Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

بغیر کچھ کہے وہ بستر کے کنارے آ کر کھڑا ہوگیا، اُس کا وجود میرے اوپر سایہ کر رہا تھا۔ میں نے دوسرے کونے کی طرف سرکنے کی کوشش کی لیکن اُس نے میرا بازو پکڑ کر مجھے واپس اپنی طرف کھینچ لیا۔

“مجھے ہاتھ مت لگاؤ!” میں چیخ اٹھی۔

“ششش!… ڈرو مت… تمہارے کپڑے میں نے نہیں بدلے۔ وہ سائمہ اور ایک نوکرانی تھی۔” اُس نے کہا اور میرا بازو چھوڑ دیا۔

میرا جسم لمحہ بھر کے لیے ڈھیلا پڑ گیا مگر اگلے ہی لمحے پھر اکڑ گیا جب اُس نے میرے بالوں کو چھوا۔ وہ جھک کر میرے قریب آیا، اپنا دایاں ہاتھ میرے دوسرے طرف رکھ کر مجھے جیسے قید کر لیا۔ اُس کی نظریں میرے چہرے کو بھید رہی تھیں اور میرے پاس پیچھے ہٹنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔

“سچ بتاؤ، کیا اُس لڑکے ارسلان نے اُس کے بعد کبھی تمہیں چھوا تھا؟”

میری سانسیں پھنس گئیں، اُس کا خیال آتے ہی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“بتاؤ!” اُس نے سرگوشی کی۔

“اگر میں ہاں کہہ دوں تو…؟” میں نے جواب دیا۔ اُس نے میرے بال سختی سے جکڑ لیے مگر اگلے ہی لمحے فوراً چھوڑ بھی دیے جیسے وہ عمل بے اختیاری میں ہوا ہو۔

“اللہ کی قسم، میں اُس کے خاندان کے ایک ایک فرد کو مار ڈالوں گا۔”

میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا مگر اُس نے مجھے روک دیا۔

“اگر تم جھوٹ بولنے کا سوچ رہی ہو کہ ‘نہیں’… تو مت کہنا۔ کیونکہ جلد یا بدیر مجھے سچائی خود پتہ چل جائے گی اور پھر میں تمہارے خاندان کے ایک ایک فرد کو بھی ختم کر دوں گا۔”

میرا حلق خشک ہوگیا۔

“تو پھر آپ چاہتے کیا ہیں، میں کیا کہوں؟”

“سچ… جو بھی ہو۔”

“نہیں۔”

اُس کے تناؤ بھرے پٹھے ڈھیلے پڑ گئے اور اُس کی آنکھوں کی سختی کم ہوگئی۔

“اچھا ہے۔” اُس نے کہا اور سیدھا کھڑا ہوگیا۔

“چلو، میں نے تمہارے لیے کھانا منگوایا ہے۔”

“مجھے گھر جانا ہے… مجھے جاننا ہے کہ ارسلان…” میری آواز رُک گئی۔

“وہ لڑکا اُسی وقت مر گیا جب میں نے اُس پر گولی چلائی تھی، اور آج اُس کا جنازہ تھا۔ تمہارا بھائی… وہ ہسپتال میں ہے—ابھی زندہ ہے… اور چھٹی ہونے والی ہے۔ لیکن تم… تم وہاں کبھی نہیں جاؤ گی۔ اور کچھ پوچھنا ہے؟”

میں نے اُسے بے یقینی سے گھورا۔ کس آسانی سے اُس نے یہ سب کہا تھا!

“تم ایک عفریت ہو… تم نے میرے شوہر کو مار ڈالا… وہ یہ ڈیزور نہیں کرتا تھا… ہم میں سے کوی بھی یہ نہیں ڈیزور کرتا تھا… اُس نے تمہارا آخر کیا بگاڑا تھا…؟ تم نے اُسے کیوں مارا؟!” میری چیخ پورے کمرے میں گونج گئی۔

اگلے لمحے بیڈ اسپرڈ میرے اوپر سے کھینچ لیا گیا۔ اُس نے میرے دونوں بازو پکڑے اور مجھے اپنے قریب کھڑا کر دیا۔

“آواز نیچی رکھو ورنہ مجھے خود نیچی کرنی پڑے گی، اور مجھے یقین ہے تمہیں یہ طریقہ پسند نہیں آئے گا… اور اُس نے یہ اپنے ساتھ خود کیا تھا! جس دن اُس نے سوچا کہ وہ میرا حق چھین سکتا ہے، اُسی دن اُس نے اپنی موت پر مہر لگا دی۔ تمہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ میں نے صرف اُسے مارا اور تمہارے باپ اور بھائی کو چھوڑ دیا… اب خاموشی سے آؤ اور کھانا کھاؤ۔”

“مجھے ہاتھ مت لگاؤ…” میں اُس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی، “شاید تم نے ارسلان کو مار ڈالا ہے، لیکن میں ابھی بھی اُس کے نام سے بندھی ہوں جب تک میری عدت مکمل نہیں ہوتی۔ اور میں کسی غیر محرم کے سامنے نہیں آ سکتی۔ مجھے گھر جانا ہے۔”

اُس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ نکلنا ناممکن تھا۔

“ہونہہ!… تم سمجھتی ہو میں ان باتوں کی پرواہ کرتا ہوں جب میں لوگوں کو قتل کر کے گھومتا ہوں؟” اُس نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔ “تمہارے لیے ایک خبر ہے، میں اچھا انسان نہیں ہوں۔”

یہ کہہ کر اُس نے مجھے اپنے کندھے پر ڈال لیا۔ میرے سارے گھونسے اور لاتیں بے اثر ثابت ہوئیں۔ وہ مجھے کمرے سے باہر لے گیا اور ایک صوفے پر بٹھا دیا۔ سامنے ایک پیزا باکس رکھ کر حکم دیا:

“کھاؤ۔”

“نہیں۔” میں نے سختی سے جواب دیا۔

وہ جھک کر میرے سامنے بیٹھ گیا اور گہری سانس لی۔

“سنو نور، تم واقعی میری برداشت ختم کرنے لگی ہو۔ اور میں اچھا نہیں ہوتا جب غصے میں ہوتا ہوں۔ تو بہتر یہ ہے کہ تم کھا لو تاکہ یہ مسئلہ ختم ہو۔”

“میں نہیں کھاؤں گی۔” میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

وہ اپنا چہرہ ایک طرف موڑ گیا جیسے خود کو کسی بات سے روک رہا ہو۔ پھر اچانک میرے قریب جھک آیا اور بولا:

“چلو یہ طریقہ آزما کر دیکھتے ہیں… اگر تم نے ایک منٹ میں کھانا شروع نہ کیا تو میں تمہیں چوم لوں گا… پھر دیکھتے ہیں تم اپنی عدت کیسے پوری کرتی ہو۔”

میں فوراً پیچھے ہٹ گئی۔

“تم ایسا نہیں کرو گے۔” میں نے کانپتی آواز میں کہا۔

“بس ایک منٹ انتظار کرو، پھر خود ہی جان جاؤ گی۔” اس نے لاپرواہی سے کہا، اپنی گھڑی کی طرف اشارہ کیا اور دوسرے صوفے پر جا بیٹھا۔

“یا اللہ… میں کیا کروں؟”

میرے آنسو گالوں پر بہنے لگے جب میں نے پیزا باکس کی طرف دیکھا۔

“اپنے آنسو بعد کے لیے بچا کے رکھو۔” اس کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔

کانپتے ہاتھوں سے میں نے ڈبہ کھولا اور پیزا کا پہلا نوالہ لیا۔

“یا اللہ… مجھے یہاں سے نکال دے…”

میں ایک ٹکڑا کھانے کے بعد مزید نہ کھا سکی اور اپنے آنسو بھی روک نہ پائی۔ میرا دماغ بار بار ماضی کے تمام واقعات کو آنکھوں کے سامنے دہرا رہا تھا۔ کھانے کے بعد میں وہیں گھٹنوں کو سینے سے لگا کر بیٹھی رہی۔ وہ میرے سامنے والے صوفے پر بیٹھا مجھے گھور رہا تھا مگر ایک لفظ تک نہ بولا۔

“بائیں طرف جاؤ۔ کونے سے دوسرا کمرہ تمہارا ہے۔ تمہاری تمام ضروریات وہاں موجود ہیں۔ استعمال کر سکتی ہو۔” اس نے کہا اور اٹھ گیا۔

“م-میں گھر جانا چاہتی ہوں۔ پلیز… مجھے گھر جانے دو۔” میں نے ہچکیوں کے بیچ التجا کی۔

میں نے اس کے لمبے سانس لینے کی آواز سنی، “وہ جگہ بھول جاؤ۔ تم وہاں واپس نہیں جاؤ گی۔ یہ تمہارا گھر ہے، اب سے۔”

“نہیں… نہیں پلیز یہ مت کہو۔ میں اپنے گھر والوں کے پاس جانا چاہتی ہوں۔ میں یہاں نہیں رہنا چاہتی۔” میں نے زور سے سر ہلایا۔

“تم یہیں رہو گی، میرے گھر میں، میرے ساتھ۔” اس نے حتمی لہجے میں کہا اور چلا گیا۔

میں خلا میں گھورتی بیٹھی رہی، پھر اس کمرے میں چلی گئی جس کا اس نے ذکر کیا تھا۔ مجھے نماز پڑھنی تھی، میں پہلے ہی کئی نمازیں چھوڑ چکی تھی۔ گھسٹتے ہوئے خود کو باتھ روم میں لے گئی، نہایا اور عام کپڑوں میں بدل گئی۔ جیسے ہی نماز پڑھنے کے لیے جگہ کی طرف بڑھی، اچانک چکر آنے لگے۔ میں نے خود کو سنبھالنے کے لیے جلدی سے فرش پر بیٹھ گئی، مگر اگلے ہی لمحے سب کچھ اندھیرا ہوگیا۔

(بیسمینٹ میں)

“کمزور چال نہیں تھی یہ؟” ازلان نے کہا جب میں نے وہ کاغذات پھینک دیے جو اس نے مجھے دیے تھے۔

“یقیناً، کمزور تھی۔” میں نے مان لیا۔

“خیر، یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا پلان ناکام ہوا لیکن شیرنی کو دیکھ کر… میرے کچھ اور ہی خیالات ہیں۔” سائم نے کہا جو میرے دائیں طرف صوفے پر بیٹھا تھا۔

“بھابھی کیسی ہیں؟” ازلان نے سائم سے پوچھا۔

“ناراض۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ہم اسے اس سے بہتر طریقے سے ہینڈل کر سکتے تھے… لیکن الزام دینے میں وہ حق بجانب ہیں کیونکہ پورا معاملہ کسی کو نہیں پتا۔”

“اگر اس کے بوڑھے باپ نے کبھی عقل استعمال کی ہوتی تو یہ سب نہ ہوتا۔” میں نے بھاری آواز میں کہا۔

“بھائی، کیا وہ اکیلی ٹھیک رہیں گی؟” ازلان نے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“فی الحال اسے اکیلا چھوڑ دینا بہتر ہے۔” میں نے کہا۔

“میں بھی متفق ہوں۔ میں ساٸمہ کو اس کے پاس نہیں جانے دے سکتا، وہ اسے اس حال میں نہیں دیکھ سکتی۔ اگر وہ دونوں مل گئیں تو ممکن ہے کوئی بڑی غلطی کر بیٹھیں۔” سائم نے تائید کی۔

“ازلان، تم تیسرے فلور پر 24/7 رہو گے۔ اگر میں موجود نہ ہوا تو نور کی ذمہ داری تم پر ہوگی۔ اور سائم، تم گھر جاؤ… ان کی ہر حرکت پر نظر رکھو۔ لگتا ہے وہ ہمیں ہلکا سمجھ بیٹھے ہیں۔ انہیں یقین دلا دو کہ انہوں نے غلط آدمی سے پنگا لیا ہے۔”

تھوڑی دیر نعد میں صوفے پر اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔ کمرے میں ایک سنّاٹا چھایا ہوا تھا۔ میں نے جیب سے سگریٹ نکالا اور لبوں تک لے جا ہی رہا تھا کہ اچانک دل میں ایک عجیب سی بےچینی جاگی۔ میرال کو دیکھنے کی خواہش بےقابو ہو کر میرے اندر سے ابھری۔

میں نے سگریٹ واپس جیب میں رکھا اور قدم اُٹھا کر اُس کے کمرے کی طرف چل دیا۔ دروازے پر جا کر ہلکی سی دستک دی، لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ دل میں گھبراہٹ سی محسوس ہوئی۔ میں نے آہستگی سے دروازہ کھولا اور اندر قدم رکھا۔

سامنے کا منظر دیکھ کر میرا دل تھم گیا۔ وہ زمین پر گری ہوئی تھی۔ میں لپک کر اُس کی طرف بڑھا اور اُسے بازوؤں میں اُٹھا کر بستر پر لٹایا۔ اُس کی سانسیں مدھم تھیں۔ میں نے اُس کا دوپٹہ ڈھیلا کیا تاکہ وہ آسانی سے سانس لے سکے۔ آہستہ آہستہ اُس کی پلکیں لرزیں اور اُس نے آنکھیں کھول دیں۔

اُس کی نظریں مجھ پر پڑتے ہی اُس نے خود کو مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی لیکن اُس کی کمزوری نے اُسے روکے رکھا۔ میں نے دھیمے لہجے میں کہا:

“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔”

میں نے گہرا سانس لیا اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:

“میں یہاں سے جا رہا ہوں۔ جب تک تمہاری عدّت باقی ہے، میں تمہارے سامنے نہیں آؤں گا۔ کیونکہ تمہیں پانے کی چاہت کسی بھی وقت میرے دل میں جاگ سکتی ہے… اور میں خود کو روک نہیں سکوں گا۔”

میرے الفاظ بھاری تھے، مگر سچائی اُن میں چھپی ہوئی تھی۔

“پاگل تو میں ہی تھا… جس نے اُس وقت تمہیں اپنا نام نہ دیا جب دل نے تم سے محبت کی تھی۔ اگر ایسا کیا ہوتا تو آج تم میری بیوی ہوتیں۔ لیکن وہ وقت بھی آئے گا۔ چار مہینے اور دس دن بعد… میں واپس آؤں گا۔ اُس وقت تم مجھ سے نکاح کرو گی—بغیر کسی شکایت کے۔”

وہ آدھی کھلی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ اُس کے چہرے پر کمزوری تھی مگر اُس کی خاموشی میں ایک اعتراف چھپا تھا۔ میں نے آخری بار دھیرے سے کہا:

“تم جانتی ہو نا… میں تم سے پیار کرتا ہوں، نور۔ اور تمہارے سوا مجھے کچھ نہیں چاہیے۔”

اُس نے آنکھیں بند کیں اور ہلکا سا سر ہلایا۔ شاید وہ پوری طرح ہوش میں نہ تھی، لیکن میری محبت سے واقف ضرور تھی۔

میں نے ایک لمحہ اُسے دیکھا، پھر آہستگی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ باہر آ کر میں نے فون نکالا اور سائم کو کال ملائی۔ جیسے ہی اُس نے فون اٹھایا، میں نے اُسے اپنے پورے پلان کے بارے میں بتا دیا۔

(دو مہینے بعد)

دو مہینے گزر چکے تھے۔

وہ Miral جو کبھی ہنستی کھیلتی تھی، اب ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی تھی۔ اُس کے چہرے کی رونق ماند پڑ گئی تھی، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اُبھر آئے تھے اور لبوں کی مسکراہٹ کہیں گم ہو گئی تھی۔

اس دن بھی وہ اپنے کمرے میں خاموش بیٹھی تھی۔ کمرے میں اندھیرا سا چھایا ہوا تھا جب اچانک دروازہ چرچراتے ہوئے کھلا۔ اندر Saima آئی۔ اُس نے Miral کو دیکھا تو پیشانی پر بل ڈالے قریب آئی۔

“کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ دوبارہ رو رہی ہو میرال؟ ” Saima کے لہجے میں بےچینی تھی۔

میرال نے چونک کر اپنے گال چھوئے تو اُس کی  انگلیاں نم ہوئیں۔ اُس نے دھیمی آواز میں کہا:

“حیرت ہے… مجھے تو پتا بھی نہیں چلا کہ میں رو رہی ہوں۔”

صایمہ اُس کے پاس آ کر بیٹھ گئی ، اُس کے کندھے پر  ہاتھ رکھا۔

“بس کرو اب، میرال۔ تم بیمار لگ رہی ہو۔ خود کو کمزور مت کرو۔ دیکھو، Sardar تم سے محبت کرتا ہے۔ Arslan کو اُس نے کیوں مارا، یہ تمہیں وہ خود بتا دے گا، لیکن تمہیں اب اپنے لیے مضبوط ہونا ہوگا۔ اُس شخص کی قدر کرو جو تم سے بےپناہ محبت کرتا ہے۔”

یہ کہہ کر Saima کھڑی ہوئی اور بغیر Miral کے جواب کا انتظار کیے کمرے سے نکل گئی۔

میرال آہستہ آہستہ کھڑی ہوئی اور کھڑکی کی طرف بڑھ گئی۔ اُس نے کھڑکی کے پٹ کھول دیے۔ تاز  ہوا کے جھونکے اُس کے چہرے سے ٹکرائے۔ اُس نے آنکھیں بند کر لیں جیسے کچھ لمحے سکون تلاش کر رہی ہو۔

مگر اگلے ہی پل اُس کے جسم میں زوردار چکر سا آیا۔ اُس کا توازن بگڑا اور وہ کھڑکی کے کونے سے لڑکھڑا کر نیچے جا گری۔

میرال کا جسم زور سے زمین سے ٹکرایا۔ لمحہ بھر کے لیے یوں لگا جیسے اُس کی ہڈیاں چکنا چور ہوگئی ہوں۔ کمر کے نچلے حصے اور سر میں ایسی تیز درد کی لہر اٹھی کہ سانس تک رک گئی۔

اُس کے لب کپکپائے، لیکن کوئی آواز باہر نہ نکل سکی۔ وہ بےحد تکلیف میں تھی، مگر حلق سے ایک سسکی تک نہ نکلی۔ اُس کی آنکھوں کے کونے سے آنسو بہنے لگے، لیکن زبان جیسے پتھر کی طرح جم گئی تھی۔

جسم میں حرکت کرنے کی ہمت نہ تھی۔ ہاتھ ہلانے چاہے تو یوں لگا جیسے وزنی پتھر باندھ دیے گئے ہوں۔ سانس لینے میں دشواری، دل کی دھڑکن بےترتیب، اور آنکھوں کے سامنے دھندلا اندھیرا چھاتا جا رہا تھا۔

وہ پوری شدت سے درد برداشت کر رہی تھی، مگر بےبسی کی انتہا یہ تھی کہ مدد کے لیے پکار بھی نہ سکی۔ صرف اُس کے کانوں میں اپنے ہی دل کی دھڑکن گونج رہی تھی، پھر آہستہ آہستہ سب آوازیں معدوم ہوتی گئیں، اور وہ مکمل بےہوشی کے اندھیروں میں ڈوب گئی۔