Bazam e Rang by Rimsha Meman NovelR50795 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode05
Rate this Novel
Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode01 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode03 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode04 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode07 Bazam e Rang by Rimsha Meman Last Episode Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode02 Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode05 (Watching)Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode06
Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode05
Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode05
چلو اب میں نکلتی ہوں ، ماما ویٹ کر رہی ہوں گی ۔ حوریہ بیگ اٹھاکر کھڑی ہوئی تھی ۔
میں ڈراپ کردیتا ہوں ، ریحان دھیمی سی آواز میں بولا
نہیں شکریہ ! ڈرائیور ویٹ کر رہا ہے میرا ۔ اس نے پلٹ کر جواب دیا ۔
اوہ !!!!! میں تو بھول گیا تھا کے تمہارا سٹیٹس بدل گیا ہے ۔ اس نے طنزیہ قہقہ مارا تھا ۔
__________
آج میشا کی شادی تھی ، حوریہ اپنا دوپٹہ سیٹ کرنے لگی جب اسے ہوش آیا کے گھر میں عجیب سی خاموشی کیوں ہوگئی ہے ۔ وہ اچانک پیچھے مڑی _ اور کمرے نکلی ۔
ماما ۔۔۔۔۔۔ ماں وہ پورے گھر میں اپنی ماں کو آوازیں دینے لگی تھی ۔ لیکن گھر کے سناٹے سے یہ محسوس ہورہا تھا کے گھر پے کوئی نہیں ہے ۔
علی علی ۔۔۔۔۔۔۔۔! وہ پھر سے چلائی تھی ۔ علی تم گھر پر ہو ۔ حوریہ نے چلا کر کہا
نہیں علی گھر پے نہیں ہے ، ریحان حوریہ کے چلانے سے کمرے سے باہر نکلا تھا ۔
ریحان کالے کپڑوں میں ملبوث تھا ۔ اور چاکلیٹی رنگ کا بوٹ پہنا ہوا تھا ۔
ڈرائیور کو بولیں مجھے ڈراپ کردے ۔ حوریہ نے نظریں چرا کر کہا تھا ۔
میں اپنی کار میں جارہا ہوں خود ڈرائیو کر کے ۔ میری گاڑی کے علاوہ اور کوئی گاڑی اس وقت موجود نہیں ہے ۔جس میں آپ جائیں گی ۔ اگر آپ میرے ساتھ جانا چاہتی ہیں تو دو منٹ میں نیچے گاڑی میں اجائیں ۔ ریحان یہ کہتے ہوئے سیڑھیاں اترنے لگا تھا ۔
افف !!! حوریہ نے اپنے آپ کو کوسا تھا ۔
ماما مجھے کیسے چھوڑ کر جاسکتی ہیں ویسے اچھا نہیں کیا انہوں نے میرے ساتھ ۔۔ حوریہ لبوں میں بڑبڑائی تھی ۔
ریحان گاڑی تیز چلاؤ پلیز ۔ دس منٹ ہو چکے تھے حوریہ کو گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ۔ گاڑی مسلسل درمیانی سپیڈ میں چل رہی تھی ۔ حوریہ نے بیزار ہو کر کہا تھا ۔
معذرت میں گاڑی تیز چلانے سے گریز کرتا ہوں ۔ وہ دھیمی سی آواز میں بولا تھا ۔
میشا میری بیسٹ فرینڈ ہے ، میں اس کے گھر رکنے نہیں گئی صرف اسی وجہ سے کے آپ کے گھر کی میڈ چھٹیوں پر گئی ہوئی تھی ۔ اور اب تو آپ نے بھی ٹھان لی ہے مجھے رخصتی کے بعد پہنچانے کی ۔ حوریہ نے شکوے والے انداز میں کہا تھا ۔
ریحان مسکرایا تھا ، اسکی گاڑی کی سپیڈ میں اب بھی کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔
مجھے پتا ہے تم خود آہستہ چلا رہے ہو گاڑی ، تمہارے بدلے جو پورے نہیں ہوئے ۔ حوریہ چڑ کر بولی تھی
ایسی بات نہیں ہے میں جذباتی لوگوں کی طرح اپنی جان سے نہیں کھیلتا ۔ ریحان نے جواب دیا ۔
تم کر بھی کیا سکتے ہو سواۓ دوسروں کی زندگی میں دخل اندازی کرنے کے ۔ حوریہ نے پلٹے میں جواب دیا ۔
یہ جملہ ریحان کے دل میں کسی تیر کی طرح لگا تھا ۔
ام سوری میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔ حوریہ شرمندہ ہوئی تھی ۔
ریحان خاموش تھا ۔ ہلکا سا مسکرا کر اپنی اداسی چھپانے لگا تھا ۔
واہ آج تو بڑے بڑے لوگ ائے ہیں ، فاران ، ریحان کی گاڑی کے قریب اتے ہوئے ٹیڑھی نظروں سے حوریہ کی طرف دیکھ کر بولا تھا ۔
ریحان نے نظرانداز کیا تھا اسے ۔ شاید اسی میں عافیت تھی ۔
آٙئیے اندر چلئے ۔۔ فاران نے ریحان کے کندھے پر تھپکی بھرتے ہوئے کہا تھا ۔
اپ کا تو بہت ذکر سنا ہے میں نے حوریہ کے منہ سے ۔ ریحان نے بات شروع کی تھی
فاران اسکی بات سن کر گھبرایا تھا ۔
حوریہ گولڈن پلازو کے ساتھ آتشی پنک شرٹ میں ملبوث تھی ۔ ۔ ریحان جب بھی حوریہ سے بات کرتا ۔ اسکی نظریں نیچی ہوتی ہمیشہ ۔
میں نے بھی آپ کا بہت ذکر سنا ہے حوریہ سے ۔
اس کا مطلب میری غیر موجودگی میں ، میرا بہت ذکر ہوتا ہے ریحان نے یہ بولتے ہوئے قہقہ مارا تھا ۔
آیکسکیوز می !!! میں میشا سے مل کر آتی ہوں ۔ حوریہ گھبرا کر بولی تھی ۔
ضرور ۔۔۔۔ ! ریحان نے حوریہ کو رستہ دیتے ہوئے کہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ علی کی گاڑی میں اٙجائیں گھر مجھے واپسی پر تھوڑا کام ہے ۔ حوریہ نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا ۔ اتنے میں ریحان نے کہا تھا ۔
اچھا ۔ حوریہ مختصر سا جواب دے کر پلٹی تھی ۔ لیکن وہ ریحان کے ساتھ جانا چاہتی تھی ۔ اسے ریحان سے اپنے تلخ الفاظوں کی معذرت کرنی تھی ۔
علی کی گاڑی میں بیٹھتے ہی حوریہ نے واٹس اپپ ان کیا ۔
ریحان ! میں تم سے معافی چاہتی ہوں ۔ مجھے معلوم ہے میرے الفاظ سخت تھے لیکن میں اب شرمندہ ہوں ۔
ریحان کی ڈرائیونگ کے وقت موبائل رِنگ کیا تھا ۔ اس نے ایک نظر موبائل کی سکرین کی طرف دیکھا تھا ۔
جاری ہے ۔۔۔
