Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode04

Bazam e Rang by Rimsha Meman Episode04

مجھے پتا ہے میں موم ہوں ، پگھل رہی ہوں ۔ فکر نہیں کرو کچھ دیر میں یہ بھڑکتی ہوئی اگ ختم ہوجائےگی اور میں پھر سے موم بن جاؤں گی ۔ حوریہ آنسوں پونچھتے ہوئے بولی
موم کا کام تو پگھلنا ہوتا ہے صرف ، کب تک تمہیں پگھلتا ہوا دیکھوں گا ۔ فاران نے پلٹے میں جواب دیا ۔
جب تک اس جنگ میں جیت نہیں جاتی تم ہمت مت ہارنا۔
چلو دیکھتے ہیں ۔ فاران طنزیہ مسکرایہ ۔
۔……
صبح کے چار بج رہے تھے ، ریحان کے کمرے کی لائٹ اٙن تھی ،
موقع اچھا ہے بات کرنے کا ریحان سے ،حوریہ لبوں میں بڑبڑائ تھی اوپر کوریڈور سے دیکھ کر ۔
ریحان کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے شاید وہ تہجّد پڑرہا تھا ۔
حوریہ دروازے کی چوکھٹ پر کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ، اسکا دل اچانک بے چین ہونے لگا وہ پھر سے اپنے کمرے کی طرف پلٹی اور موبائل کا سکرین لاک کھولا ،
اگر آپ کو آج فرصت ملے تو مجھ سے بات کرنا ۔ اس نے میسج ریحان کے نام سینڈ کیا ۔
_______
دیکھو حوریہ کس کا فون آرہا ہے ؟ ثمینہ سوٹ کیس بند کرتے ہوئے بولی تھی ۔
بارہ سالہ لڑکی حوریہ ہیلو ہیلو کرتی رہی آگے سے کوئی نہیں بول رہا تھا
ماما کوئی بول ہی نہیں رہا ۔ اس نے ماں کو فون پکڑانا چاہا
تمہارے بابا بھی نہ ، ثمینہ نے فون تھامتے ہوئے کہا
ارے ارے ، یہ ہاشم کا نمبر نہیں ہے ۔ تو پھر کون کر سکتا ہے ۔ اس نے خود سے سوال کیا
ٹک ٹک !! ہاں آجاؤ ، ثمینہ بیزاریت سے بولی
چچی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چچا
ہاں ہاں بولو کیا چچا
ریحان ہانپتے کامپتے کمرے میں اندر آیا تھا ۔
حوریہ ریحان کو حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔
ارے بولو بھی ۔ ثمینہ اب کی بار چلائی تھی
چچا اس دنیا میں نہیں رہے
قیامت ٹوٹی تھی شاید ۔۔۔ بیٹا یہ الٹے سیدھے مذاق مجھ سے مت کیا کرو ۔۔ بری بات ہوتی ہے ۔ ثمینہ لرزی تھی ۔
چچی میں نے آج تک آپ سے ایسا مذاق کیا ہے کیا ؟ میں سچ کہہ رہا ہوں چچا کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور وہ ۔ اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ پندرہ سالہ ریحان بولا تھا
اب کی بار ثمینہ کی آنکھوں سے بارش ہوئی تھی
_____________
جی فرمائیں حوریہ ۔ ریحان نے سانس فضا کے سپرد کیا تھا ۔ وہ جوابً پلٹی تھی ، شاید بوکھلا گئی تھی ، کیوں کے لاؤنج پورا خالی تھا اور وہ ٹیبل کی صفائی کر رہی تھی ۔
تمہیں پتا ہے ریحان ! میں اپنے کزن فاران کو پسند کرتی ہوں ، وہ کانپتے ہوئے بولی ۔
مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ریحان نے جواب دیا ۔
ناک لمبی ، آنکھیں بادامی ، سرخ ہونٹ ، نورانی چہرہ ہلکا سا مسکرایا تھا ۔
حوریہ چونکی تھی ، پھر خود کو ضبط کر کے بولی اور صرف میں ہی نہیں وہ بھی مجھے پسند کرتا ہے ۔
اب بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔ پلٹے میں جواب آیا ۔
تمہارا دل پتھر کا ہے یا تم انسان ہی نہیں ہو ، جو تمہیں کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ۔ حوریہ نے طنزیہ کہا ۔
اب کی بار وہ خاموش تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
کس بات پر . فرق پڑنا چائیے ؟ ریحان نے خاموشی توڑی
یہی کے تمہاری ہونے والی بیوی کسی اور کو پسند کرتی ہے ۔
حوریہ نے پھر طنزیہ کہا تھا ۔
ہر کسی کا ایک ماضی ہوتا ہے ، اور مجھے تمہارے ماضی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ وہ دھیمی سی آواز میں بولا تھا
فرق پڑتا ہے ، اور پڑنا بھی چائیے ۔۔۔ حوریہ چلائی تھی ۔
اگلے ہفتے دادا آرہے ہیں لاہور سے ۔ ان کو اس شادی کے لیے منع کرنا ہے تم نے۔ حوریہ ریحان پر حاوی ہونے کی کوشش کی تھی ۔
میں انکار نہیں کروں گا ، یہ میرا پہلا اور آخری فیصلہ ہے ۔ وہ اب بھی دھیمی سی آواز میں بولا ۔
تم نے نہیں کیا انکار تو میں کرلوں گی ۔ حوریہ نے جلانے والے انداز میں کہا تھا ۔
ریحان پھر سے مسکرایا تھا ،
وہ لاؤنج سے نکلنے لگا تھا کے پیچھے سے حوریہ نے دیوار پر کُشن مارا تھا ۔
بے جان چیزوں پر غصہ نکالنا اچھی بات نہیں ہوتی ۔ اس نے پلٹ کر کہا تھا اور کشن کو اپنی جگہ پر رکھا ۔
حوریہ اپنی فلیٹ چپل سے بھاگتے ہوئے سیڑھی کی جانب
بڑھی تھی کے اس کے ذہن میں فاران کے جملے انے لگے
“اس جنگ میں تم مجھے ہارتی ہوئی نظر آرہی ہو ۔ بالکل کچے دھاگے کی طرح ، اندر سے بھی بالکل کھوکھلی “۔
________
وہ آج پھر دعا ریسٹورنٹ میں فاران سے ملنے ای تھی
میشا کی شادی سے کتنے دن پہلے رہنے اؤ گی ۔ فاران نے حوریہ سے سوال کیا ؟
یار ابھی تو کچھ پتا نہیں کیوں کے میڈ آج کل چھٹیوں پر ہے اور دردانہ چچی سے پورا گھر نہیں سمبھالا جاتا ۔
اسلیے میرا آنا مشکل ہوگا ، شاید میں ڈائریکٹ حال میں ہی اؤں ۔ اس نے ریحان کو متنبہ کرنا چاہا ۔
حوریہ بھول رہی تھی کے وہ کس کو بتا رہی ہے ۔
ظاہر سی بات ہے اتنا بڑا گھر ہے ، دولت ہے اور کیا چائیے تمہیں ۔ ریحان نے طعنہ دیا تھا ۔
شٹ اپ وہ چلائ تھی ۔ تمہیں تو کوئی بات بتانا بھی مسلہ ہے ۔
مجھے صرف ایک ہی بات سے غرض ہے _ فاران خود غرضی کے عالَم میں بہت آگے نکل گیا تھا ۔ اس کے لیے کسی کے جذبات ، غم سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔
جاری ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *