Bazam e Rang by Rimsha Meman NovelR50795 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode03
Rate this Novel
Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode01 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode02 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode03 (Watching)Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode04 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode05 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode06 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode07 Bazam e Rang by Rimsha Meman Last Episode
Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode03
Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode03
ڈائننگ ٹیبل کی مین سیٹ پر زلفقار صاحب بیٹھے تھے ، ان کے برابر میں ثمینہ بیٹھی تھی اور دوسری سائیڈ علی بیٹھا تھا جو ریحان کا چھوٹا بھائی ہوتا ہے ، سامنے کی طرف دردانہ اور ریحان بیٹھے ہوئے تھے ۔ نیلم میڈ نے ایک ہفتے کی چھٹی لی ہوئی تھی ۔ اسلیے آج کھانے میں بریانی حوریہ نے بنائی تھی ۔ وہ ٹیبل کے پاس کھانا سب کی ڈش میں ڈالنے لگی تھی ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ریحان کی ڈش میں بریانی ڈالنی پڑی تھی ۔
واہ کیا بریانی بنی ہے ، علی نے خاموشی توڑی تھی ، اس بات پر حوریہ ہلکا سا مسکرائی تھی ۔ ہاں بیٹا بہت اچھی کوکنگ ہے تمہاری ۔ دردانہ بھی بولی تھی
شکریہ چچی ۔۔۔ حوریہ مسکراتے ہوئے بولی
کھانا کھاتے وقت اندازہ ہی نہیں ہوا ، سب میز سے اٹھ چکے تھے ، حوریہ اور اسکے برابر میں ریحان بھی کھانا کھانے میں مصروف تھا ابھی تک ۔ دونوں کی ایک عادت سیم نکلی ، کھانے میں دونوں آہستہ تھے ۔ حوریہ بھی موقع کا فائدہ اٹھائے بغیر نہ رہ سکی تھی ۔ میں نے دش میں بریانی سب کو ss
ڈال کر دی اسلیے سوچا آپ کو بھی ڈال دوں ، کسی خوش فہمی میں مت رہئے گا ۔
ریحان کے حلق سے جیسے ہی نوالہ نیچے اترا وہ حوریہ کی طرف مخاطب ہوا ، یہ آپ کی خوش فہمی ہے کے مجھے کوئی خوش فہمی ہے ، شاید پلیٹ کا آخری نوالہ تھا ۔ وہ یہ کہہ کر جا چکا تھا ۔
وہ دو منٹ تک خود کو کوستی رہی تھی کے پلٹ کر جواب کیوں نہیں دیا تھا ۔
برتن دھونے کی آواز مسلسل آرہی تھی ۔ وہ خالی پلیٹ ٹیبل سے اٹھا کر کچن کی طرف ای ۔ ریحان برتن دھورہا تھا ۔ وہ ڈ هگمگائ تھی اسے برتن دھوتے ہوئے دیکھ کر _ حوریہ نے شِنک کی دوسری سلپ پر ہی اپنی پلیٹ رکھ دی ۔
ادھر دیجیے اپنی پلیٹ ، شاید برتن پورے دھل گئے تھے ، اس نے پیچھے مڑ کر حوریہ کو دیکھ لیا تھا پلیٹ رکھتے ہوئے ۔
نہیں بہت شکریہ مجھے آپ کے احسان کی ضرورت نہیں ۔ حوریہ اترا کر بولی تھی ، رات کے گیارہ بج رہے تھے ، گھر کی ساری لائٹ اف تھیں سواۓ کچن کے ۔
مجھے احسان کرنے کی عادت نہیں ہے ، ریحان نے قریب اکر پلیٹ سلپ سے اٹھائ اور دھونے لگا ۔
اچھا بننے کی کوشش کر رہے ہو میرے سامنے ، حوریہ جستجو والے انداز میں بولی تھی ۔
اچھا انسان ، اچھا بننے کی کوشش کبھی نہیں کرتا ، بس کوشش صرف اتنی کرتا ہے کے اس کی طرف سے کسی کو تکلیف نہ ہو ۔ ریحان نے حوریہ کی بات پر جواب دیا ۔
مجھے تمہیں بتانا ہے ریحان ، اب کی بار وہ دھیمی آواز میں بولی تھی ، اس کے ذہن میں میشا کے الفاظ گھوم رہے تھے ، تمہیں فاران کی محبت کا سب کو بتانا ہوگا ، کب تک اپنے دل میں رکھو گی اور خاص طور پر اپنے اس کزن ریحان کو بتانا ہوگا جس سے تمہارا نکاح فکس ہورہا ہے ۔
معذرت چاہتا ہوں ، ابھی مجھے تھکن ہورہی ہے ۔ کل آپ سے بات ہوگی وہ یہ کہہ کر کچن سے گیا تھا
اور اس نے اپنی ہمت جمع کرنے سے پہلے خود کی ناکامی دیکھ لی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخر کب تک ؟ فاران نے چڑ کر کہا تھا ۔ آج فاران اور حوریہ دعا ریسٹورنٹ میں لنچ کرنے ائے تھے ۔
یار تم میری مجبوری کو کیوں نہیں سمجھ رہے ، ریحان کو یہ سب بتانا آسان نہیں ہے ۔ وہ نرمی سے بولی تھی
اگر اتنا ہی مشکل لگ رہا ہے تمہیں تو اس سے ہی شادی کرلو ۔ فاران خفگی سے بولا
پاگل !! تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو ، وہ چلائ تھی ۔
ہاں تو اور کیا کہوں ۔ وہ بھی چلا کر بولا تھا ۔
وہ ریسٹورنٹ کے اوپر والے پورشن میں بیٹھے تھے ، جہاں باقی سب میز خالی تھیں ، ان دو کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا
اچھا ٹھیک ہے نمبر دے دو مجھے اپنے اس کزن کا ۔۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فاران بولا تھا
کبھی نہیں ، حوریہ نے دو لفظوں میں بات ختم کی تھی ۔
ٹھیک ہے تمہاری مرضی ہے ، اب تم جو بھی کرو ۔ فاران تپ کر بولا تھا
پلیز مجھے یوں رستے میں اکیلا مت چھوڑو ، مانا کے آزمائش مجھ پر ای ہے ، تمہیں صرف میرے ساتھ ایک ریت کی دیوار بن کر کھڑا ہونا ہوگا ، باقی میں خود سمبھال لوں گی ۔ حوریہ تڑپ کر بولی تھی ۔
میں ریت کی دیوار نہیں بن سکتا کیوں کے ریت کی دیوار بارش کےبرسنے سے گر جاتی ہے اور میں گرنا نہیں چاہتا ۔ پلٹے میں جواب آیا ۔
مطلب تم مجھے رستے میں چھوڑ رہے , باقی سفر مجھے خود کاٹنا ہوگا وہ گھبرا کر بولی ۔ اب کی بار حوریہ کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں ۔
آزمائش جس کے حصے میں آتی ہے وہ خود سہتا ہے باقی اس سے جڑے رشتے تو بس اس کی آزمائش کے ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں ۔ دھیمی سی آواز میں اس نے کہا تھا ۔
مطلب میری تکلیف تمهاری تکلیف ایک نہیں ہے ۔
نہیں تکلفیں سب کی اپنی ہوتی ہیں ، یہ تو بس خوشیاں ہوتی ہیں جن کو بانٹا جاتا ہے ۔
کتنے خود غرض ہو تم فاران ؟ اب کی بار اس کی آنکھ سے ایک آنسوں ٹپکا تھا
یہ بتاؤ تمہیں کتنا وقت چائیے اسے انکار کرنے میں ۔
پلیز میرے ناکام ہونے کا انتظار مت کرنا ۔ کوشش کروں گی کے جیت اس جنگ میں میری ہو ۔ وہ دھیمی سی آواز میں بولی تھی
جیت تو ان کو ملتی ہے جن کے ارادے پکے ہوتے ہیں اور تمہارے تو ارادے بھی کچے ہیں بالکل اس دھاگے کی طرح جو الجھ جانے کے بعد اکثر ٹوٹ جایا کرتے ہیں ۔
جاری ہے ۔۔۔
