Bazam e Rang by Rimsha Meman

جی فرمائیے حوریہ ، ریحان دھیمی سی آواز میں حیا کے مقابل کھڑا ہوا تھا۔ عصر کی نماز پڑھ کر وہ اپنے پورشن کی جانب بڑھا ہی تھا کے حوریہ نے ریحان کو آواز دی تھی ۔ وہ سفید کپڑوں میں ملبوس شخص ، گندمی رنگ کا چہرہ ، ہاتھ میں کوئی برانڈڈ رسٹ پہنے ہوئے تھا ۔ اس وقت بھی نور اسکے چہرے پر کسی چمک کی طرح پھیل رہا تھا ۔ اسکی پلکیں جھکی ہوئی تھیں ۔ وہ دونوں جہاں کھڑے ہوئے تھے وہاں کچھ سامنے کی طرف موتیا پھول کے گملے رکھے ہوئے تھے ۔ جن کی مہک گھر پے بیٹھے لوگوں تک آرہی تھی ۔ ہواؤں میں عجیب سا نشہ تھا ۔
حوریہ کے بال کھلے ہوئے تھے وہ اپنے بالوں کو سمبھالنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی ۔۔ مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔ جی کیجیے وہ یہ بول کر خاموشی سے اسکی بات کا منتظر ہوا ۔ اسکی نظریں حیا کی طرف نہیں تھی بلکہ اردگرد کے پرندوں کو دیکھ رہا تھا ۔ سماعت اسی کی سرگوشی سننے کی تابع تھی ۔
مجھے یہ شادی نہیں کرنی. حوریہ ہونٹ بھینج کر بولی تھی
تو اس میں میں کیا کرسکتا ہوں ۔ وہ لاپرواہی سے بولا تھا
آپ دادا سے بولیں کے آپ یہ شادی نہیں کرسکتے اور آپ کو یہ فیصلہ بالکل نہ منظور ہے حیا کا چہرہ اب سرخ پڑھ رہا تھا
وہ اپنے آپ کو بہت مشکلوں سے تھامیں ہوئے تھی ۔ اسکی زندگی کا وہ دوسرا شخص تھا جس سے وہ آج پہلی بار ڈری تھی ۔
میں نے آج تک دادا کی کسی بات کو نہیں تالا بہتر ھے کے آپ یہ بندوق میرے کندھے سے ہٹا دیں
حیا ساکت کھڑی تھی شاید اسکے پاس الفاظوں کا ذخیرہ ختم ہوگیا تھا لیکن پھر اس نے لبوں کو کھولنے کی کوشش کی اور اسکی طرف متوجہ ہوئی تو وہ کب کا یہ جملہ بول کر جاچکا تھا

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *