Tum Meri Ho Bas by Razia Ahmad NovelR50686 Tum Meri Ho Bas (Episode 08)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Meri Ho Bas (Episode 08)
Tum Meri Ho Bas by Razia Ahmad
اگلے دن شہزاد صاحب اپنی گل کو خود یونیورسٹی چھوڑنے گئے
شہزاد : بَعْد میں ملتا ہوں
گل : آپ نہیں آئینگے ؟
شہزاد : کیوں ؟ . . میں کونسا فیل ہوا ہوں کے اب پِھر اِس جنگل میں داخل پو جاوں
گل : ہا ہا . . نہیں انعم سے تو مل لیں
شہزاد : نہیں مجھے نہیں ملنا اُس سے
گل : پِھر کچھ کر دیا اس نے ؟
شہزاد : نہیں جان مجھے اک بہت زروری کام سے جانا ہی بعد میں ملوں گا
گل : ٹھیک ہے جلدی انا انتظار نہ کروانہ
شہزاد: اب انتظار کیسا
گل : آپ بھی نا
انعم : بڑی چہک رہی ہو ؟
گل : ہاں شہزاد آئے ہیں
انعم : اچھا
گل : اَحْسَن کہاں ہے ؟
انعم : واہ ؟ آج اَحْسَن کا پوچھ رہی ہو ؟
گل : ہاں کچھ کام تھا اُس سے
انعم : واہ . . . کل تو تمہیں اتنا برا لگتا تھا لیکن آج کام ہے اُس سے
گل : بکواس بند کرو نوٹس کا کچھ پوچھنا تھا تو تو لیسن میں بھی اپنے خوابوں سے نہیں نکلتی . کتنی باڑ میڈم نے ڈانٹا بھی ہے تمہیں تم دھیان ہی نہیں
دیتی . مجھے تو ہیلپ چاہئے نا
انعم : تو تم شہزاد سے پوچھو وه بھی تو اسی یونیورسٹی سے پڑھا ہے
گل : یار عجیب لڑکی ہو تم
انعم : وہی ہے جہاں ہوتا ہے
گل : اچھا تھینکس
گل : گڈ مارننگ اَحْسَن
اَحْسَن : گڈ مارننگ کیسی ہو
گل : بہت خوش
اَحْسَن :لگراہا ہے . . . شیئر نہیں کروگی
گل : مم . . . کل شہزاد آئے ہیں
اَحْسَن : یہ تو بہت اچھی بات ہے
گل : ہاں کل میرا برٹھ ڈے تھا نا میں گھر آئی اور گھروالوں نے مجھے سرپرائز کیا اور شہزاد میرے گھر آنے سے پہلے ہی پہنچ گئے تھے .
اَحْسَن : ھم
گل : اچھا مجھے تمھاری ہیلپ چاہئے تھی …. کچھ نوٹس بنانے تھے
اَحْسَن : میری آج نوٹس والی بُک گھر رہ گئی ہے
گل : اوہ . . . اچھا چلو میں لائبریری جا کر دیکھتی ہوں کچھ مل جائے . . تھینکس
اَحْسَن : او کے
گل : اَحْسَن . . . تم آج اتنے چُپ کیوں ہو ؟
اَحْسَن : نہیں میںکہاں چُپ ہوں
گل : کوئی بات ہے کیا ؟
اَحْسَن : نہیں
گل : جھوٹ مت بولو تمھارے چہرے سے لگتا ہے کے کوئی بات ہے
اَحْسَن : ہممم . . . کوئی خاص نہیں
گل : اچھا . . . جیسی تمھاری مرضی . . میں چلتی ہوں سی یو لیٹر
اَحْسَن : سنو !
گل : ہاں
اَحْسَن : میری بہن پاکستان آراہی ہے
گل : یہ تو بہت اچھی بات ہے
اَحْسَن : نہیں اچھی بات نہیں ہے
گل : گھر آئیگی ؟
اَحْسَن : ظاہر ہے گھر آئیگی . . . لیکن میں اسے اِس بار نہیں روک نہیں پایا . بہت مار کھالی
اس نے .
گل : تم نے بات کی اُس سے ؟
اَحْسَن : ہاں کی ہے تبھی تو پتہ چلا . . . لیکن گل میں نے اسے منع نہیں کیا . . پتہ نہیں کیوں
گل : وه بہن ہے تمھاری کچھ بھی کرلو …
اَحْسَن : ھم وٹ ایور ! آنے دواسے… ویسے مجھے صرف اک پریشانی نہیں ہے .
گل : پِھر کیا بات ہے
اَحْسَن : کل میں نے امی کو اسپتال میں دیکھا
گل : تم اسپتال کیا کرنے گئے تھے ؟
اَحْسَن : نارمل چیک اَپ کے لیے . . . وہاں میں نے امی کو آئی سی یو میں دیکھا
گل : یا اللہ خیر ! ! آئی سی یو میں کیوں ؟
اَحْسَن : موت اور زندگی کے بیچ میں لڑ رہی ہے وه
گل : کیا ہوا انہیں . . . ؟
اَحْسَن : پتہ نہیں نرس کو منع کر دیا گیا تھا کے امی کےبارے میں وه کسی کو کچھ نا بتائے . جب میں نے کہا کے میں انکا بیٹا ہوں تو بھی منع کر دیا . وہاں ماموں بھی موجود تھے . ماموں سے پوچھا تو بنا کچھ کہے امی کے روم میں چلے
گل : تم ایسا کرو کے اپنے ماموں کی غیر موجودجی میں امی سے مل اؤ
اَحْسَن : نہیںمل سکتا . . . وہاں 24گھنٹے کوئی نا کوئی ہوتا ہے .
گل : تو کیا وه تمہیں تمھاری امی سے بھی ملنے نہیں دینگے ؟
اَحْسَن : شاید . . . وه لوگ یہ سمجھتے ہیں کے میں بھی اپنے باپ جیسا ہوں جب کے ایسا نہیں ہے
گل : ہممم . . . کچھ بھی ہو تمہیں اپنی امی سے ملنا چاہئے . یو ہیو تو فائٹ
اَحْسَن : چھلو دیکھتے ہیں
گل : نہیں . . . تمہیں پتہ ہے میرے اماں ابّا نہیں ہے اِس دنیا میں مجھے انکی کمی آج بھی بہت محسوس ہوتی ہے . چچا نے بچپن سے میرا بہت خیال
رکھا ہے بہت احسان ہے ان کے مجھ پر اسلئے میں ان کے خلاف نہیں جا سکتی . اینڈ آئی نو ماں باپ کیا ہوتے ہیں . تمھارے ابو جیسے بھی ہے تمھارے ابو ہیں
اَحْسَن : تو تم نے ان کو احسن کے بدلے کیا دیا ؟
گل : میں کیادے سکتی ہوں ؟
اَحْسَن : ہو
گل : میں جانتی ہوں کے تم کیاسوچ رہی ہو
اَحْسَن : ڈونٹ ٹیل میں کے اس میں تمھاری مرضی شامل تھی . اپنے لفظ مت بھولنا
گل : مرضی تھی
اَحْسَن : تھی . . . کیا مطلب ؟ تم اپنے لیے فےصلے کب لو گی لڑکی ؟
گل : میں چچا جان کو مایوس نہیں کرنا چاہتی تھی . . . پتہ ہے جب چچی نے مجھے گھر سے نکلنا چاہے تو شہزاد میرے پیچھے پاگلوں کی طرح دھور رہے تھے . آئی نو کے وه مجھ سے دیوانوں کی طرح محبت کرتے ہیں ہے اسلئے میں اُس کے خلاف نہیں کا سکتی
اَحْسَن : کٹھپتلی
گل : پِھر وہی بات ! ؟ بس کردو یہ کہنا
اَحْسَن : میں تو تب تک کہونگا جب تک تمہیں خود سے سانس لینے کی عادت نہ ہوجائے
یہ سب کہہ کر اَحْسَن وہاں سے چلا گیا . گل یہ سوچتی ہے کےکسی کی کٹھپطلی نہیں ہے . چچا نے اتنے خیال رکھا . خیر گل اِس بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی . شام کو جب گل گھر لوٹی تو شہزاد اسکا بےصبری سے انتظار کر رہا تھا . آج شام کو ڈنر پرجانے کا پروگرام بنا رکھا تھا . تو گل بھی خوشی خوشی تیار ہوکر اُس کے ساتھ ڈنر پر چلی گئی . گل کا فیورٹ ریسٹورانٹ اسکی پسند کی ڈش اور شہزاد کا پیار بھرا موڈ . دونوں زور زور سے کہہ كے لگانے میں مگن تھے . شہزاد کی گل سے نظر نہیں ہٹ رہی تھی اور گل کے خوشی کا
ٹھکانا نہیں تھا . کچھ وقت گزرنے کے بعد جب وه دونوں وہاں سے چلے تو اچانک گل کی نظر سامنے والی ٹیبل پر پڑی . انعم کسی لڑکے کے ساتھ بیٹھی تھی اور اُس لڑکے نے اسکا ہاتھ بھی تھام رکھا تھا . لیکن گل اُس لڑکے کا چہرہ نہ دیکھ پائی . شہزاد کا دھیان کہیں اور تھا اور گل نے بھی اسے بتانازروری نہ سمجھا . شہزاد یہ شام بہت یاد گر بنانا چاہتا تھا اسلئے وه گل کو بیچ پر لے گیا . کافی ٹھنڈی ہواچل رہی تھی اور موسم بھی کافی عاشقانہ تھا . ٹھنڈ لگنے پر شہزاد نے اپنی جاکٹ کھندوں ھوں پر دی . ہائو فیلمی . . . ساری رات باتوں میں گزر گئی . یہاں تک کے دن کا سورج بھی جب چڑھنے لگا تب تک بھی ان دونو کی باتیں ختم نہ ہوئی . ناشتے کی ٹیبل پر چچا اور چچی شادی کی ڈیٹ ڈسکس کر رہے تھے . 2 دن بَعْد گل اور شہزاد شادی کی شاپنگ کے لیے گئے . شہزاد نے بالکل ویسا ہی جوڑا گل کے لیے آرڈر کروایا جیسا وه چاہتا تھا . گل میں بھی اسکی پسند شامل تھی . چچی بھی بہت خوش تھی اور اپنے لاڈلے بیٹے کی شادی کے تیاری میں بہت مصروف تھی . گڑیا بھی اپنی سہیلوں سے اپنی بھابھی کی باتیں کرتی تھکی نہ تھی . چچا جان کا سر فخر سے اونچا تھا . شادی کے کارڈ چاپ چکے تھے اور گل نے کچھ دوستو کو انوائٹ کرنے کا سوچا . لیکن انعم کے علاوہ اسکا کوئی اور تو دوست تھا نہیں
انعم : واہ مبارک ہو
گل : خیر مبارک . . . تم آؤگی نا ؟
انعم : ہممم
شہزاد : ھم کا کیا مطلب ہے ؟ اگر تم نہ آئی تو میں شادی نہیں کرنے والا
انعم : آگئی بہن کی یاد ؟
شہزاد : ہاں آگئی غلطی سے . . .
گل : پلیز انعم اب غصہ چوردو اب تو تمہارا بھائی بھی تمہیں منانے آ گیا
ہے
شہزاد : یار دیکھو میرے اور تمھارے دو دو رشتے ہیں ! بارات والے دن دودھ پلائی اور جوتا چھپائی کی رسم تم ہی کروگی . اور ولیمہ والے دن تم گل کو بھابھی بلاؤگی
انعم : چڑیل … . یہ اور میری بھابھی ؟ کبھی نہیں
شہزاد : اچھا . . . تو پِھر میں تمہیں آدھی گھروالی سمجھوں ؟ ؟
انعم : ماف کرو . . . ہا ہا ہا ہا
اَحْسَن : گائیز کیا ہو رہا ؟ ؟
انعم : گل کی شادی تیہ ہوگئی ہے کارڈ دینے آئی تھی
اَحْسَن : اُو وائو ! ! یہ تو بہت اچھی خبر ہے کنگریٹس تو بوتھ آف ی
و گل : تھیننس
شہزاد : تھینکس . ضرور انا یار
اَحْسَن : نہیں میں شادیوں پر نہیں جاتا
شہزاد : کیوں ؟ لوگ چیڑتے ہیں اسلئے ؟ ہا ہا ہا ہا
اَحْسَن : نہیں . . . بس مجھے شادی کے نام سے ہی نفرت ہے
شہزاد : اچھا ؟ . . . چلو تمھاری مرضی مجھے اچھا لگتا کے اگر تم آتے
اَحْسَن : تھینکس بڈی بٹ آئی ایم سوری
گل سوالی نظروں سے اَحْسَن کو دیکھرہی تھی . اَحْسَن نے بدلے میں اسے مسکرا کر دیکھا لیکن اسکی مسکان کافی پھکی تھی . اَحْسَن وہاں سے چالاجایا. لیکن گل کی بے چینی بڑھتی گئی . ایگزامس کے دنوں میں سب اسٹوڈنٹ بہت زورو شور سے تیاری کر رہے تھے . اور جو لاسٹ ایئر کے اسٹوڈنٹ تھے ان کے لیے یہ ڈگری حاصل کرنا بہت ضروری تھا . گل نے بھی پڑھائی کرنی کی سوچی لیکن اسکا پڑھائی میں من نہیں لگ رہا تھا . بس اسے تو شہزاد کے ساتھ جلدی ہی جانا تھا . ایگزامس پاس ہونے کے بَعْد یونیورسٹی میں اک فنکشن بھی رکھا گیا . فنکشن پر گل کو اِس بار اکیلے جانا پڑا شہزاد کو کچھ کام تھا اور وه نہ جا پایا . گل
اُس دن بہت اچھی لگ رہی تھی . باقی سب اسٹوڈنٹ بھی چمک رہے تھے . ڈگری لینے کے بَعْد سب اسٹوڈنٹ گرائونڈ میں اکٹھے ہوگئے اور اپنا آخری وقت خوب مستی میں گزارتے ہوئے نظر آئے . گل اور انعم بھی ان میں شامل تھی . لیکن آج اَحْسَن وہاں موجود نہیں تھا . فنکشن کے بَعْد گل بیچ پر چلی گئی اور شہزاد کا وہیں انتظار کرنے لگی . جب وه وہاں پہنچی تو دیکھا کے اَحْسَن اک اُونچے پتھر پر بیٹھا سمندر کی اوڑھ دیکھ رہا تھ . اور اُس کے ہاتھ میں اک گلاب کا پھل بھی ہے .
گل : تم آج آئے نہیں ڈگری نہیں لینی تھی کیا ؟ ؟
اَحْسَن : لے لی ہے پہلے سے ہی
گل : ہممم وائو اتنا پیارا گلاب کس کے لیے ہے ؟
اَحْسَن : یہ تو بس . . آج اِس سمندر میں پھینکنے آیا تھا
گل : کیوں ؟ اتنا پیار ہے کسی کو دے دو
اَحْسَن : کیسے دوں . . . ؟
گل : مجھے کیا پتہ
اَحْسَن : تمہیں دیدوں ؟
گل : نہیں . . . مجھے ہے آل ریڈی کوئی ہے دینے والا
اَحْسَن : ٹھیک ہے سمندر میں بہا دیتا ہوں جسے مل گیا یہ گلاب اسکا
گل : ٹھیک ہے . . . اک بات پوچھوں ؟
اَحْسَن : ہاں
گل : تم نے اک بارکہا تھا کے . . میں نے تمہیں بگاڑ دیا ہے تم نے کیا سوچ کر وه بات کہی تھی مجھ سے ؟
اَحْسَن : حاحاحا وه تو بس ویسے ہی تمہیں تنگ کر رہا تھا
گل : ایک منٹ کے لیے مجھے لگا کے
اَحْسَن : لگا کے اَحْسَن تم پر مٹ مٹا ہے ؟ … نہیں میں محبت پر یقین نہیں کرتا
گل : اچھا . . . شادی نہیں کروگی کبھی بھی ؟ ؟
اَحْسَن : نہیں ! ! کبھی بھی نہیں
گل او کے . . لیکن میری شادی پر تو آؤ
اَحْسَن : ن میں کسی کو دلہن کو دیکھتے ہوئے برداشت نہیں کرسکتا
گل : آئی انڈر اسٹیند . . . لیکن مجھے اچھا لگے گا اگر تم آؤ گے
اَحْسَن : یہ لو ( گلاب دیتے ہوئے ) . . تمھاری شادی کا تحفہ
گل : یہ میں نہیں لےسکتی
اَحْسَن : کیوں ؟
گل : بس نہیں لے سکتی
اَحْسَن : کیوں ؟ کوئی تو وجہ ہوگی
گل : کیوں کے میں . . . میں اک نئی زندگی شروع کرنا چاہتی ہوں سب کچھ بھلا دینا چاہتی ہوں . اور یہ گلاب مجھے میرے ماضی کو بہت یاد دلایگا
اَحْسَن : مطلب . . تمھارے ماضی میں ایسا ہے کیا ؟
گل : میں اب چلتی ہوں . . شہزاد ویٹ کر رہے ہونگے
اَحْسَن : سنو ! . . . . ڈو یو لو می ؟
جیسے ہی گل نے یہ سنا اسکی آنکھ میں آنسوں آگئے . اس نے نظرنیچے کرلی . اَحْسَن نے اسکی جھکی نظروں سے اندازہ لگا لیا کے ہاں گل کو اُس سے محبت ہو چکی تھی . لیکن یہ کب اور کیسے ہوا ؟ کچھ پتہ نہیں
اَحْسَن : یہ غلاب لے لو . . . اور اپنے ہاتھوں سے اِس سمندر میں بہا دو
گل نے وه غلاب لیا اور اسے نم آنکھوں سے دیکھنے لگی . گل کے قدم سمندر کی طرف کیے اور اس نےغلاب کو سمندر میں بہا دیا . جب وه پلٹی وہ اَحْسَن کا چہرہ پر سکون تھا
اَحْسَن : آئی لو یو تُو . . . میں نے یہ بات تمہیں اسلئے نہیں بتائی کے کیوں تم کسی اور کی امانت ہو اور میں تمہیں اپنے گھر نہیں لے جا سکتا . اسلئے اِس اَحْسَن کو اک برا خواب سمجھ کر بھولادینا . . . اور وه
بگڑنے والی بات بالکل تھیک تھی
گل نےاسے جب دیکھا تو اِس با راحسن کے آنکھوں میں آنسوں تھے . اتنی دیر میں وہاں شہزاد کی گاڑی کھڑی ہوگئی اور گل کو مجبوراً وہاں سے جانا پڑا
شہزاد : خیر اے ؟ … اسے کیا ہوا ہے ؟
گل : کچھ نہیں
شہزاد : تُم کیاکر رہی تھی ادھر
اب گل کیا کہتی ؟ گل خاموش رہی . نا جانے کس ڈر سے اس نے احسن سے محبت کا اظہار نہیں کیا . کتنی عجیب بات ہے کے جب محبت ھوجاتی ہے یا تو اظہار بہت جلد ہوجاتا ہے یا پِھر اظہار کرنے میں بہت دیر ھوجاتی ہے . ایک دن گل نے شہزاد کی خوشی کو دیکھا اور سوچا کے اب وهاسے دوکھا نہیں دے سکتی . لیکن شہزاد بھی تو گل کی ہر بات ماننے کے لیے تیار رہتا ہے . مہندی کی رات سے ایک دن پہلے گل شہزاد کو بیچ پرلی گیی اور وہاں اس نے اپنے دِل کا حال اسے بتایا . . . شہزاد خاموشی سے سنتا رہا . اسے گل کی خوشی سے غرض تھا . اگر وه چاہتا تو وه پاگل ہوسکاتا تھا گل کے ساتھ کچھ بھی کر سکتاتھا . لیکن وه جانتا تھا کے گل کے دِل میں شہزاد کے لیے ابھی تک وه فیلنگس نہیں تھی جیسی وه چاہتا تھا . اسلیے اس نے یہ کڑوا گھونٹھ پی لیا اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھاما . . . اور کہا
شیزاد : آئی لو یو . . تُم جیسا چاہوگی ویسا ھوگا . احسن کو فون لگاؤ اور اسے یہاں بلاؤ میں بات کرونگا اُس سے
گل : نہیں آپ بات مت کیجیے میں اسکا سامنا نہیں کرپاونگی
شہزاد : گل . . اک اکھری بار میری بات مان لو اِس کے بَعْد تُم آزاد ہو
گل نے کال ملایا لیکن احسن نے کال پک نہیں کی . دونوں گھر چلے گئے . صبح گل نے احسن کو میسج کیا اور آنے کو کہا . گل وہاں ٹائِم سے پہلے ہ پہنچ گئے . شہزاد وہاں سے تب تک نہ گیا جب تک گل اُس کے ساتھ ساتھ بات نا کرلیتی . . . انتظار کرتے کرتے شام ہوگئی اور وه دونوں وہاں کھڑے رہے . اچانک گل کے سامنے سے ایک گاڑی گزری جو شادی کے لیے سجی ہوئی تھی . دلہے کی گاری گلابوں سے بھری ہوئی تھی اور وہی غلاب تھا جو گل نے سمندر میں بہا دیا تھا . جیسے وه گاڑ ی اُس کے قریب سے گزری گل کی نظر دلہا دلہن پر پری . . . احسن اور انعم ! . . . . گل نے جب یہ نظارا دیکھا تو اُس کے پاؤ طلے زمین نکل گئی . گل چکر کھا کر گر پڑی
