Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode02

Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode02

سرونگ ٹرالی سجاتی شائستہ بیگم کے تو ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے۔ ” لوگ تو بہت اچھے لگ رہے ہیں”۔ ثانیہ بیگم مسکراتے ہوئے شائستہ بیگم سے گویا ہوئیں۔ ” جی بھابھی لڑکا بھی اچھا ہے سب سے بڑی بات اپنا بزنس سیٹ ہے اسکا”۔ شائستہ بیگم نے جلدی میں تبصرہ کرتے کہا۔ ” اچھا جلدی کریں، اور یہ حورین تیار ہوئی کہ نہیں؟؟ میں دیکھ کر آتی ہوں”۔ ثانیہ بیگم پوچھتی خود ہی حورین کے کمرے میں چل دی۔ ” یہ کیا پہن لیا؟؟ کمرے میں داخل ہوتے ہی ثانیہ بیگم نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا ہو گیا چاچی، ٹھیک نہیں ہے کیا؟؟ اشعر اور عارش نے مشورہ دیا یہ پہننے کا”۔ حورین نے ایکسائیٹڈ ہوتے ہوئے بتایا۔ ”ارے جینز شرٹ کون پہنتا ہے ایسے موقعے پر پاگل لڑکی؟ اشعر اور عارش کی تو میں بعد میں خبر لونگی تم جاؤ جلدی سے یہ ڈریس چینج کر کے آؤ”۔ ثانیہ بیگم نے اسکے وارڈروب سے شلوار قمیض کا ڈیسینٹ سا جوڑا اسے تھمایا۔ “میں جا رہی ہوں پانچ منٹ میں آ جاؤ”۔ ثانیہ بیگم جلدی میں کہتی چلی گئی۔ ” تم لوگوں سے تو بعد میں نمٹوں گی”۔ حورین پیر پٹختی بدلے کی منصوبہ بندی کرتی تیار ہونے لگی۔ ”ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہے میری حور چلو شاباش ٹرالی لے کے آجاؤ ڈرائینگ روم میں”۔ حورین کو کچن میں اینٹر ہوتا دیکھ شائستہ بیگم اسکی نظر اتارتی پیار سے کہتی باہر نکل گئیں۔ ” السلام و علیکم ”۔ نروس سی حورین ٹرالی گھسیٹتی سب کو سلام کرتی روم میں اینٹر ہو چکی تھی۔ ” ماشاءاللہ آئیے بیٹا کیسی ہیں آپ؟ صوفے پہ بیٹھی عمر رسیدہ لیکن ہیوی میک اپ کے ساتھ فل فیشن میں لپٹی خاتون نے اسے پیار کرتے ساتھ ہی بٹھا لیا۔ ” بھئی ہمیں تو آپکی بیٹی بہت پسند آئی ہے ہماری طرف سے ہاں ہے بس آپ بھی جلدی سے ہاں کر دیں”۔ ساتھ ہی بیٹھی ڈیسینٹ سی خاتون جو دکھنے میں لڑکے کی ماں لگ رہی تھی مٹھاس بھرے لہجے میں گویا ہوئیں۔ ”ارے اتنی جلدی کیسے”۔ شائستہ بیگم نے گھبراہٹ اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ غضنفر صاحب کی طرف دیکھا۔ ”ہم اور کچھ نہیں سنیں گے بس بھائی صاحب ہمیں جواب چاہئے بس ابھی وہ بھی ہاں میں”۔ لڑکے کے ساتھ بیٹھے شخص جو دکھنے میں لڑکے کے ابا لگ رہے تھے پر جوش ہوکر کہنے لگے۔ ”اب آپ اتنا کہہ رہے ہیں تو ہماری طرف سے بھی ہاں ہے”۔ غضنفر صاحب نے بھی فیصلہ سنا دیا تھا۔ ”لیجئے منہ میٹھا کریں”۔ سب لوگ منہ میٹھا کرنے لگے جبکہ حورین نے کن اکھیوں سے لڑکے کو دیکھا جس سے ابھی ابھی اسکا رشتہ طے ہوا تھا جسے دیکھتے ہی اسکے پیروں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہوئی حورین کی سٹی گم ہو چکی تھی اور مارے خوف کے اسکی آنکھیں پھیل گئی تھی۔” ہمدان آفندی”۔ بے ساختہ حورین کے منہ سے اسکا نام نکلا جو فاتحانہ مسکراہٹ سجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
”تڑاخ”وہ بلا خوف و خطر زنّاٹے دار تھپڑ اسے رسید کر چکی تھی وہ بھی پورے کالج کے سامنے ۔ ” ہاؤ ڈئیریو”۔ شعلہ بار نظروں سے گھورتے ہمدان آفندی نے غصّہ سے مٹھی بھینچتے کہا۔ ” ہاؤ ڈئیریو؟؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی ہاں”۔ پر تیش لہجے میں کہتی حورین کی آنکھیں بھی غصّہ کی شدت سے سرخ ہو رہی تھی اسکا بس چلتا تو سامنے کھڑے شخص کو تین چار تھپڑ اور جڑ دیتی۔ ” یہ تم نے اچھا نہیں کیا مس حورین غضنفر”۔ وہ دانت پیستا انگلی اسکی طرف کرتے کہہ رہا تھا۔ ” ہاں واقعی اچھا نہیں کیا تم جیسوں کا دماغ تو جوتوں سے ٹھیک کرنا چاہئے تمہں تو میں تھپڑ مارنے کے لئے بھی چھونا پسند نہ کروں میرے سارے ہاتھ گندے ہو گئے ”۔ حورین ازلی لاپروائی سے کہتی اپنے ہاتھ رگڑ کر صاف کرنے لگی۔ ”تمہیں تو ایسا سبق سکھاؤں گا کہ یاد رکھو گی”۔ وہ قہرآلود نظر اسپے ڈالتا ہاتھ میں پکڑے نوٹس مٹھی میں دبوچتا جا چکا تھا۔ ” کن سوچوں میں بیٹھی ہیں دلہن صاحبہ؟؟ عارش نے اسکے سامنے ہاتھ ہلایا تو وہ ہوش میں آئی تھی۔ ” یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ یہ پورے ایک سال بعد کہاں سے آگیا؟؟ حورین دل میں سوچتی فکر مند ہو رہی تھی۔ ” ہیلو”۔ عارش نے اس بار زور سے چٹکی کاٹی تو حورین ہوش میں آئی۔۔ ”آؤچ۔۔۔دماغ ٹھیک ہے تمہارا پاگل انسان”۔ حوریں نے جل بھن کر عارش کو گھورا۔ ” میرا تو ٹھیک ہے تم ہی حسن کی دیوی بنی ابھی سے کسی کی سوچوں میں گم بیٹھی ہو”۔ عارش نے دانت نکالتے اسے چھیڑا۔ ” عارش۔۔۔ میں۔۔۔وہ۔۔ ” حورین کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن سمجھ نہیں آ رہا تھا کیسے کہے پریشانی اسکے لہجے سے صاف جھلک رہی تھی۔ ” شاباش ہکلانے کے دورے بھی پڑنے لگ گئے گڈ گڈ”۔ عارش تھا باز کیسے رہتا اسے تنگ کرنے سے۔ ” دفع ہو۔۔ میں یہاں اتنی پریشان بیٹھی ہوں اور تم”۔ حورین جھنجھلا کہ رہ گئی۔ ” کیا ہوا پریشان کیوں ہے ہماری بندریا”۔ عارش نے سنجیدگی سے کہا۔ ” بات ہی ایسی ہے عالی قدر آگ کے گولے”۔ حورین نے بھی سنجیدگی سے لیکن تنزیہ جواب دیا۔ ” اچھا بتاؤ کیا بات ہے”۔ اب کی بار معاملے کی سنگینی کو سمجھتے عارش سچ میں سنجیدہ ہوا تھا۔ ” عارش۔۔۔ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی پلیز مجھے اس شخص سے بچا لو کسی طرح”۔ حورین نے التجاء کرتے ہوئے کہا۔ ” ہیں؟؟؟ کیوں آخر ریزن کیا ہے اچھا بھلا تو ہے ہمدان اور فیملی بھی اچھی ہے کوئی معقول وجہ بھی تو ہو”۔ عارش اسکی بات پہ حیران ہوا تھا۔ ” کہیں پھر سے تو میری محبت کا بھوت نہیں سوار ہو گیا تمہارے دماغ پہ”۔ عارش نے حورین کے دل پہ چوٹ کی۔ ”عارش۔۔۔” حورین نے اسے غصے سے گھورا۔ ” ایک بار تم سے بھیک مانگی تھی غلطی ہو گئی تھی مجھ سے بار بار تم جیسے کم ظرف انسان سے بھیک مانگنے والی نہیں ہوں میں وہ بھی اپنی محبت کی لہٰذا اس خوش فہمی سے باہر نکل آؤ”۔ حورین نم ہوتی آنکھوں کو قا بو کرتی سنجیدگی سے کہہ رہی تھی جبکہ اس بار عارش کے دل میں پھانس سی چبھی تھی۔ ” ہمدان سے کیا مسئلہ ہے پھر تمہیں؟؟ عارش سیدھا مدعے پہ آیا۔ ” وہ کالج میں لاسٹ ائیر اسکے ساتھ چھوٹا سا پنگا ہو گیا تھا، وہ مجھے دھمکی دے کر گیا تھا کہ مجھسے ایسے نہیں چھوڑے گا میں تو سب بھول گئی تھی لیکن اچانک سال بعد وہ ایسے واپس آگیا اور میرا رشتہ بھی ہوگیا اس سے دل میں ایک خوف بیٹھ گیا ہے عارش”۔ حورین تفصیل بتاتی روہانسی ہو گئی تھی۔ ” اچھا تو یہ بات ہے لیکن پہلے کیوں نہیں بتایا تم نے؟ ایسی باتیں چھپانے کی نہیں ہوتی حور”۔ عارش نے اسے ڈپٹا ہی تو تھا۔” اچھا اب ذیادہ میرے ابا بننے کی ضرورت نہیں ہے مسئلہ کا حل بتاؤ”۔ حورین نے اسکی ڈانٹ پہ کان نا دھرتے ہوئے کہا۔ ” ہممم۔۔۔۔ سوچتے ہیں کچھ”۔ عارش نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجاتے کہا۔
(باقی آئندہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *