Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat NovelR50829 Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode03
No Download Link
433.1K
10
Rate this Novel
Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode01 Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode02 Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode03 (Watching)Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode04 Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode05 Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode06 Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode07 Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode08 Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode09 Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Last Episode
Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode03
Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode03
”ہیلو ہمدان”۔ عارش نے کچھ سوچتے ہوئے ہمدان کو کال ملائی تھی اور اب وہ بالکونی میں کھڑا اسکی آواز سن رہا تھا۔ ” ہیلو۔۔۔ ہوز دیئر”۔ ہمدان لیپ ٹاپ پر تیزی سے کچھ ٹائپ کرتے پوچھ رہا تھا۔ ” عارش ہیئر”۔ عارش نے دوستانہ انداز میں اپنا تعارف کروایا۔ ” اوو۔۔۔ عارش کیسے ہو یار”۔ ہمدان بھی مسکراتے ہوئے گویا ہوا۔ ” میں ٹھیک ہوں کیا کر رہے ہو میں سوچ رہا تھا ڈنر ساتھ کرتے آج”۔ عارش نے بے تکلفی سے کہا۔ ”وائی ناٹ۔۔۔ اس سے اچھا کیا ہوگا حور کے بارے میں بھی جاننے کا موقع مل جائے گا”۔ ہمدان کے حورین کو حور کہنے پہ عارش کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ ”حور بھی ہوگی نا ساتھ”۔ ہمدان کی پر جوش آواز عارش کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ ” نہیں حور کا کیا کام بھلا۔۔۔ آئی مین میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا تھا اکیلے میں اس لیئے”۔ عارش کا جملہ ادھورا رہ گیا تھا۔ ” اوہ ۔۔۔ اٹس اوکے تم پلیس اور ٹائم ٹیکسٹ کردو میں آجاؤں گا”۔ ہمدان نے اسے خوشنما انداز میں جواب دیا اور ساتھ ہی کال کٹ کردی۔ وہ دسمبر کی ایک سرد اور خوبصورت شام لان سے اٹھتی گلاب اور موتیے کی خوشبو حورین کی سانسوں کو معتر کر رہی تھی کبھی وہ کسی پھول کی خوشبو فیل کرتی کبھی کسی کی، اتنی سردی حورین سے برداشت نہ ہوتی تھی لیکن جانے آج اسے سردی فیِل ہی نہیں ہو رہی تھی وہ تو آج جیسے دنیا جہان سے بیگانی ہو رہی تھی عارش کب سے بالکونی میں کھڑا اسکی ہر ہر ادا نوٹ کر رہا تھا۔ کمر سے نیچے جاتے کھلے سلکی بالوں میں گلاب کا پھول توڑ کر سجاتی وہ واقعی کوئی حور لگ رہی تھی۔ وہ کب سے یونہی مسکراتے ہوئے پھولوں کو دیکھتی لطف اندوز ہو رہی تھی تبھی جانے کب عارش اسکے عین پیچھے آن کھڑا ہوا تھا، عارش خود بھی نہیں جانتا تھا اسے کونسی قّوت یہاں کھینچ لائی تھی۔ حورین اندر جانے کو پلٹی ہی تھی کہ عارش سے اسکی ٹکر ہوئی وہ اسکے سینے سے جا لگی تھی۔ جہاں حورین بوکھلا کر پیچھے ہٹی تھی وہیں عارش کو بھی ہوش آیا تھا۔ ” تم ۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو”۔ حورین نے گھبراہٹ چھپاتے ہوئے اس سے پوچھا۔ ” میں۔۔۔۔ وہ میں تو بس یہاں سے گزر رہا تھا”۔ عارش نے بات بنائی۔ ” گزر رہے تھے یا ۔۔۔۔۔” حورین نے نظریں چراتے کہا۔ عارش نے اسکی ادا پہ اسے غور سے دیکھا حورین کی آنکھوں میں آج اسے الگ ہی چمک محسوس ہوئی، لبوں پرخوبصورت مسکان مسلسل اسکے چہرے کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔ ” یا کا کیا مطلب؟؟ تم کب سے باتیں ادھوری چھوڑنے لگ گئی”۔ ” میرا مطلب ہے کسی کو ڈھونڈ رہے تھے کیا ورنہ گزرتے ہوئے تمہارا رخ دوسری طرف ہونا چاہیے تھا”۔ حورین نے اسکی آنکھوں میں کچھ جانچنا چاہا تھا۔ ” لگتا ہے بندریا کا دماغی توازن الٹ چکا ہے وہ بھی پوری طرح ”۔ عارش نے قہقہہ لگاتے اسکا مزاق اڑایا ۔ ” تمہیں کیسے پتہ”۔ حورین بھی ہنس رہی تھی اب تو عارش کو یقین ہو چکا تھا کہ اسکا دماغ پلٹ چکا ہے۔ ” خدا کا واسطہ ڈرا کیوں رہی ہو نہ کوئی تنز نہ غصہ خیر تو ہے”۔ عارش کو تشویش ہوئی۔ ” بس ایسے ہی ”۔ حورین نے شرماتے ہوئے کہا جس پہ عارش اچانک ٹھٹھکا تھا۔ ” حور۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہو یار”۔ عارش کو حور کا یوں شرمانا زہر اور عجیب لگا تھا۔ ” عارش میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں”۔ حورین نے نظریں جھکائے اسی خوبصورت مسکان کے ساتھ کہا۔ ” ہاں ہاں کہو ”۔ عارش اسکی بات جاننے کے لئے بے چین ہوا۔ ” عارش میں۔۔۔۔” وہ پل بھر کو رکی۔ ” عارش مجھے کسی سے محبت ہو گئی ہے، اور پتہ ہے کب سے؟ بلکہ مجھے تو خود ہی نہیں پتہ کب اور کیسے لیکن میرا دل کرتا ہے میں ہر پل اسے دیکھوں اسے محسوس کروں، میں۔۔۔ میں اپنی ساری لائف اسکے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں”۔ وہ ایکسائیٹڈ ہوتی عارش کو بتا رہی تھی۔ ” عارش میرا دل کرتا ہے میں اسکا ہاتھ تھام کر جھومتی رہوں”۔ وہ بچوں کی طرح کہتی گھوم رہی تھی بلیک کلر کا لانگ فروک اور چوڑی دار پہنے بالوں میں سرخ گلاب سجائے وہ اتنی دلکش لگ رہی تھی کہ کوئی بھی اسکا دیوانہ ہو سکتا تھا۔ ” عارش اور تمہیں پتہ ہے۔۔” حورین خوشی سے کہے جا رہی تھی۔ ” حور۔۔۔ مجھجے کس لئے بتا رہی ہو یہ سب”۔ عارش تپا ہی تو تھا کسی اور کی محبت کا اقرار وہ اسکے سامنے دھڑلے سے کر رہی تھی۔ ” ارے تمہیں نہ بتاؤں تو کسے بتاؤں آفٹر آل تم میرے بیسٹ فرینڈ ہو اور۔۔۔۔” حور کی زبان کو اچانک سے بریک لگی تھی اور ایک پر شوق نگاہ عارش پر ڈالی۔ ”اور۔۔۔؟؟؟ عارش نے ٹٹولتی نظروں سے اسے دیکھتے پوچھا حورین نے ایک دم عارش کا ہاتھ تھام لیا تھا عارش اسکی حرکت پر جیسے سکتے میں چلا گیا۔” عارش۔۔۔ تم ہی تو ہو میری محبت میری دیوانگی۔۔۔۔ میرا سب کچھ”۔ وہ دل میں بے شمار ارمان لئے اسی دلفریب مسکان کے ساتھ اسے کہہ رہی تھی جبکہ عارش حیران ہوتا جیسے کہیں کھو گیا تھا اتنی دیر تک عارش کو خاموش دیکھ حورین کا دل زور سے دھک دھک کرنے لگا تھا۔ ” عارش۔۔۔ آئی لو یو”۔ حورین کی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔ ایک جھٹکے سے عارش نے اسکا ہاتھ جھٹک کرا سے خود سے دور کیا تھا تھا۔ ” تم واقعی میں پاگل ہو چکی ہو”۔ عارش حقارت بھری نظر سے اسے گھورتا کہہ رہا تھا۔”عارش ۔۔۔” وہ حیران کھڑی اسے یک ٹک دیکھے گئی۔ ” تم نے محبت کرلی مجھ سے واؤ۔۔۔ بہت احسان کردیا ہیں نہ؟ تم جیسی بد تمیز، بد دماغ اور مغرور لڑکی کی طرف میں دیکھنا بھی نہ پسند کروں ”۔ عارش نے ایک ایک لفظ پہ زور دیتے کہا تھا۔ حورین کے چہرے سے مسکان غائب ہو چکی تھی، سردی سے برف ہوتے سرخ گال اب بری طرح آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے۔ ” عارش۔۔۔۔ میری۔۔۔۔ بات تو سنو”۔ حورین نے بھیگی آواز میں کچھ کہنا چاہا۔ ” جسٹ شٹ اَپ۔۔۔ جو لڑکی یہاں کھڑی میرا ہاتھ پکڑ کر بے شرمی سے اظہا رِ محبت کر رہی ہے کالج میں تو پتہ نہیں کیا کیا گل کھلاتی ہوگی”۔ عارش غصے سی لال آنکھوں سے اسے گھورتا اسکے کردار پہ بات لے گیا تھا۔ ” عارش۔۔۔ میرے بارے میں اتنی گھٹیا سوچ تمہارے دماغ میں آئی بھی کیسے”۔ اب کی بار حورین چلا اٹھی تھی اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ ” ہاہاہا۔۔۔ تو اور کیا کہوں تم جیسی بے شرم لڑکی کو”۔ وہ قہقہہ لگاتے تنزیہ اسے کہہ رہا تھا۔ اسکے الفاظ حورین پہ پتھر کی طرح برسے تھے اسے لگا جیسے کسی نے اسے گہری کھائی میں دھکا دے دیا ہو۔ ”تم جیسی لڑکی میری محبت کے قابل ہو ہی نہیں سکتی نفرت ہو رہی ہے مجھے آج تم سے”۔ عارش کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھی۔ ” بکواس بند کرو اپنی سمجھے ۔۔۔ ”۔ حورین پوری شدت سے چلا ئی تھی جبکہ آواز رندھی ہوئی تھی۔ ” نفرت۔۔۔ تم جیسا شخص تو کسی لڑکی کے پیار کے بھی قابل نہیں۔۔۔ مسٹرعارش ضیافت علی مجھے تم جیسے گھٹیا انسان سے اس وقت نفرت بھی نہیں ہو رہی میری نفرت کے بھی قابل نہیں تم سمجھے کسی قابل نہیں تم”۔ وہ چلاتے ہوئے کہتی آنکھیں رگڑتی اندر بھاگی تھی جبکہ عارش وہیں سن کھڑا حور کے الفاظ سوچتا رہ گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭
”عارش بھائی”۔ اشعر، عارش کو پکارتا اسکے روم میں چلا آیا وہ جو بالکونی میں کھڑا بیتا ماضی یاد کر رہا تھا نم آنکھوں کو صاف کرتا اندر آگیا۔ ” ہاں بولو اشعر”۔ اسنے بیڈ پہ بیٹھتے کہا۔ ” حورین آپی کہہ رہی ہیں آپ نے ڈنر پہ جانا ہے نہ تیار ہوگئے؟؟ اشعر نے اسکے حلیے پہ نگاہ دوڑاتے کہا۔ ”ہاں بس ہونے لگا تھا ریڈی”۔ عارش جواب دیتا وارڈروب سے شرٹ نکالنے لگا۔ ” حورین آپی نے کہا ہے اس آگ کے گولے کو کہہ دو لیٹ نہ ہو ٹائم سے پہلے ہی چلا جائے”۔ اشعر نے آگ کے گولے پر زور دیتے ہوئے دانت نکالتے ہوئے حورین کا پیغام پہنچایا۔ ” تمہاری بتیسی ذیادہ نہیں باہر آرہی لگتا ہے توڑنی پڑے گی”۔ عارش نے اسے خونخوار نظروں سے گھوری عنایت فرمائی۔ ” ارے آپ تو برا ہی مان گئے جا رہا ہوں میں آگ کے گولے”۔ اشعر اسے دانت نکالے چڑاتا باہر کی طرف دوڑا۔ ” رک بتاؤں تجھے”۔ عارش بھی اسکے پیچھے بھاگتا ہوا لاؤنج میں آگیا۔ ” ارے آپی ، مما۔۔۔ بچاؤ”۔ صوفے کے ارد گرد گھومتا اشعر دانت نکالے مدد کی اپیل کرتا لان کی طرف بھاگا۔ ” بچ کے کہا جائے گا آج تو خبر لیتا ہوں تیری ”۔ عارش بھی اسکے پیچھے پیچھے تھا غصے میں لان کی طرف لپکتا سامنے سے آتی حورین اسے دکھائی نہ دی اور انکی زور دار ٹکر ہوگئی۔ ” اندھے ہو گئے ہو یا جان بوجھ کے گھٹیا حرکتیں ہو رہی ہیں”۔ حورین اپنا ماتھا دباتی غصے سے اسے گھور رہی تھی جبکہ عارش بس اسکے جملے پہ اسے حیرت سے دیکھے گیا۔ ” سوری۔۔” عارش کہتا تیزی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ” شکر ہے یار آگئے ہو میں تو سمجھا تھا مجھے انوائیٹ کر کے خود بھول گئے”۔ ہمدان نے عارش سے مصافحہ کرنے کے بعد مسکراتے ہوئے شکوہ کیا۔ عارش نے اسے ایک پل کو غور سے دیکھا تھا خوبصورت پرسنیلٹی کا مالک یہ وجیہہ شخص واقعی حور کے قابل تھا۔ ” بس یار ٹریفک کا تو پتہ ہی ہے تمہیں اور سناؤ کیسے ہو”۔ عارش نے پوچھا۔ ” بہت خوش”۔ ہمدان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد عارش نے مدعے پر آنے کا سوچتے ہی بات کردی۔ ” ہمدان تم حورین کو پسند تو کرتے ہو نہ؟؟ عارش کے سوال پر ہمدان پل بھر کو چونکا۔ ”سچ پوچھو تو حورین میری ماما ،اور بابا کی چوائس ہے لیکن حورین کو دیکھنے کے بعد میرا دل مجبور ہوگیا ہے آئی ایم لکی”۔ ہمدان نے اپنے دل کا حال بتایا اسکے آخری جملے نے عارش کے دل پہ چوٹ کی۔ ” یس یو آر۔۔۔ حورین نے بتایا تھا اسکے کالج میں چھوٹا سا مس ہیپ ہو گیا تھا وہ اسکے کئے بہت شرمندہ ہے”۔ عارش نے اس سے اگلوانے کو بات بنائی۔ ” حورین کے ساتھ اسکے کالج میں؟؟ ہمدان نے نا سمجھی میں پوچھا۔ ” ایسا کچھ نہیں ہوا کیا؟ عارش نے اسے حیرت سے دیکھا۔ ” نہیں مجھے تو ایسا کچھ یاد نہیں ایوین حوریں کو فرسٹ ٹائم میں نے اسی دن دیکھا تھا جس دن ہم پروپوزل لائے تھے تبھی اپنا دل ہار بیٹھا تھا”۔ ہمدان نے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ڈرامائی انداز میں کہا۔ دونوں کافی دیر باتیں کرتے رہے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا اتنی جلدی سب کیسے ہوگا”۔ شائستہ بیگم نے سب کو چائے سرو کرتے ہوئے فکرمندی سے کہا۔ ”اتنے کم دن رہ گئے ہیں کیسے ہوں گے سارے انتظامات میں تو خود پریشان ہوں”۔ غضنفر علی بھی متفکر تھے۔ ” سب ہو جائے گا غضنفر بھائی آپ اتنے فکر مند نہ ہوں”۔ ضیافت علی نے چائے کا کپ ٹیبل سے اٹھاتے ہوئے انہیں تسلی دی۔ ”حورین نے الگ خود کو کمرے میں بند کر رکھا ہے سب سے بہت ناراض ہے بھلا اتنی جلدی بھی کیا تھی بھائی صاحب کم از اسٹڈیز کمپلیٹ ہونے تک کا وقت ہی لے لیتے”۔ ثانیہ بیگم نے ماتھے پہ بل ڈالے شکوہ کیا۔ ” لو جی تم پھر سے شروع ہو جاؤ پچھلے دس دنوں میں دس ہزار بار یہ بات دہرا چکی ہو، پہلے ہی بھائی بھابھی فکرمند ہیں”۔ ضیافت علی نے مسکراتے ہوئے بیگم سے کہا۔ ” کہہ تو ٹھیک رہی ہیں بھابھی اتنی جلدی کیسے اتنی بڑی ذمہ داری اٹھائے گی میری حور”۔ شائستہ بیگم مزید متفکر ہوئیں۔ ”ارے بھابھی وہ کوئی بیک ورڈ فیملی تو ہے نہیں کہ جاتے ہی حورین پر گھر کے کام کاج کی ذمہ داری ڈال دیں گے”۔ ضیافت علی نے انہیں تسلی دینے کو کہا جبکہ دل تو اپنا بھی پریشان تھا گھر کی اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے حورین چاچو، چاچی کی بھی جان تھی۔ ہمدان سے ملاقات کے بعد عارش کو تسلی ہو گئی تھی کہ ہمدان کو کچھ یاد نہیں ہے اور حورین ایسے ہی ڈر رہی ہے جبکہ حورین کا خوف جوں کا توں تھا ادھر عارش سے ملاقات کے اگلے ہی دن ہمدان کی فیملی شادی کی ڈیٹ فکس کر کے جا چکے تھے حوریں کا احتجاج کسی کام نہ آیا مجبوراً اسے سب کے فیصلے کے آگے سر خم کرنا پڑا۔ عارش نے اسپیشلائیزیشن کے لئے لندن مین اپلائی کر رکھا تھا اور اسکے جانے کا پروانہ اسے مل چکا تھا۔ حورین کی شادی کے اگلے دن اسنے روانہ ہونا تھا۔ شادی کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھی آج حورین نے شادی کا جوڑا لینے جانا تھا وہ روم میں ریڈی ہو کر بیٹھی ہمدان کی مما کا انتظار کر رہی تھی جب شائستہ بیگم نے اسکا روم ناک کیا۔ ” آگئیں ہمدان کی مما؟؟ اسنے شائستہ بیگم کو دیکھ کر اٹھتے ہوئے کہا۔ ” نہیں بیٹا ہمدان کی مما تمہارا بوتیک میں ہی ویٹ کر رہی ہیں ہمدان آیا ہے لینے جلدی سے آجاؤ”، شائستہ بیگم مسکراتے ہوئے کہتی جانے کو مڑ ی تھیں۔ ” مما لیکن ہمدان کیوں”۔ حورین نے گھبراتے ہوئے کہا۔ ” ارے میری بچی ہونے والا شوہر ہے تمہارا اور گھبراؤ نہیں اچھا لڑکا ہے اسی لئے اجازت دی ہے آجاؤ چلو”، وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ ہی باہر لے آئی تھیں۔ ” السلام و علیکم”۔ حورین کو پر شوق نگاہوں سے دیکھتے ہمدان اسے سلام کرتے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ” وعلیکم السلام” حورین نے اسکی نظروں کو خود پر محسوس کر کے نظریں جھکائے جواب دیا۔ ” خیال سے جانا ”۔ جاتے ہوئے شائستہ بیگم نے تاکید کی۔ وہ باہر آئی تو ہمدان چہرے پہ مسکراہٹ سجائے اسکے لئے فرنٹ ڈور کھولے کھڑا تھا۔ وہ جولیمن اینڈ آف وائیٹ شلوار کمیز کے ساتھ ٹی پنک دوپٹہ سر پہ ٹکائے ہاف کیچ بالوں میں سے آزاد ہوتی لٹوں کو کان کے پیچھے سرکاتی گھبراتی ہوئی چلی آرہی تھی اسے یوں کھڑا دیکھ حیران ہوئی پھر جلدی سے کار میں بیٹھ گئی تھی جبکہ ہمدان نے حورین کے سراپے کو آج بہت غور اور محبت سے دیکھا تھا۔ شاپنگ کے دوران بھی ہمدان کی نظریں حورین کو کنفیوز کرتی رہی تھی شاپنگ کے بعد ہمدان کی مما تو فوراً گھر چلی گئی تھیں جبکہ ہمدان اسکے لاکھ انکار کے باوجود ڈنر پر لے آیا تھا۔ ” اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو حور”۔ ہمدان نے اسے شرارت بھری نظروں سے دیکھتے کہا۔ ” نہ۔۔ نہیں تو میں تو نہیں گھبرا رہی”۔ حور نے کامپتے ہاتھوں کو گود میں رکھ کر خود کو نارمل کرتے کہا کھانا آتے ہی دونوں کھانا کھانے لگے حوریں چاہتی تھی جلد از جلد گھر چلی جائے۔ ”تمہارے ہاتھ بہت خوبصورت ہیں خاص کر یہ رائیٹ والا”۔ ہمدان نظریں اسکے ہاتھوں پہ جمائے شرارت سے کہہ رہا تھا۔ ” جی۔۔ یہ والا کیوں ؟؟ حورین کو اسکی بات پر حیرت ہوئی۔ ” اس لئے کیونکہ اس پر یہ جو کالا تل ہے یہ اس ہاتھ کو اور پر کشش بنا رہا ہے”۔ ہمدان کے انداز پہ حورین نے جھیمپتے ہوئے ہاتھ گود میں رکھ لئے۔ اس کی اس ادا پہ ہمدان قہقہہ لگا کہ ہنس دیا۔ ” بھلا کوئی ہاتھوں کی تعریف بھی کرتا ہے اور کچھ خوبصورت نہیں کیا ہونہہ۔۔۔۔” وہ دل ہی دل میں سوچتی منہ بنا کہ رہ گئی۔
(باقی آئندہ): کنزِحیات
قسط نمبر:3
”ہیلو ہمدان”۔ عارش نے کچھ سوچتے ہوئے ہمدان کو کال ملائی تھی اور اب وہ بالکونی میں کھڑا اسکی آواز سن رہا تھا۔ ” ہیلو۔۔۔ ہوز دیئر”۔ ہمدان لیپ ٹاپ پر تیزی سے کچھ ٹائپ کرتے پوچھ رہا تھا۔ ” عارش ہیئر”۔ عارش نے دوستانہ انداز میں اپنا تعارف کروایا۔ ” اوو۔۔۔ عارش کیسے ہو یار”۔ ہمدان بھی مسکراتے ہوئے گویا ہوا۔ ” میں ٹھیک ہوں کیا کر رہے ہو میں سوچ رہا تھا ڈنر ساتھ کرتے آج”۔ عارش نے بے تکلفی سے کہا۔ ”وائی ناٹ۔۔۔ اس سے اچھا کیا ہوگا حور کے بارے میں بھی جاننے کا موقع مل جائے گا”۔ ہمدان کے حورین کو حور کہنے پہ عارش کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ ”حور بھی ہوگی نا ساتھ”۔ ہمدان کی پر جوش آواز عارش کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ ” نہیں حور کا کیا کام بھلا۔۔۔ آئی مین میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا تھا اکیلے میں اس لیئے”۔ عارش کا جملہ ادھورا رہ گیا تھا۔ ” اوہ ۔۔۔ اٹس اوکے تم پلیس اور ٹائم ٹیکسٹ کردو میں آجاؤں گا”۔ ہمدان نے اسے خوشنما انداز میں جواب دیا اور ساتھ ہی کال کٹ کردی۔ وہ دسمبر کی ایک سرد اور خوبصورت شام تھی لان سے اٹھتی گلاب اور موتیے کی خوشبو حورین کی سانسوں کو معتر کر رہی تھی کبھی وہ کسی پھول کی خوشبو فیل کرتی کبھی کسی کی، اتنی سردی حورین سے برداشت نہ ہوتی تھی لیکن جانے آج اسے سردی فیِل ہی نہیں ہو رہی تھی وہ تو آج جیسے دنیا جہان سے بیگانی ہو رہی تھی عارش کب سے بالکونی میں کھڑا اسکی ہر ہر ادا نوٹ کر رہا تھا۔ کمر سے نیچے جاتے کھلے سلکی بالوں میں گلاب کا پھول توڑ کر سجاتی وہ واقعی کوئی حور لگ رہی تھی۔ وہ کب سے یونہی مسکراتے ہوئے پھولوں کو دیکھتی لطف اندوز ہو رہی تھی تبھی جانے کب عارش اسکے عین پیچھے آن کھڑا ہوا تھا، عارش خود بھی نہیں جانتا تھا اسے کونسی قّوت یہاں کھینچ لائی تھی۔ حورین اندر جانے کو پلٹی ہی تھی کہ عارش سے اسکی ٹکر ہوئی وہ اسکے سینے سے جا لگی تھی۔ جہاں حورین بوکھلا کر پیچھے ہٹی تھی وہیں عارش کو بھی ہوش آیا تھا۔ ” تم ۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو”۔ حورین نے گھبراہٹ چھپاتے ہوئے اس سے پوچھا۔ ” میں۔۔۔۔ وہ میں تو بس یہاں سے گزر رہا تھا”۔ عارش نے بات بنائی۔ ” گزر رہے تھے یا ۔۔۔۔۔” حورین نے نظریں چراتے کہا۔ عارش نے اسکی ادا پہ اسے غور سے دیکھا حورین کی آنکھوں میں آج اسے الگ ہی چمک محسوس ہوئی، لبوں پرخوبصورت مسکان مسلسل اسکے چہرے کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔ ” یا کا کیا مطلب؟؟ تم کب سے باتیں ادھوری چھوڑنے لگ گئی”۔ ” میرا مطلب ہے کسی کو ڈھونڈ رہے تھے کیا ورنہ گزرتے ہوئے تمہارا رخ دوسری طرف ہونا چاہیے تھا”۔ حورین نے اسکی آنکھوں میں کچھ جانچنا چاہا تھا۔ ” لگتا ہے بندریا کا دماغی توازن الٹ چکا ہے وہ بھی پوری طرح ”۔ عارش نے قہقہہ لگاتے اسکا مزاق اڑایا ۔ ” تمہیں کیسے پتہ”۔ حورین بھی ہنس رہی تھی اب تو عارش کو یقین ہو چکا تھا کہ اسکا دماغ پلٹ چکا ہے۔ ” خدا کا واسطہ ڈرا کیوں رہی ہو نہ کوئی تنز نہ غصہ خیر تو ہے”۔ عارش کو تشویش ہوئی۔ ” بس ایسے ہی ”۔ حورین نے شرماتے ہوئے کہا جس پہ عارش اچانک ٹھٹھکا تھا۔ ” حور۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہو یار”۔ عارش کو حور کا یوں شرمانا زہر اور عجیب لگا تھا۔ ” عارش میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں”۔ حورین نے نظریں جھکائے اسی خوبصورت مسکان کے ساتھ کہا۔ ” ہاں ہاں کہو ”۔ عارش اسکی بات جاننے کے لئے بے چین ہوا۔ ” عارش میں۔۔۔۔” وہ پل بھر کو رکی۔ ” عارش مجھے کسی سے محبت ہو گئی ہے، اور پتہ ہے کب سے؟ بلکہ مجھے تو خود ہی نہیں پتہ کب اور کیسے لیکن میرا دل کرتا ہے میں ہر پل اسے دیکھوں اسے محسوس کروں، میں۔۔۔ میں اپنی ساری لائف اسکے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں”۔ وہ ایکسائیٹڈ ہوتی عارش کو بتا رہی تھی۔ ” عارش میرا دل کرتا ہے میں اسکا ہاتھ تھام کر جھومتی رہوں”۔ وہ بچوں کی طرح کہتی گھوم رہی تھی بلیک کلر کا لانگ فروک اور چوڑی دار پہنے بالوں میں سرخ گلاب سجائے وہ اتنی دلکش لگ رہی تھی کہ کوئی بھی اسکا دیوانہ ہو سکتا تھا۔ ” عارش اور تمہیں پتہ ہے۔۔” حورین خوشی سے کہے جا رہی تھی۔ ” حور۔۔۔ مجھجے کس لئے بتا رہی ہو یہ سب”۔ عارش تپا ہی تو تھا کسی اور کی محبت کا اقرار وہ اسکے سامنے دھڑلے سے کر رہی تھی۔ ” ارے تمہیں نہ بتاؤں تو کسے بتاؤں آفٹر آل تم میرے بیسٹ فرینڈ ہو اور۔۔۔۔” حور کی زبان کو اچانک سے بریک لگی تھی اور ایک پر شوق نگاہ عارش پر ڈالی۔ ”اور۔۔۔؟؟؟ عارش نے ٹٹولتی نظروں سے اسے دیکھتے پوچھا حورین نے ایک دم عارش کا ہاتھ تھام لیا تھا عارش اسکی حرکت پر جیسے سکتے میں چلا گیا۔” عارش۔۔۔ تم ہی تو ہو میری محبت میری دیوانگی۔۔۔۔ میرا سب کچھ”۔ وہ دل میں بے شمار ارمان لئے اسی دلفریب مسکان کے ساتھ اسے کہہ رہی تھی جبکہ عارش حیران ہوتا جیسے کہیں کھو گیا تھا اتنی دیر تک عارش کو خاموش دیکھ حورین کا دل زور سے دھک دھک کرنے لگا تھا۔ ” عارش۔۔۔ آئی لو یو”۔ حورین کی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔ ایک جھٹکے سے عارش نے اسکا ہاتھ جھٹک کرا سے خود سے دور کیا تھا۔ ” تم واقعی میں پاگل ہو چکی ہو”۔ عارش حقارت بھری نظر سے اسے گھورتا کہہ رہا تھا۔”عارش ۔۔۔” وہ حیران کھڑی اسے یک ٹک دیکھے گئی۔ ” تم نے محبت کرلی مجھ سے واؤ۔۔۔ بہت احسان کردیا ہیں نہ؟ تم جیسی بد تمیز، بد دماغ اور مغرور لڑکی کی طرف میں دیکھنا بھی نہ پسند کروں ”۔ عارش نے ایک ایک لفظ پہ زور دیتے کہا تھا۔ حورین کے چہرے سے مسکان غائب ہو چکی تھی، سردی سے برف ہوتے سرخ گال اب بری طرح آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے۔ ” عارش۔۔۔۔ میری۔۔۔۔ بات تو سنو”۔ حورین نے بھیگی آواز میں التجا کی۔ ” جسٹ شٹ اَپ۔۔۔ جو لڑکی یہاں کھڑی میرا ہاتھ پکڑ کر بے شرمی سے اظہا رِ محبت کر رہی ہے کالج میں تو پتہ نہیں کیا کیا گل کھلاتی ہوگی”۔ عارش غصے سی لال آنکھوں سے اسے گھورتا اسکے کردار پہ بات لے گیا تھا۔ ” عارش۔۔۔ میرے بارے میں اتنی گھٹیا سوچ تمہارے دماغ میں آئی بھی کیسے”۔ اب کی بار حورین چلا اٹھی تھی اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ ” ہاہاہا۔۔۔ تو اور کیا کہوں تم جیسی بے شرم لڑکی کو”۔ وہ قہقہہ لگاتے تنزیہ اسے کہہ رہا تھا۔ اسکے الفاظ حورین پہ پتھر کی طرح برسے تھے اسے لگا جیسے کسی نے اسے گہری کھائی میں دھکا دے دیا ہو۔ ”تم جیسی لڑکی میری محبت کے قابل ہو ہی نہیں سکتی نفرت ہو رہی ہے مجھے آج تم سے”۔ عارش کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھی۔ ” بکواس بند کرو اپنی سمجھے ۔۔۔ ”۔ حورین پوری شدت سے چلا ئی تھی جبکہ آواز رندھی ہوئی تھی۔ ” نفرت۔۔۔ تم جیسا شخص تو کسی لڑکی کے پیار کے بھی قابل نہیں۔۔۔ مسٹرعارش ضیافت علی مجھے تم جیسے گھٹیا انسان سے اس وقت نفرت بھی نہیں ہو رہی میری نفرت کے بھی قابل نہیں تم سمجھے کسی قابل نہیں تم”۔ وہ چلاتے ہوئے اپنی یہ تذلیل کبھی نہ بھولنے کا عہد کرتی بے دردی سے آنکھیں رگڑتی اندر بھاگی تھی جبکہ عارش وہیں سن کھڑا حور کے الفاظ سوچتا رہ گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭
”عارش بھائی”۔ اشعر، عارش کو پکارتا اسکے روم میں چلا آیا وہ جو بالکونی میں کھڑا بیتا ماضی یاد کر رہا تھا نم آنکھوں کو صاف کرتا اندر آگیا۔ ” ہاں بولو اشعر”۔ اسنے بیڈ پہ بیٹھتے کہا۔ ” حورین آپی کہہ رہی ہیں آپ نے ڈنر پہ جانا ہے نہ تیار ہوگئے؟؟ اشعر نے اسکے حلیے پہ نگاہ دوڑاتے کہا۔ ”ہاں بس ہونے لگا تھا ریڈی”۔ عارش جواب دیتا وارڈروب سے شرٹ نکالنے لگا۔ ” حورین آپی نے کہا ہے اس آگ کے گولے کو کہہ دو لیٹ نہ ہو ٹائم سے پہلے ہی چلا جائے”۔ اشعر نے آگ کے گولے پر زور دیتے ہوئے دانت نکالتے ہوئے حورین کا پیغام پہنچایا۔ ” تمہاری بتیسی ذیادہ نہیں باہر آرہی لگتا ہے توڑنی پڑے گی”۔ عارش نے اسے خونخوار نظروں سے گھوری عنایت فرمائی۔ ” ارے آپ تو برا ہی مان گئے جا رہا ہوں میں آگ کے گولے”۔ اشعر اسے دانت نکالے چڑاتا باہر کی طرف دوڑا۔ ” رک بتاؤں تجھے”۔ عارش بھی اسکے پیچھے بھاگتا ہوا لاؤنج میں آگیا۔ ” ارے آپی ، مما۔۔۔ بچاؤ”۔ صوفے کے ارد گرد گھومتا اشعر دانت نکالے مدد کی اپیل کرتا لان کی طرف بھاگا۔ ” بچ کے کہا جائے گا آج تو خبر لیتا ہوں تیری ”۔ عارش بھی اسکے پیچھے پیچھے تھا غصے میں لان کی طرف لپکتا سامنے سے آتی حورین اسے دکھائی نہ دی اور انکی زور دار ٹکر ہوگئی۔ ” اندھے ہو گئے ہو یا جان بوجھ کے گھٹیا حرکتیں ہو رہی ہیں”۔ حورین اپنا ماتھا دباتی غصے سے اسے گھور رہی تھی جبکہ عارش بس اسکے جملے پہ اسے حیرت سے دیکھے گیا۔ ” سوری۔۔” عارش کہتا تیزی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ” شکر ہے یار آگئے ہو میں تو سمجھا تھا مجھے انوائیٹ کر کے خود بھول گئے”۔ ہمدان نے عارش سے مصافحہ کرنے کے بعد مسکراتے ہوئے شکوہ کیا۔ عارش نے اسے ایک پل کو غور سے دیکھا تھا خوبصورت پرسنیلٹی کا مالک یہ وجیہہ شخص واقعی حور کے قابل تھا۔ ” بس یار ٹریفک کا تو پتہ ہی ہے تمہیں اور سناؤ کیسے ہو”۔ عارش نے پوچھا۔ ” بہت خوش”۔ ہمدان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد عارش نے مدعے پر آنے کا سوچتے ہی بات کردی۔ ” ہمدان تم حورین کو پسند تو کرتے ہو نہ؟؟ عارش کے سوال پر ہمدان پل بھر کو چونکا۔ ”سچ پوچھو تو حورین میری ماما ،اور بابا کی چوائس ہے لیکن حورین کو دیکھنے کے بعد میرا دل مجبور ہوگیا ہے آئی ایم لکی”۔ ہمدان نے اپنے دل کا حال بتایا اسکے آخری جملے نے عارش کے دل پہ چوٹ کی۔ ” یس یو آر۔۔۔ حورین نے بتایا تھا اسکے کالج میں چھوٹا سا مس ہیپ ہو گیا تھا وہ اسکے کئے بہت شرمندہ ہے”۔ عارش نے اس سے اگلوانے کو بات بنائی۔ ” حورین کے ساتھ اسکے کالج میں؟؟ ہمدان نے نا سمجھی میں پوچھا۔ ” ایسا کچھ نہیں ہوا کیا؟ عارش نے اسے حیرت سے دیکھا۔ ” نہیں مجھے تو ایسا کچھ یاد نہیں ایوین حوریں کو فرسٹ ٹائم میں نے اسی دن دیکھا تھا جس دن ہم پروپوزل لائے تھے تبھی اپنا دل ہار بیٹھا تھا”۔ ہمدان نے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ڈرامائی انداز میں کہا۔ دونوں کافی دیر باتیں کرتے رہے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا اتنی جلدی سب کیسے ہوگا”۔ شائستہ بیگم نے سب کو چائے سرو کرتے ہوئے فکرمندی سے کہا۔ ”اتنے کم دن رہ گئے ہیں کیسے ہوں گے سارے انتظامات میں تو خود پریشان ہوں”۔ غضنفر علی بھی متفکر تھے۔ ” سب ہو جائے گا غضنفر بھائی آپ اتنے فکر مند نہ ہوں”۔ ضیافت علی نے چائے کا کپ ٹیبل سے اٹھاتے ہوئے انہیں تسلی دی۔ ”حورین نے الگ خود کو کمرے میں بند کر رکھا ہے سب سے بہت ناراض ہے بھلا اتنی جلدی بھی کیا تھی بھائی صاحب کم از اسٹڈیز کمپلیٹ ہونے تک کا وقت ہی لے لیتے”۔ ثانیہ بیگم نے ماتھے پہ بل ڈالے شکوہ کیا۔ ” لو جی تم پھر سے شروع ہو جاؤ پچھلے دس دنوں میں دس ہزار بار یہ بات دہرا چکی ہو، پہلے ہی بھائی بھابھی فکرمند ہیں”۔ ضیافت علی نے مسکراتے ہوئے بیگم سے کہا۔ ” کہہ تو ٹھیک رہی ہیں بھابھی اتنی جلدی کیسے اتنی بڑی ذمہ داری اٹھائے گی میری حور”۔ شائستہ بیگم مزید متفکر ہوئیں۔ ”ارے بھابھی وہ کوئی بیک ورڈ فیملی تو ہے نہیں کہ جاتے ہی حورین پر گھر کے کام کاج کی ذمہ داری ڈال دیں گے”۔ ضیافت علی نے انہیں تسلی دینے کو کہا جبکہ دل تو اپنا بھی پریشان تھا گھر کی اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے حورین چاچو، چاچی کی بھی جان تھی۔ ہمدان سے ملاقات کے بعد عارش کو تسلی ہو گئی تھی کہ ہمدان کو کچھ یاد نہیں ہے اور حورین ایسے ہی ڈر رہی ہے جبکہ حورین کا خوف جوں کا توں تھا ادھر عارش سے ملاقات کے اگلے ہی دن ہمدان کی فیملی شادی کی ڈیٹ فکس کر کے جا چکے تھے حوریں کا احتجاج کسی کام نہ آیا مجبوراً اسے سب کے فیصلے کے آگے سر خم کرنا پڑا۔ عارش نے اسپیشلائیزیشن کے لئے لندن مین اپلائی کر رکھا تھا اور اسکے جانے کا پروانہ اسے مل چکا تھا۔ حورین کی شادی کے اگلے دن اسنے روانہ ہونا تھا۔ شادی کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھی آج حورین نے شادی کا جوڑا لینے جانا تھا وہ روم میں ریڈی ہو کر بیٹھی ہمدان کی مما کا انتظار کر رہی تھی جب شائستہ بیگم نے اسکا روم ناک کیا۔ ” آگئیں ہمدان کی مما؟؟ اسنے شائستہ بیگم کو دیکھ کر اٹھتے ہوئے کہا۔ ” نہیں بیٹا ہمدان کی مما تمہارا بوتیک میں ہی ویٹ کر رہی ہیں ہمدان آیا ہے لینے جلدی سے آجاؤ”، شائستہ بیگم مسکراتے ہوئے کہتی جانے کو مڑ ی تھیں۔ ” مما لیکن ہمدان کیوں”۔ حورین نے گھبراتے ہوئے کہا۔ ” ارے میری بچی ہونے والا شوہر ہے تمہارا اور گھبراؤ نہیں اچھا لڑکا ہے اسی لئے اجازت دی ہے آجاؤ چلو”، وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ ہی باہر لے آئی تھیں۔ ” السلام و علیکم”۔ حورین کو پر شوق نگاہوں سے دیکھتے ہمدان اسے سلام کرتے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ” وعلیکم السلام” حورین نے اسکی نظروں کو خود پر محسوس کر کے نظریں جھکائے جواب دیا۔ ” خیال سے جانا ”۔ جاتے ہوئے شائستہ بیگم نے تاکید کی۔ وہ باہر آئی تو ہمدان چہرے پہ مسکراہٹ سجائے اسکے لئے فرنٹ ڈور کھولے کھڑا تھا۔ وہ جولیمن اینڈ آف وائیٹ شلوار کمیز کے ساتھ ٹی پنک دوپٹہ سر پہ ٹکائے ہاف کیچ بالوں میں سے آزاد ہوتی لٹوں کو کان کے پیچھے سرکاتی گھبراتی ہوئی چلی آرہی تھی اسے یوں کھڑا دیکھ حیران ہوئی پھر جلدی سے کار میں بیٹھ گئی تھی جبکہ ہمدان نے حورین کے سراپے کو آج بہت غور اور محبت سے دیکھا تھا۔ شاپنگ کے دوران بھی ہمدان کی نظریں حورین کو کنفیوز کرتی رہی تھی شاپنگ کے بعد ہمدان کی مما تو فوراً گھر چلی گئی تھیں جبکہ ہمدان اسکے لاکھ انکار کے باوجود ڈنر پر لے آیا تھا۔ ” اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو حور”۔ ہمدان نے اسے شرارت بھری نظروں سے دیکھتے کہا۔ ” نہ۔۔ نہیں تو میں تو نہیں گھبرا رہی”۔ حور نے کامپتے ہاتھوں کو گود میں رکھ کر خود کو نارمل کرتے کہا کھانا آتے ہی دونوں کھانا کھانے لگے حوریں چاہتی تھی جلد از جلد گھر چلی جائے۔ ”تمہارے ہاتھ بہت خوبصورت ہیں خاص کر یہ رائیٹ والا”۔ ہمدان نظریں اسکے ہاتھوں پہ جمائے شرارت سے کہہ رہا تھا۔ ” جی۔۔ یہ والا کیوں ؟؟ حورین کو اسکی بات پر حیرت ہوئی۔ ” اس لئے کیونکہ اس پر یہ جو کالا تل ہے یہ اس ہاتھ کو اور پر کشش بنا رہا ہے”۔ ہمدان کے انداز پہ حورین نے جھیمپتے ہوئے ہاتھ گود میں رکھ لئے۔ اس کی اس ادا پہ ہمدان قہقہہ لگا کہ ہنس دیا۔ ” بھلا کوئی ہاتھوں کی تعریف بھی کرتا ہے اور کچھ خوبصورت نہیں کیا ہونہہ۔۔۔۔” وہ دل ہی دل میں سوچتی منہ بنا کہ رہ گئی۔
(باقی آئندہ)
