No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
دوپہر تک میرا چہرہ بالکل ٹھیک ہو چکا تھا۔ شائستہ نے اپنی چائے کا آخری گھونٹ پیا اور دوبارہ میرے پاس آ کر کھڑی ہوگئی۔
“ہُمم… تو آپ کی سوجن بھی ٹھیک ہوگئی، کلینزنگ بھی مکمل ہوگئی۔ اب مجھے آپ کا میک اپ شروع کرنا ہے۔”
میں نے آنکھیں ملتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا۔
“نکاح تو شام کو پانچ بجے ہے… مجھے تھوڑی دیر سونا ہے، ورنہ میرا سر درد سے پھٹ جائے گا۔”
وہ لمحہ بھر کو رُکی، پھر اثبات میں سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے۔ ویسے بھی اگر آپ کچھ دیر سو جائیں گی تو چہرے پر تازگی آ جائے گی۔ آپ سو جائیں، میں دو گھنٹے بعد آ جاؤں گی۔”
میں نے آہ بھری اور جیسے ہی بستر پر لیٹی، میرا سر تکیے سے لگا اور لمحوں میں نیند کی گہری وادیوں میں کھو گئی۔
(دو گھنٹے بعد)
دروازہ کھلنے کی ہلکی سی آواز پر میری آنکھ کھلی۔ شائستہ واپس آ چکی تھی اور اپنا سامان ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ رہی تھی۔
“آپ جاگ گئیں میم؟ آئیں۔”
میں نے واش روم جا کر منہ ہاتھ دھویا اور پھر اس کے سامنے جا بیٹھی۔ وہ نہایت مہارت سے مجھے تیار کرنے لگی۔ دل کی دھڑکنیں تیز تھیں، جیسے ہر لمحہ سینہ پھاڑ کر باہر آ جائیں گی۔
پورے ڈیڑھ گھنٹے بعد جب اُس نے آخری بار آئینے میں میرا عکس دکھایا تو میں ایک مکمل دلہن بن چکی تھی۔
شائستہ نے مسکراتے ہوئے میرے کان کے پیچھے ایک چھوٹا سا کالا تل لگا دیا۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو… آج تو تمہاری خیر نہیں۔”
میں نے اُس کے الفاظ سنے مگر دل کی دھڑکنیں اور بھی تیز ہوگئیں۔ میں جانتی تھی کہ آج سردار رکنے والا نہیں۔ آج وہ اپنی بات منوا کر رہے گا۔
شائستہ کمرے سے چلی گئی اور میں اکیلی، دلہن بنی، ساکت بیٹھی رہ گئی۔
کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلا اور انابیہ اندر داخل ہوئیں۔
“ماشاءاللہ! کتنی پیاری لگ رہی ہو۔” وہ آگے بڑھیں اور میرے سر پر پیار دیا۔
“اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔ میرے سردار کا ہمیشہ خیال رکھنا۔”
میں نے نظریں جھکا لیں۔ دل میں جانے کیسا طوفان مچا ہوا تھا۔
“چلو آ جاؤ، نکاح پڑھانے کے لیے امام صاحب آگئے ہیں۔” انابیہ نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے اٹھا کھڑا کیا۔ ایک ہاتھ سے انہوں نے میرا لہنگا تھوڑا سا سمیٹا اور بڑے پیار سے سہارا دیتی ہوئی مجھے نیچے ہال میں لے آئیں۔
ہال میں سب جمع تھے۔ گھر کے ملازم، سردار کے دوست… سب۔ اُن سب کے بیچ وہ کھڑا تھا۔ کالا ٹکسیدو پہنے، جیسے ہمیشہ دلوں پر راج کرنے کے لیے پیدا ہوا ہو۔
انابیہ نے مجھے سامنے والے صوفے پر بٹھا دیا۔ امام صاحب نے نکاح شروع کیا۔
“میرال نور بنت شفیق احمد، کیا آپ کو یہ نکاح محمد سردار خان سے قبول ہے؟”
میرے لب سلے رہے۔ دل اور دماغ ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟” امام صاحب نے دوبارہ کہا۔
اب بھی میرا جواب نہیں آیا۔ انابیہ نے نرمی سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“میرال… امام صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں۔ جواب دو۔”
میں نے نظریں اٹھائیں اور سردار کو دیکھا۔ ایک آنسو پلکوں سے نکل کر رخسار پر بہہ گیا۔
“قبول ہے۔”
میرے ان الفاظ کے ساتھ ہی پورے ہال میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
پھر امام صاحب نے سردار کی طرف دیکھا۔
“محمد سردار خان، کیا آپ کو یہ نکاح میرال نور بنت شفیق احمد سے قبول ہے؟”
سردار نے بغیر ایک پل ضائع کیے جواب دیا:
“جی، میں نے قبول کیا۔”
ہم دونوں نے نکاح نامے پر دستخط کیے اور امام صاحب دعا پڑھوا کر رخصت ہوگئے۔ اُن کے جاتے ہی دوستوں نے سردار کو گھیر لیا اور مبارک باد دینے لگے۔
میں نے آہستہ سے انابیہ سے کہا کہ مجھے کمرے میں لے چلیں۔ انہوں نے فوراً سر ہلایا اور مجھے اپنے ساتھ اوپر لے آئیں۔ مگر اس بار وہ مجھے میرے کمرے میں نہیں لے گئیں بلکہ دوسری منزل کی طرف بڑھیں۔
“ہم کہاں جا رہے ہیں؟” میں نے ہمت کر کے پوچھا۔
“سردار کے کمرے میں۔ اب تم اُس کی بیوی ہو تو وہیں رہو گی نا۔” انابیہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
انہوں نے کمرے کا دروازہ کھولا تو میں ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گئی۔ کمرہ خوبصورتی سے سجا ہوا تھا۔ چاروں طرف گلاب کی پتیوں کا سمندر بچھا تھا۔ بستر پر بھی گلاب کے پھول جابجا پھیلے ہوئے تھے۔
انابیہ نے آگے بڑھ کر بستر پر سے چند پھول ہٹائے اور مجھے وہاں بٹھا دیا۔
“سردار ابھی تھوڑی دیر میں آ جائے گا۔ اللہ حافظ۔”
یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئیں اور مجھے میری سوچوں کے طوفان میں اکیلا چھوڑ گئیں۔
