No Download Link
Rate this Novel
Episode 06
گاڑی چلاتے ہوئے میرال کے الفاظ سردار کے کانوں میں بار بار گونج رہے تھے۔
“میری شادی ہونے والی ہے… اور میں اُس سے بہت محبت کرتی ہوں۔”
سردار کے ہونٹوں پر ایک دل چیر دینے والی مسکراہٹ آئی، لیکن اُس مسکراہٹ کے پیچھے چھپا دکھ اُس کی آنکھ سے بہہ نکلا۔ ایک انسو گرا اور اُس نے گاڑی کا رخ انابیہ کے گھر کی طرف موڑ دیا۔
گھر پہنچ کر وہ تیزی سے باہر نکلا اور دروازے کی بیل بجائی۔ اندر کچن میں انابیہ بیکنگ کی کوشش کر رہی تھی۔ بیل کی آواز پر وہ چونک گئی۔ نا جانے اس وقت کون ہو سکتا ہے؟ اُس نے ہاتھ پاس پڑے نیپکن سے صاف کیے اور جلدی سے دروازے کی طرف دوڑی۔
بغیر آنکھ کے سوراخ (eyehole) سے دیکھے اُس نے دروازہ کھول دیا۔ سامنے سردار کھڑا تھا۔
“پاگل ہو گئے ہو کیا؟” انابیہ کے لہجے میں حیرت اور خفگی دونوں شامل تھے۔
سردار بغیر کوئی جواب دیے اندر آ گیا اور جا کر صوفے پر بیٹھتے ہی ڈھیر ہو گیا۔ انابیہ کے چہرے پر فکر کی لکیریں ابھر آئیں۔ یہ وہ سردار نہیں تھا جسے وہ جانتی تھی۔ اُس کے اندر کچھ ٹوٹ چکا تھا۔
وہ آہستہ سے اُس کے قریب جا کر بیٹھ گئی۔ “سردار، کیا ہوا ہے؟”
اُس کی آنکھوں سے آنسو رکے بغیر بہہ رہے تھے۔ انابیہ کا دل بیٹھنے لگا۔ “اب تم مجھے ڈرا رہے ہو۔ کیا ازلان ٹھیک ہے؟”
سردار نے دھندلی آنکھوں سے اُس کی طرف دیکھا اور مدھم آواز میں کہا:
“وہ شادی کر رہی ہے… کسی اور سے محبت کرتی ہے، انابیہ۔”
انابیہ نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “میرال؟”
سردار نے آہستگی سے سر ہلایا۔
“سردار… اُف… اچھا، بس… اب چپ ہو جاؤ۔” انابیہ نے نرمی سے کہا اور اُسے پانی کا گلاس پکڑا دیا۔
سردار نے کپکپاتے ہاتھوں سے گلاس تھاما اور ایک گھونٹ لیا۔ اُس کی خاموشی کمرے میں کسی چیخ کی طرح گونج رہی تھی۔
انابیہ نے دھیرے سے سردار کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور نرم لہجے میں کہا:
“محبت تو تم نے کی تھی نا… وہ بیچاری تو جانتی بھی نہیں تھی تمہیں… نہ ہی تمہاری محبت کے بارے میں۔ جس طرح تمہیں اُس سے محبت ہے… اُسے کسی اور سے ہے۔ ہم تقدیر کے فیصلے بدل تو نہیں سکتے نا، سردار۔”
سردار نے آنکھیں موند لیں، اُس کے چہرے پر بے بسی اور شکستگی واضح تھی۔
“تقدیر میں سب کچھ میرے ہاتھوں سے ہی چھوٹنا کیوں لکھا ہے…؟” اُس کی آواز دل کو چیر گئی۔
انابیہ نے ایک گہرا سانس لیا، اپنے جذبات قابو میں رکھتے ہوئے بولی:
“ایسا نہیں کہتے… دیکھو، سب کچھ وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتا ہے۔ اچھا چلو، تم اندر جاؤ اور آرام کرو۔ میں کھانا بنا رہی ہوں۔”
سردار نے پانی کا گلاس میز پر رکھا اور اٹھنے لگا۔
“نہیں… میں جاتا ہوں۔”
انابیہ نے فوراً اُس کے بازو تھام کر اُسے دوبارہ صوفے پر بٹھا دیا۔
“کہیں نہیں جا رہے تم۔ اور اس حالت میں تو میں تمہیں جانے بھی نہیں دوں گی۔ اب چلو اندر۔”
سردار نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا، لیکن انکار کی ہمت نہ کر سکا۔ انابیہ نے بحث کی گنجائش ہی نہ چھوڑی تھی۔ وہ چپ چاپ اٹھا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ قدم بھاری تھے، جیسے ہر ایک پر کوئی بوجھ لدا ہوا ہو۔
سردار کمرے میں داخل ہوا تو اندھیرا اور خاموشی اُس کا استقبال کر رہے تھے۔ اُس نے دروازہ بند کیا اور تھکے قدموں سے چلتا ہوا بیڈ کے کونے پر بیٹھ گیا۔ دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا اور گہری سانس لینے لگا جیسے اندر کا بوجھ سانس کو بھی کچل رہا ہو۔
اچانک میرال کا چہرہ اُس کی آنکھوں کے سامنے اُبھر آیا۔ اُس کی ہنسی، اُس کا غصہ، وہ لمحہ جب اُس نے کہا تھا:
“میری شادی ہونے والی ہے اور میں اُس سے بہت محبت کرتی ہوں… آپ کے لیے میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔”
یہ الفاظ بار بار اُس کے دماغ میں گونج رہے تھے۔
سردار نے دانت بھینچ لیے، مگر اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اُس کے اندر کا غرور، اُس کی سختی، سب ٹوٹتے جا رہے تھے۔
“میرال…” اُس نے دھیرے سے اُس کا نام لیا، جیسے اُس کا وجود کسی دعا کی طرح زبان پر آیا ہو۔
“تمہیں کیا خبر کہ میں نے تمہارے لیے کیا کچھ چھوڑا… کیا کچھ لٹایا۔ تمہیں دیکھنے کے لیے، تمہاری ہنسی کے لیے میں نے اپنے آپ کو کتنی بار مار ڈالا… اور تم… تم نے مجھے کسی قابل ہی نہ سمجھا۔”
وہ بیڈ پر لیٹ گیا، چھت کو خالی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے۔
اُس کے ذہن میں وہ دن گونجنے لگا جب اُس نے پہلی بار میرال کو دیکھا تھا—لال پھولوں والے فراک میں، ہاتھ میں غبارہ، معصوم سی مسکراہٹ کے ساتھ۔
اُسے لگا جیسے کل کی ہی بات ہو۔
“میں تمہارے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں…” اُس کے ہونٹوں سے لفظ پھسل گئے۔
آنکھوں کے کونے سے بہتے آنسو اُس کے تکیے کو بھگو رہے تھے۔
وہ اُس لمحے خود کو بالکل اکیلا محسوس کر رہا تھا۔ باہر انابیہ کچن میں اُس کے لیے کھانا بنا رہی تھی، مگر سردار کے دل کا بھوکا پن صرف میرال کے لمس، اُس کی موجودگی، اُس کی محبت کا تھا۔ اور وہ جانتا تھا… یہ بھوک کبھی مٹنے والی نہیں۔
سردار نے آنکھیں بند کر لیں۔ اُس کے دل میں جیسے طوفان سا برپا تھا۔ میرال کی باتیں اب بھی اُس کے کانوں میں گونج رہی تھیں:
“میری شادی ہونے والی ہے… اور میں اُس سے محبت کرتی ہوں۔ آپ کے لیے میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔”
یہ جملہ سردار کی روح کو چیر گیا تھا، مگر پھر بھی اُس کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آ گئی۔
“وہ ٹھیک کہہ رہی ہے…” اُس نے خود سے کہا۔
“میں کون ہوتا ہوں اُس کی زندگی برباد کرنے والا؟ وہ ایک صاف دل کی لڑکی ہے، اُس کی اپنی خواہشیں ہیں، اُس کی اپنی محبت ہے۔ اور میں… میں صرف ایک سایہ ہوں… ایک گناہوں بھری زندگی جینے والا آدمی۔”
اُس کے آنکھوں سے ایک اور آنسو ڈھلکا۔ لیکن اس بار اُس کی سانسوں میں ایک ٹھان لینے والی مضبوطی تھی۔
“بس، اب ختم۔ میں اُسے بھول جاؤں گا۔ اُسے اپنی دنیا جینے دوں گا۔”
وہ بیڈ سے اُٹھ کر کھڑا ہوا، جیسے اپنے دل پر پہاڑ رکھ کر فیصلہ کر رہا ہو۔
“محبت جبراً نہیں کی جاتی۔ اگر میں واقعی اُس سے محبت کرتا ہوں… تو مجھے اُسے آزاد چھوڑنا ہوگا۔”
آئینے میں اپنی آنکھوں کے نیچے کے آنسوؤں کے نشان دیکھتے ہوئے اُس نے خود کو سختی سے ٹوکا،
“یہ کمزوری نہیں دکھانی، سردار خان۔ اب سے تمہارے دل پر بھی تالا لگ گیا۔”
وہ کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا۔ باہر آسمان پر بادل تھے اور چاند آدھا چھپا ہوا تھا۔ اُس نے دل ہی دل میں میرال کے لیے دعا کی:
“اللہ کرے وہ ہمیشہ خوش رہے… چاہے اُس کی خوشی میں میری کوئی جگہ نہ ہو۔”
یہ سوچ کر پہلی بار اُس کے دل کو ایک عجیب سکون ملا۔
سردار ایک بار پھر بستر سے اٹھا۔ اُس کے قدم دھیمے ضرور تھے مگر مضبوط لگ رہے تھے، جیسے وہ خود کو ایک نئی سوچ کے ساتھ سمیٹ رہا ہو۔ کمرے کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلا۔ باورچی خانے میں برتنوں کی ہلکی سی کھنک سنائی دے رہی تھی۔ انابیہ اپنے کام میں یوں مگن تھی کہ اُسے اُس کے آنے کا احساس تک نہ ہوا۔
“انابیہ…” سردار کی آواز نرم مگر گہری تھی۔
“یا اللہ!” وہ چونک کر پلٹی اور ہاتھ سے دل کو تھام لیا۔ “آپ نے تو ڈرا ہی دیا مجھے۔”
سردار کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جو اُس کے دُکھ کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔ “معاف کرنا… میں چلتا ہوں۔ میرا دل ہلکا کرنے کا شکریہ۔ اب میں بہتر محسوس کر رہا ہوں۔”
انابیہ نے وقت کی طرف اشارہ کیا، “زینب ابھی اسکول سے آنے والی ہے۔ اگر کچھ دیر رک جاؤ تو اُس سے مل لینا، وہ بہت خوش ہو جائے گی۔”
سردار نے نفی میں سر ہلایا۔ “نہیں… میں اِس حالت میں اُس کے سامنے نہیں جا سکتا۔ وہ فوراً پریشان ہو جائے گی۔ تم میری طرف سے اُسے پیار دے دینا۔”
یہ کہہ کر جب وہ پلٹنے لگا تو انابیہ جلدی سے کاؤنٹر کے پیچھے سے نکل آئی اور اُس کے قدم روک کر اُسے گلے سے لگا لیا۔ اُس کی آواز نرمی اور خلوص سے بھری ہوئی تھی، “اپنا خیال رکھنا… بہت اچھا کیا جو آج یہاں آ گئے۔ کبھی بھی میری ضرورت ہو تو بلا جھجک آ جانا۔”
سردار کی آنکھیں بھر آئیں۔ اُس نے ایک لمحے کو اُس احساس کو اپنے دل میں سمیٹا، پھر آگے بڑھ کر اُس کا ماتھا چوما اور بغیر کچھ اور کہے آہستہ آہستہ وہاں سے رخصت ہو گیا۔
دوسری جانب میرال کا دن عجیب سی کیفیت میں گزرا۔ وہ بار بار اسی بات پر غور کرتی رہی کہ کیا سردار اب بھی اُسے تنگ کرے گا؟ صبح سے لے کر شام تک اُس کی آنکھوں میں وہ لمحہ بار بار گھومتا رہا، جب اُس نے صاف لفظوں میں اپنی محبت کسی اور کے نام کر دی تھی اور سردار کی آنکھوں میں ایک ان کہی بیچینی دیکھ لی تھی۔ دل میں ہلکی سی چبھن ضرور تھی، لیکن سکون بھی کہ اُس نے سچائی سے سب کچھ کہہ دیا۔
وہ انہی سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ اُس کی امی کمرے میں آئیں۔ ہاتھ میں ایک خوبصورت جوڑا تھامے وہ مسکرا رہی تھیں۔
“میرال، یہ دیکھو تمہارا جوڑا آگیا ہے۔ کل ان شاء اللہ تمہارا نکاح ہے۔ بڑی پیاری دعا کے ساتھ یہ لباس پہننا، اللہ تمہیں خوش رکھے بیٹی۔”
امی کے لہجے میں محبت اور دعا کی خوشبو تھی۔ میرال کے ہونٹوں پر ایک نرم سی مسکراہٹ آگئی۔ دل کے اندر ایک عجیب سا سکون اُترنے لگا۔ کل وہ اُس شخص کی ہو جائے گی جس سے وہ بےپناہ محبت کرتی ہے۔ وہ لمحہ جس کا اُس نے برسوں خواب دیکھا تھا، اب بالکل قریب آ رہا تھا۔
امی کے کمرے سے جانے کے بعد میرال نے گہرا سانس لیا۔ کمرے کی خاموشی میں اُس نے وضو کیا اور جائے نماز بچھا کر عشاء کی نماز ادا کی۔ سجدے میں جاتے ہوئے اُس کے لبوں پر صرف دعائیں تھیں۔
“یا اللہ، کل کا دن میرے لیے خیر اور برکت والا بنا۔ میرا رشتہ اُس شخص کے ساتھ مضبوط کر دے جس سے میں دل کی گہرائیوں سے محبت کرتی ہوں۔ مجھے اپنی رحمت کے سائے میں رکھنا۔”
نماز کے بعد اُس کے دل میں ایک عجب سا سکون بھر گیا۔ آنکھوں میں روشنی اور لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ وہ اپنے بستر پر بیٹھی رہی، جیسے دل ہی دل میں آنے والے کل کو اپنی دعاوں کے حصار میں قید کر رہی ہو۔
اگلے دن صبح سے ہی گھر میں نکاح کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ میرال کے ابو اور بھائی گھر سجانے اور کیٹرنگ والوں کو ہدایت دینے میں مصروف تھے، جبکہ اُس کی امی ایک ایک مہمان کو فون کر کے آنے کی تاکید کر رہی تھیں۔ پورے گھر میں خوشبو اور گہما گہمی کا سماں تھا۔
میرال اپنے کمرے میں اپنی چیزیں نکالنے اور تیار ہونے پر دھیان دے رہی تھی۔ دوپہر تک اُس کی قریبی دوستیں امنہ اور فاطمہ بھی پہنچ گئیں۔ وہ دونوں اُس کے ساتھ بیٹھی نہ صرف اُس کا دل بہلا رہی تھیں بلکہ تیاریوں میں بھی مدد کر رہی تھیں۔ کچھ ہی دیر بعد مہندی لگانے والی بھی آگئی۔
میرال کے نازک ہاتھوں پر جب مہندی کے خوبصورت نقش و نگار اترنے لگے تو امنہ نے اُس کے کان میں ہنستے ہوئے کہا:
“تمہارا نکاح ہو رہا ہے… لیکن بیچارہ سردار؟ اُس کا کیا حال ہو رہا ہوگا؟ دل تھام کر بیٹھا ہوگا کہیں۔”
میرال نے فوراً اُسے گھور کر دیکھا، “پاگل تو نہیں ہوگئی؟ آج کیوں اُس کا ذکر کر رہی ہو؟”
فاطمہ اور امنہ دونوں ہنسنے لگیں لیکن میرال نے بات کاٹ دی اور اپنی مہندی پر نظریں جما لیں۔ گہرے رنگ کی وہ مہندی اُس کے ہاتھوں کو اور بھی حسین بنا رہی تھی۔ مہندی لگنے کے بعد اُس کی دوستوں نے اُسے کھانے کے چند لقمے کھلائے اور پھر اُس کے میک اپ میں لگ گئیں۔
شام کے پانچ بجے کے قریب ارسلان اپنے گھر والوں کے ساتھ پہنچ گیا۔ میرال کے ابو امام صاحب کو لے کر کمرے میں آئے۔ نکاح نامہ سامنے رکھا گیا اور میرال نے دھڑکتے دل کے ساتھ اُس پر دستخط کر دیے۔ چند لمحے بعد باہر صحن میں نکاح پڑھایا گیا۔ اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں اور پورے گھر میں خوشیوں کی لہر دوڑ گئی۔
امی نے میرال کو پیار سے تھام کر باہر لایا اور اُسے ارسلان کے ساتھ بٹھا دیا۔ ارسلان کی آنکھوں میں خوشی کی چمک تھی۔ اُس نے مسکرا کر کہا:
“بہت حسین لگ رہی ہو تم، میرال۔”
میرال کے گال سرخی سے بھر گئے اور اُس نے نظریں جھکا لیں۔ کچھ ہی دیر بعد گھر والوں نے کھانے کا انتظام شروع کر دیا۔ میرال آہستہ سے اپنی کرسی سے اٹھی اور واپس اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اُس نے کھڑکی سے ایک مانوس سا ساز بجنے کی آواز سنی۔ پیانو کی وہ دھُن… وہی جو کئی بار اُس کے کانوں میں بسیرا کر چکی تھی۔ دل دھڑکنے لگا۔ وہ ٹھٹک گئی، مگر خود کو روک نہ سکی۔ کھڑکی کے قریب جا بیٹھی اور خاموشی سے اُس سریلی دھُن کو سننے لگی۔
اچانک پیچھے سے کسی نے اُسے بازوؤں میں جکڑ لیا۔ میرال چونک اٹھی۔
“ارسلان… یہ… یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟”
وہ اُس کی گردن پر بوسے دینے لگا۔ “کیوں؟ اب تو میں تمہارا شوہر ہوں… کچھ بھی کر سکتا ہوں۔”
میرال کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی، لیکن اُس نے نرمی سے اُسے خود سے الگ کیا۔
“ابھی نکاح ہوا ہے، رخصتی نہیں۔ تو ابھی آپ اس نکاح کو منگنی ہی سمجھیں۔”
یہ کہہ کر وہ شرم اور ہنسی کے ملے جلے احساس کے ساتھ وہاں سے بھاگتی ہوئی نیچے چلی گئی۔
