Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode18

Ek Sitara Kehkashan Ho Gaya by Bisma Khan Episode18

اگلے ہفتے وہ تینوں صبح دس بجے لاہور ایئر پورٹ پر کھڑے تھے اور فارس کا انتظار کر رہے تھے جو گاڑی لینے گیا تھا۔۔۔سارا ظلم تو حدید کے اوپر ہو تھا تھا کیوں کے زیادہ تر سامان اُسنے پکڑ رکھا تھا۔۔
چلو۔۔!آ گئے ہیں جناب گاڑی لے کے۔۔انکے ابو نے مجھے ان کے لیے غلام رکھا ہوا ہے نہ جو اب سامان بھی سارا میں گاڑی میں رکھوں۔۔حدید مسلسل بولتا سامان گاڑی کی ڈیکی میں رکھ رہا تھا۔۔فارس نے زحمت ہی نہ کے تھی گاڑی سے نکلنے کی۔۔
سامان رکھنے کے بعد حدید آ کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا زری اور زارا پیچھے بیٹھی تھیں۔۔۔
فارس نے مرر سے زارا کو دیکھا تو وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی۔۔
کیا کرنے والی ہو تم زارا کچھ تو ہنٹ ملے نہ ایسے پوچھا بھی نہی جا سکتا۔۔فارس خود سے ہی بغیر آواز کے باتیں کر رہا تھا۔۔۔
فارس ہمیں لینے تو ضرار انے والا تھا نہ آیا کیوں نہی تو نے اپنی گاڑی کیوں منگوائی ہے۔۔؟حدید کی آواز پر فارس اپنی سوچوں سے باہر نکلا۔
ہاں وہ انے والا تھا مگر ایس یو نو مشی نے منع کر دیا اس نے اسکی گاڑی کی کیز چھپا دی تھیں کافی ڈھونڈی اُسنے لیکن نہی ملیں اسی لیے بس۔۔فارس نے اسے ضرار کے نہ انے کی وجہ بتائی۔
ہمم۔۔!میں نے تو کہا تھا مشی نے اُسے ایسے نہی چھوڑنا!حدید نے اسکی بات کے جواب میں کہا…
ابھی تم لوگوں نے کہاں جانا ہے۔۔؟فارس نے انسے پوچھا۔
اس سے پہلے کوئی اور بولتا زارا بول پڑی۔۔
مجھے نیکسٹ سٹاپ پر اُتار دیں۔۔فارس کیا اسکی بات پر باقی دونوں بھی حیران ہوئے
کیوں میں گھر چھوڑ دوں گا۔۔کوئی مسئلہ نہی ہے۔!فارس نے اسے گھر چھوڑنے کو کہا..
جی نہیں آپ مجھے اُتار دیں مجھے کسی نے پک کرنا ہے کسی سے ملنا ہے مجھے اسی لیے بول رہی ہوں۔۔زارا نے بڑے نارمل لہجے میں کہا..
اچھا…!فارس نے پر سوچ انداز میں جواب دیا..
فارس نے اگلے سٹاپ پر گاڑی روکی تو زارا اُتر گئی حدید نے اسکی سامان نکالنے میں مدد کی ابھی اُسنے زارا کا لاسٹ بیگ اُتارا تھا کے ایک گاڑی وہاں آ کر رکی۔۔گاڑی کی آواز پر زارا نے سر اٹھا کر دیکھا گاڑی میں سے ایک کافی ویل ڈریسڈ لڑکا باہر نکلا وہ شاید زارا کا ہم عمر تھا۔۔ہیلو اظہر کیسے ہو یار یہ سامان رکھو گاڑی میں حدید اس کی ہیلپ کر دو پلز۔۔حدید جو ابھی اس لڑکے کو ہی دیکھ رہا تھا زارا کے اس طرح بولنے پر سمجھ گیا کے یہ زارا کا کوئی کزن یہ فرینڈ ہے۔۔۔
اظہر میٹ ہم۔۔حدید اور حدید یہ اظہر میرا کزن۔۔زارا نے دونوں کا تعارف کروایا۔۔۔
ہیلو!زارا سے آپکے بارے میں بہت سنا ہے۔۔اظہر نے حدید کی طرف ہاتھ بڑھایا
ہیلو!لیکن زارا نے کبھی آپکا ذکر بھی نہی کیا۔۔حدید کو پتہ نہیں کیوں یہ لڑکا اچھا نہی لگا تھا سامان رکھوانے کے بعد زارا نے حدید سے رخصت چاہی اور اظہر نے اسکے لیے فرنٹ ڈور کھولا۔۔زارا اسکو سمائل پاس کرکے بیٹھ گئی تو حدید اپنی گاڑی کی جانب آیا اور بیٹھ گیا۔۔۔
یہ کون تھا۔فارس جو اتنی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا اب اُسنے حدید سے اتّے ساتھ پوچھا
کزن ہے اُسکا مجھے تو کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے یار وہ تو زارا کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا رہا تھا کہیں زارا اس سے تو شادی نہی کرنا چاہتی۔۔۔حدید نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا
ہمم۔۔!کزن ہے!فارس نے بس اتنا کہا اور ایک نظر گاڑی کو دیکھا جو اب سٹارٹ ہو چکی تھی پھر گاڑی سٹارٹ کر دی
فارس شاید ایسا کچھ نہیں ہو تم زیادہ سیریس نہ ہو میں زارا سے پتہ کرتی ہمیں اسکا یار ٹینشن نہ لو۔۔زری نے فارس کو ہائپر ہوتے دیکھ اُسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔
اچھا فارس تو ہمیں گھر چھوڑ دے۔۔حدید نے اسکو آرام سے کہا
انکو گھر ڈراپ کرنے کے بعد فارس سیدھا ضرار کی طرف گیا اور اُسے سارے معاملے سے آگاہ کیا۔۔
یار کیا پتہ ایسے ہی لینے آ گیا ہو تو زیادہ ہی ٹینشن لے رہا ہے۔۔ضرار نے اسکی بات کو زیادہ سیریس نہ لیا
فارس وہاں کچھ دیر رکنے کے بعد گھر چلا گیا گھر جاکر اُسنے مائرہ شاہ سے اسپیشل کھانے کی فرمائش کی۔۔۔
کھانے پر بھی فارس بجھا بُجھا سا تھا جسے مائرہ شاہ نے محسوس بھی کیا
ھذام شاہ کسی کام سے شہر سے باہر گئے تھے۔۔
فارس کیا بات ہے کچھ پریشان لگ رہے ہو؟مائرہ شاہ نے اُسے خاموش دیکھ کر پوچھا
ماما ایک بات بتائیں زہرا اس رشتے سے رضامند ہے۔۔فارس نے اُسنے زارا کے بارے میں پوچھا
واہ نام بابا نے بتایا ہے تمہیں کیا تمہیں تو پہلے نام بھی نہی پتہ تھا اور ہاں وہ رضامند ہے۔۔مائرہ شاہ نے اُسے چھیڑا
مما وہ آپ کو کیسی لگتی ہے۔۔فارس نے ایک اور سوال کیا
بیٹا جی مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کے آپ اُسے پہلے سے جانتے تھے مجھے پچھلی بار بھی لگا تھا جب آپ اچانک شادی کے لیے راضی ہو گئے تھے مگر آپ کے بابا کے سامنے میں کچھ نہی بولی۔۔مائرہ شاہ کی بات پر فارس کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ نے احاطہ کیا اور پھر اُسنے شروع سے لے کر آخر تک جتنی بات تھی ساری مائرہ شاہ کو بتا دی۔۔۔۔
ہمم!یہ شاہین میں کاموں میں پڑ گئے ہیں فلائٹ لیفٹیننٹ صاحب؟مائرہ شاہ نے فارس کے سر پر چت لگائی
مما اپنے اسے دیکھا ہے۔۔فارس نے انسے ایک اور سوال کیا
ہاں دیکھا ہے اچھی بچی ہے مشاء اللہ!مائرہ شاہ نے زہرا کی تعریف کی
ہمم..!ایسا لگتا ہے آپ اچھی ساس بننے والی ہیں۔؟اس بار فارس نے مائرہ شاہ کو چھیڑا
ہمم دیکھوں گی میں بعد میں۔۔مائرہ شاہ نے ایک ائی برو اچکا کر کہا
فارس کی اُنکے اس طرح کرنے پر ہنسی چھوٹ گئی اور پھر دونوں ماں بیٹا ہنسنے لگے۔۔۔
فارس نے کافی دیر بعد ایسے مائرہ شاہ سے لمبی بات کی تھی
ورنہ ہر بار وہ اتنی جلدی میں ہوتا کے اُن کو زیادہ وقت نہیں دے پاتا۔۔۔۔۔
دوسری طرف زری اب تک زہرا کے گھر پہنچ چکی تھی اور اب مشی کا انتظار تھا۔۔زارا نے مشی اور زری کی مما سے بات کر لی تھی کے وہ دونوں شادی کا پورا ہفتہ زہرا کے گھر رہیں گی جس پر وہ مان بھی گئی تھیں۔۔۔۔۔
مشی کے آتے ہی وہ تینوں زارا کے روم میں چلی گئیں۔۔۔زارا یار بات سنو کچھ بتاؤ گی کیا کرنا ہے تم نے۔۔زری نے اس سے اس دن کی بات کے بارے میں پوچھا
کیا کرنا ہی کیوں کرنا ہے۔۔مشی بیچ میں بولی
یار بتاتی ہوں بتاتی ہوں۔۔زارا نے اُسے ابھی چپ کروایا۔۔
زری نے اُسے زارا کی کی ہوئی ساری بات بتائی تو مشی کو بھی جاننے کا اشتیاق ہوا۔۔۔۔
یار میں بابا کو اس شادی سے منع کر دوں گی میں اس ایک دن میں بابا کو کانفیڈینس میں لے چکی ہوں اب میں کل یا پرسوں بابا کو انکار کر دوں گی اور کہ دوں ہی کے مجھے اپنی پسند سے شادی کرنی ہے۔۔۔زارا کا پلان سن کر جہاں مشی نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی وہاں زری کو ٹینشن سے سر درد شروع ہو گیا اب وہ یہ سب فارس کو کیسے بتاتی۔۔۔۔۔۔
زارا ایسے صحیح نہی ہے انکل کو دکھ ہوگا کچھ خیال کرو اُنکا۔۔زری نے اُسے روکنا چاہا
لو کیوں جب اسکے بابا نے کہا ہے کے جو وہ چاہے گی وہ ہوگا تو وہ کیوں نہ اپنی مرضی سے شادی کرے۔۔۔مشی نے زری کی بات کی مخالفت کی
لیکن یار یہ غلط ہے تم کیا ڈوورس لو گی۔۔۔زری نے اسکو ایک اہم پہلو دکھایا
اس سے مجھے کوئی مسئلہ نی ہے کیوں کے جس سے میں نے شادی کرنی ہے اسے اس سب سے کوئی مسئلہ نہی ہے۔۔۔۔زارا نے سخت لہجے میں جواب دیا اُسے زری کی مخالفت ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔۔۔
اچھا میں ذرا اتی ہوں یار مما کو کال کرنی ہے۔۔۔زری یہ کہہ کر ٹیرس میں آ گئی۔۔تاکہ بات کر سکے۔۔
اُسنے فوراً سے پہلے فارس کو کال ملائی مگر نمبر بند
تھا اسکے بعد اُسنے ضرار کا نمبر ملایا وہ بھی بزی آ رہا تھا آخر اُسنے جدید کا نمبر ملایا تو چوتھی بیل پر اٹھا لیا گیا
کہاں مرے ہوئے ہو سارے کے ساری ہیں کب سے کال کر رہی ہیں ایک کہ فون بند ہے دوسرے کا بزی حد ہے۔۔۔زری حدید کے فون اٹھاتے ساتھ ہی برس پڑی
کیا مسئلہ ہے ڈاین کہیں کی۔۔حدید نے بھی حساب برابر کیا
فارس کو فون دو۔۔زری سیدھا فارس کو بتانا چاہتی تھی
کیوں جو بات کرنی ہے میرے سامنے کرو۔۔حدید میں بھائیوں والی روح آ گئی تھی
او یار لاؤڈ سپیکر پر لگا لو جلدی کرو زیادہ ٹائم نہی ہے۔۔۔اسکے کہنے پر حدید نے فون لاؤڈ سپیکر پر لگایا
ہاں زری بولو۔۔فارس نے اس سے پوچھا
فارس زارا کل انکل کو شادی سے انکار کے دے گی کل یا پرسوں وہ کہہ رہی ہے وہ تم سے یعنی اس لڑکے سے جسے وہ اپنا ہسبنڈ سمجھتی ہے طلاق لے لے گی۔۔۔زری نے اُسے ساری بات بتائی
کیا بکواس ہے یہ اُسکا دماغ خراب ہو گیا ہے۔۔فارس کو اب سمجھ آیا کے زارا نے کیا کرنا تھا
مجھے کیا پتہ وہ کہہ رہی ہے۔۔زری نے غصے سے کہا
اچھا بات سنو وہ کیا کہ رہی ہے کے طلاق لے کے کس سے شادی کرے گی۔۔۔فارس نے اس سے اہم سوال کیا
نہی بتا رہی کبھی مجھے لگتا ہے تم ہو کبھی لگتا ہے کسی اور کی بات کر رہی ہے فارس میری سمجھ نے کچھ نہی آ رہا۔۔۔۔۔۔زری مکمل طور پر الجھ چکی تھی
اچھا تم کسی طرح پتہ کرو وہ کس کی بات کر رہی ہے۔۔فارس نے اسے ایک اور کام سونپا
اچھا اب میں رکھتی ہوں اسے شک نہ ہو جائے۔۔۔زری نے کہہ کر فون رکھ دیا اور اندر چلی گئی
او تو کدھر۔۔؟فارس نے حدید سے پوچھا جو باہر کی طرف جا رہا تھا
یار حارث(زارا کا بھائی)نے بلایا ہے کوئی کام ہے انکل نے مجھے کہا ہے کہ زارا کی شادی میں میں نے اسکے بھائی کا کردار ادا کرنا ہے۔۔۔کچھ کام تھے جو حارث نے میرے ذمے لگائے تھے وہ نمٹانے ہیں
اتا ہوں دو تین گھنٹوں تک۔۔۔حدید کہہ کر ضرار کی گاڑی کی چابی کے کر نکل گیا
حدید وہاں سے سیدھا زارا کی طرف آیا وہاں پے کچھ ارانجمنٹ دیکھنی تھی اُسے وہ کرنے کے بعد ابھی وہ ارادہ ہی کر رہا تھا کچن میں جانے کا تک کچھ کھا پی سکے
ابھی وہ کچن نے داخل ہوا تھا کے سامنے اُسے زارا کام کرتی ہوئی نظر ائی اسکی حدید کی طرف پشت تھی۔۔۔
زارا یار تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔؟حدید نے اس سے پوچھا
اور حورب جو اپنے اور زہرا کے لیے اسکے کہنے پر کافی بنانے ائی تھی حدید کے اس طرح بولنے پر اُسنے مڑ کر اُسے دیکھا جو اُسے زارا سمجھ رہا تھا۔۔۔۔
اُو سوری مجھے لگا زہرا آئی ایم سو سوری۔۔۔!حدید نے معزرت کی اُسے سچ میں زہرا لگی تھی
ہیلو!میرا نام زہرا نہی حورب ہے اور ہاں جب میں نے آپ کا سوری اکسیپٹ ہی نہی کیا تو آپ کدھر کھسک رہے ہیں۔۔۔۔۔حدید جو باہر جا رہا تھا اسکی بات سن کر رکا۔۔۔۔۔
اُسے یہ لڑکی پہلی نظر پڑنے پر بہت معصوم لگی تھی مگر اب اسکے بولنے پر پتہ لگا کے یہ تو پٹاخہ تھی۔۔۔۔۔۔
ہمم!تو آپ نے کیوں نہی کیا سوری اکسیپٹ؟حدید نے اس سے پوچھا
میری مرضی۔۔حورب نے کہہ کر کافی کپوں میں ڈالی
مجھے بھی مل سکتی ہے پلز
I’m so tired
حدید نے کافی کے لیے ریکویسٹ کی۔۔۔
حورب نے آنکھیں گھما کر اُسے دیکھا پھر اپنا کپ حدید کی طرف بڑھا دیا باقی کافی اور دوسرا کپ تیار کرنے لگی۔۔
ابھی وہ کافی کپ میں ڈال ہی رہی تھی کے زارا آ گئی
اُو کیا چل رہا ہے یہاں مجھے کوئی بتائے گا۔۔۔زارا نے حدید کی کمر میں پنچ کیا وہ جو اپنے دہہان کھڑا تھا فوراً سیدھا ہوا۔۔
کچھ نہی ہو رہا اپی یہ لیں آپ کی کافی ریڈی ہے۔۔۔حورب نے کافی کا کپ زارا کی پکڑایا
چلو ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔۔اور ہاں تم میرے ساتھ او باہر چلتے ہیں۔۔۔زارا نے اُسے اوپر جانے کو کہا اور حدید کے ساتھ پیچھے لون میں آ گئی وہ دونوں اتنی ٹھنڈ میں بھی گھاس پر بیٹھ گئے
یہ کون ہے۔۔۔حدید نے اس سے حورب کے بارے میں پوچھا
میرے ماموں کی بیٹی ہے فکر نہ کر تیری طرح سنگل ہے اور ہاں فائٹر پلاٹس اور انجینئر تو بہت پسند ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔زہرا نے حدید کو چھیڑا
ہاں اچھی بات ہے تمہاری شادی کے بعد بات کرو میری بھی میرے بابا نے تو کچھ نہی کرنا اور نہ ہی زری نے ہونے دینا ہے۔۔حدید جل بھن کر بولا
کیوں وہ کیا کرتی ہے۔۔زارا نے اس سے اس بارے میں پوچھا
جب لڑکی دیکھنے جاتے ہیں تو ساتھ چلی جاتی ہے اور پھر آ کے لڑکی میں سو نقص نکالتی ہے کے بابا منا کر دیتے ہیں خود تو کرنی نہی شادی میری بھی نہی ہونے دینی چوڑیل نے۔۔۔حدید نے اہ بھری
اُو چلو میں بات کرتی ہوں مگر پہلے اسے مناؤ بہت تیز ہے ایسے نہی مانے گی محنت مشقت کرنی پڑے گی۔۔زارا نے اُسے موجودہ حالات سے آگاہ کیا
ہاں کوئی نہی اتنا گڈ لوکنگ ہوں اور کی چاہیے بیروزگار نہیں ہوں کماتا ہوں اور ہاں کمانے سے یاد آیا زارا ضرار کی ۱ لاکھ سیلری پر جوب لگ گئی ہے۔۔۔حدید نے اُسے ضرار کی جوب کے بارے میں بتایا
اُو سو گڈ۔۔۔زارا کو سن کر خوشی ہوئی
اچھا اب میں چلتا ہوں ضرار کی دو تین کالز اہ چکی ہیں۔۔۔حدید کہتے ساتھ اٹھا اور مین ڈور کی جانب چل دیا۔۔۔۔زارا کی نظروں میں دوڑ تک اس کا پیچھا کیا
ہمم!تو اب ان جناب کا معاملہ سیٹ کرنا ہے۔۔۔۔اپنا کچھ ہو نہ ہو۔۔۔زارا کہہ کر دونوں کپ لے کے اندر چلی گئی باہر ٹھنڈ بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔
جاری ہے😘😘😘😘😘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *