Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila NovelR50749
Last updated: 4 July 2026
No Download Link
388.3K
13
Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode01Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode02Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Last EpisodeIshq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode03Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode04Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode05Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode06Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode07Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode08Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode09Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode10Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode11Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Episode12
Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila
ذاکر ہانی کو پیچھے کر کے شیشہ دیکھنے لگا. شرٹ پر چوکلیٹ لگ چکی تھی.
" اللہ مجھے صبر دے ورنہ میں اس لڑکی کا قتل کردوں گا "
ہانی پاس کھڑی ہنس رہی تھی.
" ہاہ پھر تو آپ جیل چلے جاؤ گے "
ذاکر خطرناک ارادے لیے ہوئے ہانی کی طرف بڑھا. ہانی باہر کی طرف بھاگنے لگی تھی مگر ذاکر نے بازو پکڑ کر کھنچا ہانی ذاکر کے سینے سے جالگی. ذاکر نے جلدی سے ہانی کے گرد بازو حمائل کیے
" کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ ? ایسی حرکتیں تم صرف تب کرتی ہو جب تمہارے دماغ میں کچھ الٹا سیدھا چل رہا ہوتا ہے. اب شرافت سے بتاؤ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں ? "
ہانی نے پیچھے ہوکر معصوم سا منہ بنایا اور ذاکر کو دیکھتے ہوئے کہا
" کچھ بھی نہیں "
" ویسے تم اتنی معصوم ہو نہیں جتنا معصوم تم منہ بناتی ہو "
" ذاکر " ہانی نے خفگی سے بھرے لہجے میں کہا
" ہاں تو جھوٹ تو نہیں بول رہا میں " کہتے ہوئے ذاکر جھکا
" آپ لیٹ ہورہے ہیں " ہانی نے کپکپاتی آواز میں ذاکر کو پیچھے کرتے ہوئے کہا
" ضالم لڑکی "
ذاکر ہانی کو چھوڑ کر پیچھے ہوا اور وارڈ روب کی طرف بڑھا
" اللہ اللہ اتنی معصوم ہوں "
" ہاں بہت معصوم ہو. دنیا بھر کی مصومیت تم پر آکر ختم ہوجاتی ہے "ذاکر نے طنزیا کہا
" نوازش "
وارڈ روب سے شرٹ نکال کر ذاکر شرٹ بدلنے لگا. ہانی نے ذاکر سے نظر بچاکر چابی اٹھائی اور ڈریسنگ روم سے نکل گئی.
چابی کے چھلے کو انگلی میں گھوماتے ہوئے ہانی پورچ کی طرف بڑھی اور کار کی فرنٹ سایڈ پر چڑ کر بیٹھ گئی.
ذاکر نے شرٹ چینج کرکے ٹائی باندھی اور کوٹ بازو پر رکھ کر گاڑی کی چابی لینے کے لیے ٹیبل کی طرف بڑھا مگر ٹیبل پر چابی کو نا پاکر ہانی کو آوازیں دیتا ہوا باہر آگیا. ہانی کو گاڑی پر بیٹھی دیکھ ذاکر ہانی کی طرف بڑھا
" چابی دو "
" کون سی چابی ? "
" ہانی میں لیٹ ہورہا ہوں "
" تو مجھے کیوں بتارہے ہیں "
ذاکر نے کچھ بھی کہے بغیر ہانی کا ہاتھ کھنچ کر ہانی کو نیچے اتارا اور شرٹ کی پوکٹس چیک کرنے لگا.
" ٹھیک ہے دیتی ہوں مگر اس شرط پر کے آپ مجھے اپنے ساتھ لے کر جائیں گے "
" ہانی مجھے تنگ مت کرو "
" ذاکر میں اکیلی گھر میں کیا کروں گی ? "
" ٹھیک ہے میری ماں چلو "
ہانی نے چابی ذاکر کی طرف بڑھائی.
" اگر تم نے وہاں جاکر ایسی ویسی کوئی حرکت کی تو مار پڑے گی "
" آپ مجھے ماریں گے ? "
" ہاں "
ہانی برا سا منہ بناکر ذاکر کو دیکھنے لگی.
.....
کمپنی کے بیک ڈور پر گاڑی روک کر ذاکر نے ہانی کو اترنے کا اشارہ کیا ہانی چپ چاپ گاڑی سے اترگئی.
ذاکر گاڑی سے اترا اور گاڑی کی چابی ملازم کو دے کر ہانی کی طرف بڑھا. ہانی کا ہاتھ پکڑ کر قدم اندر کی طرف بڑھائے.
سب سے ہلکی پھلکی سلام دعا کرکے ذاکر ہانی کو اپنے ڈریسنگ روم میں لے آیا.
ہانی پہلی بار ذاکر کے ساتھ کمپنی آئی تھی اور ڈریسنگ روم دیکھ کر ہانی کا منہ کھلا رھ گیا. کمرا ایک گھر کے برابر تھا ڈبل بیڈ ' چھوٹا سا کچن ' واش روم ' ایک قد آدم الماری ' ایک چھوٹا سا روم جو شاید جم تھا اور ہر دیوار پر لگے شیشے ہانی تعریف کیے بنا نا رھ سکی.
" شاہانہ "
اتنے میں کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی ذاکر دروازہ کھولنے چلا گیا اور ہانی جم کی طرف بڑھی.
