Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

گاڑی جیسے ہی ریسنگ ٹریک کے قریب پہنچی تو شور و غل سنائی دینے لگا۔ ریسنگ اسٹیشن روشنیوں میں نہایا ہوا تھا اور ہر طرف نوجوانوں کا ہجوم تھا۔ جیسے ہی سردار کی گاڑی رکی اور وہ باہر نکلا، تالیوں اور نعروں کا ایک طوفان سا اُٹھ کھڑا ہوا۔

“واہ! آج تو سردار علی خان بھی آئے ہیں ریس کے لیے!”
“کتنے دنوں بعد نظر آئے ہو خان!”
“ہم نے تمہیں بہت مس کیا!”

لوگوں کے چہرے پر خوشی اور جوش نمایاں تھا۔ خاص طور پر لڑکیاں دوڑتی ہوئی اس کے پاس آئیں اور ایک کے بعد ایک اسے روک کر باتیں کرنے لگیں۔ کوئی کہہ رہی تھی، “خان! آپ کے بغیر تو ریسنگ ٹریک سنسان لگتا تھا”، تو کوئی جھجکتے ہوئے بولی، “ہم نے دعا کی تھی کہ آپ دوبارہ آئیں۔”

میں تھوڑا فاصلے پر کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ میرے دل میں عجیب سا کھنچاؤ پیدا ہورہا تھا۔ وہ سب لڑکیاں جیسے اس کی دیوانی ہوں۔ مگر سردار نے صرف ایک ہلکی مسکراہٹ دی اور مجھے اشارے سے قریب بلا کر کہا:

“نور، تم یہیں اسٹینڈ میں بیٹھو۔ میں ابھی تیار ہو کے آتا ہوں۔”

اس کے لہجے میں اپنائیت بھی تھی اور حکم بھی۔ میں خاموشی سے بیٹھ گئی۔ اتنے میں ازلان میرے ساتھ آ بیٹھا۔ شور شرابا بڑھتا ہی جارہا تھا۔ لوگ اپنی اپنی سپورٹ کارز کے پاس جارہے تھے۔ انجن کی آوازوں نے ماحول کو گونج دار کر دیا تھا۔

ازلان نے ہنستے ہوئے کہا:
“بھابھی، آج تو بھائی ریڈ کار میں ہیں۔ دیکھنا… جب وہ ٹریک پر اُتریں گے تو سب کی آنکھیں ان پر ہی ہوں گی۔”

میری نظریں بے اختیار اس کی گاڑی پر جا ٹھہریں۔ چمکتی ہوئی سرخ گاڑی میں بیٹھا سردار ہیلمٹ پہنتے ہوئے کسی فلمی ہیرو کی طرح لگ رہا تھا۔

ابھی میں اسے دیکھ ہی رہی تھی کہ گن فائر کی آواز گونجی۔ “باااانگ!”
ریس شروع ہو گئی۔

چھ گاڑیاں ایک ساتھ ٹریک پر دوڑ پڑیں۔ شور، چیخ و پکار اور ہارنز سے ماحول لرز اٹھا۔ سردار کی گاڑی بیچ میں تھی۔ میں نے بے چینی سے ازلان کی طرف دیکھا۔

“یہ تمہارا بھائی آگے کیوں نہیں جا رہا؟” میں نے پوچھا۔

ازلان نے قہقہہ لگایا، “یہ ان کی حکمتِ عملی ہے، بھابھی۔ سردار بھائی آخری لمحات میں سب کو پیچھے چھوڑتے ہیں۔”

میری نظریں ٹریک پر جمی رہیں۔ ایک نیلی کار والا ڈرائیور بار بار سردار کی گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ دو بار تو سردار کی گاڑی خطرناک حد تک ہل گئی، جیسے ابھی بے قابو ہو جائے گی۔ میرا دل ایک لمحے کو حلق میں آگیا۔ مگر سردار نے مہارت سے گاڑی قابو میں کر لی۔

اب اس نے رفتار بڑھائی۔ اچانک ایک جھٹکے سے اس نے نیلی کار کو پیچھے چھوڑا اور سب سے آگے نکل گیا۔ گاڑی ہوا کی رفتار سے میرے سامنے سے گزری، میری آنکھیں بس اسی پر ٹک گئیں۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

جب لیپ مکمل ہوا تو اسپیکر پر اعلان گونجا:
“لیڈیز اینڈ جنٹس… سردار علی خان از دا وِنررررر!”

پورا مجمع خوشی سے جھوم اٹھا۔ تالیوں کی گونج، سیٹیوں کی آوازیں، ہر طرف صرف ایک ہی نام تھا۔

“سردار! سردار!”

لوگ اس کی طرف دوڑ پڑے۔ میں بھی کھڑی ہو گئی اور آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگی۔ مگر ہجوم اتنا تھا کہ مجھے مشکل پیش آرہی تھی۔ دھکے کھاتے، راستہ بناتے ہوئے جب میں بالآخر اس کے قریب پہنچی تو اچانک ایک لڑکی بھاگ کر آئی اور سیدھا اس کے گلے لگ گئی۔

میں پلک جھپکنا بھول گئی۔ دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔

ہجوم شور مچاتا رہا، لوگ تالیاں بجاتے اور سیٹیاں مارتے اس کے اردگرد جمع تھے۔ مگر ان سب کے بیچ میری اور سردار کی نظریں ملیں۔ لمحہ ساٹھوں قدموں پر رُک گیا۔ جیسے اس کے اردگرد موجود ہجوم دھندلا گیا ہو اور باقی دنیا مٹ گئی ہو۔ صرف وہ اور میں باقی رہ گئے۔

سردار نے سختی سے اس لڑکی کو خود سے پیچھے دھکیلا، اس کے چہرے پر وہی رعب، وہی غصہ جھلک رہا تھا جس سے سب خوف کھاتے تھے۔ اس کی گرجدار آواز شور میں بھی گونجی:

“بہت خوب… آخر سب کو بتا ہی دیا کہ شیر جب بھی میدان میں آئے گا تو شیر ہی ہوگا!”

لیکن اس کی آنکھیں ہجوم کو نہیں، مجھ پر جمی تھیں۔ ایک عجیب سا غرور اور شدت اُن آنکھوں میں تھی۔ جیسے وہ اپنی جیت مجھ پر قربان کر دینا چاہتا ہو۔

میں آہستہ آہستہ اس کے قریب گئی۔ دل میں ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ ہونٹ کانپ رہے تھے مگر الفاظ خود نکل گئے:
“میں تمہیں مبارک باد دینے آئی تھی… لیکن تم اپنا جشن مناؤ۔”

میری آواز میں دکھ اور تلخی صاف جھلک رہی تھی۔ سردار کے چہرے پر لمحہ بھر کو حیرانی تیر گئی، جیسے وہ کچھ کہنا چاہ رہا ہو۔

اتنے میں وہی لڑکی آگے بڑھی اور بڑے معصوم انداز میں پوچھنے لگی:
“یہ کون ہیں؟”

اس سے پہلے کہ سردار کچھ کہتا، میں نے جلتی آنکھوں اور زہر بھری مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
“کوئی نہیں… میں ان کی کوئی نہیں ہوں۔ بس میچ دیکھنے آئی تھی۔”

میرے لفظ جیسے کسی خنجر کی طرح خود میرے ہی دل کو کاٹ گئے۔ میں نے رُخ موڑا اور تیز قدموں سے اس شور، اس رش اور اس جشن سے باہر نکل گئی۔

پیچھے شور بلند ہوتا گیا۔ “سردار! سردار!” کے نعرے گونج رہے تھے۔ مگر ان سب آوازوں کے بیچ میں نے اس کی آواز بھی سنی-
“نور… نور!”

وہ مجھے روکنے کی کوشش کر رہا تھا، بھیڑ کو چیر کر میرے پیچھے آنا چاہتا تھا۔ لیکن لوگوں کی دیوانگی نے اسے جکڑ رکھا تھا۔ کوئی اس کا ہاتھ تھام رہا تھا، کوئی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ رہا تھا، ہر کوئی اس کے قریب رہنا چاہتا تھا۔

میری آنکھوں میں آنسو تیر گئے۔ دل نے چیخ کر کہا کہ پلٹ جاؤ، اس کی بات سنو، لیکن دماغ طنزیہ ہنسا:
“بیوقوف! تم سمجھتی تھی وہ تمہارے لیے سنجیدہ ہے؟ ہر دوسری لڑکی تو پل بھر میں اس کے گلے لگ جاتی ہے۔ تم کیا سمجھ بیٹھیں؟”

میں نے آنکھیں بند کیں اور قدم اور تیز کر دیے۔ ہجوم کی چیخیں، شور، قہقہے سب پیچھے رہ گئے۔ بس ایک درد، ایک کڑواہٹ میرے ساتھ تھی۔

اسٹیڈیم کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے میرا استقبال کیا، لیکن وہ بھی میرے اندر جلتے طوفان کو ٹھنڈا نہ کر سکی۔ میں چلتی رہی… بنا یہ جانے کہ جا کہاں رہی ہوں۔ بس اتنا معلوم تھا کہ یہاں رُکنا اب ممکن نہیں۔


شور اب بھی اسٹیڈیم کے اندر گونج رہا تھا۔ لوگ سردار کے گرد ہجوم بنائے کھڑے تھے، کوئی اس سے ہاتھ ملانے کی کوشش کر رہا تھا، کوئی اس کے کندھے پر تھپکی دے رہا تھا۔ لیکن اس کی نظریں بے چینی سے ہر طرف دوڑ رہی تھیں۔

“نور…” اس نے ایک بار پھر آواز دی مگر کوئی جواب نہ آیا۔

اس کا دل بے قابو دھڑک رہا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس نے اپنے مضبوط کندھوں سے ہجوم کو چیرتے ہوئے باہر کی سمت قدم بڑھا دیے۔ لوگ اسے روکنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن وہ کسی کی نہ سنی۔ اس کی آنکھوں میں صرف ایک ہی چیز تھی-نور کہاں گئی؟

وہ تیز قدموں سے اسٹیڈیم کے بڑے دروازے سے باہر نکلا۔ باہر آتے ہی اس نے گرد و نواح میں نظریں دوڑائیں، لیکن وہ کہیں نظر نہ آئی۔ دل میں گھبراہٹ بڑھتی گئی، جیسے زمین اس کے قدموں تلے سے کھسک رہی ہو۔

پھر چند لمحوں بعد، آگے ایک پرانی عمارت کی سیڑھیوں پر وہ بیٹھی نظر آئی۔ اکیلی، گم سم، جیسے اپنے ہی خیالوں میں ڈوبی ہو۔

سردار نے ایک لمبا، گہرا سانس لیا۔ اس کی آنکھوں میں روشنی سی لوٹ آئی۔ جیسے زندگی واپس آگئی ہو۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

“تم وہاں سے ایسے کیوں آگئی؟” اس کی آواز بھاری مگر کانپتی ہوئی تھی۔ “پتا ہے پاگل ہو گیا تھا میں تمہیں ڈھونڈتے ہوئے۔”

میرال نے آنکھیں گھمائیں اور تلخی سے کہا:
“تمہیں میری یاد کیوں آ رہی تھی؟ اتنے تو لوگ تھے تمہارے آس پاس۔”

سردار بنا جھجکے اس کے برابر سیڑھی پر بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی، آنکھوں میں شدت۔
“ان سب میں سے کوئی مجھے اتنا عزیز نہیں جتنا تم ہو۔ اور تم نے وہاں سب کے سامنے ایسا کیوں کہا کہ تم میری کچھ نہیں لگتی؟ اپنا حق کیوں نہیں جتایا؟”

میرال نے طنزیہ ہنسی نکالی، آنکھوں میں کڑواہٹ جھلکی:
“حق وہاں جتایا جاتا ہے جہاں حق حاصل ہو۔ اور ویسے… تھیں کون وہ سب؟ اب یہ مت بول دینا کہ تمہاری بہنیں تھیں۔”

سردار بے اختیار ہنس پڑا۔ وہ ہنسی بھاری مگر دل سے تھی۔
“نہیں، میری بہنیں نہیں تھیں وہ۔ بس… مجھے پسند کرتی ہیں۔ وہاں سبھی مجھے پسند کرتے ہیں۔ ایک تمہارے علاوہ۔”

میرال نے تیز نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔
“میں تمہاری دنیا سے نہیں ہوں، سردار۔ اگر تمہاری دنیا سے ہوتی، اور تم لوگوں جیسی ظالم اور مجرم ہوتی… تو ضرور تمہیں پسند کرتی۔”

یہ کہہ کر وہ کھڑی ہوگئی۔ آواز میں کڑواہٹ مگر قدموں میں لرزش تھی۔
“واپس چلتے ہیں۔ میں نے غلطی کی تمہارے ساتھ آنے کی۔ مجھے ازلان یا سائمہ کو بلا لینا چاہیے تھا۔”

سردار بھی اٹھ کھڑا ہوا، آنکھوں میں سختی کے ساتھ نرمی چھپی ہوئی تھی۔
“یہ سوچنا بھی مت کہ میں تمہیں کسی کے ساتھ اکیلا بھیج دوں گا۔”

وہ آگے بڑھا اور میرال لاچار سی اس کے پیچھے چلنے لگی۔ جب وہ گاڑی کے پاس پہنچے تو سردار کا فون بجنے لگا۔ اس نے جلدی سے فون نکالا، بغیر دیکھے کال اٹھا لی۔

“ہاں، بولو!”
اس کی آواز کڑک دار تھی، لیکن اگلے ہی لمحے اس کے ماتھے پر شکنیں ابھر آئیں۔ بات سنتے سنتے اس کے چہرے کی رگیں تن گئیں۔

اس نے فون کاٹ کر فوراً ازلان کی طرف دیکھا:
“تم میرال کو لے کر گھر جاؤ… اور پھر سیدھا E/11 پہنچنا۔”

ازلان نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ معاملہ سنگین ہے۔

سردار نے ایک پل کے لیے میرال کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ شدت تھی جو کسی کو پل بھر میں قید کر لے۔ اس نے جھک کر میرال کو اپنے بازوؤں میں بھر لیا۔

“اپنا خیال رکھنا… مجھے آنے میں تھوڑی دیر ہو جائے گی۔”

اس کی آواز بھاری تھی، مگر اس میں ایسی کشش تھی کہ میرال خود کو اس کے حصار سے الگ نہ کر سکی۔ جیسے اس کے بازوؤں میں قید ہونا ہی سب سے محفوظ پناہ گاہ ہو۔

پھر اس نے آہستہ سے اسے گاڑی میں بٹھایا، ازلان کو اشارہ کیا اور گاڑی روانہ کر دی۔

ابھی وہ گاڑی زیادہ دور نہیں گئی تھی کہ ایک اور سیاہ شیشوں والی کار آگے آ رکی۔ سردار بنا وقت ضائع کیے اس میں بیٹھا اور پوری شدت کے ساتھ اپنی منزل کی طرف نکل گیا۔


میں نے گاڑی اسٹاپ کی اور ایک لمبی سانس کھینچی – وہ سانس جو اندر کہیں دبے خوف اور انتظار کا مجموعہ تھی۔ E/11 کی پرانی کنسٹرکشن سائڈ عمارت کی فصیل کے پیچھے دھندلی سی کھڑی تھی، مگر میرے اندر کچھ کہہ رہا تھا کہ جگہ صرف نظر سے زیادہ خطرناک ہے۔ میں نے گاڑی سے اتر کر اردگرد دیکھا، خاموشی ایسی تھی جیسے ہر چیز سانس روک کے بیٹھی ہو۔ کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ جگہ میرے سوچ سے بھی زیادہ مَسکُوت اور ساکت تھی۔

میں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی – گدھ اور چیلیں ہوا میں گِرد گھوم رہی تھیں، تعداد حد سے زیادہ۔ وہ پروں کی کھلکھلاہٹ، وہ چمکتی آنکھیں، کسی خطرے کا، کسی تازہ خون کی خوشبو کا اشارہ دیتی تھیں۔ میری نسیں سَنِک سن سی ہو گئیں۔ میں نے دوبارہ سائٹ کی طرف دیکھا؛ اندر ایک عجیب سی چیز جمی ہوئی تھی-ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہاں کوئی قتل ہوا ہے، شاید دو سے زیادہ جانیں لُٹ چکی ہیں۔

میں نے کمربند سے بندوق نکالی، ہاتھ میں وزن محسوس کر کے ایک طرح کا سکون سا آیا۔ اندر جانے ہی والا تھا کہ میری کمر پر ہلکا سا لال لیزر محسوس ہوا – کوئی وہاں پہلے سے موجود تھا۔ میں نے سر گھمایا تو ازلان کھڑا تھا، سوئے ہوئے نہیں، چہرے پر سنجیدگی، ہاتھ میں وہی ٹھوس اعتماد۔ اس نے اشارے سے کہا، “آگے سے احتیاط، بھائی۔” میں نے سر ہلایا اور دھیرے دھیرے عمارت کے اندر قدم بڑھائے۔

اندر اندھیرا تھا مگر میرے جوتوں کی چاپ، میرے دل کی دھڑکن کے ساتھ مل کر ایک ردھم بنا رہی تھی۔ چند قدم آگے بڑھے تو کسی کمرے سے لڑکیوں کی آہ و فریاد سنائی دی – رونے کی، گھبراہٹ کی آوازیں۔ میں نے آواز کی طرف قدم بڑھائے۔ دروازے کے کنارے جھانکا تو منظر نے خون منجمد کر دیا: کردوس پہ باندھی تین لڑکیاں، بے حجاب، کپڑے آدھے، خوف میں ہلتی ہوئی۔ ان کے اردگرد چار آدمی کھڑے تھے، نگاہیں جیسے شکاریوں کی۔ وہ خاموش نہیں رہ سکتیں تھیں – چیخیں، رونے، مدد کی دعا – سب زبان پر تھیں۔

میرے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا۔ میں نے بندوق کے کمیز سے مضبوطی سے پکڑی اور اندر داخل ہوتا ہی اپنی بندوق پر دو فائر کھول دیے – دھماکے کے ساتھ کمرہ گونج اٹھا۔ وہ آدمی چونکے، ایک لمحے کے لیے بے سمجھی سے ٹھہر گیا۔ لڑکیاں زور زور سے چیخ اٹھیں، گلے خشک ہو رہے تھے۔ میں نے جیب سے چھوٹا چاقو نکالا اور وہ رسیوں کو کاٹنے لگا جو ان کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے تھیں۔ میرا ہاتھ کانپ رہا تھا مگر کام نہیں رکا۔ میں نے ایک ایک کر کے ان کی رسییں کاٹیں – خون، گرد اور خوف کی خوشبو۔ ایک نے میری طرف دیکھا، آنکھوں میں شک و شکر ملے ہوئے تھے۔

“یہاں کیسے پہنچی تم لوگ؟” میں نے سخت لہجے میں پوچھا، میری نظریں انہی زمین پر جمیں تھیں جو ابھی کچھ گھنٹوں پہلے خون میں چھلکتی تھی۔ میری آواز میں سختی تھی مگر اندر کوئی نرم گوشہ تھا جو ان کے لئے ٹوٹ رہا تھا۔

ایک لڑکی نے ہچکچاتے ہوئے بات کی، گلے میں کانپتے لہجے میں: “کالج سے اغواء کیا گیا تھا… ہمارا بس ڈرائیور بھی ان میں شامل تھا۔ پانچ لڑکیوں کو آگے بھیج دیا گیا… اب ہماری باری تھی۔”

میرے اندر ایک زہر ابھرا۔ “کیا یہاں کسی کا قتل ہوا ہے؟” میں نے پوچھا۔

اس نے سر ہلایا، آنکھوں میں آنسو: “اُنہوں نے ڈرائیور اور اس کے ساتھیوں کو مار دیا تھا… ہم رک گئیں تو پھر ہمیں اندر بند کیا گیا۔”

میں نے انہیں ہاتھ پکڑا اور باہر نکلنے کی طرف دھکیلا مگر جیسے ہی ہم دروں کی طرف بڑھے، پیچھے سے گولی چلنے کی آواز آئی۔ ایک گولی میرے بازو کے پاس چھو کر نکلی – جلتی ہوئی درد کی لکیریں دوڑ گئیں مگر میں نے خود کو سنبھالا۔ لڑکیاں چیخ پائیں، مرد وہاں چھپ گئے اور فائرنگ شروع ہو گئی۔ دیوار کے پیچھے سے وہ لوگ گولیاں برسانے لگے۔ میں نے ایک لمحے کو وہ منظر دیکھا – دھاڑتے ہونٹ، گھبراہٹ، اور پھر فیصلہ۔

موقع ملتے ہی میں نے بھاگنا شروع کیا۔ دل تیز تھا، ہر سیمنٹ کا ٹکڑا میرے پیروں تلے بج رہا تھا۔ میرے پیچھے دو آدمی دوڑے، تلواریں شاید نہیں لیکن گولیاں اُن کے ارادوں میں تھیں۔ میں نے اپنی جان کی دہلیز پر قدم بڑھائے تو اچانک ازلان نے سامنے آ کر اُن کا کام مکمل کر دیا – وہ تیز تھا، پرسکون مگر جان لیوا۔ میں نے دیکھا کہ اس نے دو آدمیوں کو زمیں پر لگا دیا، مزید کوئی شور نہ تھا۔ ازلان نے میری طرف پھیر کے دیکھا، آنکھوں میں وہی خاموشی، پھر اشارہ کیا کہ جلدی کرو۔ میں نے انہیں گاڑی تک پہنچایا اور دروازہ اندر سے بند کیا۔ لڑکیاں ایک دوسرے سے لگی کانپ رہیں تھیں، ہلکے سے روتی ہوئی۔

میں نے گاڑی میں بیٹھتے ان لڑکیوں کی طرف ڈیگی سے ایک چادر نکال پہنکی جو ہمیشمیری ہر گاڑی میں ہوتی ہے. ان کے ہاتھ میری پشت پر رکھے ہوئے تھے، جیسے میں ان کا سہارا بن گیا ہوں۔ راہ میں وہ ایک دوسرے کے سر پر بندھے رہے، اپنی حالت کچھ سنبھالے، خوف کی صدائیں۔ ازلان نے گاڑی میں بیٹھتے ہی پولیس کو کال کر دی۔ میں نے نظریں آگے رکھیں، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ان کی طرف۔ دل میں ایک جھکاؤ تھا – میرے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر چہرہ پتھروں جیسا ساکن تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسان اپنی چیخوں کو دباتا ہے اور صرف عمل کرتا ہے۔

پولیس اسٹیشن پہنچ کر میں نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ اندر جائیں اور رپورٹ درج کرائیں۔ وہ بڑے بڑے قدموں سے اتر کر بھاگیں – جیون کی چھوٹی سی امید کے ساتھ کہ کوئی ان کے زخم بھرے گا۔ میں نے انہیں اندر جاتے دیکھا، ان کی آنکھوں میں شک و شگر، لیکن ایک کڑوا سا سناٹا بھی تھا۔ میں نے گاڑی تیز کر کے وہاں سے روانہ ہو لیا، مگر وہ تصویر میری آنکھوں سے مدھم نہیں ہوئی – بندھے ہاتھ، خون کے نشان، اور میری وہ خاموش مدد۔

میں نے گاڑی چلائی، دل کی دھڑکن ابھی بھی سخت تھی۔ میں سوچ رہا تھا – یہ شہر میرے ہر قدم پر خطرہ رکھتا ہے۔ میں نے اپنی بندوق کو مضبوطی سے تھاما اور سوچا کہ آج کی رات بہت سی کڑیوں کو جوڑ دے گی – وہ کڑییں جو مجھے اس سنی سنائی دنیا میں واپس بیٹہ دیں گی، جہاں انصاف کا تقاضا میرے ہاتھ میں تھا۔


کمرے میں اکیلے بیٹھے بیٹھے مجھے بوریت نے گھیر رکھا تھا۔ سوچا تھوڑا ٹی وی آن کر لوں، تو سٹیو ہاروی کا شو چل رہا تھا۔ ہنسانی بھی آئی، کچھ دیر کے لیے مزہ آیا — لوگوں کی باتوں میں وہی اجنبیت بھی ہوتی ہے جو دل کو ہلکا کر دیتی ہے۔ شو آدھا ہی گزرا تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور سردار اندر آیا۔

اس کی حالت عجیب تھی۔ بال بکھرے ہوئے، ماتھے پر پسینہ ٹپک رہا، کپڑے گندے اور شرٹ کے پہلے دو بٹن کھلے ہوئے تھے۔ وہ مجھے دیکھے بغیردہکا سا لپک کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ یہ رویہ غیر معمولی تھا وہ عام طور پر مزاقی انداز میں، کچھ نہ پوچھے میرے پاس آکر مزاک کر کے جاتا تھا، مگر آج وہ براہِ راست چلا گیا۔

میں نے ٹی وی کی طرف واپس نگاہ کی مگر اسی لمحے میری نظر زمین پر پڑی — خون کی چھوٹی چھوٹی بوندیں۔ پہلے میں ششدر ہوئی، پھر ایک خوف سی رگ رگ میں دوڑ گیا۔ وہ بوندیں واش روم کی طرف جا رہی تھیں۔ میں نے فوراً قدم بڑھائے اور واش روم کے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر زور سے دستک دینے لگی۔

“سردار… سردار!” میرا گلا پھٹ پڑا۔

اندر سے اس نے آڑھے لہجے میں جواب دیا، “کیا؟”

میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ “دروازہ کھولو! کیا ہوا ہے؟ خون کہاں سے آیا؟” میں نے چیخ کر کہا۔

اندر سے اس کی آواز آئی، “کچھ نہیں ہوا، تم مایڈ کو کہو میری چائے لے آئے۔”

میں سمجھ نہ پائی شاید واقعی کوئی سنگین بات نہ ہو مگر دل کی گہرائی میں کوئ شُبہ اٹک گیا۔ میں نیچے کچن کی طرف گئی۔ عملہ اپنے کاموں میں مصروف تھا، اس لیے میں نے خود چائے بنا لی، کپ بھر کر کمرے کی طرف لوٹی۔

دروازہ کھولا تو سردار بالکل بیڈ کے کنارے بیٹھا اپنی بازو سے خون صاف کر رہا تھا۔ اس کی بازو پر ایک بڑا زخم تھا، کپڑے خون سے رنگین۔ میرا دل ایک دم منہ کو آ گیا۔ “یا اللہ! یہ کیا ہوا؟” میری آواز کانپ رہی تھی۔

میں کپ چائے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اس کے پاس بیٹھی۔ اس نے دھیرے سے اپنی بازو صاف کرتے ہوئے کہا، “گولی چھو کر گذر گئی۔”

میں اسے دیکھتی رہی. اس کے زخم پر دباؤ ڈالنا اس کے لیے مشکل تھا، مگر وہ کسی طرح سنبھالا ہوا تھا۔ “میں… میں مدد کر دوں؟” میں نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔ اس نے ایک لمحہ سوچ کر سر ہلایا اور پھر آہستگی سے کہا، “ہاں۔”

میں قریب آئی، کپڑے کے کنارے سے کپڑا نکالا، زخم کو نرم ہاتھوں سے صاف کرنے لگی۔ میری انگلیاں اس کے زخم پر پڑیں تو مجھے جیسے ایک جھٹکہ محسوس ہوا۔ آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے — یہ منظر دیکھ کر میری ہمت ٹوٹ رہی تھی۔ میں نے اس کے لیے کیا کر رہی ہوں؟ یہ سوال دل میں گھوم رہا تھا مگر میری حرکتیں خود بہ خود ہو رہی تھیں۔

وہ کانپتے ہاتھوں سے میرا چہرہ چھوا اور آہستگی سے آنسو پونچھنے لگا۔ “میں ٹھیک ہوں، نور۔ رو مت۔” اس کی آواز میں جمود تھا مگر نرم بھی تھی — ایک ایسا ملاپ جو مجھے اندر سے لرزا گیا۔ میں نے گہری سانس لی اور اس کا زخمی بازو سنبھالتے ہوئے چائے اسے پکڑا دی۔

ہم نے خاموشی سے چائے پی۔ کمرے میں صرف ہماری سانسوں کی آواز تھی اور ٹی وی کی ہلکی سی کانفرنسنگ جو اب اداکاری کے پیچھے دب سی گئی تھی۔ میں نے اس کے لیٹنے میں مدد کی۔ “آپ سو جاؤ، میں آپ کو رات کے کھانے پر جگا دوں گی۔” میں نے کہا۔

اس نے آنکھوں سے اشارہ کیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ جب میں جانے ہی لگی تو اس نے اچانک میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ “نور، پلیز میرے پاس لیٹ جاؤ۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے ابھی۔”

اس کی آواز میں ایک ایسی شدت تھی کہ انکار ممکن نہ تھا۔ میں اسی کے پاس آہستہ سے لیٹ گئی۔ اس کی بازوؤں کا سکون غریب سا پناہ گاہ محسوس ہوا — جیسے وہ مجھے کھو دینے کا ڈر رکھتا اور میرا ہونا اس کے لیے امن تھا۔ اس کی سانسیں آہستہ آہستہ معمول پر آ گئیں۔ میں نے اس کے زخمی چہرے کو دیکھا، پھر آنکھیں بند کر لیں — تھکن اور خوف نے مجھے بھی نیند میں ڈھکیلا دیا۔

کمرے کی خاموشی میں، میں نے محسوس کیا کہ ہمارے بیچ کی دوری ابھی کچھ مدھم سی ہوگئی تھی وہ لمحہ لمحہ، جب خوف نے ہمیں قریب کر دیا۔ باہر کی دنیا، اسٹیڈیم کا شور، سب دور تھا؛ یہاں صرف ایک زخمی آدمی اور وہ لڑکی جو بغیر کچھ کہے اس کے زخم چھپاتی ہے، رہ گئے تھے۔

جب آنکھ کھلی تو خود کو سردار کے ساتھ ایک عجیب و غریب حالت میں پایا۔ ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ شاید دھڑکنیں بھی مل کر چل رہی تھیں۔ اس کی ٹانگیں میری ٹانگوں کے ساتھ الجھی ہوئی تھیں اور پورا بدن اس کے زور سے میرے اوپر تھا۔ پہلے تو میں گھبرا گئی — سانس گھٹ رہی تھی، سینہ دبا سا محسوس ہو رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے ہر راستہ بند سا لگ رہا تھا۔ مجھے خود سے اُٹھنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہ آیا۔

میں نے زور لگایا، “سردار… سردار… پلیز تھوڑا اٹھ جائیں۔” مگر وہ ہوش میں نہ آیا۔ اس کی سانسیں بے ترتیب تھیں۔ میں نے پوری طاقت لگا دی اور آہستگی سے اس کے اوپر سے ہٹنے کی کوشش کی — آخر کار وہ ہٹ گیا اور میں نے ایک سکون بھری سانس لی، جیسے طوفان تھم گیا ہو۔

میں اٹھ کر ہاتھ منہ دھوئیں اور نیچے جا کر باورچی خانے میں کھڑی ہو گئی۔ سوچا کچھ گرم بنا دوں — شاید سوپ پی کر وہ بہتر ہو جائے۔ پانی ابلا، سبزیاں کٹی، سوپ اَسنتھ ہوا تو میں نے ایک کپ چائے بھی بنا لی اور دونوں کے لیے رکھ دیا۔ جب میں ہال کی طرف بڑھی تو میری نظر سائمہ پر پڑی جو سائم کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پر خوشی اور کچھ راز کی چمک تھی۔

میں دوڑ کر اس کے پاس گئی اور گلے لگایا، “سائمہ! کیسی ہو تم؟”

اس نے ہنستے ہوئے کہا، “میں ٹھیک ہوں — بس، کچھ بتانا تھا۔” پھر اس نے احتیاط سے اپنا ہاتھ پیٹ پر رکھا اور مسکرا کر کہا، “ہاں، چوتھے مہینے میں ہوں۔”

میں چونک کر دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ بیٹھ گئی۔ دل ایک دم دھک سے رہ گیا۔ “واقعی؟” میں نے ہلکی سی آواز میں پوچھا۔ سائم نے سر ہلایا اور جوش میں بولا، “! میں سردار سے مل کر آتا ہوں۔”

میں فوراً آگے آ گئی، “وہ سو رہے ہیں — انہیں گولی لگی تھی!” میرا انداز سنجیدہ تھا۔ سائمہ فوراً غمزدہ ہو گئی، “یا اللہ! وہ ٹھیک تو ہیں؟”

میں نے تھوڑا سکون سے سر ہلایا، “ہاں، گولی چھو کر گزر گئی. وہ ٹھیک ہیں۔” سائم نے ہنستے ہوئے کہا، “ہاہا، ایسی گولیاں تو ہمارا سردار ناشتے میں روز کھا جاتا ہے!” اس کی ہنسی میں بےفکری بھی تھی، مگر اس کے لبوں پر سکون واضح تھا۔ شاید وہ یہ دکھا رہا تھا کہ سب ٹھیک ہے، مجھے یقین دلاتا ہوا وہ اوپر چلا گیا.

میں نے سائمہ کو صوفے پر بٹھایا اور نوکرانی رِداء کو چائے لانے کو کہا۔ وہ چائے لے کر آئی، سائمہ نے کپ اٹھایا اور چسکی لی، آنکھوں میں وہی خوشی اور پیار تھا۔ پھر ہم بیٹھ کر معمول کی باتیں کرنے لگے — مگر میرے دل میں ایک ہلکا سا الجھاؤ تھا۔

اِک سوال بار بار گونج رہا تھا: سائمہ نے کہا کہ وہ اب محبت میں ہے، اس کا لہجہ بدلا ہوا تھا۔ میں نے ہلکے سے پوچھا، “تم پہلے سائم سے نفرت کیا کرتی تھیں. یہ تبدیلی کہاں سے آئی؟”

وہ قہقہے سے مسکرائی، “میں نے خود کو اس کے رنگ میں ڈھالا، نور۔ شاید یہی محبت ہے — آہستہ آہستہ اپنانا۔”

میں خاموش ہو گئی اور اس کی باتیں اندر اُترنے لگیں۔ کیا واقعی لوگ اس طرح بدل جاتے ہیں؟ کیا میں بھی بدل سکوں گی؟ یہ سوچ دل میں اٹھا کر رہ گئی۔

ہماری گفتگو کے بیچ سائمہ نے اچانک بات موڑ دی، “کیا تم نے کبھی سردار بھائی کے بنائے ہوئے اسکول گئے ہو؟”

میں چونک کر اس کی طرف دیکھ گئی، “سردار کا بنایا اسکول؟”

اس نے سر ہلایا، “ہاں، وہ کئی مقامات پر اسکول اور ہسپتال بناتے ہیں۔ اگر کبھی دل کرے تو تمیں وہاں جانا چاہیے۔”

میں اس کی بات سن کر خاموش ہو گئی۔ میرے اندر ایک عجیب سی ترکیب بن رہی تھی — وہی آدمی جسے میں اکثر سخت، جاں لیوا، خطرناک سمجھتی تھی، اس کے بھی چہرے کے پیچھے دوسرا پہلو موجود تھا: تحسین، سخاوت، اور کچھ اچھا کرنے کی جستجو۔ مجھے اپنے شوہر کے کاموں کا پہلے علم نہ تھا؛ یہ احساس مجھے حیران کر گیا۔

میں چونک کر کچن کی طرف گئی سوپ اب تیار تھا۔ اس کے بھاپ کے ساتھ آج رات کی بھاری گھٹن بھی گھل رہی تھی۔ میں نے کپ اٹھا کر سردار کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے۔ دروازہ نیم کھلا تھا۔ اندر وہ سو رہا تھا، زخم پر پٹی لگی ہوئی۔ جب اس نے میری آمد دیکھی تو آنکھیں آہستہ سے تیزی سے چمکیں، اور پھر اُس نے مسکراتے ہوئے کہا، “آجاو تمھارا ہی انتظار کر رہا تھا۔”

میں نے کپ اس کے سامنے رکھا اور اس کی طرف دیکھا — اندر ایک عجیب سا سکون تھا مگر ساتھ میں ایک سوال کی دھند بنی ہوئی تھی: ہمارا رشتہ کیا ہوگا؟ کیا میں اس کی سختی اور اس کے نرم پن کے درمیان خود کو ڈھال سکوں گی؟

کھانے کے سادہ گھونٹ کے درمیان، میرے ذہن میں یہ کھٹکتی رہی کہ ایک آدمی کے اعمال اور اس کی شہرت کے بیچ جو فرق ہوتا ہے، وہ شاید میری سوچ سے کہیں وسیع تھا۔ شاید اسی فرق کو سمجھنا ہی میری آنے والی کہانی تھی — ایک عورت کا آہستہ آہستہ اپنے شوہر کے کئی روپوں کو تسلیم کرنا، یا پھر اُن نقابوں کو اکھاڑنا جو مجھے باقی دنیا سے چھپا کر رکھے گئے تھے۔