Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode05

Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode05

چلو اب میں نکلتی ہوں ، ماما ویٹ کر رہی ہوں گی ۔ حوریہ بیگ اٹھاکر کھڑی ہوئی تھی ۔
میں ڈراپ کردیتا ہوں ، ریحان دھیمی سی آواز میں بولا
نہیں شکریہ ! ڈرائیور ویٹ کر رہا ہے میرا ۔ اس نے پلٹ کر جواب دیا ۔
اوہ !!!!! میں تو بھول گیا تھا کے تمہارا سٹیٹس بدل گیا ہے ۔ اس نے طنزیہ قہقہ مارا تھا ۔
__________
آج میشا کی شادی تھی ، حوریہ اپنا دوپٹہ سیٹ کرنے لگی جب اسے ہوش آیا کے گھر میں عجیب سی خاموشی کیوں ہوگئی ہے ۔ وہ اچانک پیچھے مڑی _ اور کمرے نکلی ۔
ماما ۔۔۔۔۔۔ ماں وہ پورے گھر میں اپنی ماں کو آوازیں دینے لگی تھی ۔ لیکن گھر کے سناٹے سے یہ محسوس ہورہا تھا کے گھر پے کوئی نہیں ہے ۔
علی علی ۔۔۔۔۔۔۔۔! وہ پھر سے چلائی تھی ۔ علی تم گھر پر ہو ۔ حوریہ نے چلا کر کہا
نہیں علی گھر پے نہیں ہے ، ریحان حوریہ کے چلانے سے کمرے سے باہر نکلا تھا ۔
ریحان کالے کپڑوں میں ملبوث تھا ۔ اور چاکلیٹی رنگ کا بوٹ پہنا ہوا تھا ۔
ڈرائیور کو بولیں مجھے ڈراپ کردے ۔ حوریہ نے نظریں چرا کر کہا تھا ۔
میں اپنی کار میں جارہا ہوں خود ڈرائیو کر کے ۔ میری گاڑی کے علاوہ اور کوئی گاڑی اس وقت موجود نہیں ہے ۔جس میں آپ جائیں گی ۔ اگر آپ میرے ساتھ جانا چاہتی ہیں تو دو منٹ میں نیچے گاڑی میں اجائیں ۔ ریحان یہ کہتے ہوئے سیڑھیاں اترنے لگا تھا ۔
افف !!! حوریہ نے اپنے آپ کو کوسا تھا ۔
ماما مجھے کیسے چھوڑ کر جاسکتی ہیں ویسے اچھا نہیں کیا انہوں نے میرے ساتھ ۔۔ حوریہ لبوں میں بڑبڑائی تھی ۔
ریحان گاڑی تیز چلاؤ پلیز ۔ دس منٹ ہو چکے تھے حوریہ کو گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ۔ گاڑی مسلسل درمیانی سپیڈ میں چل رہی تھی ۔ حوریہ نے بیزار ہو کر کہا تھا ۔
معذرت میں گاڑی تیز چلانے سے گریز کرتا ہوں ۔ وہ دھیمی سی آواز میں بولا تھا ۔
میشا میری بیسٹ فرینڈ ہے ، میں اس کے گھر رکنے نہیں گئی صرف اسی وجہ سے کے آپ کے گھر کی میڈ چھٹیوں پر گئی ہوئی تھی ۔ اور اب تو آپ نے بھی ٹھان لی ہے مجھے رخصتی کے بعد پہنچانے کی ۔ حوریہ نے شکوے والے انداز میں کہا تھا ۔
ریحان مسکرایا تھا ، اسکی گاڑی کی سپیڈ میں اب بھی کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔
مجھے پتا ہے تم خود آہستہ چلا رہے ہو گاڑی ، تمہارے بدلے جو پورے نہیں ہوئے ۔ حوریہ چڑ کر بولی تھی
ایسی بات نہیں ہے میں جذباتی لوگوں کی طرح اپنی جان سے نہیں کھیلتا ۔ ریحان نے جواب دیا ۔
تم کر بھی کیا سکتے ہو سواۓ دوسروں کی زندگی میں دخل اندازی کرنے کے ۔ حوریہ نے پلٹے میں جواب دیا ۔
یہ جملہ ریحان کے دل میں کسی تیر کی طرح لگا تھا ۔
ام سوری میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔ حوریہ شرمندہ ہوئی تھی ۔
ریحان خاموش تھا ۔ ہلکا سا مسکرا کر اپنی اداسی چھپانے لگا تھا ۔
واہ آج تو بڑے بڑے لوگ ائے ہیں ، فاران ، ریحان کی گاڑی کے قریب اتے ہوئے ٹیڑھی نظروں سے حوریہ کی طرف دیکھ کر بولا تھا ۔
ریحان نے نظرانداز کیا تھا اسے ۔ شاید اسی میں عافیت تھی ۔
آٙئیے اندر چلئے ۔۔ فاران نے ریحان کے کندھے پر تھپکی بھرتے ہوئے کہا تھا ۔
اپ کا تو بہت ذکر سنا ہے میں نے حوریہ کے منہ سے ۔ ریحان نے بات شروع کی تھی
فاران اسکی بات سن کر گھبرایا تھا ۔
حوریہ گولڈن پلازو کے ساتھ آتشی پنک شرٹ میں ملبوث تھی ۔ ۔ ریحان جب بھی حوریہ سے بات کرتا ۔ اسکی نظریں نیچی ہوتی ہمیشہ ۔
میں نے بھی آپ کا بہت ذکر سنا ہے حوریہ سے ۔
اس کا مطلب میری غیر موجودگی میں ، میرا بہت ذکر ہوتا ہے ریحان نے یہ بولتے ہوئے قہقہ مارا تھا ۔
آیکسکیوز می !!! میں میشا سے مل کر آتی ہوں ۔ حوریہ گھبرا کر بولی تھی ۔
ضرور ۔۔۔۔ ! ریحان نے حوریہ کو رستہ دیتے ہوئے کہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ علی کی گاڑی میں اٙجائیں گھر مجھے واپسی پر تھوڑا کام ہے ۔ حوریہ نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا ۔ اتنے میں ریحان نے کہا تھا ۔
اچھا ۔ حوریہ مختصر سا جواب دے کر پلٹی تھی ۔ لیکن وہ ریحان کے ساتھ جانا چاہتی تھی ۔ اسے ریحان سے اپنے تلخ الفاظوں کی معذرت کرنی تھی ۔
علی کی گاڑی میں بیٹھتے ہی حوریہ نے واٹس اپپ ان کیا ۔
ریحان ! میں تم سے معافی چاہتی ہوں ۔ مجھے معلوم ہے میرے الفاظ سخت تھے لیکن میں اب شرمندہ ہوں ۔
ریحان کی ڈرائیونگ کے وقت موبائل رِنگ کیا تھا ۔ اس نے ایک نظر موبائل کی سکرین کی طرف دیکھا تھا ۔
جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *