Bazam e Rang by Rimsha Meman NovelR50795 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode02
Rate this Novel
Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode01 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode02 (Watching)Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode03 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode04 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode05 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode06 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode07 Bazam e Rang by Rimsha Meman Last Episode
Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode02
Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode02
لاؤنج کے کورنر پر ہی کچن تھا جہاں کچن کے برابر میں سیڑھیاں تھیں۔ اوپر کے تین کمرے تھے جہاں حوریہ اور اسکی ماں کے حصے میں تھے ۔
وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے اٙئی تھی ۔ بال اسکے اکثر کھلے ہی رہتے ، بلیک پاجامہ اور بلیک شرٹ میں ملبوس تھی ۔
اور ریحان کچن سے نکل کر بوتل لے کر لاؤنج سے گزر رہا تھا کے بولا ۔ محترمہ آپ نے مجھ سے کچھ کہا ؟
وہ پیچھے دو قدم حوریہ کے کھڑا ہوا تھا ۔
جی میں نے کہا کے مجھے بات گھمانے کی عادت نہیں ہے ۔
اور مجھے بھی بحث کرنے کی عادت نہیں ہے ۔ ریحان نے نظریں چُرا کر کہا۔
تو تمہیں کیا لگتا ہے میں بحث کر رہی ہوں ۔ وہ تلخ لہجے میں بولی ۔
اور آپ کو کیا لگتا ہے میں بات گھمارہا ہوں ۔ میرے الفاظ شاید آپ بھول رہی ہیں میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں ۔ اگر آپ کو اس رشتے سے اعترض ہے تو آپ خود کہہ سکتی ہیں دادا سے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا بیٹا اس دنیا سے کیسے جا سکتا ہے ۔ وجاہت صاحب چلائے تھے ۔ وہ اخر کیوں نا چلاتے ۔ ان کا بیٹا ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گیا تھا ۔
وہ بہت دیر تک چلائے تھے ۔ میرا بیٹا ۔۔ میرا ہاشم
وہ صدمے سے دو چار اپنے گھر کے کمرے کے کسی کونے میں پڑی تھی ۔
شاید وہ بھی مرنے والے کے ساتھ مرچکی تھی. وہ اس شور سے تنگ ہورہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو میں تمہیں کہہ رہا ہوں نا گھر کی علحیدگی کے علاوہ اور کوئی خواہش کروگی تو میں رد نہیں کروں گا ۔ اب کی بار ہاشم کے ماتھے پر بل بہت گہرے تھے ۔ وہ میز پر چشمہ رکھے کھڑکی کی طرف کھڑا ہوا تھا ۔
ہاشم صاحب ! انسان کو جس کی ضرورت ہوتی ہے نہ وہ صرف ضرورت ہی ہوتی ہے ، خواہش کبھی نہیں بن پاتی ۔
خواہش اور ضرورت میں فرق ہوتا ہے۔ شاید آپ کسی خواہش کی بات کر رہی ہیں لیکن یقین کریں میرا میں یہاں صرف ضرورت کی بات کر رہی ہوں ۔
ٹھیک ہے میں کروں گا بابا سے بات ۔ ہاشم یہ کہہ کر چلا گیا ۔ ایک خوشی کی لہر ثمینہ کے چہرے پر گزری تھی ۔
بھابی پانی ہی پی لیں جیسے اس کی سوچ پر کسی نے وار کیا تھا ۔ شاید وہ کسی جنگ کو یاد کر رہی تھی ۔ ایک ایسی جنگ جس میں اسکو جیت مل رہی تھی مگر یہ کیا وہ تو ہار گئی تھی ۔
شاید اسکے خواب تعبیر بنتے بنتے پھر سے خواب بن گیا تھا ۔
بارہ سال کی حوریہ ماں کے پاس آکر بیٹھی تھی ۔
مما مما ماما ، وہ اب کی بار اپنی ماں کو جنجھوڑ رہی تھی ۔
بھابی آپ ہم سب سے تو خفا ہیں مگر حوریہ کا کیا قصور ہے ۔ دردانہ دھیمی سی آواز میں بولی تھی
ہاں تو کیسے نہ ہوں خفا میں حوریہ سے ۔ وہ ہاشم کے مرنے کے بعد پہلی بار بولی تھی ۔ ایک ہفتہ ہو چکا تھا ہاشم کے انتقال کو ۔
میری بیٹی باپ کے مرنے کے بعد ایک بار بھی اپنی ماں کو دیکھنے نہیں ای ، کے ماں کس حال میں ہے ۔
حوریہ تو ہر وقت تم سے چمٹنے کے لیے آتی مگر تم ہی اسکو اپنے ہاتھوں سے پرے کرتی ۔
ثمینہ نے دردانہ کی بات سن کر حوریہ کو گلے لگالیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔
اچھا نہ بس اب فائنل بات کروں گی ریحان سے ۔۔
حوریہ میشا کو فون پر تسلی دیتے ہوئے بولی تھی ۔
مجھے تو ایک یہ سمجھ نہیں آرہی کے ثمینہ پھپو کو کیا ہوگیا ہے وہ کیوں تمہارے دادا کی باتوں میں آگئی ہیں ۔
حوریہ خاموش تھی کیوں کے وہ اپنی ماں کے بارے میں کچھ بھی برا سننا نہیں چاہ رہی تھی ۔
۔…. ۔..
ماما ! آپ دادا کی باتوں میں کیوں آرہی ہیں ۔ وہ ثمینہ کی گود میں سر رکھ کر بولی تھی ۔
ثمینہ بھی حوریہ کے بالوں میں مساج کرنے لگی تھی ۔
کچھ دیر کی خاموشی ہوئی تھی ۔
بیٹا میں نے اپنے ماضی میں بہت غلطیاں کی ہیں ، اب ان غلطیوں کو سدھارنا چاہتی ہوں۔ ثمینہ یہ بات رنجیدہ ہوتے ہوئے بولی تھیں ۔
ماما ! آپ نے کوئی غلطی نہیں کی ۔ آپ نے تو صرف اپنا حق مانگا تھا ، وہ الگ بات ہے بابا کا انتقال ہوگیا اس دوران ۔ اس میں تو آپ کا کوئی قصور نہیں تھا ۔
یہ سب دادا کی وجہ سے ہوا ، ان کی سختیوں کی وجہ سے آپ نے یہ فیصلہ کیا تھا
نہیں بیٹا ! ان کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے ۔ قصور تو میرا ہے میں ان کی باتوں کو کبھی سمجھ ہی نہیں پائی ۔ انکے ہر فیصلوں کو پابندی کا نام دیتی رہی ۔ ان کے بیٹے کو بھی ان سے الگ کرنا چاہا ۔۔ بیٹا میں نے برا چاہا تھا ۔ سب کچھ اچھا ہونے کے باوجود بھی میں نے نئے گھر کا مطالبہ کیا ۔ ثمینہ کی آنکھوں سے آنسوں کا موتی گرا تھا ۔
حوریہ اب کی بار اپنا سر ماں کی گود سے اٹھا کر ان کے آنسوں صاف کرنے لگی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
