No Download Link
Rate this Novel
Episode 07
اگلے دن صبح میں نے خود کو کالج جانے کے لیے تیار کیا۔ ناشتہ کیا اور بھائی مجھے گیٹ تک چھوڑ گئے۔ اندر داخل ہوئی تو میری ساری سہیلیاں مجھے گلے لگانے دوڑ آئیں۔
“او ہو میرال… رونق تو دیکھو چہرے کی، مس سے مسز بننے کے بعد!” وہ سب ہنسنے لگیں اور میں شرما کر مسکرا دی۔ ہم سب کلاس میں گئے اور دن ہنسی مذاق میں بہت اچھا گزرا۔
کالج کے بعد جب میں باہر نکلی تو سامنے ارسلان کھڑا تھا۔ اُسے دیکھ کر میں تھوڑی حیران ہوئی اور آہستہ آہستہ اُس کے قریب چلی گئی۔
“ارسلان؟ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟”
وہ مسکرایا، “تمہیں سرپرائز دینے آیا تھا۔ چلو لنچ کے لیے چلتے ہیں۔”
میرے دل میں عجیب سا کھٹکا سا پیدا ہوا۔
“امم… ارسلان، میں یوں آپ کے ساتھ باہر نہیں جا سکتی، اچھا نہیں لگتا۔”
لیکن اُس نے میری ایک نہ سنی، فوراً میرا بازو پکڑ لیا۔
“شوہر ہوں تمہارا، تمہیں اپنے ساتھ لے جانے کے لیے مجھے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔”
اُس نے میرا بازو کھینچتے ہوئے مجھے گاڑی میں بٹھا دیا۔ میں نے مزاحمت کی مگر وہ نہ مانا۔ خود بھی بیٹھا اور گاڑی چلا دی۔
“اور سناؤ؟ مس کیا مجھے؟”
میں نے شرما کر سر ہاں میں ہلا دیا۔
کچھ دیر بعد اُس نے گاڑی ایک ہوٹل کے سامنے روکی۔ میں نے چونک کر ہوٹل کی طرف دیکھا اور پھر اُس کی طرف۔
“ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟” میں نے گھبرا کر پوچھا۔
وہ مسکراتے ہوئے اترا اور آ کر میرے دروازے کی طرف آیا۔
“یہاں میرا روم ہے۔”
میرے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا،
“ارسلان، پلیز… ہم کسی ریسٹورنٹ چلتے ہیں نا۔”
مگر اُس نے میری کوئی بات سننے سے انکار کر دیا۔ میرا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گیا۔ ہم لفٹ سے چوتھی منزل پر پہنچے۔ اُس نے روم کا دروازہ کھولا اور مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔
میں آہستہ آہستہ اندر آئی۔ کمرہ پھولوں سے سجا ہوا تھا، لیکن میرے دل کی بے چینی ختم نہ ہو رہی تھی۔
“کیسا لگا؟ اچھا ہے نا؟” اُس نے پوچھا۔
میں نے مجبوراً سر ہلایا۔
ارسلان قریب آ کر مجھے اپنی بانہوں میں لے لیا۔
“ارسلان، پلیز… ہم نیچے چلتے ہیں، کھانا کھا لیتے ہیں۔”
لیکن وہ اب بھی مجھے اپنی گرفت میں لیے کھڑا تھا۔ اُس کی آواز بھاری اور ضد سے بھری ہوئی تھی،
“اتنی جلدی کیا ہے؟ کھانا تو روم میں ہی آ جائے گا۔”
میں اُس کے ساتھ پیچھے ہٹ رہی تھی جب اچانک میری کمر دیوار سے جا لگی۔ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ ارسلان جھک کر میری گردن پر بوسے دینے لگا۔
“ارسلان، پلیز نہیں… مجھے گھر جانا ہے، پلیز مجھے چھوڑ دیں…”
میں نے رو کر التجا کی مگر وہ جیسے بہک گیا تھا۔ اُس نے میرے دونوں ہاتھ ایک ہاتھ میں جکڑ لیے اور دوسرے ہاتھ سے مجھے چھونے لگا۔ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“پلیز ارسلان… مت کریں…” میری آواز ٹوٹ رہی تھی۔
لیکن اُس کی شدت بڑھتی گئی۔ جب اُس نے میرے لبوں کو اپنی قید میں لینا چاہا تو میں تڑپنے لگی۔ اسی لمحے اُس کے فون کی گھنٹی بجی۔ وہ چونک کر رکا، جیب سے موبائل نکالا اور مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا.
میرے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ جیسے ہی ارسلان کا فون بجا اور وہ اُس میں الجھ گیا، میں نے موقع غنیمت جانا۔ زمین سے دوپٹہ اٹھایا اور دل زور زور سے دھڑکتے ہوئے کمرے سے باہر بھاگ نکلی۔
ہر قدم پہ یوں لگ رہا تھا جیسے ارسلان پیچھے سے مجھے پکڑ لے گا۔ لفٹ کے دروازے میں قدم رکھا، کانپتے ہاتھوں سے جلدی جلدی بٹن دبایا۔ جیسے ہی لفٹ نیچے پہنچی، میں سیدھی باہر دوڑ پڑی۔ دل حلق میں پھنسا ہوا تھا۔ آنسو دھندلا کر سب منظر دھندلا رہے تھے۔
پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتی رہی کہ وہ آ نہ جائے، اور اسی بھاگ دوڑ میں اچانک میں کسی مضبوط وجود سے جا ٹکرائی۔
سر اٹھایا تو سامنے سردار تھا۔ اُس کے ساتھ سائم اور ایک اور آدمی بھی کھڑے تھے۔
میرے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے دوپٹہ زور سے سینے کے گرد لپیٹا۔ سردار کی نظریں مجھ پر پڑیں اور میں جان گئی کہ میری بکھری ہوئی حالت اُس سے چھپی نہیں رہ سکتی۔ اگلے ہی لمحے اُس نے اپنے شانوں سے بھاری کوٹ اتار کر میرے اوپر ڈال دیا۔
میں اُس کوٹ میں یوں چھپ گئی جیسے کوئی زخمی پرندہ کسی پناہ گاہ میں دبک جائے۔
آواز بمشکل میرے ہونٹوں سے نکلی، “مجھے… گھر لے چلیں… پلیز…”
میری اپنی ہی آواز مجھے اجنبی لگی، اتنی نازک اور لرزتی ہوئی۔
سردار نے کچھ نہ کہا، بس سائم کی طرف دیکھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جانے کیا بات کی، اور پھر سردار نے مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔
میں بھاگتی ہوئی اُس کے ساتھ باہر نکلی۔ ہوٹل کی فضا میرے لئے قید خانے جیسی لگ رہی تھی۔ باہر اُس کی بلیک پراڈو کھڑی تھی۔ سردار نے گارڈ سے چابی لی اور میرے لئے دروازہ کھولا۔
میں دبک کر اندر بیٹھ گئی۔ گھٹنوں کو سینے سے لگایا اور سر جھکا کر اپنے آپ کو جتنا چھپا سکتی تھی چھپانے لگی۔
سردار کی نظریں میرے اوپر محسوس ہو رہی تھیں۔ جیسے وہ میری حالت پڑھ رہا ہو۔ اُس کی گہری آواز میرے کانوں تک پہنچی، “کیا کر رہی تھی وہاں؟ کیا ہوا تمہارے ساتھ؟”
میرے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں نے لرزتی آواز میں کہا،
“کل میرا نکاح ہوا تھا… ارسلان مجھے وہاں لے گیا۔ ابھی میری رخصتی نہیں ہوئی لیکن پھر بھی… وہ کل سے میرے ساتھ تعلق بنانے کی کوشش کر رہا ہے…”
میری بات سن کر اُس کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر مزید سختی سے جم گئے۔ میں نے دیکھا، اُس کی انگلیاں سفید پڑ گئی تھیں۔
لیکن اُس نے کچھ اور نہ پوچھا۔ بس خاموشی سے گاڑی آگے بڑھائی اور میرے سامنے پانی کی بوتل رکھ دی۔
میں نے بوتل پکڑ لی۔ دل تھوڑا سنبھلا مگر سانسیں اب بھی بے قابو تھیں۔
جب گاڑی میرے گھر کے قریب رکی تو میں نے اُس کی طرف دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں سوال بھی تھے اور غصہ بھی، مگر لب خاموش تھے۔
میں نے دھیرے سے کہا، “شکریہ…” کوٹ اتار کر اُس کے ہاتھ میں واپس دیا اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔ قدم بھاری تھے مگر دل میں ایک عجیب سا سکون تھا کہ کوئی تو تھا جس نے مجھے اُس لمحے بچا لیا۔
میں ہوٹل کی لابی میں داخل ہی ہوا تھا کہ اچانک کسی کے بھاگنے کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ اگلے ہی لمحے وہ مجھ سے آ ٹکرائی۔
میرال۔
میں نے اُسے سر سے پاؤں تک دیکھا۔ بال بکھرے ہوئے، آنکھیں روتے روتے سُوجی ہوئی، دوپٹہ سینے سے لپٹا ہوا جیسے خود کو دنیا سے چھپانا چاہتی ہو۔ میرا دل ایک لمحے کو ٹھہر سا گیا۔
کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی، اُس کی حالت سب کچھ بیان کر رہی تھی۔ میرا جبڑا سخت ہو گیا۔ غصے کی لہر دل سے اُٹھی مگر میں نے ضبط کر لیا۔ ابھی اُس کو سنبھالنا زیادہ ضروری تھا۔
بغیر سوچے سمجھے میں نے اپنا کوٹ اتارا اور اُس کے کندھوں پر ڈال دیا۔ وہ اس میں دبک گئی جیسے کوئی ڈری سہمی چڑیا۔
“مجھے گھر لے چلیں… پلیز…” اُس کی لرزتی آواز نے میرا سینہ چیر دیا۔
میں نے سائم کی طرف دیکھا۔ ہماری نگاہوں نے ایک دوسرے سے بات کی۔ میں نے اُسے اشارہ دیا اور میرال کو ساتھ لے کر باہر آ گیا۔
میری گاڑی قریب ہی کھڑی تھی۔ گارڈ سے چابی لی اور اُس کے لئے دروازہ کھولا۔ وہ ایک لفظ کہے بغیر اندر بیٹھ گئی۔ میں بھی ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔
ایک پل کے لئے میں نے اُس کی طرف دیکھا۔ وہ گھٹنوں کو سینے سے لپٹائے بیٹھی تھی۔ اُس کا وجود کانپ رہا تھا، جیسے ٹوٹنے کو ہو۔ میرے اندر کا سارا سکون غائب ہو چکا تھا۔
میں نے آہستہ سے پوچھا،
“کیا کر رہی تھی وہاں؟ کیا ہوا تمہارے ساتھ؟”
میرال کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں نے میرا ضبط آزمایا۔ اُس نے لرزتی آواز میں کہا،
“کل میرا نکاح ہوا تھا… ارسلان مجھے وہاں لے گیا۔ ابھی رخصتی نہیں ہوئی لیکن وہ… کل سے میرے ساتھ تعلق بنانے کی کوشش کر رہا ہے…”
میری سانس رک گئی۔ ہاتھ اسٹیئرنگ پر اتنی شدت سے جکڑے کہ انگلیاں سفید پڑ گئیں۔ اندر سے دل چاہا کہ ابھی واپس جا کر اُس ارسلان کو چیر پھاڑ دوں۔
مگر میرال میرے پاس بیٹھی تھی۔ اُس کی حالت پہلے ہی نازک تھی۔ میں نے ضبط کرتے ہوئے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ بس پانی کی بوتل آگے بڑھا دی۔
سفر کی خاموشی بہت بھاری تھی۔ ہر لمحہ میرے اندر کا غصہ بڑھ رہا تھا، لیکن میں نے اُس کو چھپایا۔ اُس وقت میرال کو تحفظ دینا ضروری تھا، انتقام بعد میں بھی لیا جا سکتا تھا۔
جب گاڑی اُس کے گھر کے باہر رکی تو وہ ذرا سنبھلی ہوئی لگ رہی تھی۔ اُس نے میری طرف دیکھا، آنکھوں میں شکرگزاری تھی۔
“شکریہ…” اُس نے دھیرے سے کہا۔ میرا کوٹ واپس تھمایا اور اندر چلی گئی۔
میں وہیں گاڑی میں بیٹھا دیر تک دروازے کو دیکھتا رہا۔ اندر کا طوفان قابو میں نہیں آ رہا تھا۔ ایک بات واضح تھی—
یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوگا۔
فون پر بات ختم کرتے ہی میں نے پلٹ کر دیکھا تو کمرہ سنسان تھا۔ میرال کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے مجھے یقین ہی نہ آیا۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھا، واش روم چیک کیا، کھڑکی تک گیا—وہ جا چکی تھی۔
میرے ماتھے کی رگیں تن گئیں۔ “یہ لڑکی…” میرے دانت بھینچ گئے۔ دل چاہا سب کچھ توڑ پھوڑ دوں۔
میں نے غصے میں میز پر رکھا گلاس دیوار پر دے مارا۔ شیشے کے ٹکڑے بکھر گئے لیکن میرے اندر کا طوفان ذرا بھی کم نہ ہوا۔
میرال کی آنکھیں یاد آئیں، اُس کی کانپتی ہوئی حالت… اور پھر وہ میرا ساتھ چھوڑ کر بھاگ جانا۔
یہ سوچ مجھے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔
“وہ میری بیوی ہے… میری!” میں نے خود سے بڑبڑایا۔ “کسی کی جرات نہیں کہ اُسے مجھ سے چھین لے۔”
موبائل اٹھایا اور تیزی سے اُس کا نمبر ملایا۔ مگر فون بند جا رہا تھا۔ میں نے غصے میں موبائل بیڈ پر دے مارا۔
میرے اندر ایک جنون سا جاگ اٹھا تھا۔
“تم چاہو یا نہ چاہو میرال… تمہیں میرے پاس آنا ہی ہوگا۔ یہ نکاح کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے۔ تم میری ہو—اور ہمیشہ رہو گی۔”
میں نے سگریٹ جلایا، دھواں کمرے میں بھرنے لگا۔ نگاہوں میں بس میرال کا چہرہ گھوم رہا تھا۔
آج وہ مجھ سے بچ نکلی ہے، مگر زیادہ دیر نہیں۔
گھر پہنچتے ہی میں نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، آنکھوں سے آنسو تھم ہی نہیں رہے تھے۔ کچھ دیر بعد امی کمرے میں آئیں۔ اُن کی نظریں فوراً میرے چہرے پر جم گئیں۔
“میرال… یہ کیسی حالت بنا رکھی ہے تم نے؟ رو کیوں رہی ہو؟” اُن کی آواز فکر سے بھری ہوئی تھی۔
میں خود کو روک نہ سکی۔ سب کچھ ایک ہی سانس میں کہہ ڈالا—کہ کیسے ارسلان مجھے زبردستی ہوٹل لے گیا، کیسے اُس نے میری بات سنی نہیں، اور کیسے وہ میری مرضی کے بغیر میرے قریب آنے کی کوشش کر رہا تھا۔
امی پہلے تو حیران رہ گئیں، پھر آہستہ سے میرے پاس بیٹھ گئیں۔ میرا ہاتھ تھام کر بولیں،
“بیٹا… یہ سب نیا نیا ہے۔ وہ مرد ہے، شوہر ہے تمہارا۔ اُس کی اپنی ضرورتیں ہیں۔ کبھی کبھی مردوں کا طریقہ سخت ہوتا ہے، مگر تمہیں برداشت کرنا سیکھنا ہوگا۔”
میں نے روتے ہوئے کہا، “امی! یہ سب زبردستی ہے… میں تیار نہیں تھی۔”
امی نے میرے آنسو پونچھے اور سمجھانے والے لہجے میں کہا،
“بیٹا، نکاح کے بعد یہی سب ہوتا ہے۔ عورت کو برداشت اور صبر سے چلنا پڑتا ہے۔ اگر تم شور کرو گی یا کسی کو بتاؤ گی تو بات بڑھ جائے گی۔ تمہیں خاموش رہنا ہوگا۔ ارسلان کو وقت کے ساتھ سمجھ آ جائے گا۔”
میں ساکت رہ گئی۔ اندر ہی اندر ٹوٹ رہی تھی۔ لیکن امی کی باتوں نے مجھے مزید خاموش کر دیا۔ میرا دل چاہ رہا تھا چیخوں، سب کو بتاؤں… لیکن زبان پر جیسے قفل لگ گیا تھا۔
دوسری طرف… سردار کی بلیک پراڈو سڑک پر رواں تھی۔ سائم اُس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ دونوں خاموش تھے۔
کچھ دیر بعد سائم نے گہری سانس لی۔
“یہ جو ابھی ہوا ہے… یہ ٹھیک نہیں ہے، سردار۔ اُس لڑکی کی حالت دیکھی تم نے؟”
سردار کے ہاتھ اب بھی اسٹیئرنگ پر سختی سے جمی ہوئی تھے۔
“دیکھا میں نے… اور یہ بھی دیکھا کہ اُس کی آنکھوں میں خوف کس کا تھا۔” اُس کی آواز سرد اور بھاری تھی۔
سائم نے سر ہلایا۔ “یہ سب ارسلان کی حرکت ہے۔ وہ باز نہیں آئے گا۔ آج وہ لڑکی ڈر کر بھاگ گئی ہے، کل وہ اُسے روک بھی نہ سکے گی۔”
سردار کی آنکھوں میں ایک عجیب سا عزم اتر آیا۔
“جب تک میں زندہ ہوں، کوئی اُس لڑکی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ارسلان نے جو کچھ کیا ہے، اُس کا حساب دینا پڑے گا۔”
سائم نے محتاط لہجے میں کہا،
“لیکن یاد رکھو سردار، یہ راستہ آسان نہیں ہوگا۔ ارسلان تمہارا دوست نہیں رہا۔ اب وہ تمہارا مقابل ہے۔”
سردار نے ہونٹ بھینچ لیے، نظریں سڑک پر جمائے رکھیں۔
“دوستی اُس دن ختم ہو گئی تھی جب اُس نے میرال سے نکاح کیا۔ اب یہ ذاتی بات نہیں رہی… یہ عزت کی بات ہے۔”
گاڑی کی رفتار تیز ہو گئی۔ سائم نے سردار کے چہرے کی طرف دیکھا اور سمجھ گیا—یہ معاملہ اب آسانی سے ختم ہونے والا نہیں۔
دروازے پر دستک ہوئی تو میرال کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ امی نے دروازہ کھولا تو سامنے ارسلان کھڑا تھا۔ اُس کے چہرے پر ایک بناؤٹی مسکراہٹ تھی مگر آنکھوں میں کچھ اور ہی تپش چھپی تھی۔
“السلام علیکم خالہ… میں میرال سے ملنے آیا ہوں۔ تھوڑی دیر اُس سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔”
امی نے ایک لمحہ سوچا۔ پیچھے کھڑی میرال نے فوراً اپنی آنکھوں سے منع کرنا چاہا، ہلکے ہلکے سر کو جنبش دی کہ نہیں… مت کیجیے۔ مگر امی نے اُس کا یہ اشارہ نظر انداز کر دیا۔
“ٹھیک ہے بیٹا، جا کر بات کر لو۔”
میرال کے قدم جیسے زمین سے جڑ گئے تھے۔ ارسلان بغیر اجازت سیدھا اُس کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ مجبوراً میرال بھی پیچھے چل پڑی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اُس نے پوچھا، “کیا بات کرنی ہے آپ کو، ارسلان؟”
ارسلان نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ “اُسے بند کر دو۔”
میرال نے پلٹ کر دروازے کو دیکھا، پھر اُس کی طرف نظریں ڈالیں۔ “دروازہ بند نہیں ہوگا، ارسلان۔ آپ کو جو بات کرنی ہے ایسے ہی کریں۔”
ارسلان آہستہ آہستہ اُس کے قریب آ گیا۔ اُس کی نظریں بھاری اور سانسیں تیز تھیں۔
“دیکھو میرال… میں تمہارا شوہر ہوں۔ میرا حق ہے تم پر۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میری محبت کو سمجھو۔ تمہیں یہ جاننا ہوگا کہ میں تمہارے لیے کیا محسوس کرتا ہوں۔”
میرال کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ آواز لرز رہی تھی۔
“ابھی ہماری رخصتی نہیں ہوئی… اور مجھے آپ سے ڈر لگ رہا تھا۔ آپ نے میری ایک نہ سنی۔ اگر وہ فون نہ آتا تو آپ میرے ساتھ کیا کرتے؟”
ارسلان نے اُس کے قریب جھکتے ہوئے کہا،
“تم پر میرا حق ہے، میرال۔ تم میری بیوی ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ میں تم سے حق لینے کے بعد تمہیں چھوڑ دوں گا۔”
میرال نے ہمت جُٹا کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“آپ کو آپ کے سارے حق رخصتی کے بعد مل جائیں گے۔”
ارسلان کے لبوں پر ایک سرد مسکراہٹ اُبھری۔ وہ جھک کر اُس کے کان کے قریب آ کر سرگوشی میں بولا،
“تو پھر تیاری کرو… پرسوں ہی ہماری رخصتی ہوگی۔”
میرال چونک کر اُس کی طرف دیکھنے لگی۔ “لیکن میں ابھی پڑھ رہی ہوں…”
ارسلان زور سے ہنسا، اُس کی ہنسی میں ضد اور بے رحمی دونوں شامل تھے۔
“اب تمہیں جو بھی کرنا ہے… شادی کے بعد ہی کرنا۔”
یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ میرال کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ وہ بستر کے کنارے بیٹھ گئی، اور اُس کے آنسو تکیے کو بھگو گئے۔
)دو دن بعد)
میرال اپنے کمرے میں بیٹھی تھی، آنکھوں سے بہتے آنسو ابھی رُکے نہ تھے۔ اتنے میں اس کی امی اندر آئیں اور اُسے روتا دیکھ کر فوراً گلے سے لگا لیا۔
“امی… وہ پرسون رخصتی چاہتے ہیں۔” میرال ہچکیوں کے ساتھ بولی۔ “میں اپنی پڑھائی پوری کرنا چاہتی ہوں۔”
امی نے اُس کا ماتھا چوما اور نرم لہجے میں کہا:
“بیٹی، اگر اُس نے کہا ہے کہ وہ تمہیں پڑھنے دے گا تو یقیناً ایسا ہی ہوگا۔ تم جانتی ہو نہ اپنی خالہ کو؟ وہ تم سے کتنا پیار کرتی ہیں، اِن شاء اللہ وہ اس بات پر کبھی گِلہ نہیں کریں گی۔”
امی کے الفاظ پر میرال نے سکون کا سانس لیا اور دوبارہ اُن کے گلے لگ گئی۔ اُس نے آنکھیں بند کر لیں جیسے کچھ دیر کے لیے دنیا کی ساری پریشانیوں سے آزاد ہو جانا چاہتی ہو۔
جب یہ بات سکندر صاحب تک پہنچی تو انہوں نے فوراً رخصتی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ ارسلان کی خواہش کے مطابق کسی بڑی رسم کا اہتمام نہیں کیا گیا بلکہ صرف قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو مدعو کیا گیا۔ فیصلہ ہوا کہ ولیمہ بڑی دھوم دھام سے کیا جائے گا۔
دوسری جانب، میرال کے لیے جہیز اور زیورات آ چکے تھے۔ اُس کی سہیلیاں اُسے تیار کر رہی تھیں۔ آج کے دن اُس کے چہرے پر اداسی کی بجائے ہلکی سی خوشی کی جھلک تھی۔ اُسے اطمینان تھا کہ خالہ نے شادی کے بعد بھی پڑھائی جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔ اب وہ دل سے مطمئن تھی کہ کسی غلط فہمی یا زبردستی کے بغیر وہ ارسلان کی ہو جائے گی اور اُسے اُس کے سارے حقوق دے سکے گی۔
شام کو گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہال میں چہل پہل اور رونق تھی۔ کھانے کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ دسترخوان سجا ہوا تھا اور سب مہمان کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میرال بھی سب کے درمیان موجود تھی۔ اُس کی سہیلیاں اُس کے گرد تھیں اور ہنسی مذاق کر کے اُس کا دل بہلا رہی تھیں۔
جیسے ہی میں آرام کرنے کے لیے پیچھے ٹیک لگاتی ہوں، ٹائروں کے چرچرانے کی آواز سنائی دی۔ میرا سر جھٹکے سے دروازے کی طرف مُڑا اور میں فوراً صوفے سے اٹھ گئی۔ اچانک ہر طرف سناٹا چھا گیا جیسے میں کسی قبرستان میں کھڑی ہوں۔ اس خاموشی نے میرے دل میں عجیب سا خوف بھر دیا۔
میں بھاگتی ہوئی ڈرائنگ روم کی طرف پہنچی جہاں سب بیٹھے تھے اور وہاں سردار کو دیکھا جو بابا کی طرف بڑھ رہا تھا جبکہ اس کے آدمی دروازے کے پاس کھڑے تھے۔ اس کا چہرہ غصے سے بھرپور تھا کہ میرا قدم خودبخود پیچھے کو ہٹ گیا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ٹکرائیں میرا سانس رک گیا اور اگلے لمحے وہ بابا کو کالر سے پکڑ چکا تھا۔
کمرے میں موجود تمام مرد اس کی طرف بڑھنے لگے لیکن ان کے قدم اس وقت تھم گئے جب سردار کے آدمیوں نے اپنے ہتھیار نکال لیے۔ وہاں بندوقیں زیادہ تھیں اور لوگ کم۔
سردار نے بابا سے کچھ بُڑبڑایا اور پھر زور سے اُنہیں صوفے پر دھکیل دیا۔ میرا چیخنا گلے میں ہی اٹک گیا اور میں فطری طور پر بابا کی طرف دوڑی۔ لیکن چند قدم ہی اُٹھائے تھے کہ کسی نے مجھے کھینچ کر بھائی کے پیچھے چھپا دیا۔
“اُسے میرے حوالے کرو۔” سردار نے غراتے ہوئے کہا۔ بھائی کی طرف سے ہلکی سی نفی ہی جواب بنی۔ سردار کے ایک آدمی نے پہلے ہی خواتین کو بابا کے کمرے میں لے جا کر بند کر دیا تھا۔ اب میں ہی واحد عورت بچی تھی۔
“میں نے کہا اُسے میرے حوالے کرو۔” اس بار اُس نے اپنی کمر سے بندوق نکال لی۔ میں نے ہڑبڑا کر سانس کھینچا اور بھائی کو خود سے ہٹانے یا پیچھے ہٹنے کی کوشش کرنے لگی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے مگر ایک بات طے تھی کہ میں کسی کو زخمی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
اچانک گولی کی آواز گونجی اور بھائی دائیں طرف گر گیا۔ اُس کی ٹانگ سے خون بہنے لگا۔
“بھائی۔۔۔!” میں چیخ کر اُس کی طرف جھکی ہی تھی کہ کسی نے مجھے جھٹکے سے پیچھے کھینچ لیا۔
میرے پیچھے ایک سخت اور گرم جسم کا لمس آیا۔ سردار۔ یہ اس کا سینہ تھا جو میری پیٹھ سے لگا ہوا تھا۔ اُس کی خون آلود آنکھیں سیدھی مجھے گھور رہی تھیں۔ میں نے چھٹکارا پانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے مگر سب بے سود تھا۔
“اُسے چھوڑ دو، سردار!” ارسلان کی آواز نے مجھے جھنجھوڑ کر حقیقت میں واپس کھینچا۔
سب کچھ دھندلا سا محسوس ہونے لگا۔ دماغ سُن، قدم کانپنے لگے۔ اچانک ایک ہاتھ، جس میں بندوق تھی، میری نظر کے سامنے آیا۔ اگلے لمحے ارسلان زمین پر گرا پڑا۔
میرا وجود جیسے بے جان ہو گیا۔ چیخ و پکار، دوڑتے ہوئے جسم، خون۔۔۔ گہرا سرخ خون ارسلان کے سینے سے بہہ رہا تھا۔
وہ بالکل بھی نہیں ہِل رہا تھا۔
“ا-ارسلان…” میری آواز مدھم سی نکلی۔ میں نے اُس کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی تو سردار کی گرفت میری کمر پر مزید سخت ہوگئی۔
“شش! اچھی لڑکی بنو اور چُپ چاپ رہو۔ ورنہ اگلا تمہارا بھائی ہوگا۔” اُس کی آواز ہمیشہ کی طرح پرسکون تھی۔
میں نے مزاحمت روک دی تو اُس نے فوراً حکم دینا شروع کر دیے۔
“میں اُسے لے جا رہا ہوں۔ باقی سب کا خیال رکھو۔ اور اگر کسی نے ہوشیاری دکھائی۔۔۔” وہ رُکا، “تو اُسے مار دینا۔”
“نہیں۔۔۔!” میں نے اپنی آخری ہمت جمع کر کے چیخا۔
اچانک میرے گلے کے پچھلے حصے پر ایک سخت ہاتھ پڑا اور اُس کے بعد ہر چیز تاریکی میں ڈوب گئی۔
اندھیرا۔۔۔ میں صرف اندھیرا ہی محسوس کر رہی تھی۔ میں جاگ رہی تھی مگر اپنی آنکھیں کھولنے کے قابل نہ تھی۔ آہستہ آہستہ جب میری تمام حواس واپس آنے لگے تو مجھے لگا کہ میں ایک آرام دہ جگہ پر لیٹی ہوں۔ میرے نیچے نرم سطح تھی۔ شاید بستر تھا۔ لیکن۔۔۔ میرا بستر ہمیشہ اتنا نرم تھا کیا۔۔۔؟
تین چار منٹ کی جدوجہد کے بعد آخر کار میری آنکھیں کھل گئیں اور جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ میرے اردگرد کا ماحول اجنبی ہے۔ گھبراہٹ میں میں نے اچانک اٹھنے کی کوشش کی لیکن یکدم چکر آنے پر دوبارہ بستر پر گر گئی۔
میں نے خود کو پرسکون کرنے کے لیے کئی گہری سانسیں لیں۔ اس وقت گھبراہٹ کوئی حل نہیں تھی۔ خود کو سہارا دے کر میں بیٹھنے میں کامیاب ہوئی اور اسی لمحے میری نظر اپنی حنا لگے ہاتھوں پر پڑی۔ اس لمحے سب کچھ میرے دماغ میں چمک گیا۔ میری رخصتی۔۔۔ سردار۔۔۔ اور ارسلان۔
یا اللہ۔۔۔ ارسلان!
میری سانسیں تیز ہو گئیں اور میں فوراً بستر سے اترنے لگی مگر جیسے ہی ایک بھاری مردانہ آواز کانوں میں پڑی، میں رک گئی۔
“اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو ایسا نہ کرتا۔”
میرا سر جھٹکے سے اُس آواز کے سمت گھوما اور میں نے سردار کو ایک آرم چیئر پر بیٹھے دیکھا۔ پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور روشنی کا واحد ذریعہ اُس کے قریب رکھی ایک ٹیبل لیمپ تھا۔
“تم!” میرے ہونٹوں سے زہر بھری سرگوشی نکلی۔
وہ نہ بولا، نہ اپنی جگہ سے ہلا۔ بس وہیں بیٹھا میری طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے تیوری چڑھاتے ہوئے اُس کی نظر کا تعاقب کیا اور جیسے ہی دیکھا کہ میں آدھی آستین کی جسم سے چپکی ہوئی ٹی شرٹ اور شلوار پہنے بیٹھی ہوں، میرے اندر گھبراہٹ دوڑ گئی۔ میں فوراً دوبارہ بستر پر بیٹھ گئی اور گھبرا کر بیڈ اسپرڈ اپنے اوپر تان لیا۔
مجھے اب بھی اُس کی نظر اپنے وجود پر محسوس ہو رہی تھی۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں ننگی بیٹھی ہوں۔ میں نے کبھی ایسے کپڑے اپنے باپ اور بھائی کے سامنے تک نہیں پہنے تھے۔ میرے بال بھی کھلے ہوئے تھے اور میرے پاس کوئی دوپٹہ بھی نہ تھا جس سے میں خود کو ڈھانپ لیتی۔
لیکن۔۔۔ کپڑے کس نے بدلے۔۔۔؟
“میرا لباس کس نے بدلا؟” میں نے جتنا سخت لہجہ بنا سکتی تھی، بنا کر پوچھا۔
“کیا یہ ظاہر نہیں ہے؟” اُس نے کہا، اپنی جگہ سے ہلے بغیر۔
کیا۔۔۔؟
جب میں نے اُس کے مطلب کو سمجھا تو میرا دل دہل گیا۔ میں اور بھی گہرائی میں بستر کے اندر سمٹ گئی اور بیڈ اسپرڈ کو مزید سختی سے لپیٹ لیا۔
“ت-تم جھوٹ بول رہے ہو۔” میری آواز بمشکل نکلی اور آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
وہ اپنی کرسی سے اٹھا اور میری طرف بڑھنے لگا۔
“میرے قریب مت آنا۔” میرا جسم خوف سے کانپنے لگا۔
