Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode19

Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode19

صبح اٹھ کر ناشتا کرنے کے بعد زری مشی زارا اور حورب اوپر چلی گئیں آج زارا کی مایو تھی اس کے لیے اُنہیں تیاری کرنی تھی…
مشی اور زری صوفہ پر بیٹھیں تھیں جبکہ زارا اور حورب بیڈ پر بیٹھی تھیں۔۔
حورب بات سنو آپ نیچے آنٹی کے پاس جاؤ اور اُن کے ساتھ کچھ کام دیکھو اسکو ہم دیکھتے ہیں ۔۔۔زری نے اسے نیچے بھیجا کیوں کے اُسے زارا سے اس معاملے پر لمبی بات کرنی تھی
اچھا ٹھیک ہے بس آپی کے یہ بیک سائڈ سے تھوڑے سے بال رہ گئے ہیں یہ کر دیجئے گا۔۔حورب جو زارا کے بال سٹریٹ کر رہی تھی اپنا کام زری کو کہ کر خود نیچے چلی گئی
اسکے جاتے ہی زری نے روم کا ڈور بند کیا اور دونوں زارا کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئیں
زارا مجھے ایک بات بتاؤ تم اگر آپ اس ہسبنڈ سے ڈورس لو گی تو بعد میں کس سے شادی کرو گی۔۔۔زری نے بات شروع کی
یار ظاہر ہے فارس سے اُسنے مجھے کہا تھا کے اگر میں ڈیورس لے لوں تو وہ مجھ سے شادی کرے گا اور اُسنے کہا تھا وہ میرا انتظار کرے گا۔۔۔زارا نے زری کو اپنے ارادے کا بتایا
اچھا اور اگر اب فارس منع کر دے تو۔۔اُسنے تو اپنے بابا کو شادی کے لیے ہاں کر دی ہے تو اب ۔۔۔۔زری بس کسی طرح اسکو اس فیصلے سے ہٹانا چاہتی تھی
زری فارس نے مجھے خود کہا تھا کہ وہ اس لڑکی کو چھوڑ دے گا اگر میں راضی ہو جاؤں تو وہ اب بھی چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔زارا نے اُسے مسئلے کا حل بتایا
یار مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا تم اس کی سائڈ لینے کے بجائے اس گمنام آدمی کی سائڈ کیوں لے رہی ہو۔۔۔مشی کو اُسکا اس بات کے خلاف جانا کچھ سمجھ نہ آیا
وہ تینوں تو ہمیشہ ایک دوسری کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرتی تھیں ہر کام میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی تھیں تو اب زری کو کیا مسئلہ تھا جب زارا خوش تھی
نہی میں کیوں لینے لگی اسکی سائڈ میں تو بس انکل آنٹی کا سوچ رہی تھی۔۔۔زری نے فوراً بات سنبھالی
مما بابا کا نے نے سوچ لیا ہے تم مت سوچو زری اُنہیں میرے فیصلے سے کوئی مسئلہ نہی ہوگا تم دیکھنا وہ دونوں مجھے سمجھتے ہیں۔۔۔زارا نے اُسے اس حوالے سے تسلی دی
اچھا ٹھیک ہے تم دونوں بیٹھو میں ذرا حورب کو دیکھ لوں۔۔۔زری اُن دونوں کو کہ کر خود نیچے اہ گئی
اب اُسے فارس کو فون کرنا تھا۔۔۔اُسنے کال ملائی اور فارس وہ تو پہلے ہی کال کے انتظار میں بیٹھے تھا اُسنے پہلی بیل پر فون اٹھا لیا
ہاں بولو زری کچھ پتہ چلا۔۔فارس نے فون اٹھاتے ساتھ سوال کیا
ہاں اُسکا ارادہ تم سے شادی کرنے کا ہے اُسنے کہا ہے کے تم نے اس سے کہا تھا کہ تم اُسکا انتظار کرو گے۔۔۔۔زری نے آہستہ آواز میں بتایا
ہاں میں نے اس سے یہ کہا تھا۔۔فارس نے اسے بتایا
تو کیا ضرورت تھی تمہیں شارخ بننے کی ہاں انتظار کروں گا۔۔۔زری نے غصے میں بولا اور آخر میں اسکی نقل اتاری
یار تب مجھے نہی پتہ تھا نہ اسی لیے بولا تھا کے شاید اُسکا ارادہ بدل جائے۔۔۔فارس نے اپنی بات کی وضاحت دی
ہاں تو بھائی میرے پھر مبارک ہو اُسکا ارادہ بدل گیا ہے اب جب کچھ ہوگا تو بتاؤں گی اللہ حافظ۔۔۔۔زری نے کہہ کر فارس کی سنے بغیر کال کاٹ دی
اُسکا دماغ اس وقت فل سپیڈ پر گھوم رہا تھا ۔۔۔پھر وہ اپنے آپ کو نورمل کرتی اوپر روم میں گئ
جہاں اب زارا اور مشی باتیں کر رہی تھی اور حورب پھر سے اسکے بال سٹریٹ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
جو زری نے نہی کیے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔😏
حورب ایک بات بتاؤ یار۔۔۔زارا نے حورب سے پوچھا
جی آپی۔۔۔۔حورب نے بڑے آرام سے جواب دیا
تم کسی کو پسند کرتی ہو؟۔۔۔زارا نے ڈائریکٹ بات کی
نہی آپی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔۔۔۔حورب نے ہنس کے جواب دیا
ہمم۔۔!اگر میرے پاس تمہارے لیے ایک بیسٹ رشتا ہو تو مان جاؤ گی۔۔۔زارا نے اس سے چھپے لفظوں میں بات نہ کی
آپی صاف سی بات ہے آپ کو پتہ ہے میں ایک پریکٹیکل لڑکی ہوں یار يا بولڈ کہہ لیں۔۔۔۔۔۔۔لڑکا دیکھوں گی اس کا بیک گراؤنڈ دیکھوں گی جوب دیکھوں گی پھر سوچوں گی اسکے بعد مما بابا کو بتا دوں گی آگے انکی مرضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حورب نے صاف صاف بات کا جواب دیا شرمانے کا تو کوئی چانس ہی نہی تھا۔۔۔
مشی اور زری اُسکا اٹیٹوڈ دیکھ کر حیران رہ گئیں۔۔۔۔
Hmm ..!She is awesome Yar..
زری نے آہستہ آواز میں اسکی تعریف کی
Yup!she is but…
میں یہ سوچ رہی ہوں کے زارا کس لڑکے کی بات کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔مشی نے اُسکا دہان ایک اہم موضوع کی جانب کیا
ہاں میں نے یہ تو سوچا ہی نہیں کہیں اس اظہر کے لیے تو نہی۔۔۔۔۔۔زری نے اپنا سا اندازہ لگایا
نہی پاگل وہ تو اس کا بھائی ہے۔۔۔۔مشی نے اسکی غلط فہمی دور کی۔۔۔۔
آپی آپ یہ بتائیں لڑکا کیا کرتا ہے کیسا دکھتا ہے۔۔۔۔۔حورب نے زارا سے پوچھا
دیکھو ہے تو وہ ایروناٹیکل انجینئر اور دیکھا تم نے ہوا ہے۔۔۔۔۔زارا نے بھی کچھ نہ چھپایا
سچی مطلب آرمی میں ہے اُو واؤ۔۔۔۔۔۔اور میں نے کب دیکھا ہے ۔۔۔حورب نے زارا سے پوچھا۔۔۔
کل رات کو ۔۔۔!زارا نے بس اتنا ہی کہا اگے وہ سمجھ گئی
اچھا اچھا وہ ہاں ہینڈسم ہے بات کرنے کی بھی تمیز ہے۔۔۔۔صحیح ہے اگر وہ کچھ کہے گا تو میں اُسے جواب دے دوں گی ۔۔۔۔حورب نے بڑے نارمل سٹائل میں کہا
اور زری اور مشی تو دونوں بس انکی باتیں سن رہی تھیں مطلب اتنی بولڈنس حد ہے۔۔۔۔۔۔۔
اوئے یہ کس کی بات کر رہی ہے۔۔۔۔۔زری نے مشی سے پوچھا
پاگل حد ہے یار قسم سے دماغ ہے کے نہی صاف پتہ لگ رہا ہے حدید کی بات کر رہی ہے۔۔۔مشی نے اسکے سر پر چت لگائی
ہیں پاگل ہے یہ مجھ سے پوچھے بغیر۔۔۔زری کو تو شوک لگ گیا تھا۔۔۔۔۔
تو شادی حدید نے کرنی ہے تو نے نہی فضول میں اسکے معاملے نے نہ بول زارا حدید کے کہنے پر ہی بات کر رہی ہو گی۔۔۔مشی نے اُسے چپ کروایا
اور وہ چپ ہو بھی گئی۔۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے میں اُسے کہہ دوں گی وہ تم سے خود بات کر لے گا آگے تم دونوں کا مسئلہ ہے یار۔۔۔۔۔زارا نے اب بات حدید پر چھوڑ دی تھی اس سے زیادہ اب وہ اور کیا کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
شام میں اُسے مایو بیٹھا دیا گیا رات میں وہ لوگ وہاں سے فارغ ہوئے تو زارا آبان صاحب کے ساتھ اُنکے روم میں چلی گئی اور زری اور مشی کو اوپر جانے کا کہا زری نے اُسے روکا مگر اس نے زری کی ایک نہ سنی۔۔۔۔۔۔
مشی تو آرام سے اہ کے لیٹ گی جبکہ زری مسلسل کمرے کے چکر کاٹ رہی تھیں۔۔۔۔
زری کو تو ابھی تک یہ بھی نہ پتہ تھا کے مشی کو سب کچھ پتہ ہے فارس نے زیادہ ذکر نہ کیا تھا اس بات کا۔۔۔۔۔۔
تقریباً پونے گھنٹے بعد زارا روم میں داخل ہوئی اور دوبٹہ اُتار کر بیڈ پر اچھال دیا۔۔۔
مشی جو لیٹی ہوئ تھی فوراً اٹھ بیٹھی۔۔کیا بنا انکل مان گئے تو نے فارس کا بتا دیا۔۔۔مشی نے زارا سے پوچھا
ہاں بابا مان گئے کہہ رہے تھے کل بات کریں گے انسے اور طلاق کا ارینج کریں گے۔۔۔۔۔زارا نے اُسے خوش خبری سنائی ۔۔۔۔
او واو زارا۔۔۔۔۔مشی اٹھ کر اسکے گلے لگی
اور زری وہ تو اپنی جگہ سے بھی نہ ہلی تھی۔۔۔۔۔
زری ٹینشن نہ لے اب سب کچھ صحیح ہو گا بابا خوشی خوشی مان گئے ہیں۔۔میں نے کہا تھا نہ وہ کچھ نہی کہیں گے۔۔۔زارا نے زری کو پریشان دیکھ کر اُسے تسلی دی۔۔۔۔۔۔۔
شام میں زری کچھ دیر کے لیے گھر کا کہ کر چلی گئی اور سیدھا فارس کی طرف گئی اُسنے فارس کو موجودہ صورتِ حال سے آگاہ کیا اب تو فارس بھی بہت پریشان ہو گیا تھا اگر زارا کے بابا اسکے بابا سے بات کر لیتے تو تو وہ ضرور مان جاتے۔۔۔۔۔
یار میں اُسے بتانے لگی ہوں۔۔!بس بہت ہو گیا سرپرائز والا تماشا میں ابھی بتاتی ہوں اُسے۔۔۔زری نے فوراً فون نکالا
یار ایسے نہی یہ نہ ہو اُسے غصّہ اہ جائے اور وہ ویسے ہی انکار کر دے شادی سے۔۔۔۔ضرار نے اُسے روکا ایسے اچانک فون پر بتانا غلط تھا۔۔۔
فارس تو اس سے مل لے یار اُسے مل کر سب بتا دے کیوں کے اب بات خراب ہو رہی ہے اگر اُسنے انکل سے بات کر لی ہے تو انکل کسی بھی وقت تیرے بابا کو فون کر سکتے ہیں۔۔۔۔ضرار نے فارس کو مشورہ دیا
ہاں یار ایسے ہی کرنا پڑے گا کیونکہ یہ نہ ہو سرپرائز کے چکروں میں میرا دیوالیہ نکل جائے۔۔۔فارس نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی
پھر کر اُسے کال جلدی کر یہ لے تیرا فون۔۔۔۔۔ضرار نے اُسے فون پکڑایا جو اسکے پاس ہی رکھا تھا۔۔
فارس نے فون ملا کر لاؤڈ اسپیکر پر ڈال دیا
ہیلو فارس بابا مان گئے ہیں میں ڈیورس لے کر آپ کو بتا دوں گی آپ بھی شادی سے انکار کے دیں۔۔۔۔زارا نے پہلی بات ہی اس سے یہ کی
زارا مجھے ملنا ہے۔۔۔فارس نے اسکی بات کو نظرانداز کیا
اچھا کل ملتے ہیں لیکن صبح میں کیوں کے شام میں ماما باہر نہی جانے دیں گی۔۔۔۔۔زارا نے اُسے اپنی مجبوری بتائی
ہاں ٹھیک ہے کال صبح ۹ بجے وہی ریسٹورانٹ جہاں لاسٹ ٹائم اکھٹے ہوئے تھے۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے اللہ حافظ ۔۔۔زارا نے حامی بھر کر فون رکھ دیا
اب فارس کو صبح سب کچھ صحیح کرنا تھا سب کچھ اب بس یہ دعا تھی کے صبح تک زارا کے بابا کی کال نہ ائے بس ورنہ بہت کچھ بگڑ سکتا تھا۔۔۔۔۔
زارا کو بھی صبح کا انتظار تھا۔۔۔۔۔۔
زارا نے تھوڑی دیر بعد حدید کو فون کیا وہ جو حارث کے ساتھ باہر گیا تھا کسی کام سے اُسنے سائڈ پر ہو کر فون اٹھایا
ہاں بولو زارا۔۔۔حدید نے سیدھا اس سے بات کا پوچھا وہ اس وقت مصروف تھا۔۔
تمہارا کام ہو گیا ہے میں نے کر دیا ہے آگے تمہیں خود کرنا ہے۔۔۔۔زارا بھی سیدھا پوائنٹ پر ائی۔۔۔
کیا مطلب کونسا کام۔۔۔۔حدید کو سمجھ نہ آئی
یار حورب والا اس سے بات کر لی ہے میں نے اس نے کہا ہے اب جب تم اس سے بات کرو گے تو وہ تمہیں جواب دے دے گی۔۔۔۔۔زارا نے اُسے ساری بات بتائی
اچھا ایک بات بتاؤ میں تو بات کر لوں گا لیکن کیا خیال ہے جواب کیا ائے گا۔۔۔حدید نے زارا سے پوچھا
مجھے لگتا ہے ۹۰ پرسنٹ مان جائے گی کوئی نہی تیرا کام سیٹ ہے زیادہ نخرے کرنے والی ہے مگر بات سیدھی کرتی ہے تُجھے جواب بھی سیدھا ہی دے گی۔۔۔۔فکر نہ کرو۔۔۔۔۔زارا نے اُسے تسلی کروائی۔۔۔۔۔۔
ہمم۔۔! تھینکس۔۔۔۔۔میرا کام کرنے کے لیے آگے میں سنبھال لوں گا۔۔۔۔حدید نے اُسکا شکریہ ادا کیا
Hm…..Best of luck !
زارا نے اُسکا حوصلہ بڑھایا۔۔۔
Hmm… Thanks again Now I have to go….
حدید کو ابھی کافی کام تھے اسی لیے اُسنے فون بند کرنا چاہا۔۔۔۔۔
اوکے اللہ حافظ۔۔زارا نے کہہ کر فون رکھ دیا
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔😘😘😘😘😘😘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *