Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode09

Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode09

“سحریہ کیا کہہ رہے ہیں ہمدان ایسا نہیں کرسکتا”۔ شاہین پھٹی پھٹی آنکھوں سے سحر کو دیکھتی حیرت اور خوف سے کہہ رہی تھی۔ ” یہ تو ہونا تھا شاہین فبیہہ نے چھوٹی حرکت نہیں کی اس بار ہمدان اسے کسی صورت معاف نہیں کرے گا”۔ جواب ولی آفندی کی طرف سے دیا گیا تھا جو کہ کمرے میں داخل ہو تے شاہین کی بات سن چکے تھے۔ ” جو لوگ دوسروں کی خوشیوں کے دشمن بنے پھرتے ہیں ایسے لوگوں کا انجام اس سے بھی دردناک اور اذیت ناک ہونا چاہئے”۔ ولی آفندی غصے سے گویا ہوئے۔ ” بھائی آپ تو ایسا نا کہیں پلیز ہمدان کو سمجھائیں میری بیٹی اس حالت میں نہیں ہے میں ہاتھ جوڑتی ہوں آپکے سامنے”۔ شاہین روتے ہوئے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔ ”آپ لوگوں کی بات چیت ہو گئی ہو تو آپ لوگ کمرے سے جا سکتے ہیں ہم انکو اریسٹ کر کے لے جا رہے ہیں طبی معائنہ کے بعد کسی گورنمنٹ ہاسپٹل میں ایڈمٹ کردیا جائے گا انہیں”۔ پولیس آفیسر سختی سے کہتی ساتھیوں کو اشارہ کرتی انہیں باہر نکال چکی تھی۔ ” بھائی ترس نہیں آرہا آپکو میری بچی پر میری حالت پر؟؟ شاہین روتے ہوئے بولی۔ ” ترس مظلوم پہ کھایا جاتا ہے نا کہ ظالم پر”۔ ولی آفندی درشتگی سے کہتے وہاں سے جا چکے تھے جبکہ سحر شاہین کو سہارا دیتی سمبھال رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭
”پاپا۔۔۔ میں آپ شے نلاش”۔(پاپا میں آپ سے ںاراض) ہمدان کی گود میں بیٹھی ننھی میرب موٹی موٹی آنکھیں مٹکاتی ہمدان کو نخرے دکھا رہی تھی۔ ” ارے میری ڈول مجھ سے کس لئے ناراض ہے بھئی؟؟ ہمدان نے میرب کے گال پہ پیار کرتے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ”آپ اتانے شالے دن لگا ڈئےاول کل میلا بلڈے ہے اول آپ نے مجھے چھوپنگ بھی نئی کلائی”۔ ( آپ نے اتنے سارے دن لگا دئے اور کل میرا برتھ ڈے ہے اور آپ نے مجھے شاپنگ بھی نہیں کروائی)۔ میرب اپنی اسی ادا سے آنکھیں مٹکاتی شکایتی انداز میں کہہ رہی تھی۔ ” ہاہاہا ۔۔۔۔ تو یہ بات ہے بالکل اپنی مما پہ گئی ہیں آپ پتہ ہے؟؟ وہ قہقہہ لگاتے حورین کو آنکھ مارتے کہہ رہا تھاحورین بھی اسکی اس بات پہ مسکرا دی۔ ” پتہ ہے”۔ میرب مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی مما اور پاپا دونوں ہی میرب کے فیورٹ تھے اور مما جیسی ہونے پہ توویسے ہی اسے فخر تھا۔” شاپنگ پر شام کو چلنا ہے نا میری ڈول پھر بہت ساری شاپنگ کریں گے”۔ ہمدان نے پیار سے کہا تو میرب ننھے ہاتھ سے ہمدان کے ہاتھ پرتالی مار کر ہنستی ہوئی دادو کو بتانے بھاگ گئی۔ ” ہائے شوہر تھکا ہارا گھر لوٹا ہے پر مجال ہے کہ نظرِ کرم ہی ڈال دیں معصوم پہ”۔ ہمدان حورین کا ہاتھ پکڑتا شوخ لہجے میں بولا۔ ” اتنا خیال تھا تو کیا ضرورت تھی اتنے دن لگانے کی مجھے نہیں بات کرنی جائیں آپ یہاں سے”۔ حورین بھی ہاتھ جھٹکتی ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی جہاں ہمدان حورین اور میرب کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا وہیں حورین کا بھی یہی حال تھا۔ ” لو جی پہلے بیٹی کو منایا پورا گھنٹہ لگا کہ اب بیگم صاحبہ کو مناؤ”۔ ہمدان نے مظلوم شکل بناتے کہا ” اچھا اب زیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں میں نے بہت مس کیا اسپیشلی آپ کے ساتھ لان میں بیٹھ کر چائے پینا”۔ حورین نے پیار جتاتے کیا۔ ” لو بھلا اس میں کیا بات ہے ابھی چل کر چائے پیتے ہیں لان میں”۔ وہ حورین کا ہاتھ تھامے روم سے نکل کر میڈ کو جائے کا کہتا لان میں چل دیا ۔ ہمدان آج ہی پیرس سے میٹنگ اٹیند کر کے گھر پہنچا تھا میرب کی پیدائش کے بعد ہمدان پہلی بار اتنے دن کے لئے کہیں گیا تھا۔ میرب کی پیدائش کو دو سال ہونے والے تھے فبیہہ سے جان چھوٹنے کے بعد ہمدان اور حورین کی زندگی بہت پر سکون ہو گئی تھی پھر میرب کی پیدائش نے انکی زندگی میں نئے رنگ بھر دئے تھے۔ میرب مما پاپا کے ساتھ ہی دادا اور دادو کی بھی جان تھی، اسکی کلکاریوں سے گھر میں رونق لگی رہتی۔ شائستہ بیگم ، ثانیہ بیگم غضنفر صاحب ،ضیافت صاحب سب کو ہی میرب حور کی طرح عزیز تھی۔ سب ہی میرب کا برتھ دے سیلیبریٹ کرنے کے لئے ایکسائیٹڈ تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *