Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Ho Bas (Episode 01)

Tum Meri Ho Bas by Razia Ahmad

بچپن میں ہی گل کے ماں باپ چل بسے . مجبوراً اسے اب اپنے چچا کے گھر رہنا پڑا . 8 سال کی تھی جب اس کے اماں ابّا کار ایکسڈینٹ میں فوت ہوگئے . چچا کے دو بچے تھے . لڑکا اس وقت 10 سال کا تھا جس کا نام شہزاد تھا . لڑکی بَعْد میں آئی اور اس کا نام سب نے پیار سے گڑیا رکھا . تھی بھی گڑیا جیسی . چچی جو گل سے بے حد نفرت کرتی تھی . کہیں وہ اسے بیٹھی کو کھیلتی ہوئی دیکھلے تو انکی آنکھوں میں خون گھول جاتا . بار بار اپنے شوھر کے پاس جا کر گل کی شکایت لگاتی رہتی تھی . گل یہ سب دیکھتی اور بے حد اداس ہوجاتی .اسے اپنے اماں ابّا بہت یاد آتے اور وہ چھت کے اک کونے میں جا کر چُپ جاتی اور خوب روتی . اس چھت کے کون کے بارے میں صرف شہزاد کو ہی معلوم تھا . وہ اسکا کزن ہونے کے ساتھ ساتھ اسکا دوست بھی تھا . لیکن اک اچھا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اِس دوستی کو محبت میں بَدَل بیٹھا . وہ گل کو اداس نہیں دیکھ سکتا تھا . اکثر جب چچی گل کوڈانٹ دیتی تو شہزاد گھر میں شور ماچاتا لیکن چچی اسکی پروہ نہ کرتے ہوئے گل کو پِھر بھی ڈانٹ کے رکھ دیتی . کبھی کبھی گل پر ہاتھ اتھا کر چچی یہ ثابت کرتی کے وہ اِس گھر کی بیٹی نہیں بلکے نوکرانی ہے . چچا یہ سب دیکھتے رہتے اور روز اپنے بیگم سے شکایت کرتے کے یہ اسکے بڑے بھائی کی نشانی ہے . چچی بہت خود غرض قسِم کی عورت تھی . وہ اپنی حرکتوں سے بعض نہ آتی . بچپن کی محبت جوانی میں بدل گیی. گل کو اِس بات کی ذرا بھی خبر نہ تھی لیکن شہزاد ہر وقت اسکا
محافظ بنا رہتا . گل کی قسمت میں تعلیم حاصل کرنا تھی . اسے چچا نے کھلی چھٹی دے رکھی تھی کے جتنا چاھے وہ مرضی پرہ لے . لیکن جیسے وہ گھرپوحونچتی تو چچی جان بوج کر اس کے لیے گھر کا ڈھیر سارے کام چور دیتی اور چلی اپنی جاتی سہیلوں کے گھر . سارا دن گل کبھی کپڑے دھوتی کبھی پوچھا مارتی کبھی گڑیا کو پڑہاتی کبھی کچھ تو کبھی کچھ . شہزاد اپنی اماں کی غیر موجودگی میں اس کے گھر کے کاموں میں ہاتھ ؓبٹا تا. اسے ذرا بھی پسند نہ تھا کے گل اکیلی کام کرتی پھری . آخر وہ اِس گھر کی نوکر نہیں بلکے شہزاد کی دِل کی رانی تھی ! لیکن اِس دِل کی رانی کا دِل جیتنے کے لیے راجہ کو کچھ تو جتن کرنے ہی پڑتے . گل اسے منع کرتی رہتی لیکن وہ تھا اپنی مرضی کا ملک . چچا دونوں کو ا س طرح ساتھ دیکھتے تو بہت خوش ہوتے لیکن چچا اِس بات سے بھی واقف تھے کے شہزاد گل کو بچپن سے ہی اپنا دِل دےبیٹھا ہے . اکثر وہ سوچتے کے کیوں نا شہزاد اور گل کی شادی کروادی جائے . لیکن جب چچا کو اپنی بیگم کا خیا ل آتا تو ان کے رونٹے کھڑے ہوجاتے اسلئے وہ فی الحال تو اِس بات سے پرہیز کی کرتے
یونیورسٹی میں گل کی ایک ہی دوست تھی جسکا نام انعم تھا . کافی خوش اخلاق با ادب اور تمیز دار لڑکی تھی . جیسے ہی یونیورسٹی میں داخل ہوتی گل کے چند گھنٹے سکون کی سانس میں گزرتے . لیکن جیسے ہی گیٹ سے باہر نکلتی چچی کا خیال آتے ہی اسکے سانسیں رکنے لگتی

انعم : تم اپنی چچی سے اتنا ڈرتی کیوں ہو ؟

گل : کیا کروں . . . وہ بہت ناراض ہوتی ہے مجھ سے اور میں انکی ناراضگی سے بچنے کے حزار تریکی ڈھوندتی رہتی ہوں لیکن کوئی فائدہ نہیں

انعم : تم لاکھ کوشش کرلو ، تمہاری چچی تم سے کبھی خوش نہیں ھوگی
ماں نہیں وہ تمہاری جو تمہاری ہر غلط معاف کردے

گل : اماں میرے ساتھ ایسی کبھی نہیں تھی

شہزاد : گرلز کیا ہو رہا ہے ؟

انعم : ہاے برو . . . کچھ نہیں تمہاری اماں کی چغلیاں کر رہے تھے

گل : چُپ کرو

شہزاد :حاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحا . . . مجھے بھی اپنے کلب میں جوائن کرلو پلیز

انعم : یور موسٹ ویلکم ھاھاھاھاھاھاھاھ

گل : بس بھی کرو

انعم : تم کیوں اتنا ڈرتی ہو ؟

شہزاد : اسکو سمجھاؤ یار میں خود اماں کی ان عادتوں وسے تنگ ہوں یہ بھی ہر وقت مجھے چُپ کراتی رہتی ہے

انعم : پاگل ہے یہ اسے شکر کرنا چاہئے کے اس گھر میں تمھارے جیسا اچھا دوست ملا ہے اسے ورنہ تو . . . اُف

گل : شہزاد ! ! میں نے کتنی بار تمہیں کہا ہے اپنی اماں کے بار ے میں ایسا نہ بولا کرو تم بعض ہی نہیں آتے .

شہزاد : ہم تو بعض آنے والو میں سے نہیں ہے کیوں انعم ؟ !

انعم : کریکٹ . . اچھا گائیز تم لوگوں کی ایگزامس کی تیاری کیسی جارہی ہے ؟

شہزاد : میری ٹھیک جارہی ہے گھر آتے ساتھ ہی اماں مجھے میرے روم میں قید کردیتی ہیں اور کہتی ہے صبح تک باہر نا نکلنا . میں ان کو دیکھانے کے لیے فیس کی بُک پڑتا رہتا ہوں حاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحا

انعم : حاحاحاحاحاحاا یار بڑی ہمت ہے . . . میری دادی میرے سر پر کھڑی رہتی ہے اپنی کیوٹ سی چپل لے کے کے لڑکی میرے اللہ اللہ ہونے سے پہلے پڑلو کچھ بن جاو اور پِھر بات آجاتی ہے شادی پر . . اُف

گل : شہزاد گھر چلیں ؟ چچیی انتضار کر راہی ہونگی

شہزاد : ہاں چالو او کے انعم سی یو کل ٹاٹا بائے

انعم : بائے

گل کا موڈ شہزاد کی اِس قسِم کی باتیں سن کر اکثر اوف ہوجاتا . وہ ماں کی اہمیت کو خوب سمجھتی تھی اسلئے وہ شہزاد کو ہر وقت روکتی رہتی کے اپنی اماں کےبارے میں ایسا نہ بولا کرے . لیکن شہزاد کو صرف گل کی خوشی چاہئے تھی

گل : کتنی باربولا ہے مت کہا کرو ایسا تم کب سونوگے کسی کی بات

شہزاد : گل ! ! میں نے بھی تمہیں کتنی بار کہا ہے کے مجھے نہیں پسند جب اماں تمہاری پیچھے ہاتھ دھو كےپڑ جاتی ہے .

گل : وہ جو بھی کرے تم ایسا مت کیا کرو

شہزاد : اچھا تمہاری بات تو میں مانلوں میری کب مانوگی ؟

گل : کونسی بات ؟

شہزاد : یہی کے تم اماں کی پروہ نہ کیا کرو

گل : مجھے اِس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی

شہزاد : ٹھیک ہے مت کرو . . . لیکن میری سوچ نہیں بَدَل سکتی تم

گھر پوحونچتے ہی گل کی چچی اس پرچڑ دھوری . چوٹی بیٹھ کر میتھ کا ہوم ورک کر رہی تھی . گل کا رنگ کبھی آئے تو کبھی جائے . شہزاد حسب عادت اپنی اماں سے بحث کرنے پر مصروف ہو گیا . اتنے دیر میں چچا آئے تو وہ بھی اپنے لاڈلے بیٹے کے ساتھ شامل ہوگئے

چچا : بس کردو سكینہ ! ! بچی ہے وہ ! ! کچھ دن اسے آرام کرنے دو بچو کے امتحان ہورہے ہیں .

چچی : ہمارے بچوں کے امتحان ہے اس کے تو نہیں ہیں اور آپ بھی نا آپ تو جانتے ہیں کے میرے گھوتھنوں میں کتنا دَرْد رہتا ہے اور گڑیا ابھی بہت چوٹی ہے . کیا آپ چاھتے کے میں اپنی بچی سے کام
کرواوں؟ ؟ ؟ ؟ یہاں رہنا ہے تو کچھ کرنا پڑے گا ورنہ جائے اپنا بوریا بستر لیکر

شہزاد : پِھر تو میں جاؤنگا اماں

چچی : لو سنو ! ! ! یہ دیکھ رہے ہیں آپ ؟ ؟ ؟ کیا ہو رہا اِس گھر میں ! ! ! میری تو کوئی اہمیت ہی نہیں . ( گل کو مخاطب کرتے ہوئے ) لڑکی ! ! کیا کھلا کر لائی ہو میرے بیٹے کو ؟

گل : کک . . . کک … . کوو . . چھ نہیں چچی

چچی کا ہاتھ پِھر گل پر اٹھنے ہی والا تھا کے چچا نے چچی کا ہاتھ روکلیا

چچا : بس ! ! گل تم اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو تم آک کھر کا کام نہیں کروگی . تم 3نو اپنی امتحان کی تیاری کرو بس

شہزاد اور گل اپنے کمرے میں چلے گئے . شہزاد نے اپنی کتابیں بستر پر پھینکی اور خد بھی بستر پر گر پڑا . شہزاد کا غصہ بہت برا تھا اور گل کے مامعلے میں تو . . . گل اپنے کمرے میں گئی اور جا کر پُھٹ پُھٹ کر رونے لگی . اس وقت اسےاپنی اماں کی بہت یاد آئی . اماں کا پیار سے گل کو سُلانا ، اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانا ، اس کے کپڑے بَنانا ، بالکل شیزادی کی طرح رکھنا . ابّا کا گل کے ساتھ کھیلنا ، اسکی من پسند کھلونے لا کر دینا . لیکن یہ سب تو اک خواب تھا جو چوٹی سی عمر میں ہی ٹوٹ گیا . چچا اپنی بیگم کی حرکتوں سے کافی پریشان رہتے تھے اور اکثر بیگم کو کہا کرتے کے ایسا نہ کیا کرے . لیکن نہ جانے وہ کس مٹی کی بنی ہوئی تھی . انہیں اپنی خودغرضی سے فرصت ہوتی تو گھر کا ماحول ٹھیک رہتا . کچھ دیر بَعْد چچی اپنے بیٹے کے کمرے میں كھانا لے کر گئی . دیکھا تو شہزاد کی آنکھ لگ چکی تھی . چچی نے بڑے پیار سے اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا

چچی : ڈر لگتا ہے مجھے تیرے لیے کہیں تو اس چڑیل کی جال میں نہ پھنس جائے . تو میرا بیٹا ہے

شہزاد : سن لیا ہے میں نے

چچی : كھانا ٹھنڈا ہوجائیں گے کھا لینا

شہزاد : گل کو دیا ؟

چچی : وہ خود لےلے ہاتھ تو نہیں ٹوٹے ہوئے اس کے

یہ کہہ کر چچی وہاں سے چلی گئی . تھوڑی دیر بَعْد چچی اپنی کسی سہیلی کے گھر چلی گئی . جیسے ہی چچی گھر سی باہر گئی شہزاد اپنا كھانا لیکر بھاگھتا ہوا گل کے کمرے کی طرف گیا

شہزاد : گل ؟ ! ! ، . . . اوپن دیڈو ور یار

گل : یار پلیز مجھے اکیلا چوردو

شہزاد : گل پلیز

گل نے دروازہ کھولا . رَو رَو کر اسکی آنکھیں سوج گئی تھی . شہزاد کو اسکی حالت دیکھ کر غصہ اور ترس بھی آرہا تھا . گل یہ سوچ کر رَو رہی تھی کے کاش اسےکےماں باپ آج زندہ ہوتے

شہزاد : رونا بند کرو اور میری بات دھیان سے سنو .اس طرح رونے کچھ نہیں ھوگا تم مت کرو کام اماں کا تو بولتی رہتی ہے اس طرح تو تمہیں مار ڈالینگی وہ

گل : اگر میں نے انکا کام نہ کیا تو میری زندگی کے دن کم پڑ جاینگے

شہزاد :نہیں پڑتے ! ! ! پاگل ہو تم . . . دیکھو میں اور ابّا تمھارے لیے اسٹینڈ تو لیتے ہے نا تو تم سکون کا سانس لیا کرو

گل : شہزاد امی بہت یاد آراہی ہیں

شہزاد اسے اپنے گلے سے لگا لیتا ہے

شہزاد : اچھا ایومشنل اتتیاچار کرنا
بند کرو كھانا کھا لو

گل : مجھے بھوک نہیں ہے

شہزاد : تم جانتی ہو نا کے میں نے تمھارےبغیر كھانا نہیں کھاتا ابھی چلو اچھے بچو ںطرح كھاناکھا لو. . . ورنہ میں بھی نہیں کھاونگا اور بھوکھا ہی مرنا پڑے گا اور میں خالی پیٹ مرنا نہیں چاہتا

گل : شہزاد ! ! کیا تم

شہزاد : چلو منہ کھولو . . . گڈ گرل چلو بہت بھوک لگی ہے بھوک کے مارے جان جارہی ہے لیٹ ’ س ایٹ سمتھنگ اور ہاں آج ہم پڑھائی ساتھ میں کرینگے . تمہیں اماں کی ڈانٹ سے جان چھوٹ جاییگی نا

گل : اتنا کام پڑا ہے میں آج شاید تمھارے ساتھ بیٹھ کے پڑھ نا سکو

شہزاد : کام ہوتے رہینگے ! تم نے سنا نہیں ابّا نے کیا کہا ؟ ہم3نو کو پڑھائی کا آرڈر دیکی گئے ہیں . . . اسلئے بی گڈ گرل اور آج تم آرام کرو

كھانا کھانے کے بَعْد 3نو چھت پر بیٹھے اپنی کتابوں میں کھو چکے تھے . چچا جان اپنے دفتر کے کام میں مصروف تھے . انکا اک دفتر باہر اور اک دفتر گھر میں ہوتا تھا . چچی کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں تھا . گل کی نظر جب گھڑی پر گئی تو اس كے تو ہوش ہی اڑ گئے . شہزاد نے اسکی گھبراہٹ نوٹ کرتے ہوئے اسے غصے سے دیکھنا شروع کر دیا

شہزاد : گل ! ! بار بار کلاک کی طرف کیوں دیکھ رہی ہو ؟

گل : چچی آنے والی ہونگی

شہزاد : تو ؟

گڑیا : تو کیا ؟ ؟ باجی کو ڈر لگراہا ہے . بہت سارا کام بھی پڑا ہوا ہے باجی کے لیے

گل : میں جارہی ہوں

بائے شہزاد : میں بھی آرہا ہوں

گل کے لاکھ منع کرنے کے باوجود شہزاد نے اس کے ساتھ سارے کام کروائے بس چچی کے آنے میں تھوڑی ہی دیر رہ گئی تھی کے دونوں کچن میں بیٹھ کر چائے پی رہے تھے . گڑیا بھاگتی ہوئی کچن میں آئی اور چچی کی آنے کی اطلاع تھوک دی . شہزادبڑ بڑاتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا اور گل بھی چائے کے کپ دھو کر اپنے روم میں چُپ گئی . ساری رات گل پڑھائی میں مگن رہی لیکن آج رات شہزاد کا دِل پڑھائی میں تو جیسے لگنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا .اسے بار بار گل کا خیال آتارہا . بس اک بات اس نے تھان ہی لی تھی کے امتحان پاس کر کے کینیڈا چلا جائیگا اور گل کو بھی اپنے ساتھ لے جایگا . . . بیاہ کر ! اِس بات کی خبر گھر میں کسی کو نہ تھی . گڑیا سو گئی تھی . چچا کتاب پرہ رہے تھے اور چچی اپنا پسندیدہ ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھی . اُدھر شہزاد بہت بیچین تھا . یہ سوچ رہا تھا کے کل ابّا سے گل کے بارے میں بات کیسے کرے گا . صبح ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا شہزاد ابّا کو آنکھوں آنکھوں میں کچھ اشارے سےدی رہا تھا . گل ناشتہ دینے میں ورڈ ریکارڑ قایم کرنے پر تلی ہوئی تھی . کبھی چائے لا کبھی پراٹھا کبھی ٹوسٹ کبھی انڈا کبھی سالن . . . گڑیا کی وین آئی اور وہ اسکول کا بستا اٹھا کر نکل گئی . چچا کو اپنے لاڈلی بھتیجی پر بہت تر س آیا اور کہنے لگے

گل : بیٹا تم بھی آکے ناشتہ کرلو تم دونوں نے یونیورسٹی بھی جانا ہے دیر ہو جائے گی

گل : بس چچا جان میں یہ چائے بنالوں پِھر آتی ہوں

چچی : جلدی ہاتھ چلاؤ آج میں نے فریحہ کے ساتھ شاپنگ پر جانا ہے اسکی بیٹی کی مہندی ہے کہ رہی تھی میرے ساتھ چلو

گل چائے کا آخری کپ رکھ کر بیٹھ گئی ناشتہ کرنے . جب اسکی نظر گھڑی پر گئی تو بریڈ کا پیس منہ کے سامنے ہی رک گیا

شہزاد : کیا ہوا ؟ ناشتہ کرو

گل : کمال کرتے ہو ، تم آرام سے بیٹھے ہو . . . ٹایم دیکھو

شہزاد : کیا ہوا ہے ٹایم کو

گل : دیر ہوگئی پہلے کلاس لگنے والی ہے جلدی چلو

چچا : ناشتہ تو کرلو بیٹا

گل : نہیں ! ! میرا خیال ہے کے اب ہمیں چلنا چاہئے

شہزاد : میں نہیں جا رہا آج یونیورسٹی

گل : کیا ؟ ؟ ؟ . . . مذاق بند کرو بہت ضروری کلاس ہے میری امتحان بھی ہیں پلیز یار

شہزاد : ابّا میں آج یونیورسٹی نہیں جا رہا

چچا : تمہاری مرضی بیٹا

گل : چچا پلیز آپ مجھےلی جاییں نا

چچا : پہلے ناشتہ پِھر یونیورسٹی

گل : ٹایم نہیں ہے میں کینٹین سے کچھ کھالونگی پلیز

چچی : ہاں باپ کا مال سمجھ کر رکھا ہوا ہے نا ! ! کینٹین سے کھالونگی . . . اندر سے ڈبہ لاؤ اور اپنا ناشتہ پیک کرو

چچا : سكینہ ! ! ! تم جانتی ہو کے تم بچی کو کیا بول رہی ہو ؟ یہ بھائی صاحب کی دین یہ گھر اور جو تم اتنے عیش کرتی پھرتی ہو گل کا بھی پورا حق ہے اِس پر . تمہاری نوکر نہیں ہے وہ

گل : چچا پلیز چھوڑے نا میں نے اپنا ناشتہ پیک کر لیا ہے پلیز اب تو چلے

چچا : ہاں چلو بیٹا
چچی کا غصہ ناک پر ہی بیٹھا رہ گیا اور گل اپنے چچا کی گاڑی میں بیٹھ کر یونیورسٹی بھی پوحونچ گئی . چچا نے گل سے کہا کے چھٹی کے وقت
نہیں اے پائینگے اسلئے وہ شہزاد کوبیجھ دینگے . گل بھاگتی ہوئی کلاس روم کی طرف گئی تو میڈم پہلے سے ہی کسی بات پر آگ بگولہ ہوچکی تھی . گل کو لیٹ آتے ہوئے دیکھا تو سارا غصہ گل پر نکال دیا . انعم نے اشارہ کیا . . . گل خاموشی سے اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی . بیل باجی تو دونوں لائبریری کی طرف روانہ ہوگئی . وہاں جانے تک گل کی دیر سے آنے کی وجہ ڈسکس ہورہی تھی . چرچے میں اتنی مصروف تھی کے کب او کہاں کسی اسٹوڈنٹ کے ساتھ گل کی بڑی بری ٹکر ہوئی کے اسکی کتابیں بھی گر پڑی . جیسے ہی وہ دونوںکتابیں اٹھانے کے لیے جھکے دونوں کے سر ٹکرائے . .اوچھ ! ! ! . . ہائو فیلمی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *