No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
میرال کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی۔ نرم روشنی میں جگمگاتا ہوا کمرہ دلہن کے کمرے جیسا سجا تھا-دیواروں پر پھولوں کے ہار، بیڈ پر سجی ریشمی چادر، اور کونے میں رکھے گلابوں کی خوشبو۔ سب کچھ محبت اور شوق سے آراستہ تھا، مگر میرال کے دل میں عجیب سا خوف اور بےچینی تھی۔ وہ اردگرد دیکھ رہی تھی، جیسے اس نئے ماحول میں خود کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہو۔
اچانک دروازہ کھلا۔ سردار اندر آیا۔ میرال کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔ وہ بےساختہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ سردار نے دروازہ بند کیا اور تالہ چڑھا دیا۔ میرال کا دل اور تیز دھڑکنے لگا۔ “جب اجازت کے بغیر کوئی آنے والا نہیں تو دروازہ کیوں بند کیا؟” اس سوال نے اس کے دل میں بےچینی پیدا کی۔
سردار نے اپنا کوٹ اتارا اور قریب پڑے صوفے پر رکھ دیا۔ پھر اس نے اپنی شرٹ کی کف کھولی اور بازوؤں کو کہنیوں تک موڑ لیا۔ میرال کی آنکھوں میں ڈر جھلکنے لگا۔ “کیا یہ مجھ پر ہاتھ ڈالنے والا ہے؟” اس نے سوچا اور اپنے ہاتھ مضبوطی سے ایک دوسرے میں کس لیے۔
سردار نے پلٹ کر میرال کو دیکھا۔ ان کی نظریں ملیں اور میرال فوراً نظریں جھکا گئی۔ سردار آہستہ قدموں سے بڑھا اور بیڈ پر اس کے بالکل سامنے بیٹھ گیا۔ لمحوں تک وہ بس اسے دیکھتا رہا، جیسے اس کی روح کو پڑھ رہا ہو۔ پھر اچانک اس نے ہاتھ بڑھایا اور میرال کے رخسار کو چھوا۔
“بہت حسین لگ رہی ہو۔”
میرال نے جھجکتے ہوئے ذرا سی نظریں اٹھائیں اور پھر فوراً جھکا لیں۔
“کمرے کی سجاوٹ پسند آئی تمہیں؟”
اس بار بھی میرال خاموش رہی۔ سردار نے ایک بھاری سی سانس بھری۔
“کم از کم اب تو جواب دو۔”
وہ اٹھا اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔ میرال مزید سمٹ گئی۔ جیسے ہی اس نے شرٹ اتار کر صوفے پر پھینکی، میرال کے گال لال ہوگئے۔ وہ نظریں اٹھانے کی ہمت نہ کرسکی۔
“میں فریش ہونے جا رہا ہوں۔ میرے بعد تم بھی نہا لینا، گرمی کافی تھی۔”
یہ کہہ کر اس نے تولیہ اٹھایا اور واش روم میں چلا گیا۔
جیسے ہی دروازہ بند ہوا، میرال تھکن سے بستر پر ڈھیر ہوگئی۔ دل کی دھڑکن سنبھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ اس نے دھیرے دھیرے اپنی جیولری اتارنا شروع کی، بالوں کی پِنیں کھولیں، اور دوپٹے کو سمیٹا۔ یہ سب کرتے کرتے پندرہ منٹ گزر گئے۔ اس کے بازو درد کرنے لگے تھے، جیسے ٹوٹ جائیں گے۔
دروازہ کھلا۔ سردار باہر آیا۔ اس کے جسم پر صرف کمر کے گرد لپٹا ہوا تولیہ تھا، دوسرا تولیہ وہ بال سکھانے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ میرال کے ہاتھ کپکپانے لگے۔ اس نے فوراً نظریں جھکا لیں۔ اس کا چہرہ انگور کی طرح سرخ ہوگیا۔
سردار کو اس کی جھجک کی پرواہ نہ تھی۔ وہ الماری کی طرف بڑھا اور وہاں سے کپڑے نکالنے لگا۔ میرال کے دل نے سمجھ لیا کہ اب وہ کیا کرنے والا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ تولیہ نیچے رکھتا، میرال ایک جھٹکے سے اٹھی اور واش روم کی طرف بھاگی۔ اس کی دوڑ دیکھ کر سردار کے ہونٹوں پر ہنسی آگئی۔
واش روم میں میرال نے لمبا شاور لیا، جیسے پانی کے ساتھ اپنے دل کا خوف بھی بہا دینا چاہتی ہو۔ نہانے کے بعد صاف کپڑوں میں باہر نکلی تو دیکھا سردار بیڈ کی ایک سائیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ میرال نے شکر ادا کیا کہ وہ سو چکا ہے۔
اس نے اپنے بالوں سے تولیہ کھولا، اور دبے قدموں سے بیڈ کے دوسری طرف جا کر لیٹ گئی۔ اس نے اپنے ہاتھ مضبوطی سے ایک دوسرے میں جکڑے ہوئے تھے، جیسے کسی طوفان کے انتظار میں ہو۔ دل کی دھڑکن اب بھی بےقابو تھی۔ آنکھیں زور سے بند کیے وہ ہلکی ہلکی کانپ رہی تھی۔
اچانک اسے اپنے بھیگے بالوں میں کسی کی انگلیاں پھرتی محسوس ہوئیں۔ دل رک سا گیا۔
“نور۔”
اس نے گھبرا کر دل پر ہاتھ رکھا اور آہستہ جواب دیا،
“ج… جی۔”
سردار کی آواز میں نرمی تھی۔
“تمہیں مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ایسا کچھ نہیں کروں گا جس کے لیے تم تیار نہ ہو۔ میں اپنا حق تب تک نہیں لوں گا جب تک تم دل سے مجھے قبول نہ کرو۔”
یہ الفاظ میرال کے دل پر جیسے مرہم رکھ گئے۔ اس کے خوف کا بوجھ ہلکا سا ہونے لگا۔ اس نے دھیرے سے کروٹ لی اور سردار کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ آنکھیں جو ہمیشہ سختی اور غرور سے بھری نظر آتی تھیں، آج ان میں نرمی اور سچائی تھی۔
“ارسلان کے ساتھ جب میرا نکاح ہوا تھا…” میرال کی آواز لرزی، “تو وہ اسی وقت اپنا حق جتانا چاہتا تھا۔ گھر مہمانوں سے بھرا تھا۔ پھر اگلے دن مجھے ہوٹل لے گیا۔”
سردار کی انگلیاں ابھی بھی اس کے بالوں میں تھیں۔ اس نے پرسکون لہجے میں کہا،
“میں ارسلان نہیں ہوں۔”
میرال نے نظریں جھکا لیں۔
“لیکن تم ایک مجرم ہو… قاتل ہو۔ اگر تم اچھے انسان ہوتے، اور ہم دونوں صحیح طریقے سے ایک ہوتے… تو شاید آج میں تمہیں قبول کر لیتی۔”
سردار اس کے قریب سرک آیا۔ اس کے لہجے میں ایک عجیب سا یقین تھا۔
“جس دن تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی نا، نور… اس دن میرے سارے گناہ تمہاری نظر میں چھپ جائیں گے۔”
میرال نے بےاختیار اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ان آنکھوں میں اتنی شدت، اتنی بےانتہا محبت تھی کہ وہ خود کو کھو دینے سے ڈر گئی۔ کیا یہ سب حقیقت تھی؟ یا بس ایک دھوکا؟ یہی سوچتے سوچتے میرال کی پلکیں بوجھل ہوگئیں۔ دل کی دھڑکن دھیرے دھیرے مدھم ہوئی اور وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی۔
اگلی صبح سورج کی نرم کرنیں پردوں کے بیچ سے چھن کر کمرے میں داخل ہو رہی تھیں۔ میرال کو یوں لگا جیسے وہ کسی انجانے بوجھ کے نیچے دبی ہو۔ سانس لینا مشکل سا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے بےچینی سے آنکھیں کھولیں تو چونک اٹھی۔
سردار نے اسے اپنی مضبوط بانہوں کے حصار میں لے رکھا تھا۔ اس کا بازو میرال کی کمر کے گرد اس شدت سے لپٹا ہوا تھا کہ جیسے وہ کبھی اسے چھوڑنا ہی نہ چاہتا ہو۔ میرال نے چونک کر ہلنے کی کوشش کی مگر گرفت اتنی سخت تھی کہ وہ پل بھر کو ساکت رہ گئی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
“سردار… سردار چھوڑیں مجھے!”
وہ تقریباً چیخ پڑی۔
سردار کی بھاری پلکیں کھلیں اور اس نے سست روی سے میرال کی طرف دیکھا۔ ایک لمحے کو جیسے وہ سمجھ ہی نہ پایا کہ وہ کیوں پریشان ہے۔ پھر آہستگی سے بازو ہٹایا۔ میرال تیزی سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور اپنے پسلیوں پر ہاتھ رکھ کر لمبی سانس لی۔
“کیا میں نے کہیں بھاگ جانا ہے جو اتنا زور سے جکڑ رکھا تھا؟”
وہ بڑبڑائی، غصے اور جھنجھلاہٹ میں۔
سردار ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کروٹ بدل کر دوبارہ لیٹ گیا۔ جیسے اسے میرال کی ناراضی کی پرواہ ہی نہ ہو۔ لیکن میرال کے لیے یہ لمحہ بہت بھاری تھا۔ وہ فوراً اٹھی اور واش روم میں چلی گئی۔
واش روم میں جا کر اس نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ آنکھوں کے نیچے ہلکے سوجے ہوئے تھے۔ رات بھر کی بےچینی اور نیند کی کمی اس کے چہرے سے صاف جھلک رہی تھی۔ اس نے نل کھولا اور ٹھنڈے پانی کے چھینٹے منہ پر ڈالے۔ پھر لمبا شاور لے کر اپنے دل کی گھٹن کم کرنے کی کوشش کی۔
کچھ دیر بعد وہ تازہ دم ہو کر باہر نکلی۔ ہلکے نیلے رنگ کا سوٹ پہنے، بال سلیقے سے باندھے۔ کمرے میں اب خاموشی تھی۔ سردار کہیں نظر نہیں آیا۔ میرال نے سکون کا سانس لیا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
نیچے ڈرائنگ روم اور راہداریوں میں ملازم اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ کوئی قالین جھاڑ رہا تھا، کوئی برتن سجا رہا تھا۔ سب کے رویے میں میرال کے لیے ایک خاص سی عزت جھلک رہی تھی۔
وہ سیدھی ڈائننگ ہال کی طرف گئی۔ کمرہ کشادہ اور خوبصورت تھا۔ درمیان میں لمبی میز سجی ہوئی تھی۔ جیسے ہی وہ بیٹھی، ایک نوجوان ملازمہ فوراً آگے بڑھی۔
“گڈ مارننگ، مسز سردار! کیا آپ کے لیے چائے یا کافی لے آؤں؟”
میرال نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
“کافی لے آؤ، لیکن بلیک نہ ہو… اور چینی زیادہ ڈالنا۔”
ملازمہ ادب سے جھک کر فوراً چلی گئی۔ میرال نے میز پر رکھا اخبار اٹھایا اور ورق پلٹنے لگی۔ الفاظ پر اس کی نظریں تھیں مگر دماغ کسی اور جگہ بھٹک رہا تھا۔
اسی دوران آہٹ ہوئی۔ آزَلان اندر آیا۔ خوش لباس اور شائستہ سا نوجوان، جو سردار کا چھوٹا بھائی تھا۔ وہ میرال کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔
“گڈ مارننگ بھابھی جی! کیسی ہیں آپ؟”
اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
میرال نے اخبار نیچے رکھ دیا اور نرمی سے جواب دیا،
“میں ٹھیک ہوں… تم کیسے ہو؟”
آزَلان ایک لمحے کو حیران رہ گیا۔ اسے توقع نہیں تھی کہ میرال یوں مسکرا کر بات کرے گی۔
“میں بالکل اچھا ہوں۔ لیکن لگتا ہے کہ بھائی نے آپ کے دل میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔”
میرال کی مسکراہٹ مدھم ہوئی۔ اس نے اخبار دوبارہ تہہ کر کے میز پر رکھ دیا اور سیدھا آزَلان کی آنکھوں میں دیکھا۔
“تمہارے بھائی کے ساتھ یہاں پھنسی تو چکی ہوں۔ اب ہر روز رو کر اپنا دماغ خراب تو نہیں کر سکتی نا۔”
اس کے لہجے میں تلخی اور بےبسی دونوں تھی۔ آزَلان کچھ بول نہ سکا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ عورت بظاہر مضبوط دکھائی دیتی ہے لیکن اندر سے کتنی ٹوٹی ہوئی ہے۔
اتنے میں ملازمہ واپس آئی اور میز پر میرال کے آگے کافی کا مگ رکھ دیا۔
“آپ کی کافی، میم! سر آزَلان، آپ کچھ لیں گے؟”
آزَلان نے انکار میں سر ہلایا۔
“میں بھائی کے ساتھ کھاؤں گا۔”
میرال نے مگ اٹھایا اور آہستہ آہستہ چسکیاں لینے لگی۔ گرم گھونٹ حلق سے اترتے ہی اسے کچھ سکون ملا۔ لیکن یہ سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
دروازہ زور سے کھلا اور صائم اندر آیا۔ وہ Eagle گینگ کا سیکنڈ کمانڈر اور سردار کا قریبی دوست تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے طنزیہ انداز میں کہا:
“اوہ دیکھو تو، کون ہے یہاں؟ ہماری نئی بھابھی!”
میرال نے آنکھیں جھکائیں اور جیسے اس کی موجودگی کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ لیکن صائم کہاں باز آنے والا تھا۔ وہ کرسی کھینچ کر قریب آ بیٹھا۔
“تو کیسی گزری پہلی رات، ٹائیگرس؟”
اس کی آواز میں طنز اور شرارت تھی۔
میرال کے ہاتھ نے مگ کو مضبوطی سے تھام لیا۔ پھر اس نے کپ نیچے رکھا اور سیدھا صاہم کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں سختی اور لہجے میں ٹھہراؤ تھا۔
“میری نجی زندگی میں دخل دینے کی ضرورت نہیں تمہیں۔ تم Eagle گینگ کے سیکنڈ کمانڈر ہو، سردار کے اچھے دوست بھی۔ لیکن میری نظر میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔ اس لیے دوبارہ مجھ سے فضول بات کرنے کی ہمت مت کرنا۔”
اس کی آواز کمرے میں گونج گئی۔ لمحہ بھر کے لیے سب ساکت رہ گئے۔ آزَلان نے چونک کر میرال کی طرف دیکھا، جیسے پہلی بار اس کی اصل شخصیت جھلک رہی ہو۔
میرال نے مگ دوبارہ اٹھایا، ایک گھونٹ لیا، پھر اطمینان سے اٹھی اور باہر کی طرف بڑھ گئی۔ اس کے قدموں کی چاپ کمرے میں گونجتی رہی یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
صائم لمحہ بھر کو سناٹے میں رہا، پھر زبردستی ہنسا اور قریب رکھی ٹوکری سے ایک سیب اٹھا لیا۔
“ہونہہ، بڑی تیز نکلیں بھابھی جی!”
آزَلان نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔
“تم کچھ زیادہ ہی فری ہو گئے تھے۔”
صائم نے کندھے اچکائے اور سیب کاٹ کر کھانے لگا۔
“آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا، دیکھ لینا۔”
آزَلان نے اخبار کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر اس کا ذہن بار بار میرال کے لہجے اور نظروں کی سختی میں الجھ رہا تھا۔ اس گھر کی فضا دن بدن بدل رہی تھی، اور شاید اس تبدیلی کی وجہ صرف ایک عورت تھی- میرال۔
