Tum Meri Ho Bas by Razia Ahmad NovelR50686 Tum Meri Ho Bas (Last Episode)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Meri Ho Bas (Last Episode)
Tum Meri Ho Bas by Razia Ahmad
شیزاد : ابّا پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اسکو میں . . . ڈاکٹر میری گل کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے پلیز
ابّا : پریشان مت ہو یہ بالکل ٹھیک ہوجائےگی
ڈاکٹر : پلیز آپ باہر رہیں
ابّا : آخر گل کو ہوا کیا ہے ؟
شہزاد : پتہ نہیں . . . میں خود نہیں سمجھ پا رہا کے … اُف میرے خدایا پلیز میری گل کوبچاہ لینا میں مرجاونگا اِس کےبغیر پلیز خدایا ! ! پلیز
ابّا : پریشان مت ہو ٹھیک ہوجائےگی
نرس : یہ کچھ دوایاں ہیں پلیز لے ایں
شہزاد بھاگتا ہوا میڈیکل اسٹور پر گیا اور لیکن رستے میں اسکی نظر اسی شادی والی گاڑی پے پڑی جس کو گل دیکھ کر بے ہوش ہوگئی تھی . شہزاد نے اَحْسَن کو دولہے کے لباس میں جب دیکھا تو اُس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی . لیکن دلہن کا چہرہ نہ دکھا . تب شہزاد سمجھا . . . شہزاد کی سمجھ میں نہیں
آرہا تھا کے گل کو وه کیسے سنبھالے . جب گل کے پاس گیا تو وہ نارمل وارڈ میں شفٹ ہوچکی تھی . لیکن شہزاد میں ہمت نہ تھی کے اُسے کچھ بتاۓ . اتنے میں چچی اور گڑیا بھی وہاں پہنچ چکے تھے . گل سو رہی تھی شہزاد نے ساری رات گل کے سرہانے جاگتا رہا . صبح آنکھ کھلی تو گل اپنے بستر سے غائب تھی . شہزاد نے جب خالی بستر کو دیکھا تو بےحد پریشان ہو گیا اور گل کو تلاشنے لگا . ہر نرس سے پوچھا لیکن کسی کو کچھ خبر نہ تھی
ابّا : تُم پریشان نہ ہو میں دیکھتا ہوں . تُم ایسا کرو ریلوے اسٹیشن چلے جاؤ ہو سکتا کے وه اپنی خالہ کے ہاں گئی ہو
شہزاد پورے شہر میں مارا مارا پھرتا رہا کے کاش اسے گل کہیں مل جائے سب جگہ چھان لی لیکن گل کہیں نہ ملی . انعم سے بات کرنے کا موڈ تو بالکل بھی نہ تھا . کیوں کے آج تو اسکی شادی تھی . رات ہوگئی لیکن گل کا کچھ پتہ نہ تھا . خالہ کے گھر فون کرنے کے باوُجُود پتہ نہ چلا کے گل کہاں ہے
شہزاد : ابّا میں مر جاؤنگا میری گل مجھے واپس لادیں
ابّا : پریشان نہ ہو کچھ کرتے ہیں . . . پولیس اسٹیشن چلتے ہیں وہاں خبر کرنی پڑے گی
گڑیا : بھائی بھابھی کہاں ؟ چچی . ھائے میرے اللہ میری بچی کو سہی سلامت رکھنا
پولیس اسٹیشن رپورٹ بھی درج ہوچکی تھی اور اگلے دن دونوں باپ بیٹا پِھر سے پُرا شہر گھومے لیکن گل کہیں نہ ملی . پِھر دونوں کو خیال ایا کے اک بار پِھر گل کی خالہ سے بات کی جائے . جب وه وہاں پہنچے تو خالہ نے گل کی غیر موجودگی کا انہیں
بتایا . . لیکن گل . . . اوپر والی کھڑکی سے شہزاد کو دیکھ رہی . . .
خلا : بیٹا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیئے میں نے اب ان کو جانے کو کہہ دیا ہے . اگر تُم واپس نہیں جانا چاہتی کم سے کم ان کو بتا دو تو
گل : خالہ میں
گل پُھٹ پُھٹ کر رونے لگی . اتنے میں دروازہ کھلا اور سامنے شہزاد کھڑا تھا . شہزاد کے قدم گل کی طرف بڑہے. . شیزاد نیچھے بیٹھ گیا اُس کے ہاتھ تھامے دونوں کی آنکھیں نم تھی گل کی نظری جھکی ہوئی تھی اور شہزاد کی نم آنکھوں اُس سے سوال کر رہی تھی . شہزاد نے دونوں ہاتھوں سے گل کے چہرے کو تھاما اور کہا
شہزاد : گل . . . کیوں کیا تم نے ایسا ؟
گل : مجھ میں ہمت نہیں رہی
شہزاد : میں تمھارے ساتھ ہوں . . تُم اکیلی نہیں ہو
گل : مجھے نہیں جانا واپس
شہزاد : تُم میری ہو . . . بس ! آئی لو یو ! ! شادی کروگی مجھ سے ؟
شہزاد نے اسے گلے سے لگایا اور گل پُھٹ پُھٹ کر رونے لگی
شہزاد : آج جی بھر کے رولو میری جان جی بھر کے . . . آج کے بَعْد میں تمہیں کبھی رونے نہیں دونگا . . ابّا نکاح کی تیاری کرے ! ! آج ہی نکاح کرونگا میں گل سے !
ابّا : ہاں گھر چلو آج ہی گل کے ہاتھوں میں تمھارے نام کی مہندی لگے گی
شام تک گل کا نکاح بھی ہو چکا تھا اور اگلے دن شادی بھی . 3 دن بَعْد شہزاد اور گل کینیڈا جانے کی تیاری میں تھے کینیڈا پوہنچتے ساتھ ہی
گل نے شہزاد کے ساتھاپنی نئی زندگی شروع کی . وعدے کے مطابق شہزاد نے گل کو بہت خوش رکھا . گل کا ہر وقت ہنسا شہزاد کا ہر وقت اُس کے ساتھ مذاق کرنا . گل کا خوش باش چہرہ اور شہزاد کے دِل کا سکون . شہزاد کو سب کچھ مل چکا تھا اور اب تو گل نے بھی اسے اپنا لیا تھا . 1 سال بَعْد گل اور شہزاد کی زندگی میں اک مہمان کی عامد ہونے والی تھی . دونوں بہت خوش تھے اور اُس مہمان کی آنی کی خوشی میں دوھم دھام تیاری بھی ہورہی تھی . گل کی کچھ رپورٹس آنے والی تھی اسلئے شہزاد کو ہسپتال جانا پارا . وہاں سے جب رپورٹس لی تو اسکی نظر اَحْسَن پر پڑی . شہزاد کا من کیا کے وه اسے۔ لیکن شہزاد نےاسے اگنور کر دیا . جیسے وه پاس سے گزرا تو وه ڈاکٹر اَحْسَن کو یہ کہتی ہوئی سن رہا تھا
ڈاکٹر : وی آر ریلی سوری فور یو . دیئر اِس نو چانس
چانس . . ؟ شہزاد نے پلٹ کر دیکھا تو وہی ڈاکٹر تھی جو گل کا علاج کر رہی تھی . اَحْسَن پاس سے گزرا تو ان دونوں کی ٹَکَّر میں اَحْسَن کے ہاتھ سے کچھ رپورٹس گر گئی . سوری سوری کرتا اَحْسَن وہاں سے چلا گیا لیکن ایک رپورٹ زمین پر پڑی ہوئی ملی . شہزاد نے اُس رپورٹ کو پڑھا تو اُس کے رونٹے کھڑے ہوگئے . سامنے کھڑی ڈاکٹر سے ماجرہ پوچھا تو پتہ چلا کے اَحْسَن کی وائف ےانعم اِس خوشی سے محروم ہے . شہزاد کو بہت رونا آیا اور غصہ بھی . وه بھاگتا ہوا باہر نکلا تو ابھی اَحْسَن اپنے گاڑی اسٹارٹ ہی کراہا تھا
شہزاد : بڈی
بارش بہت تیز تھی . لیکن اَحْسَن کے آنسو ں بارش کےبوندوں سے بھی زیادہ تیز تھے .
شہزاد نے اسے بہت تَسَلّی دی . جیسے ہی شہزاد گھر گیاا س نے گل کو انعم کے بارے میں بتایا
گل : ہمیں جانا چاہیے شہزاد
شہزاد : کوئی ضرورت نہیں ہے
گل : کیوں نہیں وه دوست ہے میری
شہزاد : اچھا تو تُم بھول گئی کے ان دونوں نے تمھارے ساتھ کیا کیا ہے ؟ تمہیں بھول گیا ھوگا مجھے نہیں
گل : اسے معاف کر دیا ہے شہزاد ! اس میں اسکی کوئی غلطی نہیں ہے . سب قسمت کی بات ہے
شہزاد : میں نہیں جانے دونگا تمہیں
گل : میں جاونگی
شہزاد : گل ! ! گل : شہزاد ! ! وه میری بیسٹ فرینڈ اور آپکی بہن بھی . . میں جائوں گی ! ! ! اور آپ ہی مجھے لے کر جائینگے سمجھے آپ
اب تو گھر میں صرف گل کی ہی چلتی ہے دونوں وہاں پہنچے . انعم کی حالَت بہت خراب تھی . جیسے ہی انعم نے گل کو دیکھا وه زور زور سے رونے لگی . گل نے اسے گلے لگا لیا اور چُپ کروایا . اتنے میں اَحْسَن اندر آیا اور شہزاد نے اسے گلے لگا لیا . دونوں بہت بے بس تھے . ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا اک خوشی تک نہیں
انعم : مجھے معاف کردو گل ! مجھے بہت بڑی سزا ملی ہے میں مرجاوں تو اچھا ہے
گل : نہیں نہیں نہیں . . . مرنے کی باتیں نہیں کرتے گناہ ہوتا ہے ! ! انعم ! میری جان . . . سب ٹھیک ہوجائیں گے . تُم دعا کرو کیا پتہ کل کوئی معجزہ ہی ہوجائے
انعم : نہیں گل اب کچھ نہیں ہو سکتا ! … مجھے معاف کردو میں نے تمہیں دھوکھابھی دیا اور
گل : چُپ ! . . . شہزاد آپ اسے سمجھائے یہ بار بار اس طرح کی بات کرتی ہے
شہزاد : انعم . . . انعم . . ! ! ابھی تمہارا بھائی زندہ ہے پریشان مت ہو گل ٹھیک کہتی ہے . خُدا کے کامو ں کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کب کس پر مہربان ہوجائے !
اَحْسَن : . . . مجھے معاف کردو ( ہاتھ جورتے ہوئے
شہزاد : آرے نہیں یار ! معافی کی کوئی بات نہیں ہے . دیکھو ہم پردیس میں اکیلے ہے اور تُم بھی . ساتھ رہینگے تو بہت آسانی ہو جائے گی . کسی چِیز کی ضرورت ہو تو ہمیں بتانا
اَحْسَن : تھینکس
