Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan NovelR50805
Last updated: 22 July 2026
No Download Link
687.8K
21
Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode01Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode02Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode03Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode04Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode05Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode06Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode07Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode08Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode09Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode10Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode11Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode12Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode13Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode14Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode15
Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan
مشی بولتی ہوئی فرنٹ دور کھول کر بیٹھی اور زارا نے گاڑی سٹارٹ کر دی اب اُنھیں زری کو لینا تھا جسے لینا کوئی آسان کام نہیں تھا
مشی فون کر اسے جلدی کر؛اُسنے اضطرابی کیفیت میں کہا
مشی سر ہلاتے ہوئے كال ملانے لگی
دوسری طرف سے زری کی آواز ابھری ؛
یار میں بلکل ریڈی ہوں آجاؤ جلدی سے
مشی نے اوکے بائے کہ کر فون رکھ دیا
اور اگلے 15 منٹ میں وہ کالج کے سامنے کھڑی تھی
مشی نے اندر جانے میں پہل کی اور ادھر اُدھر نظریں دورانی شروع کر دیں لیکن مایوس واپس مڑی کیوں کے اُن تینوں می سے اسے کوئی نظر نہیں آیا تھا لیکن زری کی چیخ سے یہ بات پتہ چلی کے اسے و نظر آ گئے ہیں
اور پھر تینوں اُس طرف چل دیں جہاں وہ لڑکیوں کو پریشان کر رہے تھے
اُو ہیلو!بات آغاز مشی نے کیا ۔۔۔۔۔
اُس لڑکے نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور مشی کو دیکھ کر اسکے چہرے پر ایک گندی مسکراہٹ آئی
یار دیکھو وہی کل والا مال آیا ہے ان دونوں کو چھوڑو یہ تین ہیں نہ ؛ اُس نے غلیظ مسکراہٹ ساتھ اپنے ساتھی کو مخاطب کیا
ہاں ہاں اؤ ہم تین ہیں تو تم لوگوں کو چار چار نظر۔ نہیں آئیں تو ہمارا نام بدل دینا؛اس بار بولنے والی زری تھی
یار یہ تیسری کی شاید زبان نہیں ہے یہ کچھ بولتی ہی نہیں ہے ؛تیسرے لڑکے نے زہرا کو نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا
ہاں یہ بولتی نہیں ہے بس جو کرنا ہوتا ہے کر دیتی ہے؛مشی نے بڑے فخر سے بتایا
ہاہاہا
وہ تینوں جعلی کہکہے لگانے لگے جیسے بہت ہی کوئی مزے کی بات ہو
اور اُس کے بعد جو عملی نمونہ زہرا آبان دکھایا وہ وہاں کھڑے سب لوگوں نے بہت انجوائے کیا
اگر اب کے منظر پر جائیں تو وہ لڑکا اپنا بازو چّھوروانے کی کوشش کر رہا تھا جو زہرا آبان نے پوری طرح مروڑ رکھا تھا
درد سے اُس لڑکے کی آنکھوں میں پانی آ گیا
اور باقی دونوں کو سنبھالنے لیے مشی(مشعل) اور زری(ذرنش) کافی تھیں
آخر کار اپنا کام ختم کرکے وہ ایگزیمنش روم کی طرف چل دیں کیوں کے اُنھیں پیپر پر فوکس کرنا تھا
پیپر تقریباً 12 بجے کے قریب ختم ہوا اور وہ تینوں کالج پر ایک الوداعی نظر ڈال کر کار کی طرف بڑھ گئیں
کیوں کے کالج کے فنکشن میں اُنھیں کبھی کوئی دلچسپی نہیں تھی اور آج بھی وہ اپنا آخری فریویل اٹینڈ نہیں کر رہی تھیں
آج لنچ میری طرف سے پیپرز ختم ہونے کی خوشی میں؛زہرا نے دل بڑا کر کے لنچ کی آفر دی جس پر حسبِ معمول وہ دونوں مان گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
