Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan NovelR50805 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode17
No Download Link
687.8K
21
Rate this Novel
Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode01 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode02 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode03 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode04 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode05 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode06 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode07 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode08 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode09 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode10 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode11 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode12 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode13 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode14 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode15 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode16 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode17 (Watching)Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode18 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode19 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode20 Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Last Episode
Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode17
Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode17
انکی جوبز اچھی جا رہی تھیں زری اور زارا بھی جتنا ٹائم نکال سکتی تھیں وہ نکال کر شوپنگ کے لیے چلی جاتیں کیوں کے شفق خاتون نے کہا تھا کہ زارا اپنی کچھ شوپنگ خود کرے باقی وہ دیکھ لیں گی۔۔
اسی سلسلے میں آج وہ تینوں شوپنگ کے لیے نکلے تھے۔۔
فارس کو کوئی کام تھا جس کی وجہ سے وہ نہی آ پایا وہ لوگ مسلسل بس شاپس کے آگے سے گزار رہے تھے زارا زحمت ہی نہی کر رہی تھی کسی شوپ میں گھسنے کی آخر ۲۰ منٹ تک باہر ایسے ہی گھومنے کے بعد اب زری کو غصّہ انے لگا تھا۔۔۔
وہ اچانک چلتے چلتے رک گی تو زارا اور حدید کو بھی رُکنا پڑا۔۔
کیا ہوا رک کیوں گئی۔۔؟زارا نے زری سے پوچھا
کیوں کے اب میرا دماغ گھوم رہا ہے کیا کر رہی ہو کچھ لینا بھی ہے یا نہیں اندر جائیں گے تو کچھ پسند ائے گا نہ کے باہر سے ہی دیکھنا ہے۔۔زری جو اتنی دیر سے کنٹرول کر رہی تھے اب بول پڑی آخر وہ بھی کتنی دیر چپ رہتی۔۔
ہاں لینا تو ہے چلو چلتے ہیں ادھر۔۔زارا نے ایک شوپ کو طرف اشارہ کیا۔۔
وہ ایک جیولری شوپ تھی ۔۔
ادھر سے زارا نے پورا آدھا گھنٹہ لگانے کے بعد ایک بریسلیٹ پسند کیا ۔۔اس کے علاوہ اُسنے وہاں سے کچھ نہی لیا۔۔
اب حدید کا ارادہ سینٹورس مال جانے کا تھا فارس سے اسکی بڑی تعریف سنی تھی اُسنے۔۔
وہاں جا کر حدید نے اپنے پیسوں سے ایک سوٹ پسند کر کے زارا کو دلایا
ویسے بھی اسکو اپنی مما کی طرف سے آرڈر تھے کے اُنہیں زارا کو ایک دو سوٹ اور ایک سیٹ لیے کر دینا تھا وہ لاہور ہوتی ٹو خود اسکو ساتھ لیے جاتیں لیکن اب نہی تھی تو اُنہوں نے یہ کام زری اور حدید کو دیا۔۔
لیکن یہ سوٹ حدید نے اُسے اپنی طرف سے لے کے دیا تھا۔۔۔
گھر آ کر جب اُنہوں نے اپنی شوپنگ فارس کو دکھائی تو وہ تو بیچارہ حیران رہ گیا۔۔۔
واٹ ربش۔۔!تم لوگ تین گھنٹے لگا کر یہ ایک سیٹ ایک ڈریس اور یہ ایک بریسلیٹ لے کر آئے ہو۔۔۔۔
Seriously..guys what’s this .?
فارس نے اُن تینوں کو گھورا۔۔جن میں سے کوئی بھی اسکی بات کا نوٹس نہی لے رہا تھا ۔۔
زارا فون پر مشی سے بات کر رہی تھی حدید کوئی ٹی وی شو دیکھ رہا تھا اور زری زارا کی چیزیں سمیٹنے لگی تھی۔۔۔۔
زارا نے فون بند کیا تو سب کو بتایا کہ ضرار کی حالت اب کافی بہتر ہے اُسے ڈرائیونگ کی اجازت بھی مل گئی ہے ۔۔
ہاہاہا۔۔!جو ہٹلر ہم اسکے پاس چھوڑ کر ائے ہیں نے وہ کم سے کم ایک ڈیڑھ مہینہ تو اُسے گاڑی کو ہاتھ نہ لگانے دے۔۔۔حدید نے ضرار کے حالات کا مذاق اڑایا۔۔
ہاں یہ تو ہے مشی نے اسکی دوسری ٹانگ توڑ دینی ہے ایسی بات پر۔۔۔زارا نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔۔
قسم سے پھنس گیا ہے میرا دوست تم لوگو کی اس چوڑیل دوست میں۔۔۔فارس نے جان بوجھ کر مشی کو چوڑیل کہا۔۔۔
کیا کیا کہا اپنے مشی کو آپکا نمونہ بھی کوئی کم نہی ہے ایک نمبر کی آئٹم ہے وہ پھنسی تو مشی ہے اوایں روز اسکے گھر جاتی ہی وہ اُن جناب کی خیریت معلوم کرنے اور کہ رہے ہو کے وہ پھنس گیا ہے۔۔۔۔۔زارا تو نون سٹاپ شروع ہو چکی تھی۔۔
زارا یار چھوڑ جان بوجھ کر تنگ کر رہا ہے اٹھ چلتے ہیں ۔۔زری سمجھ گئی تھی فارس نے یہ لفظ بس زارا کو تنگ کرنے کے لیے بولا تھا ورنہ وہ مشی اور زری کو بلکل اپنی بہنوں کی طرح سمجھتا تھا۔۔
رات کو زارا کی آنکھ اسکے فون کی آواز پر کھلی جو پتہ نہی کب سے بج رہا تھا۔۔۔
زارا نے فون اٹھایا تو آگے سے مردانا آواز میں سلام کیا گیا زارا نے سلام کا جواب دے کر شناخت کے بارے میں دریافت کیا۔۔
لیں جی اپنے ابھی تک میرا نمبر اپنے موبائل میں فیڈ نہی کیا ۔۔۔آگے سے فارس اپنی آواز چینج کر کے بولا۔۔
زارا کوئی جواب دیتی اس سے پہلے زری اٹھ گئی اور اس سے فون کا پوچھا۔۔
یار اسی کا ہے اتنی رات کو فون کر رہا ہے حد ہے پیچھے ہی پڑ گیا ہے۔۔۔۔زارا نے اُکتاہٹ سے بولا
دیکھیں یہ شریفوں کو فون کرنے کا وقت نہی ہے سمجھے آپ ٹائم دیکھا ہے اپنے رات کا ۱ بج رہا ہے۔۔۔۔زارا کو کچھ اور سمجھ نہ آیا یو غصّہ اس پر اُتار دیا ۔۔
زارا میری جان تم سو جاؤ فون مجھے دو میں اپنے ذرا برادر ان لاء سے بات تو کروں۔۔زری نے اسکے ہاتھ سے فون لیا۔۔۔
جی بھائی کیسے ہیں آپ میں آپکی سالی صاحبہ بات کر رہی ہوں آپ کیوں مسلسل میری دوست کو پریشان کر رہے ہیں وہ میں سوچ رہی تھی کے آپکی ایک آدھی تصویر نہ دیکھا دوں میں زہرا کو وہ بھی آپکو دیکھ لے گی کیا خیال ہے آپکا۔۔۔۔زری نے اس طرح بات کی کے زارا کو کچھ پتہ نہیں چلے اور ساتھ ساتھ دھمکی بھی دے دی۔۔۔
زری دیکھو تم ایسا کچھ نہیں کرو جی تمہیں کیا مسئلہ ہے یہ میرا اور اُسکا معاملہ ہے بیچ میں کیوں پڑ رہی ہو تم۔۔۔فضول میں۔۔۔فارس کو لگا شاید زارا کو سب کچھ پتہ لگ گیا ہے۔۔
آپ بیفکر رہیں دولھا بھائی ابھی میں نے نہی دکھائی آپ مجھے مجبور کر رہے ہیں۔۔۔زری نے پھر اسے چھیڑا۔۔
اچھا میں رکھ رہا ہوں نہی کرتا دوبارہ اور ہاں اُسے کچھ نہ بتانا پہلے ہے بتا رہا ہوں۔۔۔فارس نے آخر میں رعب سے کہا۔۔۔
جی اللہ حافظ۔۔!زری نے کہہ کر فون کٹ کر کے زارا کو سے دیا جیسے اُسنے زورسے سائڈ ٹیبل پر پٹکا۔۔۔
وہ اس وقت شدید کوفت کا شکار تھی آج کل اُسے سمجھ ہی نہیں آتا تھا کے کیا کرے کبھی دل کرتا تھا بابا کو سب کچھ بتا دے مگر پھر رک جاتی۔۔مگر اب اُسے کوئی فیصلہ کرنا تھا ۔۔۔جو شائد وہ پہلے ہی کر چکی تھی۔۔۔
صبح اٹھ کر زارا نے اسی نمبر پر کال کی جس سے اُسے رات کو کال ائی تھی۔۔۔وہ سب اس وقت ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے زارا نے نمبر ڈائل کیا۔۔۔
فارس جس نے ابھی ابھی بریڈ کا پیس اٹھایا تھا اُسکا فون رنگ کرنے لگا۔۔۔
زارا نے فوراً سر اٹھا کر اُسے دیکھا۔۔۔
فارس نے فون پاکٹ سے نکالا اور کٹ کر دیا۔۔۔اُن لوگوں کے لیے ویسے اُسنے موبائل سائلینٹ پر لگا دیا تھا۔۔۔
فارس کس کا فون تھا۔۔۔زارا نے اچانک اس سے پوچھا۔۔
ہاں وہ میری کزن ہے نہ زینب اُسکا اسی لیے کاٹ دیا۔۔۔فارس نے وضاحت پیش کی زارا نے اپنا فون دیکھا تو اس پر ابھی بیل جا رہی تھی اسی لیے اسے جو ایک سیکنڈ کے لیے شک ہوا تھا وہ بھی دور ہو گیا۔۔۔۔
اُسنے دوبارہ کال ملائی مگر کوئی جواب نہ ملا۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اُسے ایک میسج وصول ہوا کے میں ابھی میٹنگ میں ہوں شام کو کال کرتا ہن زارا نے اوکے لکھ کر بیجھ دیا۔۔۔
شام میں تو وہ کال اٹھا نہی سکی اسی لیے رات کو خود کال کی۔۔۔۔
پہلی بیل پر فون اٹھا لیا گیا۔۔
بڑی بات ہے اپنے خود ہمیں کال کی یہ عزت کیوں۔۔۔فارس نے صحیح ڈرامائی سٹائل میں دریافت کیا ۔۔
جی مجھے اپ سے بات کرنی ہے ہم کہیں مل سکتے ہیں۔۔۔زارا سیدھا پوائنٹ پر ائی۔۔
جی نہی ہم نہی مل سکتے میں اسلام آباد نہی آ سکتا۔۔۔فارس نے صاف انکار کیا اگر وہ ملنے کی حامی بھر دیتا تو اچھا خاصا کھیل خراب ہو جاتا۔۔۔
تھوڑی دیر کے لیے بھی نہی مجھے بات کرنی ہے۔۔۔زارا نے ایک اور دفع ٹرائی کیا۔۔
نہی سوری۔۔۔فارس نے دوبارہ انکار کیا۔آپ فون پر بتا دیں کیا کہنا ہے آپکو۔۔فارس نے اسکے فون کرنے کی وجہ جاننی چاہی۔۔۔۔
نہی سوری مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔۔زارا کے دماغ میں دوبارہ پتہ نہی کیا آیا کے اُسنے فوراً کہہ کر کال کٹ کر دی ۔۔
اوہو جناب فارس آج تو آپ گئے تھے قسم سے اس وقت کیسے میں نے اپنی ہنسی روکی تُجھے بتا نہی سکتا۔۔۔حدید ابھی ابھی کمرے میں آیا تھا اور اتی ساتھ اُسنے فارس کی ٹانگ کھینچنا شروع کر دی تھی۔۔۔
قسم سے یار آج تو بال بال بچے ہیں ورنہ گئے تھے ہم سب۔۔۔فارس نے بھی حامی بھری۔۔۔
او جب زارا کو سچ پتہ چلے گا نہ تو تُجھے بہت مارے گی وہ۔۔۔حدید نے اُسے آگے کے حالات سے آگاہ کیا ۔۔
ہمم۔۔!تب کی تب دیکھئ جائے گی۔۔۔فارس نے اسکی بات کو سیریس نہ لیا
اگلے دن شام میں زارا نے سب کو بتایا کہ اسکی شام کی ہی فلائٹ ہے اور کال صبح تک وہ واپس آ جائے گی۔۔۔
اسکو آبان صاحب نے لاہور بلایا تھا کچھ شوپنگ کے لیے جس میں اُسکا ہونا ضروری تھا۔۔۔
اور پھر اگلے روز ۱۲ بجے تک وہ گھر پر تھی۔۔۔اُسکا یہ ٹور کافی چھوٹا تھا مگر اُسنے خوب انجوائے کیا تھا لاہور کا یہ ٹرپ وہ بھی اکیلے۔۔۔۔
رات میں وہ اور زری بیٹھی باتیں کر رہی تھیں جب زارا نے اچانک اپنی شادی کی بات شروع کر دی۔۔۔
زری شادی اگلے ویک ہے میں نے چھٹیوں کی بات کر لی ہے ہماری ایپلیکیشن بھی منظور ہو گئی ہے ۔۔بٹ یار ہم نہ عین مایو والے دیں پہنچیں گے ۔۔۔مما دانٹ رہی تھیں اس بات پر مگر پھر میں نے اُنہیں منا لیا۔۔۔۔زارا اُسے پلان کے بارے میں بتا رہی تھی۔۔۔۔
زارا تم مجھے بھی کے جاتی مجھے بتاتی میں بھی ٹکٹ کروا لیتی چکر ہی لگ جاتا لاہور کا۔۔۔زری نے اس سے شکوہ کیا جو اس نے اینڈ ٹائم پر سب کو اپنے جانے کا بتایا تھا۔۔۔
سوری یار بابا نے بھیجی تھی ٹیکٹس ایسی لیے اور دوسری کوئی اس وقت مل نہی رہی تھی۔۔۔زارا نے اسے وجہ بتائی۔۔۔
اچھا چھوڑو مایو کا ڈریس پسند کر ائی ہو۔۔۔۔میرا مطلب لے لیا ہے۔۔۔زری نے اسے شوپنگ کے بارے میں پوچھا۔۔۔
ہاں مما نے بارات اور مہندی کے تو کے لیے تھے مایو کا بابا اور میں نے اپنی پسند سے لیا ہے۔۔۔باقی سیٹ بارات کا وہ لیا تھا باقی سب کچھ ماما نے پہلے ہی لے کر رکھا ہوا تھا ۔۔۔زارا نے اسے ساری تیاری کے بارے میں بتایا۔۔۔
اور تمہاری تیاری۔۔زارا نے اس سے اسکی تیاری
کے بارے میں پوچھا۔۔
ہاں گئی تھی كل حدید کے ساتھ میں شوپنگ پر۔۔۔ایک دو ڈریسز لیے تھے باقی مما نے کر لی ہے کچھ میں نے مشی سے کہا تھا اُسنے بھی کے ہے میری تیاری پوری ہے۔۔۔۔۔
زارا تم خوش ہو نہ۔۔زری نے اس سے پوچھا کیونکہ آج وہ سچ میں خوش لگ رہیں تھی جس طرح وہ شادی کی تیاریوں میں انٹریسٹ لے رہی تھی۔۔۔۔
ہاں زری میں خوش ہوں کیوں کے اب میں نے سوچ لیا ہے جو کروں گی اپنے لیے کروں گی کسی کے لیے نہیں۔۔۔۔زارا نے پر اعتماد لہجے میں کہا
زارا تمہاری بات کا کیا مطلب ہے کیا کرنا ہے۔۔۔؟زری کو سچ میں اسکی کسی بات کی سمجھ نہیں آئی تھی۔۔
زری اب میں جو کروں گی اپنی ذات کے لیے کروں گی بس میں اب کسی کی خوشیوں کے لیے اپنی زندگی کا فیصلہ نہی کروں گی ۔۔زارا کا لہجہ اٹل تھا۔۔۔
زارا تمہیں نہی لگ رہا تم جو بھی کرنے جا رہی ھو وہ غلط ہے اور مجھے بتاو کیا کرو گی تم مجھے تمھاری باتوں سے خوف محسوس ہو رہا ہے۔۔زری نے اسے روکنے کی کوشش کی۔۔۔۔
نہی ذری میں اب تک جو کرتی ائی ہوں وہ سب غلط تھا اب جو کروں گی وہ صحیح ہو گا اور وہ تم لوگوں کو لاہور جا کر ہی پتہ لگے گا اب جو ہوگا لاہور جا کر۔۔۔۔۔ویسے تو کافی دیر ہو گئی ہے مگر اتنی بھی نہی کے کچھ صحیح نہ ہو سکے میں اپنی لائف اپنی مرضی سے گزاروں گی۔۔۔۔زارا کا لہجہ کافی سخت تھا پتہ لگ رہا تھا کے جو وہ کے رہی ہے ضرور کرے گی۔۔۔۔
اچھا تم لیٹو میں اتی ہوں بس۔۔۔۔زری اسکو کہ کر خود فارس اور حدید کے روم کی طرف گئی۔۔۔
زری نوک کرکے اجازت ملے بغیر ہی اندر چلی گئی فارس ایک بہت بڑی گڑبڑ ہو گئی ہے یار۔۔۔زری نے پریشانی سے بتایا۔۔۔
فارس جو کوئی بک پڑھ رہا تھا اسکی طرف متوجہ ہوا اور بک سائڈ پر رکھی۔۔۔
کیا ہوا ہے۔۔۔فارس سے پہلے حدید نے پوچھا۔۔۔
یار زارا پتہ نہیں کیا کرنے لگی ہے۔۔۔۔زری نے ٹینشن میں کہا۔۔۔
کیا کرنے لگی ہے کہاں ہے وہ ۔۔۔فارس فوراً اپنی
جگہ سے اٹھا۔۔۔
ارے یار کوئی خود کشی نہی کرنے لگی اسکے ارادے ٹھیک نہی ہیں وہ عجیب عجیب باتیں کر رہی ہے۔۔زری نے اسے اٹھتے دیکھ کہا۔۔۔
تو پھر بکو نہ کیا ہوا ہے۔۔حدید نے اسکی پونی کھینچی۔۔۔
جس پر اس نے اُسے ایک زبردست گھوری سے نوازا اور پھر شروع سے لے کر آخر تک ساری بات بتائی۔۔۔
اس سے تو یہی ظاہر ہے وہ شادی کی بات کر رہی ہے ۔۔فارس نے ساری بات سن کر مطلب نکالا۔۔۔
مگر کرنا کیا ہے اُسنے۔۔حدید نے پر سوچ انداز میں پوچھا۔۔
یہ تو لاہور جا کر پتہ لگے گا۔۔۔فارس نے ٹھنڈے لہجے میں کہا کیوں کے ابھی اس سے کوئی بھی بات کی جاتی تو اُسے پتہ لگ جاتا کے ساری بات زری نے اُنہیں بتائی ہے۔۔۔۔۔
ابھی ہم کچھ نہی کر سکتے جاؤ زری جا کر سو جاؤ اب جو ہونا ہے لاہور جا کر ہی ہونا ہے۔۔۔۔فارس نے زری کو بھی جانے کا کہا کچھ دیر وہ خاموشی میں اس سب کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
کرنے کیا والی ہے یہ لڑکی۔۔۔۔فارس نے دل ہی دل میں سوچا مگر کوئی جواب نہ ملا۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔




