیکسی رک گئی ہانی کو اپنا کوٹ پہنا کر کوٹ کی کیپ سر پر دے دی تاکہ اگر کوئی چھپ کر کھڑا ہے دونوں کو ڈھونڈ رہا ہے تو وہ پہچان نا لے. دونوں جلدی سے ٹیکسی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئے.
…….
عامر اور عامرہ پریشان پریشان سے گھر میں داخل ہوئے.
” ہانی اور ذاکر کہاں ہیں ? ” آخرہ نے ہانی اور ذاکر کو نا پاکر سوال کیا
” پھوپھو آپ کمرے میں آئیں ذرا ” عامر نے عامرہ کو جانے کا اشارہ کرکے اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا
آخرہ عامر کے پیچھے چلیں آئیں.
عامر نے سارا واقعہ آخرہ کے گوش گزار دیا
” ہاہ ” آخرہ نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا
” پھوپھو ام کو لگتا ہے دونوں کا جان خطرے میں ہے “
” لگ تو ام کو بھی یہی رہا ہے پتہ نہیں دونوں بچہ کس حال میں ہو گا ? “
….
عامر ‘ عامرہ اور آخرہ مسلسل کلاک پر نظریں جمائے ہوئے لاؤنج میں بیٹھے تھے.
ابھی ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا جب ہانی اور ذاکر نے گھر میں قدم رکھے.
تینوں اٹھ کھڑے ہوئے
” شکر ہے رب کا تم دونوں سہی سلامت گھر آگیا ” آخرہ نے آگے بڑھ کر دونوں کا ماتھا چوما
عامر نے آگے بڑھ کر ہانی کو ساتھ لگالیا
” ذاکر ام کے کمرے میں آؤ کچھ بات کرنی ہے ” عامر نے ذاکر کو مخاتب کیا
ذاکر برے برے منہ بناتا عامر کے پیچھے چل پڑا.
” بیٹھ جاؤ ” ذاکر کو کھڑے دیکھ کر کرسی کی طرف اشارہ کرکے کہا
ذاکر چیر پر بیٹھ گیا
” ام کو سب کچھ جاننا ہے ” عامر نے سخت لہجے میں کہا
” کیوں ? “
اتنے میں عامرہ ‘ ہانی اور آخرہ کمرے میں داخل ہوئیں
” کیونکہ ہانی ام کا بہن ہے وہ پہلے ہی کافی دکھ دیکھ چکا ہے ام نہیں چاہتا کہ اس کو مزید کوئی دکھ پہنچے “
” لالہ یہ نہیں بتائیں گے میں بتاتی ہوں ” ذاکر کا لاپرواہ سا انداز دیکھ کر ہانی نے ذاکر کو گھورتے ہوئے کہا
” بتاؤ “
ہانی نے تمام واقعات عامر کو بتا دیے
” کیا ذاکر کا کوئی اور بھی دشمن ہے حمر اور خان کے علاوہ ? “
” نہیں خان اور حمر ہی ہیں بس “
خان کا نام ہانی کی زبان سے سن کر ذاکر کے ہلک تک کرواہٹ پھیل گئی.
” تایا حضور سمجھتے ہیں کہ خان کی آنکھیں اور ٹانگیں ذاکر نے ناکارہ کیں ہیں جبکہ وہ کارنامہ ہانی نے سر انجام دیا ہے تو کہیں تایا حضور ….”
” ابا حضور ایسا نہیں کرسکتے ” عامرہ ساتھ ہی تڑپ اٹھی
” ہمیں نہیں پتا ہمارا دشمن کون ہے ? نا ہی کوئی اندازہ ہے کہ کون ہوسکتا ہے ? ماخر خان پر اب مجھے کچھ کچھ شک ہورہا ہے عامر کی بات سن کر…. ” ذاکر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
عامرہ کمرے سے نکل گئی
” چلو اب تم دونوں ریسٹ کرو بعد میں اس بارے میں بات ہوگا ” آخرہ نے عامرہ کی آنکھوں سے نکلتے آنسو دیکھ لیے تھے اس لیے فل حال اس ٹوپک کو کلوز کرنے میں ہی عافیت جانی.
ذاکر اٹھ کھڑا ہوا اور ہانی کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف بڑھا.
کوریڈور سے گزرتے ہوئے ماخر کی نظر ہانی اور ذاکر پر پڑی تو ٹھٹکا جن کو مارنے کے لیے ماخر نے ایک قافلہ تیار کیا تھا وہ گھر بھی پہنچ گئے تھے یہ دیکھ کر ماخر کا دماغ کھول اٹھا.
ذاکر نے ماخر کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
” اگر یہ سب ماخر خان کروا رہا ہے تو اسے میں زندہ نہیں چھوڑوں گا ” ذاکر نے دل میں پکا ارادہ قائم کیا.
…
ماخر نے کمرے میں آکر کال ملائی.
” وہ دونوں گھر آچکا ہے تم لوگ کسی کام کا نہیں ہو.تم لوگوں سے اتنا بھی نا ہوسکا کہ ان کو کچھ دیر اس گلی میں روکے رکھتا مارنا تو قافلے والوں نے تھا نا خر کا بچہ نالائق” ماخر کا دل کر رہا تھا تینوں آدمیوں کا قتل کردے
” صائب….”
” شٹ اپ زبان سے زیادہ دماغ چلایا کرو. کسی دن تم لوگوں کے دماغ کو زنگ لگ جانا ہے ” اور فون کاٹ دیا
” ہر بار تو تم دونوں بچ نہیں پاؤ گے اس بار نا سہی اگلی بار سہی ” ماخر آنکھوں میں غصہ لیے کمرے میں چکر لگانے لگا.
….
کمرے میں آکر ذاکر نے کپڑے چینج کیے اور بستر میں گھس گیا. ہانی صوفے پر بیٹھی سوچوں کے سمندر میں غوتہ زن تھی
” سنو ” ذاکر نے ہانی کو مخاتب کیا
ہانی نے چونک کر دیکھا
” مجھے بھوک لگی ہے ” ذاکر نے معصوم سا منہ بناکر کہا
” کیا کھانا ہے ? “
ذاکر نے ہانی کو سر سے پیر تک دیکھا
” گھور کیوں رہے ہیں ? “
ذاکر ہنسنے لگا. ہانی کو غصہ آرہا تھا
” اب ہنس کیوں رہے ہیں ? “
” اب تمہیں میرے ہنسنے پر بھی پرابلم ہے ? ” ذاکر نے گھورتے ہوئے کہا
” ذاکر آپ کا مسلہ کیا ہے ? “
” تم “
” میں ? ” ہانی نے حیرانگی سے بھرے لہجے میں کہا
” ہاں تم “
” اب کیا کیا ہے میں نے ? ” ہانی نے تپ کر کہا
” خود سوچو ” ہانی کے سرخ ناک کو دیکھ کر ذاکر کا دل ہانی کے ناک کو کھینچنے کے لیے مچل رہا تھا.
” مجھے غصہ آرہا ہے ” ہانی نے دانت پیس کر کہا
ایک تو گھور گھور کر دیکھ رہیں ہے اوپر سے بے تکان باتیں کررہیں ہے ہانی نے دل میں سوچا
” مجھے بھوک لگی ہے ” ذاکر نے ہانی کو غصے میں آتے دیکھ کر کہا
” پوچھ تو رہی ہوں کیا کھانا ہے ? “
” بہت کچھ “
” کوئی ایک آدھ چیز بتائیں “
” ہانی تم نے میرا کوٹ کیوں نہیں اتارا ? “
ہانی ذاکر کا گلہ دبانے کے لیے صوفے سے اٹھ کر بیڈ کی طرف بڑھی اور بیڈ پاس پہنچی ہی تھی کے ذاکر نے ہاتھ کھینچ کر اپنے اوپر گرا لیا. ہانی کا ناک زور سے کھنچا اور حجاب کی پن کھول دی.
” تمہارا ناک کتنا پیارا ہے نا ” ذاکر نے خوش ہوتے ہوئے کہا
ہانی جھینپ گئی
” مجھے بھوک لگی ہے ” ذاکر نے ہانی کو پھر سے غصہ دلانے کا سوچتے ہوئے کہا
ہانی نے کچھ بھی کہے بغیر ذاکر کے بال پکڑلیے
” اوف لڑکی چھوڑو میرے بال ” ذاکر تڑپ اٹھا
” پہلے بتائیں کیا کھانا ہے ? “
” بریانی “
ہانی نے بال چھوڑ دیے. ذاکر نے ناک پر پیار کرتے ہوئے ایک بار پھر سے ناک کھینچا اور شرارتی نظروں سے دیکھنے لگا.
ہانی شرمائی شرمائی سی اٹھ کر باہر کی طرف بڑھی.
ہانی کے کمرے سے نکلتے ہی ذاکر نے عبداللہ کو فون کرکے باہر سے بریانی لانے کو کہا
آدھے گھنٹے بعد عبداللہ بریانی لے کر کمرے کے باہر کھڑا تھا
” آجاؤ ” عبداللہ کے نوک کرنے پر ذاکر نے کہا
عبداللہ اندر داخل ہوا اور ٹیبل پر بریانی کے دو ڈبے اور دو ہاف لیڑ کوک رکھ کر خود صوفے پر بیٹھ گیا.
” یہاں کے سب سے بہترین ہوٹل سے بریانی لے کر آیا ہوں . جلدی آئیں “
ذاکر بستر سے نکل کر صوفے پر آکر بیٹھ گیا اور بریانی کا ڈبہ اٹھالیا.
دونوں باتیں کرتے ہوئے بریانی کھارہے تھے.
ہانی کمرے میں داخل ہوئی.
عبداللہ اور ذاکر کو بریانی کھاتے دیکھ کر ایک دم غصے میں آگئی
” اگر باہر سے ہی منگوا کر کھانی تھی تو مجھے کیوں مصیبت میں ڈالا ? “
ذاکر ہنسنے لگا
” اور تم عبداللہ کبھی ذاکر کو کوئی سیدھا مشورہ بھی دے دیا کرو. ہر وقت گھٹیا مشورے ہی دیتے ہو اگر میرا شوہر تھوڑا سا بھی بگڑا نا تو ….. ” زور سے عبداللہ کی کمر میں گھونسا مارا
” ہائے ظالم بجو ” عبداللہ تڑپ اٹھا
” کمرے سے نکلو ” ہانی نے تپ کر کہا
” کیوں یہ کیوں جائے کمرے سے ? ” ذاکر نے جھٹ سے کہا
” عبداللہ یار مجھے تیری بجو سے ڈر لگ رہا ہے مجھے چھوڑ کر نا جانا ” آہستہ سے عبداللہ کے کان میں کہہ کر ہاتھ پکڑلیا.
” عبداللہ اٹھو ورنہ میں پھوپھو کو بلا رہی ہوں ” ہانی نے ذاکر کے ہاتھ سے عبداللہ کا ہاتھ چھڑوا کر کہا
” سوری لالہ ام کو جانا پڑے گا ” عبداللہ کہہ کر کمرے سے نکل گیا
” آخر آپ چاہتے کیا ہیں ? ” ہانی نے ذاکر کے برابر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا
” میں فل حال بریانی کھانا چاہتا ہوں ” اور بریانی کھانے لگا
” اللہ اللہ مجھے اٹھالیں ورنہ مجھے ذاکر پاگل کردیں گے “
ذاکر نے ہونٹ کا کونہ دباکر مسکراہٹ روکی ہانی ذاکر کی مسکراہٹ دیکھ کر تپ گئی اور ہاتھ سے بریانی کا ڈبہ کھینچ لیا.
” ذاکر “
” ہممم ” ذاکر نے ہانی کے سرخ سرخ چہرے کو دیکھ کر کہا
” آپ آج اتنا تنگ کیوں کررہے ہیں ? “
” کیا کروں مجھے صبح سے تم پر پیار آئی جارہا ہے ? ” ذاکر نے معصوم سا منہ بناکر ٹیبل پر سر رکھ کر ہانی کو دیکھتے ہوئے کہا
ہانی کو ذاکر کا معصومانہ انداز بے انتہا اچھا لگا
” مطلب اب آپ ناراض نہیں ہیں ? ” ہانی خوش ہوگئی
” میں ناراض ہی ہوں ” کہہ کر منہ دوسری سایڈ کو کرلیا
ذاکر کا بچوں کی طرح روٹھنا ہانی کے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا تھا
” güzel kızgın adamım “
( My beautiful angry man )
…….
آخرہ عامر کے کمرے میں داخل ہوئیں
” عامر “
” جی پھوپھو ” عامر اٹھ بیٹھا
” عامرہ رو رہی ہے “
” کیوں ? “
” دوپہر سے رو رہی ہے …..”
عامر نے پوری بات سنے بغیر باہر کی طرف قدم بڑھائے.
عامرہ کے کمرے میں داخل ہوا تو عامرہ کرسی پر بیٹھی رو رہی تھی.
عامرہ کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر قالین پر بیٹھ گیا.
” لڑکی رو رو کر آنکھوں کا ستیاناس کیوں کر را ہو ? “
دو تین بار پوچھا مگر عامرہ چپ چاپ روتی رہی
” آخری بار پوچھ رہا ہوں اگر نا بتایا تو مار پڑے گا کیوں رو را ہو ? “
” ابا حضور نے کچھ نہیں کیا “
” تم اتنا یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتا ہو کہ انھوں نے کچھ نہیں کیا ? “
” ابا حضور برے نہیں ہیں “
” عامرہ یہ مسلہ خالصتَا ذاکر ‘ ہانی اور تایا حضور کا ہے. بہتر ہوگا کہ ام درمیان میں نا بولیں “
” اگر ذاکر لالہ نے ابا حضور کے ساتھ کچھ غلط کردیا تو ? “
” اگر تمہیں یاد ہو تو تم ہی کہا کرتا تھا کہ ذاکر لالہ برے نہیں ہیں “
” ہاں یاد ہے ام مانتا ہے وہ برے نہیں ہے پر ام کو ڈر ہے کہ وہ ابا حضور کو نقصان نا پہنچا دیں “
” اگر تایا حضور غلط ہوئے تو ذاکر ان کو چھوڑنے والا نہیں ہے اور نا ہی ہانی چھوڑے گی مگر اگر وہ غلط نہیں ہیں تو ام کو یقین ہے کہ وہ دونوں ان کو کچھ نہیں کہے گا.”
عامرہ چپ کرگئی
” چلو اٹھو منہ دھو کر آؤ “
عامرہ منہ دھونے چلی گئی منہ دھوکر واپس آئی تو عامر کمرے میں چکر لگا رہا تھا.
عامرہ کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر عامرہ پاس چلا آیا.
” اب رو گی تو نہیں ? “
” نہیں “
” گڈ رونا بھی نہیں چاہیے “
عامر عامرہ کا جائزہ لینے لگا. کچے پیلے رنگ کی پٹھانی فراک کے ساتھ وائیٹ ٹراؤزر اور وائیٹ دوپٹے میں بہت اچھی لگ رہی تھی. عامر نے عامرہ کی سرخ سرخ آنکھوں پر ہونٹ رکھ دیے.
عامرہ جھینپ گئی
” کل تم ام کے کمرے میں آ جائے گا “
عامرہ شرمائی شرمائی سی سر جھکا کر کھڑی تھی.
عامر ہنستے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔
#جاری ہے
