Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode20

Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode20

صبح ناشتے کے بعد زری تو شفق خاتون کے ساتھ اُنکے کہنے پر کچھ چیزیں لینے کے لیے چلی گی زارا نے شفق خاتون سے جانے کی اجازت تو کے لئے تھی مگر انکی شرط تھی کے مشی ساتھ جائے گی ۔۔ایسے زارا کو اکیلے بھیجنا اُنہیں مناسب نہ لگا ویسے وہ کچھ نہی کہتی تھیں مگر ابھی وہ مایو کی دلہن تھی اور اُسے چینج کرنے کی اجازت بھی نہ ملی اُسے اُسے ڈریس میں جانا تھا
مشی یار کیا بکواس ہے میں ایسے کیسے جاؤں یہ اتنا ہیوی ڈریس پہن کر۔۔۔۔زارا کو اس بات پر فل غصّہ آ رہا تھا
کچھ نہی ہوتا زارا کیا ہو گیا ہے میں ہوں نے ساتھ بس آج رات تم اس ڈریس سے آزاد ہو جاؤ گی..مشی نے اُسے تسلی دلائی ورنہ ڈریس دیکھ کر تو وہ خود پریشان تھی ایسے باہر نکلنا اتنے ہیوی ڈریس کے ساتھ وہ بھی اتنی صبح لوگ سمجھتے کے وہ دونوں پاگل ہیں مگر اب یہ انکی مجبوری تھی۔۔۔۔
زارا نے ڈرائیور کو گاڑی ریڈی کرنے کو کہا اور کسی طرح اپنا ڈریس سنبھالتی وہ مشی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔
ڈرائیور نے ریسٹورانٹ کے سامنے گاڑی روکی تو وہ دونوں اتریں۔۔
ریسٹورانٹ میں جا کر اُنہیں فارس سامنے ہی نظر آ گیا۔۔وہ دونوں فوراً ٹیبل کی طرف گئیں
یہ تم کیا بھاگنے کے ارادے سے ائی ہو لڑکی۔۔۔فارس نے زارا کے اتنی صبح ایسے انے پر بولا
مجبوری تھی زیادہ نہ سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں ہے کیا بات کرنی ہے جلدی کرو لوگ مجھے بہت زیادہ گھور رہے ہیں۔۔۔زارا نے آخر پر روہانسی ہو کر کہا
اور سچ میں لوگ اس کو عجیب نظروں سے گھور رہے تھے
ہاں اور تک اسکو کیوں ساتھ لائی ہو۔۔فارس نے مشی کی طرف انگلی سے اشارہ کیا
کیوں تمہیں مسئلہ ہے اگر میں نہ اتی نہ تو یہ بھی نہ اتی میری وجہ سے اجازت ملی ہے اسے۔۔مشی نے اُسے باور کروانا لازمی سمجھا
اچھا یار تم تو سیریس ہی ہو گئی ہو۔۔فارس نے اُسے بگڑتے دیکھ بات سنبھالی
یار آپ بولو ہم نے جلدی گھر جانا ہے۔۔زارا کو ٹائم کی ٹینشن تھی
زارا آپ شادی سے کیوں انکار کر رہی ہو۔۔؟فارس نے احتیاطاً سوال کیا
کیوں کے اپنے مجھے کہا تھا کے اگر میں انکار کر دوں تو آپ مجھ سے شادی کر لیں گے۔۔۔زارا نے بھی سیدھا جواب دیا
زارا یار آپ اپنے مما بابا کا کچھ خیال کرو میں اب آپ سے شادی نہی کر سکتا۔۔۔۔فارس نے چاہا کسی طرح سرپرائز بچ جائے چاہے اپنی کمبھاختی اہ جائے
نہ کریں آپ مجھ سے شادی مگر اب میں اس شادی سے انکار کر چکی ہوں میں اپنے الفاظ سے اب نہی پھروں گی فارس۔۔۔زارا نے مضبوط لہجے میں کہا
زارا لیکن۔۔۔فارس کی بات ابھی بیچ میں تھی کے زارا نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا
چلو مشی اور فارس آپکو شادی مبارک۔۔۔زارا نے اس پر ایک نظر ڈالی اور اٹھ کھڑی ہوئی مشی بھی فوراً اٹھ گی وہ دونوں ابھی ٹیبل سے کچھ قدم ہی دور گئیں تھیں کے فارس نے اُنہیں آواز دی
کیا ہے۔۔۔زارا کے بجائے مشی نے مڑ کر پوچھا
بات تو سن لو پوری میری پہلے ہی جا رہی جو دونوں کچھ بتانا تھا مجھے۔۔۔۔فارس نے مشی سے کہا
اب آیا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے۔۔زارا نے مشی کے کان میں بولا اور مشی نے اُسے نیچے سے تالی دی آخر وہ دونوں اپنے پلان میں کامیاب ہو رہی تھیں۔۔
ہمم بولیں۔۔زارا نے بیٹھتے ساتھ پوچھا
زارا یار جس سے آپکی شادی ہو رہی ہے اور نکاح ہوا ہے وہ میں ہوں یار میں نے آپ کو اس لیے نہی بتایا تھا کیوں کے میں آپکو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔۔۔۔اور پھر فارس نے اُسے ساری بات بتائی شروع سے لے کر آخر تک سب کچھ اور مشی تو پتہ نہیں کس طرح اپنی ہنسی روک کر بیٹھی تھی ورنہ اُسکا دل کر رہا تھا کے زمین پر لیٹ کر ہنسنا شروع کر دے۔۔۔۔۔
فارس نے اپنی بات ختم کر کے سر اٹھایا تو زارا بلکل سیریس تھی مشی نے اپنے جذبات کنٹرول کیے۔۔۔
تو اب میں کیا کروں فارس۔۔۔زارا نے اس سے آگے کا پوچھا
زارا میں نے انے سے پہلے بابا کی بات سنی ہے اُنہیں آبان انکل کا فون آیا ہے اور اُنہوں میں کہا ہی یہ زارا کی خواہش ہے تو بابا بھی مان گئے۔۔۔۔بابا نے کہا تھا جو زہرا چاہے گی وہی ہوگا۔۔۔فارس نے اُسے پریشانی کے عالم میں بتایا
اچھا۔۔۔۔۔زارا نے پر سوچ انداز میں بولا
تو اب۔۔۔۔۔زارا نے ایک اور سوال کیا
یار اپنے بابا کو کہو کے تمہیں یہ شادی کرنی ہے اور وہ بابا کو کہیں کے تمہیں ڈورس نہی چاہیے۔۔ورنہ کام بوہت بگڑ جائے گا۔۔۔فارس نے اُسے بتایا کے کیا کرنا ہے
میں نے بابا سے کیا کہا ہے فارس۔۔زارا نے اس سے ایک اور سوال کیا
یہی کے تمہیں مجھے سے شادی نہی کرنی۔۔۔فارس کوفت کا شکار ہوا وہ اس سے اس طرح کے سوال کیوں کر رہی تھی
آپ کو کس نے کہا کے میں نے بابا سے یہ کہا ہے۔۔۔زارا نے معصوم شکل بنا کر کہا
زری نے اس نے بتایا ہے مجھے کے تم نے آبان انکل سے بات کی ہے اور ابھی سن کے بھی آ رہا ہوں۔۔فارس نے اُسے بتایا
فارس زری کو کیسے پتہ کے میں نے بابا سے کیا بات کی ہے۔۔۔۔زارا نے فارس سے پوچھا
کیا مطلب کیسی باتیں کر رہی ہو زارا۔۔۔۔۔فارس کا یہ کہنا تھا کہ مشی کی برداشت ختم ہو گئی اور وہ ہنسنے لگی
فارس تو اسکو دیکھ کر حیران رہ گیا اتنی سیریس بات پر وہ کیسے ہنس سکتی تھی
Okay okay sorry continue please…!
مشی نے معزرت چاہی کیوں کے وہ دونوں ہی اُسے گھور رہے تھے۔۔
زری نے خود تو نہی سنا نہ۔۔۔زارا نے فارس کو بتایا
مگر اُسنے کہہ کے تم نے یہ کہا ہے۔۔۔فارس اب الجھ رہا تھا
ہاں تو میں اُسے وہی بتاؤں گی نہ ہو مجھے آپ کو بتانا ہوگا۔۔۔۔زارا نے شاطر مسکراہٹ کے ساتھ کہا
فارس کو ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔کیا مطلب زارا صاف بات کرو یار۔۔۔
جب آپ میرے پاس اپنا ایک جاسوس بٹھائیں گے تو ہم جاسوس کے ذریعے وہی خبر آپ تک پہنچائیں گے جو ہم پہناچنا چاہیں گے کیوں مشی۔۔۔۔زارا نے مشی کو مخاطب کیا
مسٹر فارس میں نے کہا تھا آپ سے یہ تماشا جلدی ختم کرو نہی تو میں سب کچھ کھول دوں گی آپ نے میری بات پر عمل نہیں کیا ۔۔۔مشی نے کھندھے اُچکائے
کیا بکواس ہے کیا مطلب ہے کیا بولی جا رہی ہو تم دونوں ۔۔۔۔فارس کا اب دماغ گھومنے لگا تھا۔۔۔
ڈ یئر فارس تو یہ سب ایک پرینک تھا جو پہلے اپنے کیا تھا اور اب ہم نے حساب برابر۔۔۔۔زارا نے شانے اچکائے
کیا مطلب یہ سب مذاق تھا تم نے انکل سے کچھ نہی کہا تو پھر انکو نے کال کیوں کی تھے اور پاپا نے کس بات پر کہا تھا کہو زارا چاہے گی وہی ہو گا ۔۔۔فارس ابھی بھی اُلجھن کا شکار تھا
میں نے تو بابا سے کا تھا کے مہندی ہمارے لون میں ہوگی تو بابا نے انکل سے نے کر لی صبح میرے سامنے اور وہ مان گئے۔۔۔۔زارا نے اسے وہاں بات بتائی جو اس نے کل آبان صاحب سے روم میں کی تھی
تو یہ ساری کیا بکواس تھی اور تمہیں سارا کچھ پتہ کیسے لگا۔۔۔۔فارس نے ایک اور سوال کیا
جب میں لاسٹ ٹائم اکیلی لاہور ائی تھی تو رات میں نے مشی کی طرف گزاری تھی اس نے مجھے بتایا تھا۔۔۔۔اچھی دوست ہونے کا ثبوت دیا تھا زری تو تمہاری ٹیم میں تھی۔۔۔۔زارا نے دل ہی دل میں زری کی کلاس لینے کا ارادہ کیا
مطلب ایسا کچھ نہی ہے تم نے شادی سے انکار نہی کیا اور شادی اب ویسے ہی ہوگی جیسے پہلے ہونی تھی۔۔۔۔تو وہ اظہر کون تھا جو تمہیں لینے آیا تھا۔۔۔۔فارس نے اس سے اظہر کے بارے میں پوچھا
میرے ماموں کا بیٹا ہے انگیجد ہے وہ اور ہاں اسکو تو مشی کے کہنے پر بلایا تھا چیک کرنا تھا آپ جیلس ہوتے ہو یا نہی مگر آپ کا تو مجھے نہی پتہ حدید ضرور جیلس ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
آپ کا تو مجھے زری کے ذریعے پتہ چلا جب اُسنے مجھ سے اظہر کا پوچھا۔۔۔
اچھا۔۔۔۔مطلب سب سیٹ ہے کوئی ایشو نہی ہوا تھینک گوڈ۔۔۔۔۔فارس نے خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔
تو تم کتنی ڈرامے باز ہو نہ رات سے میری جان سولی پر لٹکی ہوئی ہے تمہاری وجہ سے ۔۔۔فارس کو اچانک اس کے اوپر غصّہ آیا وہ کتنا ڈر گیا تھا اتنے سے ٹائم میں
اچھا جو اپنے جناب مجھے تین ہفتوں سے ٹینشن دی ہوئی تھی اُسکا کیا۔۔۔زارا نے بھی اسکی کلاس لی
اور مشی تم کتنی تیز ہو نہ تمہارے منہ میں بات نہی رہی نہ مزا اتا اگر اسے سرپرائز ملتا۔۔فارس کو اپنا پلان خراب ہونے کہا دکھ ہوا۔۔۔(نواب زادي صحیح کہہ تھا لڑکیوں سے پنگّے نہی لیتے 😉😉😉😉)
ہاں تو کوئی اس کا دوست بھی تو تھا نہ اُن سب نے تو تمہارا ساتھ دیا ایک بات بتاتی چلوں حدید کو بھی پتہ تھا کے ہم ڈراما کر رہے ہیں وہ بہنوں کا ساتھ دینے والا لڑکا ہے اوین نہی اسکی بات سیٹ کی زارا نے کیوں زارا۔۔۔مشی نے آخر میں زارا سے پوچھا
جی بلکل اب ہم چلتے ہیں اپ اپنے شریکوں کو کا کر بتائیں کے آپ اُلو بن چکے ہیں۔۔۔زارا نے اُسے ٹھینگا دکھایا
Yes..!You were trapped 😉😉
مشی نے فارس کا گال کھینچا
اسکے بعد وہ دونوں گھر کے لیے نکل گئیں۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ راستے میں ہی تھیں کے ڈرائیور نے بتایا کہ گاڑی خراب ہو گئی ہے اور اُنہیں ٹیکسی لینی پڑے گی۔۔۔۔۔
ابھی وہ دونوں ٹیکسی کی تلاش میں تھیں کے ایک گاڑی اُنکے سامنے آ کر رکھی گاڑی کا مرر نیچے ہوا تو پتہ چلا اس میں ضرار اور حدید تھے
کیا ہوا یہاں کیوں کھڑی ہو۔۔۔حدید نے زارا سے پوچھا
یار گاڑی خراب ہے۔۔۔زارا نے مسئلہ بتایا
اچھا آ جاؤ ہم چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔حدید نے آفر کروائی اور زارا نے قبول بھی کر لی
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھیں تو ضرار نے گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ دور ہی گئے تھے کے گاڑی رک گئی
ضرار اور حدید نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
اسے کیا ہوا۔۔زارا نے حدید سے پوچھا
کچھ نہی ابھی چل جاتی ہے۔۔۔حدید نے اُسے تسلی دی
اچانک گاڑی سٹارٹ ہو گئی پھر تھوڑی دیر بعد رک گئی۔۔۔۔۔
یہی تماشے کر رہی تھی گاڑی۔۔۔
وہ دونوں اس وقت اپنی لینڈکروزر کو دیکھ رہے تھے یا شاید گھور رہے تھے جس نے ان کو ذلیل کرانے میں کوی کسر نا چھوڑی تھی😂😂اور وہ ان دونوں کو اب وہ ان سے لفٹ لے کے صحیی مانوں میں پچتا رہی تھی
اپ اس کو لے کر ہی کیوں گھوم رہے ہیں اگر یہ چلتی نہیں😐😐مشی کا بس نہیں چل رہا تھا کے ان دونوں کا سر قلم کر دے ایک تو پہلے ہی وہ لیٹ تھی اب اور باتیں سننی پڑنی تھیں
کیوں کے زارا میڈم تو دلہن تھیں اُنہیں کسی نے کیا کہنا تھا شامت تو مشی کی انی تھی۔۔۔
اُو ہیلو چلانی اتی ہے بہت اچھی چلاتا ہوں۔۔۔ضرار سے کہاں برداشت ہوئی تھی بیستی
یار لڑنا بند کرو مشی اُترو آگے اؤ۔۔۔حدید نے مشی کو آگے انے کا کہا
مشی اُتر کر آگے ائی تو حدید پیچھے زارا کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔۔
اب منظر یہ تھا کہ آگے ضرار اور مشی لڑ رہے تھے اور پیچھے حدید کا ارادہ زارا سے سچویشن پوچھنے کا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بنا۔۔۔حدید نے آہستہ آواز میں پوچھا تاکہ آواز ضرار تک نہ جائے
فل فلیٹ ہو گیا ہے بتی گم ہے اسکی میٹر خراب ہو گیا ہے اُلو بن گیا ہے وہ۔۔۔۔زارا نے اچھی خاصی کر دی تھی فارس کی
ہاہاہا۔۔۔ہاہاہا شاباش مزا آ گیا یار میں نے بھی دیکھنا تھا۔۔حدید کو سین مس ہو جانے کا دکھ ہوا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *