Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan NovelR50805 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Last Episode
No Download Link
687.8K
21
Rate this Novel
Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode01 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode02 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode03 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode04 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode05 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode06 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode07 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode08 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode09 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode10 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode11 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode12 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode13 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode14 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode15 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode16 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode17 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode18 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode19 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode20 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Last Episode (Watching)
Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Last Episode
Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Last Episode
فل فلیٹ ہو گیا ہے بتی گم ہے اسکی میٹر خراب ہو گیا ہے اُلو بن گیا ہے وہ۔۔۔۔زارا نے اچھی خاصی کر دی تھی فارس کی
ہاہاہا۔۔۔ہاہاہا شاباش مزا آ گیا یار میں نے بھی دیکھنا تھا۔۔حدید کو سین مس ہو جانے کا دکھ ہوا۔
بتا تو رہی ہوں یار بڑا مزا آیا اُسے کچھ سمجھ ہی نہی آ رہا تھا بیوقوفوں والی باتیں کر رہا تھا بات یہ ہے کہ پلان فٹ رہا ہے تھینکس ٹو یو اینڈ مشی یار تم دونوں نہ ہوتے تو میں کیسے یہ سب کرتی۔۔۔۔زارا نے اُسکا شکریہ ادا کیا
دفع ہو جاؤ زارا میں کیوں نے ہوتا میری ابھی منگنی بھی نہی ہوئی ابھی میں نے لڑکی سیٹ کرنی ہے اور تم مجھے مروا دو۔۔۔۔حدید نے اسکے سر پر چت لگائی
اوہو میرا مطلب اگر تم دونوں میرا ساتھ نے دیتے تو۔۔۔ زارا نے کلیئر کی
اوئے تم دونوں چپ کرو یار میں ٹیکسی کروا دیتا ہوں حدید نے آنلائن گاڑی کروا کے دی تو وہ دونوں ٹائم پر گھر پہنچیں۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچ کر اُنکا سامنا زری سے اسکے کمرے میں ہوا جو مسلسل فارس کو کال کر رہی تھی۔۔۔۔۔انکے انے پر اُسنے فون بند کر دیا
کر لو کر کو فارس کو کچھ بتانا ہے تمہیں ہمارے سامنے ہی کر لو۔۔۔مشی نے اُسے تنگ کیا
زری نے اسکی بات سن کر کال ملائی اور پھر اُن دونوں میں اسکے چہرے کے تاثرات بدلتے ہوئے دیکھے فون بند کرنے کے بعد اُسنے ان کی طرف ایک سمائل اچھالی۔۔۔
اور پھر کیا تھا زارا اور مشی نے اُسے پکڑ کر بیڈ پر پھینکا اور اس پر کشن برسانے لگیں
آخر پندرہ منٹ بعد جب زری کے کراہنے کی آواز ائی تو اُنہیں احساس ہو گیا کے اب بس کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔
کمینی دوست ہماری اور مدد دوسروں کی۔۔۔۔مشی نے اس کے بال کھینچے
ہاں تو اسکی بھی تو مدد کرنی تھی کسی نے۔۔۔۔۔۔زری نے ابھی بھی فارس کی سائڈ لی
Yah really
you are so mean zarnish uzair!!
زارا نے اُسے ایک اور کشن مارا
دفع ہو جاؤ بس کرو یار اتنا تو میں نے تمہیں تنگ نہی کیا جتنا تم دونوں نے مجھے مارا ہے۔۔۔زری نے اب کشن کو مشی کی طرف اچھالا۔۔۔۔۔
ہاں ہاں اتنا تنگ نہی کیا بکواس نہ کرو جتنا غصّہ مجھے تم پے ہے نہ اتنا تو فارس پر بھی نہی ہے۔۔۔زارا نے اسکی نقل اُتاری
ہاں کیسے کسی جاسوس کی طرح فارس کو جاکر کال کرتی تھی ہیں فارس یہ ہو رہا ہے وہ ہو رہا ہے سب سنا ہے ہم نے ہمارے پاس بھی جاسوس تھا جسے نے تم پر نظر رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔مشی نے اُسے ایک نئی بات بتائی
کون تھا وہ جاسوس ہیں جس نے میری جاسوسی کی بتاؤ ذرا۔۔۔زری کو جاننے کا اشتیاق ہوا
ہماری ہونے والی بھابھی۔۔۔۔زارا نے بڑے مزے سے بتایا
وہ حورب کتنی تیز ہے وہ اسی لیے سارا وقت میرے ساتھ ساتھ تھی۔۔۔۔زری کو اب پتہ لگا کے حورب کیوں اسکے اتنا ساتھ رہ رہی تھی
ہاں تو اور کیا۔۔۔مشی نے زری کے بال ایک بات پھر کھینچے
اور اب مشی کو ایک کک رسید ہوئی تھی زری کی طرف سے۔۔۔۔
شام میں سب رسموں کے بعد زارا کمرے میں ائی تو سب سے پہلا کام جو اسنے کیا وہ تھا ڈریس چینج کرنا۔۔۔۔۔
اگلے دن مہندی تھی اسی لیے وہ سب جلدی سو گئے صبح اٹھ کر وہ لوگ ناشتے کے بعد پارلر چلے گئی۔۔۔۔۔۔
پارلر سے وہ لوگ کوئی 6 بجے واپس آئیں تھیں اور تب سے کمرے میں بیٹھی گپیں مار رہی تھیں
کچھ دیر بعد انہیں پتہ لگ کے فارس وغیرہ آ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔
مگر ابھی اُنکا نیچے جانے کا کوئی پلان نہ تھا
7 بجے کے وہ لوگ ائے ہوئے تھے اب 8 بجنے کو آ گئے تھے مگر ابھی بھی وہ نیچے نہی گئیں تھیں۔۔۔۔
حورب اُن تینوں کو چھوڑ کر نیچے ائی تو نیچے فنکشن سٹارٹ تھا لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔۔۔
اسکی نظر اسٹیج پر پڑی جہاں فارس کے ساتھ حدید اور ضرار بیٹھے تھے اور تینوں کسی بات پر ہنس رہے تھے۔۔۔۔
وہ تینوں ہی شلوار قمیض کے ساتھ گلے میں كلا ڈالے ہوئے تھے اور تینوں کافی اچھے لگ رہے تھے ویسے تو تینوں ہی ہینڈسم تھے
ابھی حورب اُنہیں ہی دیکھ رہی تھی کے حدید کی اس پر نظر پڑی۔۔۔۔۔
وہ فوراً وہاں کے اٹھ کر اسکی طرف آیا حورب بھی اپنی جگہ کھڑی رہی۔۔۔
ہیلو کیسی ہیں آپ ۔۔۔آپ کو ایک بات بتانی تھی۔۔۔حدید نے اُسے مخاطب کیا
جی فرمائیں۔۔! حورب نے بھی سیدھی بات کی
آپ کافی بہت اچھی بناتی ہیں ۔۔۔حدید نے اسکی تعریف کی
جی مجھے پتہ ہے اور کچھ ۔۔۔اُسنے حدید کی تعریف کا کوئی نوٹس نہیں لیا
ہمم۔۔!اور کچھ۔۔حدید نے اُسے کے الفاظ دہرائے۔۔
دیکھیں حدید میں نہ صاف بات کرنا پسند کرتی ہوں بات کو گھما کر کرنا میری عادت نہی ہے اسی لیے آپ جس کام کے لیے میرے پاس آئیں ہیں وہ کریں مجھے اور بھی کام ہیں۔۔حورب نے حدید کو شاید کوئی اشارہ دیا تھا جانتی تو وہ تھی کے اُسنے کیا بات کرنی ہے
میں بھی سیدھی بات کرنے کا عادی ہیں بس اوہ رہا تھا آپ مائنڈ نہ کر جائیں۔۔۔حدید نے بھی اُسکا جواب دیا
بات یہ ہے کہ مجھے شادی کرنی ہے اسکے لیے مجھے ایک عدد لڑکی کی ضرورت ہے اور اس لڑکی میں مجھے جو گٹز چاہئیں وہ مجھے آپ میں نظر آئے ہیں تو کیا او میرا یہ پروپوزل اکسیپٹ کریں گی۔۔۔۔حدید تو ایسے بول رہا تھا جیسے کسی کو اپنا مسئلہ بتا رہا ہو
آپ کو ایک بات بتاؤں۔۔۔۔حورب نے اجازت مانگی
جی بتائیں۔۔۔حدید نے بڑے سٹائل میں کہا
یہ نہایت ہی کوئی گھٹیا طریقہ تھا آپکا ایسے پروپوزل پر مجھے چاہیے آپ کو دو تین پیارے پیارے لفظوں کے ساتھ انکار کر دوں۔۔۔۔مگر۔۔۔۔۔ابھی حدید کا منہ اسکی بات سن کر اُتر ہی رہا تھا کے اُسنے مگر کا اضافہ کر کے اُسے نئی اُمید دلائی
مگر۔۔۔حدید نے اُسکا لفظ دہرایا
میں ایسا نہی کروں گی میں اکسیپٹ کر لیتی ہوں۔۔۔۔۔حورب نے تو جیسے اس پر احسان کیا
سچی۔۔۔حدید کو شاید یقین نہ آیا تھا
مچی مگر میری کچھ شرطیں ہیں وہ ماننی ہونگی آپکو پھر میں کوئی مثبت جواب دوں گی ۔۔۔حورب نے شرط رکھی
ہاں ہاں بتاؤ ساری شرطیں منظور ہیں مجھے۔۔۔حدید نے اُسے شروع کرنے کو کہا
ہمم۔۔!تو پہلی شرط ایک ہفتے کے اندر اندر رشتا لے آئیں۔۔۔دوسری یہ کے شادی بھی ایک مہینے کے اندر اندر ہو گی کیسے مجھے نہی پتہ
تیسری میں شادی کے بعد آپکے بیس والے گھر میں رہوں گی یعنی اسلام آباد بیس کے پاس تاکہ مجھے فائٹر جیٹ نظر اتے رہیں چوتھی یہ کے مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ زارا آپی وغیرہ سارے ایک ہی گھر میں رہتے ہیں تو شادی کے بعد میں بھی ادھر ہی رہوں جی زارا آپی کے گھر تاکہ وہ میرے ساتھ ہوں اور پانچویں اور آخری شرط
کو سب سے اہم ہے۔۔۔۔۔۔
آپ میرے ابو سے کہیں گے کہ اب مجھے تین سال سے پسند کرتے ہیں اور ان شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔حورب نے اپنی بات ختم کر کے حدید کی طرف دیکھا
ویسے تو ساری شرطیں صحیح ہیں مگر آخری شرط مجھے منظور نہی ہے میں آپ کے ابو کو یہ تو کہ دوں گا کے میں آپ کو پسند کرتا ہوں مگر یہ تین سال والا جھوٹ میں نہی بولوں گا تو اس کے لیے سوری ۔۔۔حدید نے صاف صاف بات کا جواب دیا
کیوں نہی بولیں گے تو اور کیا کہیں گے کہ آپ نے مجھے زارا آپی کے گھر دیکھا اور رشتا بھیج دیا اتنی ہمت ہے۔۔۔۔حورب نے حدید کو چیلنج کیا(Hoorain ایسے کیسے کوئی ہمارے حدید کو چیلنج کر دے ہینا 

)
آپ مجھے آزمانا چاہ رہی ہو؟حدید نے اس کی بات کا مطلب بتایا
یہی سمجھ لیں۔۔۔حورب نے بھی حامی بھری
چلیں پھر ایسے ہی لاؤں گا رشتا اور تھی کہکر آپ کو لے کر جاؤں گا ۔۔حدید نے پر عزم لہجے میں بولا
چلیں دیکھتے ہیں ۔۔۔حورب کہہ کر جانے کے لیے مڑی کے حدید کی آواز پر رک گئی
جی۔۔۔اُسنے بڑے سلیقے سے پوچھا
آپ تو مان گئی ہیں نہ۔۔۔۔۔حدید نے اس سے پوچھا
جی۔۔۔آگے سے سادہ سا جواب آیا اور وہ چل دی کے حدید نے دوبارہ آواز دی
جی۔۔۔۔اُسنے دوبارہ پوچھا
جب دولھا دلہن راضی تو کیا کرے گا قاضی۔۔۔۔۔حدید نے کہہ کر آنکھ ماری
جس پر پہلے تو حورب کی آنکھیں پھیل گئیں مگر پھر زبان چڑھا کر چلی گئی اس بار حدید نے نہی روکا تھا۔۔۔۔۔۔(Cutex irfa Iqbal لڑکی مان گئی ہے
)
اسکے بعد زارا کو مشی اور زری نیچے لائیں اُسے فارس کے ساتھ بیٹھا دیا گیا نکاح تو پہلے ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے بیٹھتے ساتھ ہی حدید اور ضرار اسکو تنگ کرنا شروع ہو گئے۔۔۔۔
فارس نے بیچ میں مداخلت کی تو زارا نے زور سے اسکے پاؤں پر اپنی ہیل ماری ابھی غصّہ ختم نہی ہوا تھا(Meena khan دُرگت بھی تو بنانی تھی فارس کی
)
مہندی کا فنکشن ختم ہوتے ہی وہ تینوں اوپر چلی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدید تو اب سیٹ تھا اُسکا موڈ کافی اچھا تھا۔۔۔۔۔۔(Mahee khan حدید بھی سیٹ ہو گیا رشتا بھی مل گیا لڑکی بھی مان گئی
)
اگلے دن بارات کہ فنکشن بھی خوب رہا۔۔۔۔۔آج ولیمہ تھا جس کے لیے زارا پارلر گئی ہوئی تھی وہ اس ایک دن میں فارس کی مما کے ساتھ کافی سیٹ ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔
فارس نے حال جانے سے پہلے اُسے لیا اور پھر دونوں مریج حال چلے گئے ولیمے سے فارغ ہو کر اب اُنہیں تھوڑا سکون ہوا تھا دعوتوں کا سلسلہ ویسے بھی نہی کرنا تھا کیوں کہ اُن کو اب واپس جانا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن وہ سارے دوست اکھٹے ہوئے۔۔۔
رات کا وقت تھا اُن لوگوں نے اکھٹے ہونے کے لیے فارم ہاؤس ڈسائد کیا۔۔۔۔۔
وہاں پہنچ کر ابھی سارے باتوں میں ہی گم تھا جب حدید اندر داخل ہوا اسکے ساتھ حورب بھی تھی حدید نے اپنے بابا سے بات کر لی تھی اب بس بروں کے درمیان بات ہونی تھی شادی کی
اوئے یہ کون ہے۔۔۔۔ سب سے پہلے ضرار نے پوچھا
تیری بھابھی۔۔۔۔۔جواب بھی حدید کی طرف سے کمال کا آیا
ہیں اتنی چھوٹی بھابھی۔۔۔۔۔ضرار نے دوبارہ بولا
تُجھے نہی لگتا مشی بھی تُجھ سے کافی چھوٹی لگتی ہے۔۔۔۔حدید نے اُسے ٹونٹ کیا
ہائے سچی حدید میں اس سے کافی چھوٹی لگتی ہوں۔۔۔۔۔مشی تو اپنی طرف سن کے خوش ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔
زیادہ اوور نہ ہو مذاق کر رہا تھا۔۔۔حدید نے ایک سیکنڈ کے اندر اندر اسکی غلط فہمی دور کی۔۔
ہاں لڑو شاباش لڑو میری کزن سوچے گی کے کن جنگلیّوں میں آ گئی ہے۔۔۔زارا نے اُنہیں چپ کروانے کے لیے کہا
کزن نہی بھابھی۔۔۔۔حدید نے اسکی بات کی درستگی کی
اُف ہاں بھئی بھابھی ۔۔اب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔زارا نے اس سے پوچھا
تو سب ہنسنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



چار سال بعد…….
اُو بےبی ایسے نہی کرتے کیا کر رہے ہو آپ یار بلکل اپنے بابا کی طرح ایک گندے بچے ہو آپ۔۔۔۔۔زارا نے اپنے تین سالہ بیٹے حاسم کو ڈانٹا جو اس وقت گارڈن میں مٹی کھانے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ جاؤ اندر چلیں۔۔۔زارا اسکی طرف بڑھی تو اُسنے اپنے ننھے ننھے ہاتھ مٹی میں مرنا شروع کر دیے اتنا تو اُسے پتہ لگ گیا تھا کے زارا اُسے مٹی سے دور کرنے والی ہے۔۔۔۔۔۔
چلو چلو اٹھو۔۔۔۔زارا اُسے گود میں اٹھا کر اندر لے گئی
فارس جو بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا اسکی گود میں ہاسم کو بیٹھا دیا۔۔۔۔
اُو کیا کر رہا ہے بابا کا شہزادہ۔۔۔فارس نے اُسے ہوا میں اچھالا تو وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگا
مگر جب فارس کی نظر اپنی شرٹ پر پڑی تو اسکی ہنسی کی بریک لگی۔۔۔(Mano fahid it’s happy ending
)
زارا یار میری ساری شرٹ پر مٹی لگ گئی ہے حد ہے یہ کہاں تھا۔۔۔۔۔فارس نے اپنی شرٹ جھاڑتے ہوئے پوچھا
یہ آپکی سزا ہے جب کہا تھا کے اس کو پکڑیں تو چھوڑا تھا نہ باہر مٹی میں کھیل رہا تھا اب بھگتیں۔۔۔۔زارا نے بھی آگے سے کڑک سا جواب دیا
اس سے پہلے فارس کچھ بولتا دروازے پر بیل ہوئی آج اُنہوں نے حدید کو کھانے پر بلایا تھا
حدید نے اندر داخل ہوتے ساتھ سلام کیا اور هاسم کو گود میں اٹھا لیا مٹی تو ساری فارس کے کپڑوں پر جھر چکی تھی حورب زارا کے پاس چلی ہے ۔۔۔
فارس اور حدید باہر بیٹھے تھے جب حدید نے زارا کو آواز دی
وہ جو کچن میں کام کر رہی تھی باہر ائی
ہر زری کا رشتا پکا ہو گیا ہے وہ جو لڑکا نہی تھا فارس فائٹر پائلٹ جس سے ابھی کل بات ہوئی تھی اُسکا رشتا آیا تھا بابا نے ہاں کر دی زری بھی مان گئی ہے اور ہاں وہ ضرار نہ آ رہا ہے مشی کے سطح اگلے ہفتے اسلام آباد۔۔۔۔۔۔حدید نے اُنہیں خوش خبری سنائی
یار یہ تو بہت اچھی بات ہے کے زری مان گئی اور ضرار ائے گا تو تم لوگ بھی یہی اہ جانا فضول میں ایک ہی جگہ انجواۓ ہو جائے گا۔۔۔زارا نے پیشکش کی
ہاں چلو ٹھیک ہے۔۔۔اور حدید بھی فوراً مان گیا۔۔۔
اب انکی زندگیاں ایسے ہی گزارنی تھی اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی فیملی کے ساتھ خوش رہتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد……….



