Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode02

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode02

ذاکر کو ہانی کی تیز ہاٹ بیٹ سنائی دے رہی تھی. ذاکر جھکا اور ہانی کو باہوں میں بھر کر بیڈ کی طرف قدم بڑھائے
” ذاکر مجھے نیچے اتاریں “
” سوری آج میں تمہاری بات ماننے کے موڈ میں نہیں ہوں “
اور بیڈ پر لیٹا دیا.
ہانی نے بولنے کے لیے منہ کھولا مگر ذاکر نے منہ پر انگلی رکھ کر چپ کروا دیا اور کان میں سرگوشی کی
” آج خاموشی سے صرف مجھے سنو “
ہانی نے ذاکر کے بال کھنچنے چاہے ذاکر نے ہاتھ پکڑلیا
” پوری جنگلی ہو “
” ذاکر ” ہانی دوسرے ہاتھ سے بال پکڑنے لگی ذاکر نے وہ ہاتھ بھی پکڑلیا اور آنکھ ماری.
” بدتمیز ” ہانی نے آہستہ سے کہا
ذاکر نے سمائل روکتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر لائٹ اوف کردی.
” ذاکر ” ہانی نے بے بسی سے کہا
” شش بی مائن ” اور ہانی کے چہرے پر جھک گیا.
… . …
صبح ذاکر کی آنکھ کھلی تو ہانی دنیا جہان سے بے خبر بچوں کی طرح سورہی تھی.
” Aşkım “
ذاکر نے ہانی کے گالوں کو چھوتے ہوئے کہا
ہانی کسمسائی اور ذاکر کی طرف کروٹ لی.
” ہنی تمہارے چہرے کی معصومیت اور آنکھوں کے نیچے کا تل میری سب سے بڑی کمزوری ہے” کہتے ہوئے قریب ہوا اور تل پر ہونٹ رکھ دیے
ہانی کی آنکھ کھل گئی.
ذاکر سمائل کرتے ہوئے پیچھے ہوا
” Gunıya dın ” ( good morning )
ہانی خاموشی سے بیڈ کی دوسری سایڈ سے اتر گئی اور واش روم کی طرف قدم بڑھائے
” ہنی کسی نا کسی طرح تمہیں منا ہی لوں گا ” کہتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں
ہنی فریش ہوکر نکلی اور ذاکر کو بے خبر سوئے ہوئے دیکھ کر ہانی کو رات کا منظر یاد آگیا ذاکر نے ہانی کی ایک بھی نہیں سنی تھی بس اپنی مرضی چلائی تھی. ہانی غصے میں آگئی اور ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی. بیگ اور اپنی چیزیں اٹھاکر روم میں لے آئی.
ساری چیزیں بیڈ پر رکھیں اور بیگ پیک کرنے لگی.
شور کی آواز پر ذاکر کی آنکھ کھل گئی ہانی کو بیگ پیک کرتا دیکھ کر اپنا سر پکڑلیا. کچھ دیر بعد سر چھوڑ کر
” اللہ مجھے صبر دے ” اونچی آواز میں کہتا ہوا ہانی کے پاس آکر کھڑا ہوگیا
” کہاں جارہی ہو ? “
ہانی چپ چاپ بیگ پیک کرتی رہی.
ذاکر کچھ دیر کھڑا دیکھتا رہا پھر جو چیز ہانی بیگ میں رکھتی تھی ذاکر باہر نکال دیتا تھا.
آدھا گھنٹا یہی کھیل چلتا رہا آخر تنگ آکر ہانی نے ذاکر کو گھورا
” نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا ? ویسے آج تم کافی زیادہ چمک رہی ہو گلو گلو ” ذاکر نے ہانی کی شرٹ کھنچ کر قریب کرتے ہوئے آنکھ ماری.
ہانی نے ذاکر کے ہاتھ سے اپنی شرٹ کھنچی
” اللہ اللہ کبھی ناخن نہیں کاٹے کیا ? ” کہتے ہوئے ہانی کا ہاتھ پکڑلیا
ہانی ہاتھ چھوڑوانے لگی.
ذاکر نے کمر میں ہاتھ ڈال کر پھر سے قریب کر لیا اور ہاتھ چھوڑ کر چہرے سے بال ہٹائے
” لیٹل گرل آج نا بولنے کی قسم کھائی ہے ? “
” چھوڑیں مجھے ” ہانی نے سخت لہجے میں کہا
ذاکر چھوڑ کر پیچھے ہوا
” اگر آج تم یہ گھر چھوڑ کر چلی گئی تو اس گھر کے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گے ” کہتے ہوئے ذاکر دیوان پر جابیٹھا
ہانی ساکت رھ گئی.
کچھ دیر بعد سکتا ٹوٹا ہانی بیگ خالی کرنے لگی ذاکر سے ناراض ضرور تھی مگر ہمیشہ کے لیے ذاکر سے دور جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی.
ہانی کو بیگ خالی کرتے ہوئے دیکھ کر ذاکر اٹھ کر فریش ہونے کے لیے واش روم کی طرف بڑھا.
” ایک تو اپنی مرضی کرتے ہیں اوپر سے دھمکیاں بھی دیتے ہیں ” ہانی غصے سے منہ پھولا کر بیڈ پر بیٹھ گئی.
……
ماخر نے ہر امپلائی سے پوچھا مگر کسی کو کچھ بھی معلوم نا تھا
” سر جیسا کے ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں. ہم سب کو پہلے ہی فیکڑی سے نکال کر بہت دور کر دیا گیا تھا اور گارڈز لائن بناکر کھڑے تھے اس لیے ان کے درمیان سے گزر کر کون فیکڑی گیا ہم دیکھ نہیں سکے “
ماخر نے غصے سے لیپ ٹاپ اٹھاکر زمین پر مارا
” جاؤ سب یہاں سے “
سب جلدی جلدی باہر کی طرف بڑھے.
” جس نے بھی خان کی یہ حالت کی ہے اس کو تو ام ڈھونڈ ہی لے گا چاہے ام کو کسی بھی حد تک جانا پڑے “
…….
عامر کو عامرہ پسند تو بچپن سے ہی تھی مگر آج کل عامرہ کو دیکھ کر عامر کے ہوش ٹھکانے پر نہیں رہتے تھے.
عامرہ فاخرہ کے کمرے میں بیٹھی ان کے پرانے کپڑوں کو دیکھ کر خوش ہورہی تھی
” ہائے دادی ماں آپ کے کپڑے کتنے پیارے ہیں “
” لڑکی میں دیکھ رہی ہوں خان کافی عرصے سے ہوسپٹل میں ہے اور تم مشکل سے دو بار ہوسپٹل گئی ہو. وہ بھی ماخرہ تمہیں دھکے سے لے کر گئی تھی کیوں ? “
عامرہ کے چہرے پر نفرت پھیل گئی
” دادی ماں ام کو خان لالہ سے نفرت ہے اس شخص نے ہانی کو زندہ دفنا دیا اور ان کی وجہ سے ذاکر لالہ کومہ میں چلے گئے ان میں انسانیت نام کی چیز نہیں ہے تو پھر وہ زندہ رہیں یا مر جائیں ام کو کوئی فرق نہیں پڑتا “
عامر کمرے میں داخل ہوا اور عامرہ کو فاخرہ کے کمرے میں دیکھ کر آنکھوں کی چمک بڑھ گئی
” سلام دادی ماں “
” وسلام آؤ عامر “
عامر عامرہ سے کچھ ہی دوری پر بیٹھ گیا
” دادی ماں آپ ہوسپٹل نہیں جائیں گی ? “
” نہیں آج ام کی طبیت ٹھیک نہیں لگ رہی ” کہتے ہوئے فاخرہ نے آنکھیں بند کرلیں.
” ٹھیک ہے جیسا آپ مناسب سمجھیں ” اور عامرہ کو دیکھنے لگا.
کچھ دیر دیکھنے کے بعد اٹھ کھڑا ہوا اور عامرہ کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا ہوا باہر کی طرف بڑھا.
عامرہ خائف سی اٹھی اور عامر کے پیچھے چلتے ہوئے باہر آگئی.
عامر چلتے چلتے ایک دم رک کر پلٹا عامرہ سر جھکا کر بے خبر چل رہی تھی اس لیے زور سے سر عامر کے سینے سے جالگا اور چودہ طباق روشن ہوگئے سر اوپر کیا عامر کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگی مگر عامر نے بازو حمائل کرکے روکا.
ہاتھ بڑھا کر عامرہ کے روئی جسے گالوں کو چھوا پھر ہاتھ ہٹاکر ہونٹ رکھ دیے. عامرہ کانپنے لگی
” عامر “
عامر نے کان میں سرگوشی کی
” یو آر سو بیوٹیفل “
عامرہ کو سانسیں گردن پر محسوس ہورہیں تھیں
” کانپ کیوں رہی ہو ? “
” پلیز ام کو چھوڑ دیں ” عامرہ نے کانپتی ہوئی آواز سے کہا
عامر نے ہنستے ہوئے بازو ہٹائے
” لو چھوڑ دیا “
عامرہ جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی.
” اللہ اللہ عامر کو کیا ہوگیا ہے ? “
……..
ناصر گھر میں داخل ہوا اور سیدھا فاخرہ کے کمرے کی طرف بڑھا
” ماں جی ماخر کو روک لیں “
” اب کیا کرنے لگا ہے ? “
” انگلینڈ جارہا ہے کہتا ہے ذاکر نے ہی خان کی یہ حالت کی ہے اس سے بدلا لے گا “
فاخرہ سر پکڑ کر اٹھ کھڑیں ہوئی
” ماخر نے ام کا جینا حرام کر رکھا ہے ” کہتی ہوئیں کمرے سے نکل کر ماخر کے کمرے کی طرف بڑھیں
” برخودار تم کہیں نہیں جارہے بیگ خالی کرو “
” ماں جی آپ کو خان کی حالت نہیں نظر آتی کیا ? “
” سب نظر آتا ہے تم زبان بند کرو اور بیگ خالی کرو “
” ماں جی … “
” تمہیں تمہارے مرے ہوئے باپ کا واسطہ دیتی ہوں ام کو تنگ نا کرو “
ماخر چپ چاپ بیگ خالی کرنے لگا.
فاخرہ سکون کا سانس لے کر چیر پر بیٹھ گئیں.
……..
ذاکر اور ہانی کلاس لے رہے تھے لیکچر ختم ہوتے ہی ذاکر پوری توجہ سے ہانی کو دیکھنے لگا.
ہانی کو ذاکر کی نظریں کنیفوز کررہیں تھیں مگر ہانی چپ چاپ بیٹھی رہی اور دل میں سوچا پتہ نہیں اتنا گھور کیوں رہے ہیں ?
ذاکر نے ہانی کی سوچ پڑھتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر ہانی کے سرخ سرخ گالوں کو دو انگلیوں سے چھوا ہانی گڑبڑا گئی
” ذاکر ہم کلاس روم میں ہیں “
ذاکر نے کان میں سرگوشی کی
” اسی لیے صرف گال کو چھوا ہے “
ہانی ساکت رھ گئی.
” ناراض ہو ? “
ہانی کچھ نہیں بولی
” میں منالوں گا “
ہانی نے دل میں سوچا ہاں جیسے میں نے تو مان ہی جانا ہے
” تمہیں ماننا ہی پڑے گا مائی لیٹل کیوٹ گرل “
” ایک تو اس کی سوچ پڑھنے والی عادت سے میں بے حد تنگ ہوں ” ہانی منہ میں بڑبڑائی
” تمہیں تو اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ آدھی سے زیادہ باتیں بتانے کے لیے تمہیں منہ نہیں کھولنا پڑتا “
ہانی ذاکر کو گھورنے لگی.
ذاکر نے آنکھ ماری اور ہانی کا ہاتھ پکڑ کر اٹھ کھڑا ہوا
” مجھے بھوک لگی ہے چلو کینٹین پر چلیں “
” مجھے نہیں جانا “
ذاکر نے کچھ کہے بغیر ہانی کو جھٹکے سے اٹھایا اور کمر میں ہاتھ ڈال کر زبردستی چلنے پر مجبور کردیا.
بدتمیز ہانی صرف دل میں سوچ کر رھ گئی.
” نہیں بدتمیز تو میں بلکل بھی نہیں ہوں “
” اووف ” ہانی کے منہ سے بے اختیار نکلا
…..
عامرہ فلم دیکھنے کے ساتھ ساتھ چپس پر بھی ہاتھ صاف کررہی تھی.
عامر عامرہ کے کمرے میں داخل ہوا عامرہ فورن سے اٹھ کھڑی ہوئی
” کوئی کام تھا تو آپ ام کو بولا لیتے “
عامر چلتا ہوا بیڈ پر آکر بیٹھ گیا
” نہیں کام تو کوئی نہیں تھا بس آج ام دونوں مل کر فلم دیکھیں گے. کون سی فلم لگی ہے ? “
عامرہ ساکت کھڑی رہی عامر نے ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر اپنے قریب بیٹھا لیا
” کیا ہوا ? “
” کچھ نہیں “
عامرہ کی گود میں سر رکھ کر عامر لیٹ گیا
” تم پر سبز رنگ بہت اچھا لگ رہا ہے “
” یہ نیلا رنگ ہے ” عامرہ نے منہ بناکر کہا
عامر کا قہقہ بلند ہوا
” اب ام کو کیا پتہ کون سا رنگ ہے. بس جو بھی ہے تم پر جچ رہا ہے “
عامرہ ہنسنے لگی.
” عامرہ “
” جی “
” ام کے روم میں کب شفٹ ہورہی ہو ? “
” کیا مطلب ? ” عامرہ نے سرخ ہوتے ہوئے کہا
عامر اٹھ بیٹھا اور بیڈ سے اتر کر ایک گھٹنا زمین پر ٹکا کر پوکٹ سے ایک چھوٹا سا باکس نکالا. باکس کھول کر تھوڑا سا سر خم کیا اور کہا
” عامرہ بنتِ ماخر کیا تم اپنی زندگی کی باقی سبھی بہاریں عامر خان کے سنگ گزارنا چاہو گی ? “
عامرہ نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور ہاں میں سر ہلایا. عامر نے ہنستے ہوئے عامرہ کا ہاتھ پکڑ کر انگوٹھی پہنا دی اور عامرہ کو اٹھاکر گھومایا ” عامر ام کو تو نکاح ہوچکا ہے پھر آپ نے پرپوز کیوں کیا ? “
” رخصتی کے لیے ” عامرہ کی بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی.
#جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *