Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bazam e Rang by Rimsha Meman Last Episode

Bazam e Rang by Rimsha Meman Last Episode

محبت کا پہلا رنگ ہمیشہ سرخ رنگ کا دکھائی دیتا ہے ۔ اور جب محبت کی ابتدا ہونے لگے تو وہ انسان خود کو خود سے چھپانے لگتا ہے کیوں کے وہ فنا ہونے لگتا ہے ، اس کی ذات میں جس سے محبت ہوجاۓ ۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسا مجرم ٹھہراتا ہے جس کا کوئی جرم نہ ہو ۔ وہ بھی اپنے آپ کو ایسا سمجھ رہی تھی ۔ بے نام مجرم بے گناہ مجرم ۔
ماما بس دعا کریں آج آخری پیپر بھی اچھا گزر جائے یہ اکاؤنٹینٹ میرے پلّے نہیں پڑتی بالکل بھی ۔ وہ نیند سے بیدار ہوتے ہی بیٹھ کر بالوں کو دونوں ہاتھوں سے جوڑا کرتے ہوئے بولی
حوریہ بیٹی ۔ میری تو ہر دعا میں تمہارا ہی نام ہوتا ہے ۔ وہ بیڈ کی چادر کو ٹھیک کرتے ہوئے بولیں ۔
ماما ! ہاتھ دیں ؟ وہ بیڈ سے سہارا لے کر اٹھنا چاہ رہی تھی ۔
آپ کو تو بہت تیز بخار ہے ۔ آپ یہ چھوڑیں اور پلیز لیٹ جائیں ۔ اس نے ماں کا ہاتھ پکڑتے ہی محسوس کرلیا تھا ۔
نہیں حوریہ ۔ میں ٹھیک ہوں میری جان ۔
نہیں آپ آرام کریں گی بس ۔ ناشتہ بھی آپ رہنے دیں میں خودی بناتی ہوں آملیٹ اور پراٹھا ۔ حوریہ یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکلی .
کیا کھائیں گے آپ ؟ وہ کچن میں داخل ہوتے ہوئے ہی ریحان کو دیکھ کر بولی ۔
میں اپنا ناشتہ خود بنانے کا عادی ہوں ۔ اس نے ٹیڑھی نگاہوں سے حوریہ کی طرف دیکھا ۔
میں اپنا ناشتہ بنانے ائ تھی تو سوچا آپ کے لیے بھی بنادوں ۔
بہت شکریہ ۔ ریحان یہ کہہ کر مسکرایا تھا ۔
یہ دوسرا آملیٹ علی کے لیے بنا رہے ہیں ؟ حوریہ نے حیرانگی سے پوچھا ۔
ریحان کو اس وقت ہنسی آرہی تھی اس نے اپنی ہنسی کو دبائ اور پیچھے مڑا ۔۔۔۔ نہیں یہ آملیٹ میں اپنی نخریلی بیگم کے لیے بنا رہا ہوں ۔
حوریہ شرمندہ ہوئی تھی ۔
ریحان کے کچن سے جاتے ہی حوریہ بڑبڑائ ۔ آیا بڑا ۔۔۔
وہ اس کی آواز سے پیچھے مڑا تھا ۔ آپ نے کچھ فرمایا؟ نہیں مجھے کیا فرمانا ہے معصوم شوہر کے سامنے ۔ حوریہ بھی یہ کہہ کر مسکرائی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔
کیسا ہوا پیپر تمہارا حوریہ ؟
حوریہ فریش ہو کر کمرے میں داخل ہوئی تھی کے ثمینہ نے حوریہ سے سوال کیا۔
ماما ، آپ پیپر کو چھوڑیں اور یہ بتائیں کے آپ کی طبعیت کیسی ہے اب ؟ حوریہ نے ماں کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔
ارے مجھے تمہارے شوہر نے دوائی دے دی تھی ، اب تو میں کافی بہتر ہوں میری جان ۔
حوریہ مسکرائی تھی کیوں کے اسکے پاس الفاظ ختم ہوچکے تھے کچھ کہنے کے لیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھئ ریحان کی خواہش ہے کے شادی سادگی سے کی جائے ۔
دردانہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔
حوریہ بھی چاۓ کے کپ سب کے اگے رکھنے لگی تھی ۔
سادے لوگ سادگی ہی پسند کرتے ہیں دردانہ ! یہ بات تو سچ ہے ۔ ثمینہ حوریہ سے چاۓ کا کپ لیتے ہوئے بولی ۔
لیکن پھر بھی گھر کی پہلی شادی ہے ۔ کچھ تو ایونٹ رکھنے چائیے ، اس بہانے گھر پر تھوڑا شادی کا سما تو لگےگا ۔
کونسے ایونٹ ماما ، ریحان سیڑھیاں اترتے ہوئے بولا تھا ۔
اب پوچھنے کا کیا فائدہ ۔ کارڈ تو چھپ چکے ہیں بیٹا ۔ دردانہ منہ بناتے ہوئے بولی
خیر آپ تو اب بھی دعوت دے سکتی ہیں فون پر ۔ ریحان سنگل صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا تھا ۔
ہاں یہ بھی اچھا آئیڈیا ہے ، زیادہ لوگ نہیں تو کم سے کم ثمینہ کے بڑے بھائی اور میرے چھوٹے بھائی بہن ہی اجائینگے ۔
جیسے بہتر لگے آپ کو ۔ جس میں آپ کی خوشی ماما ۔ ریحان نے مسکراتے ہوئے کہا
ویسے عجیب بات ہے ماما ، بیوی میری ہے اور چاۓ مجھے ہی نہیں ملی؟ اُس نے ٹیڑھی نگاہیں کر کے حوریہ کی طرف دیکھا تھا ۔
سوری میرے ذہن سے نکل گئی بات ۔ حوریہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولی ۔
ارے بھئی کیوں کرتے ہو میری بچی کو تنگ ۔ دردانہ ہنستے ہوئے بولی تھی ۔
اور جو حوریہ نے مجھے تنگ کیا ہے ، ریحان بڑ بڑایا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حوریہ یہ سنتے ہی چونکی تھی ۔ وہ نہیں چاہتی تھی کے اس کے ماضی کو دہرایا جاۓ اور وہ بھی اسکی ہونے والی ساس کے سامنے ۔
کیا مطلب ؟ دردانہ بھی حیران ہوئی یہ بات سن کر ۔
ہاہاہا آپ لوگ تو سیریس ہوگئے ۔ اِٹ واس جوک ۔ ماما ریلیکس ۔۔۔۔۔
حوریہ کی تو جان میں جان ائ تھی یہ سن کر ۔ ورنہ وہ سمجھی تھی کے آج ریحان سب کو سچ بتادے گا ، وہ بہت سہم گئی تھی ۔۔۔۔ اُسے فخر ہوا تھا ریحان پر ۔ حوریہ کو لگ رہا تھا کے وہ دنیا کی واحد خوش قسمت لڑکی ہے جسے ریحان جیسا انسان ملا ہو ۔
۔۔۔۔۔۔
آج رخصتی سے ایک دن پہلے سب کی دعوت رکھی تھی ۔ دردانہ چاہتی کے گھر پر بھی شادی کا سما لگے ۔
بہت بہت مبارک ہو ۔۔
فاران نے لان میں داخل ہوتے ہی کہا تھا ۔ اس وقت کوئی نہیں تھا سب اندر لاؤنج میں باتیں کر رہے تھے ۔
حوریہ ، فاران کا یہ جملہ سنتے ہوئے پیچھے مڑی ۔
تمہاری اگر اصلیت کا پتا چل جائے نہ تو تم کہیں کی نہیں رہو گی حوریہ ۔
شٹ اپ ۔ فاران ۔۔۔۔۔۔۔! حوریہ چلائی
کیوں حقیقت سننا برا لگ رہا ہے ؟ یا پھر ڈر لگ رہا ہے کے کہیں ریحان نہ سن لے
آنف از انف ۔۔ بہت ہوگیا اب بس کردو فاران ، وہ پھر سے چلائی
کیسے بس کردوں ۔ کہاں ہے تمہارا شوہر ، بلاؤ اسے ۔۔۔فاران ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا
حوریہ اب کی بار پریشانی میں فاران کی طرف بے بس ہو کر دیکھ رہی تھی ۔
میں سن چکا ہوں سب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ریحان، حوریہ اور فاران کے قریب آتے ہوئے بولا
کتنے گھٹیا انسان ہو پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تمہیں ؟ فاران طنزیہ مسکرایا ۔
پڑتا ہے فرق مجھے ان باتوں سے ۔ حوریہ تم نے مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائی ؟ تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں معاف کردوں گا اتنی آسانی سے ؟
علی بھی پہنچ گیا تھا اس دوران ۔
بھائی آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ علی یہ سب دیکھ کر بہت حیران ہوا تھا ۔
تم جانا چاہتی ہو فاران کے ساتھ تو چلی جاؤ ۔ مجھے کوئی اعترض نہیں ۔ ریحان نظریں چراتے ہوئے بولا
ریحان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ، میں کہیں نہیں جاؤں گی یہاں سے ۔
ہاں تو تمہیں کس نے کہا کے تم خود جاؤ گی یہاں سے ۔ علی چھوڑ ائے گا تمہیں ۔
فاران کو اک عجیب سی تسکین ملی تھی جو اس کے چہرے پر واضع ہورہی تھی ۔
کہا تھا نہ میں نے حوریہ تم سے ۔۔۔۔۔ اب کی بار فاران نے قہقہ مارا تھا
علی گھر کا دروازہ کھلواؤ ۔ ریحان نے علی کو حکم دیا ، لیکن وہ مستقل حوریہ کی طرف دیکھ رہا تھا جو مسلسل روۓ جارہی تھی ۔
جی بھائی ۔۔۔۔
چلو نکلو یہاں سے اب فاران ۔۔۔۔ بہت کھیل لیا تم نے ۔ ریحان کڑک آواز میں بولا ۔
واٹ ؟ میں کیوں نکلوں فاران نے حیرانگی سے پوچھا تھا
تمہیں کیا لگتا ہے میں اپنی بیوی کو تمہارے کہنے پر چھوڑ دوں گا ۔ ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔ مجھے اپنی بیوی پر پورا بھروسہ ہے ۔ میں تم جیسے مردوں کی طرح نہیں ہوں جو شک کرنے کے علاوہ کچھ نہیں جانتے ہوں ۔ اور اب دفع ہوجاؤ میرے گھر سے ۔ آئندہ کے بعد اپنی شکل مت دکھانا مجھے ۔ ریحان چلاتے ہوئے بولا ۔
حوریہ کی امید پھر سے جاگ اٹھی تھی ۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کس طرح ریحان کا شکریہ ادا کرے ۔
لاؤنج میں اتنا شور تھا کے سب باہر کے شور سے بے خبر تھے ۔
حوریہ تم اپنے کمرے میں جاؤ ۔ ریحان نے حوریہ کو رستہ دیتے ہوئے کہا ۔
فاران شرمندگی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا وہ اب کی بار گیٹ کی طرف بھاگا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رخصتی کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بات پوچھوں آپ سے ریحان ؟
شام کا وقت تھا ، ہوائیں ٹھنڈی چل رہی تھیں رخصتی کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا ۔ حوریہ نے ابھی دو چاۓ کے کپ میز پر رکھے تھے ۔
جی بیگم پوچھیں ؟ ریحان نے اپنا موبائل میز پر رکھتے ہوئے کہا ۔
آپ نے جب اُس دن علی سے دروازہ کھولنے کو کہا تھا تو واقعی علی چاہتا تھا میں چلی جاؤں اس گھر کو چھوڑ کر ؟
ریحان نے قہقہ مارا ۔ تم واقعی بہت معصوم ہو حوریہ ۔۔۔ جب فاران نے تم سے بات شروع کی تھی تو میں اور علی ساتھ کھڑے تھے اور ہم پلان بنا کر ائے تھے ۔ تاکہ تمہارے دل کی بات سامنے ائے کے تم کیا چاہتی ہو ۔
ویسے اچھا نہیں کیا آپ نے مجھے رلا کر ۔ حوریہ نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔
چلیں ہم آپ سے معذرت کرتے ہیں محترمہ ۔ ریحان نے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
کوئی بات نہیں ریحان ۔۔۔۔ میں نے بھی آپ کو بہت تنگ کیا ہے ۔ حوریہ دھیمی سی آواز میں بولی
ہاہاہاہا بس کردو حوریہ ۔ اس بات کو جانے بھی دو ریحان نے یہ کہتے ہوئے چاۓ کا کپ پکڑا ۔
ایک اور بات پوچھوں ؟ حوریہ نے تجسس میں کہا ۔
جی بالکل حوریہ ۔
آپ تہجد میں کیا مانگتے تھے ؟ وہ بھی اتنی شدت سے۔۔۔
حوریہ ! کچھ راز محض راز ہوتے ہیں جو صرف دو دلوں کے درمیان ہوتے ہیں اور اگر کسی تیسرے کو بتادئے جائیں تو وہ راز نہیں امانت میں خیانت ہوجاتے ہیں ۔
آپ نے ابھی تک نہیں پایا اسے ؟ بس اتنا بتادیں ریحان ۔ حوریہ مسکرا کر بولی۔
پالیا ہے میں نے اسے ۔ وہ مسکرایا ۔
تو پھر کیوں تہجد پڑتے ہیں اب آپ ؟ حوریہ نے پھر سوال کیا ۔
میں چاہتا ہوں میرا اور میرے رب کا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہے ۔ مجھے سکون ملتا ہے ، میں جب نہیں پڑھتا تو ایسا لگتا ہے جیسے میرا دل خالی ہوگیا ہو ۔ ریحان نے دھیمی آواز میں کہا تھا ۔
میں بھی آپ کی طرح بننا چاہتی ہوں ریحان ۔ حوریہ نے خوش دلی سے کہا تھا ۔ میں بھی چاہتی ہوں میرے چہرے پر نور ائے ، میرے اندر صبر آجاۓ بالکل آپ کی طرح۔
اب تم شرمندہ کر رہی ہو مجھے ۔ ریحان نے ہنستے ہوئے کہا
حوریہ بھی یہ سن کر ہنسی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *