Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode16

Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode16

مشی یار ہمت مت ہارو پلز۔۔۔فارس اس وقت اُسے تسلی دینے کے علاوہ اور کر بھی کچھ نہی سکتا تھا ڈاکٹر کی بات سن کے اسکے خود کے چودا طبق روشن ہو گئے تھے۔۔۔
فارس میں کیا ہمت کروں ہاں وہ کے کر گئے ہیں کے بچنے کے زیادہ چانسز نہی ہیں اپ دعا کریں اور تم مجھے کہہ رہے ہو کے ہمت کرو ۔۔جا کر اپنی ان آنکھوں کو دیکھو کتنی بے یقینی ہے ان میں تم خود بھی ڈر گئے ہو نہ۔۔۔تو مجھے کیسے تسلی دے رہے ہو جھوٹی تسلیاں مت دو نہ مجھے نہ خود کو۔۔۔مشی نے روتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔۔
اور اسکی اس بات پر فارس نے نظریں چرائیں۔۔۔کہہ تو وہ سچ رہی تھی بے یقینی تو تھی۔
اور پھر فارس اس کے پاس سے اٹھ کر ایک کارنر میں کا کر کھڑا ہو گیا کب سے حدید کی کالز آ رہی تھیں مگر وہ نہی اٹھا رہا تھا اٹھا کر کہتا بھی کیا۔۔۔جو نہ اُمیدی اُسے اور مشی کو تھی اُسکا شکار اُن تینوں کو بھی کر دیتا ۔۔
کچھ دیر بعد مشی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی اُسنے جا کر وضو کیا اور جائے نماز لیے کر ایک کارنر پر چلی گئی اور پھر صوبہ فجر کی اذان کے بعد وہ واپس ائی۔۔اتی ساتھ اس نے فارس سے پوچھا کے ڈاکٹر نے کوئی نئی بات بتائی ہے۔۔۔تو فارس نے نہ میں سر ہلا دیا۔۔
عین پانچ منٹ بعد ڈاکٹر روم سے باہر نکلا ۔۔۔اور فارس کی طرف آیا
مسٹر فارس ویسے تو ہمیں کوئی اُمید نہی تھی مگر خدا کی قدرت انکو ہوش آیا گیا ہے ابھی آپ لوگ مل نہی سکتے مگر آپ مسٹر ضرار خطرے سے باہر ہیں آدھے گھنٹے بعد آپ میل سکتے ہیں اور دہان رہے کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے اُنہیں کوئی ٹینشن ہو یہ اُنکے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔۔۔۔یہ سب آپ لوگوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔۔ڈاکٹر اپنی پیش ورانہ طریقے سے بول کر چلا گیا پھر کچھ دیر بعد آئی سی یو سے دو تین اور ڈاکٹر باہر ائی اور وہ بھی اُنکے پیچھے چل دیئے مشی فوراً ضرار کے بابا کے پاس گئی اور انکو یہ خوش خبری سنائی۔۔
وہ جو ابھی نیچے کینٹین کی طرف گئے تھی کے مشی کے لیے کچھ کھانے کو لیے آئیں یہ بات سن کر اسکے ساتھ فوراً اوپر آئے۔۔۔
مشی اوپر ائی تو فارس کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔۔۔۔
فارس ضرار کیسا ہے ڈاکٹر نے کیا کہا۔۔۔حدید نے اس سے ضرار کی خیریت پوچھی۔۔
اب ٹھیک ہے۔۔ڈاکٹر نے کہا ہے آدھے گھنٹے بعد مل سکتے ہیں میں بات کروا دوں گا تم لوگوں سے۔۔۔۔۔فارس نے اسے موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا۔۔
ہمم۔۔!کمینے نے ڈرا کر رکھ دیا تھا میں نے تو کہا تھا کچھ نہی ہونا ایسی چیزیں جلدی جان نہی چھوڑتیں۔۔۔۔حدید اپنی ہی ٹوں میں بولی جا رہا تھا مگر فارس محسوس کیا اسکی آواز میں کہیں نے کہیں نمی ضرور تھی آخر وہ سب حد سے زیادہ ڈر گئے تھے۔۔
اچھا میں تیری بات کرواؤں گا ابھی اس کے باب کو دیکھنا ہے۔۔فارس نے کہہ کر فون رکھا اور اسامہ صاحب کی طرف آیا۔۔۔
اسماء صاحب فوراً اسکے بغل گیر ہوئے۔۔۔
وہ ابھی ابھی ایک بڑی مشکل اور امتحان سے آزاد ہوئے تھے۔۔
آدھے گھنٹے بعد انہیں ملنے کی اجازت مل گئی سب سے پہلے اسماء صاحب اور ضرار کی مما اور بہن اندر گئے کوئی پندرہ منٹ بعد جب وہ واپس آئے تو پھر فارس اور مشی اندر کی طرف بڑھے۔۔
مشینیں کو پہلے اسکے ساتھ لگی تھیں اب اتر دی گئیں تھی۔۔۔
صرف ایک ڈرپ لگی تھی جو مسلسل چل رہی تھی۔۔۔
فارس اور مشی اسکی طرف بڑھے۔۔۔
ضرار نے آنکھیں کھول کر دیکھا کے کون آیا ہے مشی اور فارس کو دیکھ کر اُسنے سیدھا ہونا چاہا مگر قمر کی چوٹ کی وجہ سے نے ہو پایا ۔۔۔
او ہیرو۔!زیادہ ہمارے سامنے شوخ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ایسے ہی لیٹا رہ چل اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔فارس نے اسے اٹھتے دیکھ کہا۔
جس پر وہ ہلکی سی مسکراہٹ دے کر دوبارہ لیٹ گیا
فارس اسکے پاس پڑی کرائیں کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا۔۔
ہاں جی کیا وختا ڈالا ہوا تھا تو نے ادھر اسلام آباد سے میری ڈھوریں لگوائیں ہیں تو نے۔۔فارس نے اسکی طبیعت پوچھنے کے بجائے۔۔اسکی دوسری طرح خبر لینی شروع کر دی۔۔
ہاہاہا۔۔!تُجھے کس نے کہا تھا بھاگتا ہوا آ پلیں پر آ جاتا۔۔۔ضرار نے اسکی بات کا زیادہ نوٹس نہ لیا۔۔۔
زیادہ بول مت ادھر تو نے اُن تینوں کو بھی اتنی ٹینشن دی ہوئی تھی اگر ایک آدھا دل کے دورے سے مر مرا جاتا پھر۔۔فارس نے اسے لتاڑا۔۔۔
ہاہا۔۔!ہم سارے دوست نہ بڑے ڈھیٹ ہیں کوئی نہی مارتا اتنی جلدی سب ایک دوسرے کو مار کر مریں گے۔۔۔ضرار نے بات مذاق میں اڑائی۔۔
بدتمیز۔فارس نے اسکے بازو پر پنچ کرایا۔۔
اور جاھل درد ہوتی ہے مجھے ٹرک ٹھوک کر گیا ہے کوئی گدھا نہی جو درد نہ ہو۔۔۔ضرار نے غصے میں فارس سے کہا اُسے سچ میں درد ہوئی تھی۔۔
او اسے کیا ہوا ہے صدمے میں تو نہی چلی گئی۔۔ضرار نے مشی کی طرف اشارہ کر کے فارس سے پوچھا جو ابھی تک دروازے کے ساتھ کھڑی تھی۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ دیکھتا ہوں
فارس کہہ کر مشی کی طرف بڑھا
مشی کیا ہوا ہے ا جاؤ آگے یہاں کیوں کھڑی ہو۔۔فارس نے بڑے آرام سے اس سے پوچھا۔۔۔
اور پھر اس نے دیکھا اچانک مشی کی آنکھوں میں غصّہ اُبھرا اور وہ خطرناک تیور لیے ضرار کی طرف بڑھی۔۔۔
اسکے پاس پہنچ کر اُسنے بیڈ کے سائڈ پر رکھا ایک پلو اٹھایا اور پھر درادر ضرار کے سر پر اور بازو پر مرنے لگی۔۔۔۔۔
غصے سے اُسکا منہ لال ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
اللہ اللہ فارس اس کو میرے پیچھے سے کیا کیا ہے یہ تو مزید جنگلی ہو گئی ہے۔۔۔دیکھو مریض کو کیسے دھو رہی ہی جیسے یہ دھوبی ہے اور میں کوئی کپڑا اب پاگل پکڑ اسکو جو میرا بچا ہے نہ وہ بھی توڑے گی یہ لڑکی دماغ پر اثر لے لیا ہے اس نے ۔۔ضرار مسلسل مدد کے لیے بول رہا تھا مگر فارس اُسے ابھی تک یہ سمجھ نہی آ رہی تھی کے ہو کیا رہا ہے۔۔۔
پھر اچانک ضرار کے تیز بولنے پر وہ فوراً مشی کی طرف بڑھا اور اسکے ہاتھ سے پلو کھینچا۔۔۔۔۔
مشی کیا ہو گیا ہے کیوں مارے جا رہی ہو اُسے۔۔۔فارس نے اسکے ہاتھ سے پلو لے کر پوچھا
کیوں مار رہیں ہوں۔۔۔مشی فارس کی طرف مڑ کر چینخی۔۔۔
ہاں ۔۔فارس اسکے اس طرح چیخنے پر دو قدم پیچھے ہوا۔۔
رات سے عذاب نے ڈال کر رکھا ہوا ہے ہمیں ادھر وہ پریشان ہیں اسکے مما بابا پریشان ہیں سب اس کی وجہ سے پریشان ہیں۔۔۔اور یہ یہاں مزے سے لیٹا مذاق کر رہا ہے۔۔جب گاڑی چلانی نہی اتی تو اُسے لیے کر کیوں نکلے تھے اندھوں کی طرح چلاتے ہو کیا۔۔۔مشی کا اب چینخ کر سانس پھولنے لگا تھا اسی لیے چپ ہو گئی۔۔۔
فارس نے فوراً اس کے آگے پانی کا گلاس کیا جیسے وہ ایک سانس میں ختم کر گئی۔۔۔
اور تم ہاں تم تم سب نے ہم لڑکیوں کو پاگل سمجھا ہوا ہے تم کیوں زہرا کو پاگل بنا رہے ہو بتا کیوں نہی دیتے اُسے کے اُسکا نکاح تمہارے ساتھ ہوا ہے ہاں بتاؤ بیوقوف سمجھا ہوا ہے تم لوگوں نے هم لڑکیوں کو ہاں۔۔۔اب مشی کا رخ فارس کی طرف تھا اور وہ تو اسکی بات سن کر حیران رہ گیا یہ بات تو بس حدید زری اور اسکے درمیان تھی۔۔۔
تمہیں کیسے پتہ۔۔۔فارس نے حیرت سے پوچھا۔۔
اس دن جب تم زری کو کال کر کی زارا کو بتانے کے لیے منع کر رہے تھے تو شاید تم میرے ساتھ ہی کھڑے تھے میں بحری نہی ہوں سمجھ آئیں۔۔۔مشی کو آج جس جس بات کا غصّہ تھا وہ نکالنے کے موڈ میں تھی۔۔۔۔
اور یہ بات مجھے کیوں نہی پتہ۔۔۔ضرار جو کہ سے شوکڈ تھا اب اُسنے بھی گفتگو میں حصہ لیا
کیوں کے میں نے نہی بتایا۔۔۔فارس نے بڑے مزے سے جواب دیا۔۔۔۔
بدتمیز تُجھے میں ہر بات بتاتا ہوں اور تو نے مجھ سے چھپایا۔۔۔۔ضرار نے ٹھنڈی اه بھری۔۔۔۔۔
چپ کرو ٹیم دونوں سمجھ ائی ابھی بتاتی ہیں زارا کو تو میں کے تم کیا کر رہے ہو اسکے ساتھ اُسنے تمہاری بینڈ نہ بجا دی تو پھر کہنا۔۔۔۔۔مشی نے فارس کو دھمکی دی۔۔۔
مشی نہی میری بات سنو میری پیاری سے بہن پلز ایسے نہی کرنا پلز مجھے اُسے سرپرائز دینا ہے پلز ۔۔فارس نے اسکے ترلے کیے۔۔۔۔
اور تم اب میں گھر جا رہی ہوں انسانوں کی طرح ٹھیک ہو جاؤ جان عذاب میں ڈال دی تھی۔۔۔۔یہ کہتے ساتھ وہ وہاں سے واک آؤٹ کر گئی ۔۔
چل اُن سب سے بھی بات کر لے ۔۔۔فارس نے حدید کو ویڈیو کال کی ۔۔
اور کیمرا ضرار کی طرف کر دیا۔۔۔
اُن سب نے اسکی خیریت دریافت کی اور اسکو خیال رکھنے کا کہا۔۔۔اسکے بعد فارس نے فون بند کر دیا۔۔۔
اللہ فارس یہ تو ایک نمبر کی جلاد ہے لڑکی مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔ضرار نے ڈرنے کو ایکٹنگ کی۔۔
پاگل وہ ساری رات سے ادھر ہے کچھ خیال کر لے مگر ابھی والا ریکشن میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا زارا کہتی ہے کے مشی اُلٹ ٹائم پر اُلٹ ریکشن دیتی ہے جہاں اُسے کیئر کرنی چاہیے وہاں اُسے غصّہ آ جاتا ہے اور آج مجھے زارا کی بات پر یقین ہو گیا ہے۔۔۔فارس بتاتے بتاتے خود بھی ہنس پڑا۔۔۔۔۔
ہمم۔۔۔!ضرار نے نس اتنا ہی کہا۔۔
تقریباً ایک ہفتے بعد اُسے چھٹی ہو ہے تھی فارس تو تین دن پہلے کا ہی ج چکا تھا اب ضرار اپنے گھر آ گیا تھا دن میں ایک دفعہ مشی اسکے گھر کا چکر لگا لیتی انکی لائف معمول پر آ گئی تھی اب تو ضرار نے چلنا بھی سٹارٹ کر دیا تھا۔۔۔وہ اپنے سارے کام اب خود کرتا تھا بس ابھی اُسے ڈرائیونگ کی اجازت نہیں تھی۔۔
دوسری طرف اُن سب کی جوبز بھی صحیح جا رہی تھیں پورا دن اُنکا بزی گزرتا تھا اب تو زارا اور زری نے گھر کا کھانا بنانا بھی سیکھ لیے تھے کیوں کے روز روز باہر کا کھانا اُنکے لیے ممکن نہ تھا اسی لیے
اُنہوں نے نیٹ سے کافی ساری چیزیں بنانا سیکھ لی تھیں کیوں کے اب اُنہیں یہ سارے کام خود ہی کرنے تھے اور اُنکا کھانا اتنا ایچ ضرار ہوتا تھا کے حدید اور فارس بنا کیسی نخرے کے کہا لیتے تھے۔۔۔۔اس سب نے چھٹی کے لیے اپلیکیشن سے دی تھی فارس اور زارا کی ڈیٹس تو ایک ہی تھیں جس کا ابھی تک زارا کو علم نے تھا اور مشی اور ضرار کا نکاح بھی انہی ڈیٹس میں رکھ دیا گیا تھا تاکہ وہ لوگ اٹینڈ کر لیں۔۔۔
شام میں حدید اور فارس اپنے روم میں لیٹے تھے اور زارا اور زری اپنے روم میں تھیں۔۔۔۔کے فارس کو ایک مذاق سوجھا جو اُسنے فوراً حدید سے ڈسکس کیا۔۔۔
حدید بات سن تیری بہن کو تنگ کریں۔۔۔فارس نے حدید سے پوچھا۔۔
کیا کو زری کو کوئی فائدہ نہیں ہے اُسے تنگ کرنے کا۔۔۔۔حدید نے اسکے پلان پر پانی پھیرا۔۔
نہی زری کو نہی زارا کو۔۔فارس نے اسکی بات کی تصدیق کی۔
وہ کیسے۔؟حدید اچانک سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔
یار میری دوسری سم سے زارا کو کال کریں۔۔۔فارس نے ابھی اتنا ہی بولا تھا باقی حدید سمجھ چکا تھا اسی لیے فوراً راضی ہو گیا۔۔۔
فارس نے کال کی پہلے تو کال کاٹ دی گئی فارس نے دوبارہ کی تو تیسری بیل پر فون اٹھا لیا گیا۔۔۔
جی کون۔۔؟دوسری طرف سے زہرا کی آواز اُبھری۔
میں ہوں۔!فارس نے اسکے علاوہ اور کچھ نہی کہا۔۔۔
میں کون؟زارا نے ایک اور سوال کیا۔۔
زارا کون ہے ؟زری جو اسکے ساتھ بیٹھی تھی اُسنے زارا سے پوچھا۔۔
پتہ نہیں پوچھتی ہوں۔ زارا نے اتنا کہہ کر توجہ دوبارہ کال کی جانب کی ۔
آپ مجھے نہی پہچانیں۔۔؟فارس اُسے اُلجھا رہا تھا۔۔
جی نہی آپ بتائیں آپ کون ہیں نہی تو میں فون رکھ دیتی ہوں۔۔اس بار زارا کو غصّہ آیا۔۔
میں ہوں آپ کا شوہر۔۔۔فارس نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کر کے کہا پوچھا حدید ہنستے ہنستے زمین پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔۔۔۔
جی جی او اچھا بولیں آپ کو کیا کام ہے۔۔۔زارا کو ایسے اچانک اس کال کی اُمید نہی تھی۔۔
کام تو کوئی نہی تھا ایسے ہی اپ سے بات کرنے کا دل کر رہا تھا۔۔۔فارس پتہ نہی کیس طرح بات کر رہا تھا اسکی ہنسی ہی نہی رک رہی تھی۔۔اور حدید اسکے تو ہنس ہنس کر حالات خراب تھے۔۔
لیکن میرا دل نہی کر رہا مجھے کام ہے بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔زارا نے کہہ کر فون رکھنا چاہا۔۔۔
اچھا بات سنیں۔۔۔۔فارس نے اسے روکا ورنہ وہ تو فون رکھنے لگی تھی۔۔۔
جی بولیں۔۔۔زارا اس وقت مکمل طور پر اوزار ہو رہی تھی۔۔
زری جو اسکے ساتھ بیٹھی تھی اچانک اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی اُسنے فارس اور حدید کے روم کا دروازہ نوک کیے بغیر کھول دیا آگے کا منظر یہ تھا کہ حدید آدھا بیڈ کے اوپر تھا اور آدھا نیچے اور مسلسل ہنس رہا تھا اور فارس اپنی ہنسی کنٹرول کرتا زارا سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔
بولیں بھی یا میں فون کاٹ دوں۔۔۔زارا کو اب غصّہ انے لگا تھا۔۔اسی لیے وہ تیز لہجے میں بولی۔
ہاں ہاں نہی کوئی بات نہیں ہے میں فون رکھتا ہوں۔۔۔فارس نے فوراً فون بند کیا کے کہیں زری کچھ بول دے اور وہ پکڑا جائے ۔۔
یہ کیا حرکت تھی کیا میں جان سکتی ہوں۔۔زری نے سیدھا فارس سے پوچھا۔۔
حدید ابھی بھی ہنس رہا تھا۔۔۔
فارس نے اسے اٹھا کر کشن مارا مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔۔
یار بس زارا کو تھوڑا سا تنگ کر رہے تھے بس اور تو کچھ بھی نہی۔۔فارس نے معصومیت سے بتایا۔۔۔
پہلے ہی وہ اتنی ٹینشن میں ہے تمہاری وجہ سے میں اُسے سب بتا دیتی مگر تمہاری وجہ سے چپ ہوں اور تم نہ اب نہ پٹو ہے مجھ سے اب اُسے تنگ کرنا بند کرو ورنہ میں اُسے بتا دوں گی۔۔۔زری نے اسے دھمکی دی۔
اچھا اچھا بس ایک آدھی بار اور کال کروں گا پکا اسکے بعد نہی پکا نہ زری اُسے نہ بتانا پلز۔۔۔فارس نے اس سے رکویسٹ کی ۔۔۔
ہاں ہاں کری جاؤ اس معصوم کو تنگ بدتمیز۔۔۔!زری اسکو سنا کر دروازہ پٹک کر جا چکی تھی ۔۔
فارس نے حدید کی طرف دیکھا جو ابھی چپ ہوا تھا دونوں کی نظریں ملیں اور پھر ہنسی کا فوارہ پھوٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں کتنی ہی ڈر پاگلوں کی طرح ہنستے رہے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔😘😘😘😘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *