Andheron Ka Sodagar by Zara Noor Readelle50225

Andheron Ka Sodagar by Zara Noor Readelle50225 Last updated: 9 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Andheron Ka Sodagar by Zara Noor

DESCRIPTION

اندھیروں اور روشنی کے درمیان لکیر بہت باریک ہوتی ہے،

کوئی نہیں جانتا کہ کب وہ اچانک دوسری سمت جا پڑے گا۔

اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ برسوں پہلے ایک حادثہ ہوا اور وہ اندھیروں کی دنیا میں کھینچ لیا گیا، مگر اندھیروں کے نگلنے کے بجائے اُس نے خود اُنہیں نگل لیا۔

سماج کے بھیڑیوں پر حکمرانی کرتے ہوئے وہ خود اُن کے لیے کسی بھیڑیے سے کم نہ تھا—ایک بھیڑیا، جو روشنی کی پری سے عشق کر بیٹھا۔

"میرال"، ایک شوخ و چنچل لڑکی، جو اچانک اپنے آپ کو ایک قید میں پاتی ہے۔ وہ قید جسے اُس شخص نے بنایا، جو اُس کے لیے سب سے بدنام اور خوفناک نام تھا—

سردار خان۔

جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اُسے چاہتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے:

کیا یہ روشنی کی پری واقعی ایک بھیڑیے سے محبت کر سکتی ہے؟

******************

SNEAK PEAK

"میں کیا کروں مانو؟ میں اُس سے شادی نہیں کرنا چاہتی... وہ وہ سائم نہیں رہا جس سے میں محبت کرتی تھی... وہ اتنا ظالم نہیں تھا... کچھ کرو مانو، پلیز کچھ کرو... میں کسی مجرم سے شادی نہیں کر سکتی... کچھ کرو۔"

"کیا اُس نے کل تم سے بات کی تھی؟" "ہاں!... اُس نے صاف الفاظ میں کالج کے اسٹاف کے سامنے کہا کہ میں اُس کی منگیتر ہوں اور ہماری شادی دو دن بعد ہے۔"

"دو دن؟!" میں چیخ پڑی۔ "یہ تو۔۔۔ یہ تو بہت جلدی ہے، صایمہ" "جی-" وہ جملہ مکمل بھی نہ کر پائی تھی کہ سدرہ کمرے میں داخل ہوئی۔

"سایمہ آپی... سائم بھائی آپ سے ملنے آئے ہیں۔" میں نے محسوس کیا کہ سایمہ کا جسم اکڑ گیا۔

"کہہ دو کہ وہ بخار میں ہیں اور آرام کر رہی ہیں۔" میں نے اُس کی جگہ جواب دیا۔

"یہ بالکل اچھا نہیں ہے... تمہیں پتا ہے بچوں کو جھوٹ بولنا نہیں سکھانا چاہیے۔"

یہ مردانہ آواز سن کر ہم سب اچھل پڑے۔ سب کے سر دروازے کی طرف گھوم گئے اور وہاں سائم کھڑا تھا، اُس کے ہاتھوں میں کچھ شاپنگ بیگز تھے۔ سایمہ فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور پہلو سے دوپٹہ اُٹھا کر خود کو ڈھانپ لیا۔

"السلام علیکم خواتین۔۔۔ اوہ! اور دیکھو یہاں کون ہے... کیا یہ ہماری ننھی شیرنی میرال نہیں ہے؟" سب خاموش رہے۔ سایمہ اپنی گود میں ہاتھوں کو گھور رہی تھی جبکہ میں اور سدرہ سائم کو غصے سے دیکھ رہے تھے۔

"تم کافی حسین ہو گئی ہو۔" اُس نے تعریف کی، جو مجھے مزید کھل گئی۔

"تم چاہتے کیا ہو، سائم؟"

"اوہ ہو! کب سے تم بڑوں کی بے ادبی کرنے لگی ہو؟" اُس نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور پھر سارے شاپنگ بیگز فرش پر رکھ دیے۔

"میں کسی مجرم کو اپنا بڑا نہیں مانتی۔"