Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode06

Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat Episode06

عارش کے جاتے ہی گھر میں خاموشی نے ڈیرا ڈال لیا تھا سب کے دل میں اداسی نے اپنا بسیرا کررکھا تھا۔ حورین کے لئے ناشتہ لے جانے کی تیاری بھی انتہائی خاموشی میں کی گئی سب کو یہی لگ رہا تھا کہ حورین عارش کے اس فیصلے سے آگاہ تھی اور پھر بھی اس نے سب سے اتنی بڑی بات چھپائی۔ ” حورین بیٹا جلدی سے ریڈی ہو کر نیچے آجائیں آپکی فیملی آچکی ہے”۔ مما ناک کرتی کہہ رہی تھیں۔ حورین نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ ” جی آنٹی میں ریڈی ہوں بس ہمدان چینج کرلیں دو منٹ میں آئی”۔ خوبصورت مسکان سجائے وہ کہہ رہی تھی۔ ہمدان کی مما کو اپنی بہو پہ بے حد پیار آرہا تھا۔ ہمدان کی فرمائش پہ حورین نے ٹی پنک فراک پہنہ تھا جسکے گلے اور سلیوز پر گولڈ کلر میں دبقہ کا کام نفاست سے کیا ہوا تھا۔ کھلے بالوں کے ساتھ کانوں میں جھولتے جھمکے اور شانوں پر سلیقے سے لیا دوپٹہ ساتھ ہی ہمدان کی محبت کا رنگ حورین کو آج حد سے زیادہ خوبصورت بنا گیا تھا شوہر کی سچی محبت حاصل ہو تو ہر بیوی اتنی ہی دلکش اور خوبصورت لگتی جتنی حورین لگ رہی تھی۔ ” بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ”۔ ہمدان کی مما نے پیار سے کہتے حورین کے سر پہ ہاتھ رکھا۔ واش روم سے نکلتے ہمدان کی شوخ نظریں خود ہر محسوس کرتے ہی حورین مارے حیا کے جھیمپ گئی۔ ” اچھا جلدی سے آجائیں سب آپ دونو کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں”۔ ہمدان کی مما کہتی جا چکی تھی۔ نیچے لاؤنج میں بیٹھے سب لوگ آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے ہمدان کے گھر سے تمام گیسٹ جا چکے تھے بس اسکی پھپھو اور انکی بیٹی فبیہہ رک گئے تھے۔ ” شکر ہے آپی آگئیں”۔ ہمدان اور حورین کو سیڑھیوں سے اترتا دیکھ اشعر نے کھڑے ہوتے ہوئے خوشی سے کہا۔ جبکہ پاس بیٹھی فبیہہ نے حورین کو نفرت بھری نگاہ سے نوازا تھا۔ ” کیسی ہے میری بیٹی”۔ غضنفر صاحب نے حورین کو گلے لگاتے ہوئے پیار سے کہا۔ ” میں ٹھیک ہوں بابا”۔ حورین نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا سب سے ملنے کے بعد حورین ہمدان کے ساتھ بیٹھنے ہی لگی تھی کہ فبیہہ اس سے پہلے ہمدان کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ حورین اسکی یہ حرکت دیکھ کر پل بھر کو ٹھٹھکی اورہمدان کو دیکھ کر رہ گئی ہمدان الگ شاک میں تھا لیکن حورین اگنور کرتی اپنی مما کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔ ” چاچی عارش نہیں آیا”۔ حورین نے متلاشی نظروں سے لاؤنج کا جا ئزہ لیتے کہا۔ ”یہ عارش کون ہے جسکا آپکو اتنی بے صبری سے انتظار تھا”۔ اس سے پہلے کہ ثانیہ بیگم کوئی جواب دیتی فبیہہ نے تنزیہ کہتے ٹانگ اڑائی۔ ” دماغ ٹھیک ہے یہ کس انداز میں بات کی ہے تم نے تمیز بھول آئی ہو کہیں؟؟ ہمدان کا پارا اچانک سے ہائی ہوا تھا۔ ” وہ میں نے تو ایسے ہی پوچھ لیا”۔ ہمدان کے بدلتے تیور دیکھ وہ ہڑبڑا گئی۔” بھابھی ہیں تمہاری سمجھ آئی آئندہ یہ انداز میں نے سنا تو انجام خود دیکھو گی مما ناشتہ لگوائیں اور خیال رہے ٹیبل پر آؤٹ سائیڈرز الاؤڈ نہیں ہیں سو ہماری فیملی کہ علاوا مجھے کوئی نہ دکھے”۔ ہمدان دو ٹوک انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ” حور چلو ہم ڈائیننگ روم ہی چلتے ہیں بلکہ سب وہیں چل کر باتیں کرتے ہیں کیا خیال ہے بابا”۔ ہمدان پیار سے حورین کا ہاتھ تھامتے مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا، اپنی بیٹی کے لئے ہمدان کی محبت دیکھ کر غضنفر صاحب کی آنکھیں نم ہوئی تھیں اور دل اللہ کے شکر سے مسرور ہوا۔ ” چلیں بھائی صاحب”۔ ہمدان کے پاپا بھی فبیہہ کو گھورتے اٹھ گئے تھے۔ ” فبیہہ اور شاہین کا ناشتہ انکے روم میں بھجوا دیں”۔ ولی آفندی بھی پھر ہمدان کے پاپا تھے اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ یہ لڑکی کیا کرنا چاہتی ہے جبھی ملازمہ کو حکم دیتے ڈائیننگ ہال میں چل دئیے کچھ دیر پہلے جو ماحول کچھ کشیدہ ہوا تھا اب نارمل ہو چکا تھا۔ ” آپی عارش بھائی لندن چلے گئے”۔ اشعر نے سنجیدگی سے بتاتے اسکے سر پہ بم پھوڑا۔ ” کیا۔۔۔۔۔۔۔ کب؟؟ اچانک کس لئے؟؟ حورین سن کر شاکڈ تھی۔ ” تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو جیسے تمہیں پتہ ہی نہ ہو”۔ ثانیہ بیگم نے شکوہ کیا۔ ” نہیں چاچی مجھے پتہ ہوتا تو کم از کم اسے سمجھاتی کہ ولیمہ تو اٹینڈ کر کے جائے”۔ حورین نے حیرت سے کہا۔ ” واقعی نہیں پتہ تمہیں ہمیں لگا تم سب جانتی ہو ہم تو خفا بھی تھے تم سے اسی وجہ سے”۔ شائستہ بیگم نے شرمندگی سے کہا۔ ” ارےمجھے۔۔” ” مجھے پتہ تھا مما عارش نے حورین اور آپ سب کو بتانے سے منا کیا تھا میں مجبور تھا بتا نہیں سکا”۔ ہمدان نے حورین کی بات کاٹتے ہوئے تفصیل بتائی۔ ” بیٹا تم اسے سمجھاتے بھلا ہم کیسے رہیں گے اسکے بغیروہ تو خود کبھی دور نہیں رہا ہم سے”۔ ثانیہ بیگم پھر سے آبدیدہ ہو گئی تھیں۔ ” پھر بھی بتانا تو چاہئے تھا اس آگ کے گولے کو”۔ حورین بری طرح تپی تھی۔اسکے انداذ پہ ہمدان سمیت سب کو ہنسی آگئی تھی۔ ” شرم کریں آپیا ب تو شادی ہو گئی ہے آپکی اب تو بخش دیں عارش بھائی کو”۔ اشعر نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔” بھئی شادی ہونے کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ انسان جینا ہی چھوڑ دے حور پہ تو ویسے بھی ایسی ہی اچھی لگتی ہے”۔ ہمدان نے پیار سے کہتی اپنی حور کی سائیڈ لی۔ ”ہاں تم بھی بس کردو اسکا چمچہ بننا”۔ حورین نے بھی تنک کرکہتے اشعر کو چڑایا۔ سب ہنسنے لگے خوشگوار ماحول میں ناشتہ ہوا اور وہاں پردیس میں عارش تنہا رہ گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭
ولیمہ کا فنکشن بھی بہت اچھے سے گزر گیا تھا حورین وائیٹ فیری ٹیل فراک میں بہت حسین لگ رہی تھی سر پہ ٹکے وائیٹ دوپٹہ کے ساتھ گردن اور کانوں میں نفیس سا ڈائمینڈ سیٹ بھی حورین کے آگے ماند پڑ رہا تھا۔ فنکشن کے دوران ہی حورین فبیہہ کو اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ وہ کن نظروں سے ہمدان کو دیکھ رہی تھی۔ لیکن تسلی اس بات کی تھی کہ ہمدان نے اسے نظر اٹھا کہ دیکھنا تک گوارا نہ کیا تھا وہ تو اپنی حور کے حسن میں کھویا ہوا تھا۔ دن گزتے جا رہے تھے اور حورین کے لئے بڑا انکشاف ہوا تھا کہ فبیہہ ہمدان کے گھر میں ہی رہتی ہے۔ حورین کی مما کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی تبھی غضنفر صاحب نے اسے کال کر کے گھر آنے کا کہا تھا۔ ” ہمدان مما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ جلدی آجائیں پلیز”۔ حورین کی آواز سے فکر صاف جھلک رہی تھی۔ ” حور ڈئیر ابھی تو بہت امپورٹینٹ میٹنگ اسٹارٹ ہونے والی ہے تم ایسا کرو ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ میں واپسی پر پک کرلوں گا ہاں”۔ ہمدان اپنی مجبوری سے آگاہ کرتے اسکے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ ” اٹس او کے لیکن ہمدان میں مما کے پاس ہی رک جاؤں آج پلیز؟؟ حورین کو پتہ تھا وہ اسکے بغیر رہ نہیں سکتا لیکن پھر بھی ہمت کر کہ پوچھ ہی لیا۔ ” ہائے کیوں میری جان لینے پہ تلی ہو سارہ دن آفس رہو اور رات کو بھی تمہیں نہیں دیکھوں گا تو جان نکل جائے گی میری”۔ وہ بے چین ہوا تھا۔ ”ہمدان پھر آپ نے فضول بات کی جائیں اب تو میں پو را ہفتہ نہیں آؤں گی واپس”۔ وہ منہ پھلائے خفگی سے بولی۔ ” ایسے کیسے میں اٹھا کہ لے آؤں گا وہ بھی سب کہ سامنے آخر کو اکلوتی بیوی ہو میری”۔ ہمدان نے اسے چھیڑتے ہوئے دھمکی چڑھائی۔ ” اچھا آج رک جاؤ جسٹ مما کی وجہ سے اجازت دے رہا ہوں ”۔ ہمدان نے جتاتے ہوئے کہا۔ ” لو یو ہمدان”۔ حورین خوشی سے کہہ کر کال کٹ کرتی تیار ہونے لگی۔ ہمدان آفس سے لیٹ گھر آیا تھا چائے پینے کا سوچ کر اسنے کچن کا رخ کرلیا۔ کچن میں داخل ہوتے ہی اسکی نظر فبیہہ پر پڑی جو پانی پی رہی تھی۔ ” ہائے ہمدان کیسے ہو آج کل تو نظر ہی نہیں آتے گھر میں خیر تو ہے”۔ فبیہہ بڑی خوش نظر آرہی تھی ظاہر ہے آج حورین گھر جو نہیں تھی۔ ” ہئے فیب میں ٹھیک ہوں ”۔ ہمدان نے خود کو نارمل رکھتے مختصراً جواب دیا۔ ”آئی نو مائی ڈئیر میرے ساتھ تم نے ٹھیک ہی ہونا ہے”۔ فبیہہ نے مکروہ مسکراہٹ سجائے اسکے قریب ہوتے کہا۔ ” فیب بکواس بند کرو اپنی اور ذرا دور ہٹو”۔ وہ اسے غصے سے کہتا خود ہی پیچھے کو ہوا۔ چائے کپ میں ڈالنے کے لئے کپ رکھا ہی تھا کہ فبیہہ ذبردستی اسکے سینے سے جا لگی ہمدان کی کمر کچن کے دروازے کی طرف تھی جبکہ فبیہہ کا رخ دروازے کی طرف یہ سب شیطانی فبیہہ نے اتنی جلدی میں کی کہ ہمدان کچھ سمجھ ہی نہ سکا اسنے ذور سے دھکا دیتے فیب کو خود سے دور کیا” ہاؤ ڈئیر یو”۔ وہ دھاڑا تھا ابھی اسنے کچھ اور کہنے کو لب کھولے ہی تھے کہ سامنے کھڑی حورین کو دیکھ کہ ایک دم اسکا سانس رک گیا جو حیران کھڑی اپنے سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی ” اوہ بیوی کو دیکھ کہ مجھے چھوڑ دیا اور پچھلے آدھے گھنٹے سے جو مجھسے چپکے ہوئے تھے وہ کیا تھا”۔ فبیہہ حورین کو دیکھتے ہی اپنی اوقات دکھانے لگی وہ بے شرموں کی طرح آگ لگانے میں مصروف تھی۔ ” تڑاخ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ذوردار تھپڑ کی آواز کچن سمیت پورے ہال میں گونجی تھی۔ ہمدان اسے دیکھ کہ رہ گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *