Tum Meri Ho Bas by Razia Ahmad NovelR50686 Tum Meri Ho Bas (Episode 07)
No Download Link
Rate this Novel
Tum Meri Ho Bas (Episode 07)
Tum Meri Ho Bas by Razia Ahmad
گل وہاں کھڑی آنسوں بہا رہی تھی . آج کی رات سوچ میں جاگی . بچپن سے لیکر آج تک جو کچھ گل کے ساتھ ہوا شہزاد نے جیسا بھی ری ایکٹ کیا سب اسے یاد رہا تھا . لیکن گل اپنے دِل كو یہ تسلی دیرہی تھی کے جو کچھ کیا شہزاد نے اپنی محبت کے لیے کیا جسکی اسے قدر بھی ہے . تبھی تو شادی کے لیے ہامی بھر لی . پِھراسے چچا کے پیار کا بھی خیال تھا . . اماں ابّا کے بَعْد اک چچا ہی تو تھے . . . اگلے دن گل کا موڈ نہ بنا شادی پر جانے کا طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کیے گھر میں بیٹھی رہی . طبیعت تو اسکی واقعی خراب تھی . . . بخار بھی ہو رہا تھا . گل کے موبائل پر کال آئی
احسن : کہاں ہو یار ؟ آج شادی پر نہیں آئی . آنٹی بتا رہی تھی تمہاری کچھ طبیعت خراب ہے . سوچا تمہارا حال پوچ لوں ؟
گل : تمہیں میرا نمبر کس نے دیا ؟
احسن : ملنے سے تو خدا بھی مل جا تے ہے نمبر کیا چیز ہے
گل : انعم نے دیا ھوگا
احسن : ہاں اسی نے دیا ہے . خیر تُم کیسی ہو ؟
گل : مجھے آئِنْدَہ کے بَعْد کال نہ کرنا
احسان : آواز سے لگ رہا ہے کے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے . . . اچھا تُم آرام کرلو میں بعد میں کال کرلونگا
گل : تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا ؟
مجھے . . . ہیلو
احسن فون کاٹ چکا تھا . گل خاموشی سے کمبل اوڑھ کر سوگیی . شام كو جب اٹھی تو چچی كھانا لیکر اس کے سرہانے کھاڑی تھی
چاچی : لگتا ہے تم نے کچھ نہیں کھایا . . . کچھ خالو
گل : شکریہ چچی ، شادی کیسی رہی ؟
چچی : اچھی رہی تمہارا سب پوچھ رہے تھے . . شہزاد کا فون آیا تھا میں نے اسے بتایا کے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے
گل : کب آیا انکا فون ؟… اُف میں تو بہت گہری نیند میں تھی فون کی بیل کی آواز نہیں آئی
چچی : کوئی بات نہیں اب وه تم سے کل بات کرے گا .کہرہا تھا کے اماں میں اب جلدی واپس آنے والا ہوں . میری بارات کی تیاری کرے
گل : کب آئینگے وه ؟
چچی : یہ تو نہیں معلوم لیکن بہت جلد آنے والا ہے . تُم كھانا کھالو میں گڑیا كو دیکھ کر آتی ہوں
جیسے ہی شہزاد کے واپس آنے کا سنا تو گل نے سکون کا سانس بھرا . اگلے دن صبح صبح شہزاد کی کال نے گل كو اٹھادیا .
شہزاد : گڈ مارننگ
گل : گڈ مارننگ
شہزاد : کیسی ہو کیسی طبیعت ہے ؟
گل : ہممم اب کافی بہتر ہوں
شہزاد : سو رہی تھی کیا ؟
گل : ہاں بس
شہزاد : اچھا یہ بتاؤ کوئی خواب دیکھا تم نے ؟
گل : چچی بتا رہی تھی کے آپ واپس آرہے ہیں . کب آئینگے ؟
شہزاد : بہت جلد
گل : جلد مطلب ؟ کتنا جلدی ؟
شہزاد : تُم بڑی بےتاب ہورہی ہو
گل : بتائے نا
شہزاد : پہلے یہ بتاؤ تم نے کوئی خواب
دیکھا
گل : نہیں
شہزاد : جھوٹھی
گل : سچی نہیں دیکھا
شہزاد : میں نہیں مانتا
گل : آپکی مرضی
شہزاد : آپکی مرضی . . . مرضی تو میری ہی چلتی ہے تمھارے خوابوں میں بھی
گل : اچھا
شہزاد : بس مسکراتی رہنا تُم . تُم میرے دِل کی بات کبھی نہ کرنا
گل : ہممم
شہزاد : اچھا مہندی کیسی رہی ؟ کیوں کے شادی پر تو تُم گئی نہیں
گل : بس ٹھیک تھی
شہزاد : دیکھنا جب ہماری شادی ھوگی زمانہ دیکھے گا . . . باتا رہا ہوں
گل : ھم . . . اچھا آپ واپس کب آرہے ہیں ` ؟
شہزاد : بتا دو ؟
گل : ہاں
شہزاد . اگر بتا دیا . . تو سرپرائز نہیں رہیگا جانو
گل : او کے
شہزاد : اچھا جاؤ اٹھو ناشتہ کرو فریش ہوجاؤ . آئی مس یو
گل : شہزاد آپ جلدی آجائے پلیز
گل کے آنکھوں میں آنسو ں تھے
شہزاد : آ جاونگا بابا . . . کیا ہوا گل ؟ تُم رَو رہی ہو ` ؟
گل : نہیں تو
شہزاد : کچھ ہوا ہے اماں نے کچھ کہہ دیا ؟
گل : نہیں انہوں نے کچھ نہیں کہا بس آپ جلدی آجائے
شہزاد : جب تک تُم مجھے نہیں بتاوگی کے کیا ہوا ہے میں فون نہیں رکھونگا
گل : بس . . یہ میرے خوشی کے آنسوں ہیں
شہزاد : او!! اچھا . . . ہاں جی بھر کے رولو بَعْد میں ہنسا ہنسا کے مارونگا
ھے گل : اچھا میں اب چلتی ہوں . . اللہ حافظ
شہزاد : اللہ حافظ
خوشی آنسوں تو اک بہانہ تھا . گل احسن کی بات كو لیکر کافی پریشان تھی . شام كو احسن کی کال آئی . گل نے نمبر دیکھا اور کال اٹھانی مناسب نہ سمجھا . کچھ دیر بَعْد انعم کی کال آئی تو گل نے کال پک کرلی . لیکن آواز کسی اور کی تھی
گل : میں نے تمہیں بولا تھا مجھے کال مت کرنا
احسن : بات تو سن لو
گل : نہیں سن نی مجھے تمہاری کوئی بھی بات . میں خوش ہوں اپنی لائف میں . . . اور میری طرف سے انعم کہہ دینا آج کے بَعْد میری اسکے کے ساتھ دوستی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم
احسن : شہزاد سے پوچھ کر اس کے ساتھ دوستی چور رہی ہو ؟
گل : نہیں ! ! یہ میری خود کی مرضی ہے
احسن : شکر ہے تمہیں سانس لینا تو آیا . . . تمہاری آواز سے لگتا ہے کے اب تُم کافی بہتر ہو . کل یونیوسٹی آؤگی ؟
گل : میں آئوں یا نہ آئوں تُم اِس بارے میں مت سوچو . . . اور میرا پیچھا چوردو میری بہن جیسی سہیلی كو بھی بگاڑ دیا اب مجھ پر اپنے تیر مت چلاؤ
احسن : تیر . . کیسا تیر ؟
گل : پتہ نہیں کیسا لیکن تُم مجھے بہت ڈسٹرب کر رہے ہو میں تم سے ملنا نہیں چاہتی
احسن : تُم تو ایسی کہ رہی ہو جیسے روز ملتی ہو
گل : اُف . . . . بائے
احسن : او کے بائے
احسن اور انعم سر پکڑ کر بیٹھے رہے . انعم اپنے دانت چبا رہی تھی اور احسن مسکرائے جا رہا
تھا
احسن : تُم تو اس کے سامنے نہ ہی انا تو بہتر ہے
انعم : شہزاد سے بات کرنی پڑے گی
احسن : لڑائی بھول گئی تُم ؟ گل تمہیں شہزاد سے بات کرنے دے گی ؟ ؟
انعم : میرے پاس نمبر ہا اس کا
احسن : تو کیا فرق پڑتا ہے ؟ اب تک اس نے شہزاد كو سب کچھ بتا بھی دیا ھوگا . دیکھ لینا وه تمہارا نمبر دیکھ کر نہیں پک کرے گا اور اگر پک کر بھی لیا تو تمہاری بات نہیں سنے گا فور شیور
انعم : نہیں نہیں وه میرا بھائی ہے وه مانےگا میری بات
احسن : اچھا اب منہ بولا نہیں رہا . . . ؟ ؟
انعم : ہے . . . ابھی بھی . . . اک تَرْقیبب ہے میرے پاس
احسن : کیا ؟
انعم : بس دیکھتے جاؤ
احسان : تو دکھاؤ
شام كو جب شہزاد اون لائن آیا تو وه کیم پر کافی پریشان دکھ رہا تھا . پوچھنے پر پتہ چلا کے انعم بہت بڑی ٹربل میں ہے
گگل : اسے کچھ نہیں ہو سکتا وه ڈرامہ کر رہی ہے . اک تو اس نے آپ کے ساتھبد تمیزی کی میرے ساتھ بھی زبان درازی کی اور تو اور احسن کے ساتھ چپکی ہوئی ہے
شہزاد : آرے یار وه تو جان چرانا چاہتی ہے اس سے
گل : میں نہیں مانتی .
شہزاد : نہ منو . . . چلو کوئی اور بات کرتے ہیں
گل : آپکو اتنی فکر کیوں ہورہی ہے اسکی ؟
شہزاد . بہن ہے میری
گل : سگی تو نہیں ہے یہ لفظ اس کے تھے آپ گڑیا کےبارے میں سوچے نا .
شہزاد . اچھا بابا . . . جیسے تُم کہو خوش ؟
اگلے دن صبح گل کی آنکھ کچھ جلدی ہی کھلگیی اور یونیوسٹی کے لیے ٹائم سے پہلے تیار ہوگئی . ناشتے کی ٹیبل پر انعم کےبارے میں سوچ رہی تھی . شہزاد کا پریشان چہرہ ابھی تک اس کے سامنے گھوم رہا تھا . سمجھ نہیں آرہا تھا کے کس کے بات مانے . . . شہزاد کی یا احسن کی . خیر آج اک بہت امپورٹنٹ لیسن ہونے والا تھا اور مس کرنے کا بھی کوئی نہیں تھا . کلاس روم میں پہنچی تو وہاں احسن بکس میں گم تھا اور انعم ٹیبل پر سر رکھ کر سوئی ہوئی تھی . گل خاموشی سے جا کر اس کے پس بیٹھ گئی . دونوں نے گل کی طرف دیکھا لیکن کوئی خاص ری ایکشن نہ دیا . گل نے انعم كو اٹھنے كو بولا لیکن وه نہ اٹھی . سر جب روم میں آئے تب بھی نہیں اٹھی . . . سر جب زور زور سےچلایے تو انعم میڈم كو پتہ چلا کے کلاسلگ چکی ہے ! . . ایسے ویسے ؟ . . . لیسن ختم ہونے کے بَعْد احسن کینٹین چلا گیا اور انعم لائبریری . یہ نظارہ دیکھ کر گل حیران رہ گیی کے ویسے تو انعم احسن کےبغیررہتی نہیں . . یہ کیا ؟ گل کی بے چینی بڑھتی گئی . انعمآگے آگےاور گل اس کے پیچھے پیچھے . احسن نہ گل کے آگےنہ پیچھے۔ یہ ہو کیا رہا ہے ؟ گل نے انعم کا ہاتھ پکڑا
انعم : کیا ہے لڑکی ؟
گل : کیا ہو گیا ہی تمہیں ؟
انعم : کچھ نہیں ہوا
گل : نخرے کرنا بند کروگے اور مجھے بتاو کے کیا ہوا ہے ؟ کیوں ایوائڈ کڑاہی ہو مجھے . . . ؟
انعم : میں نے تمہیں کبھی ایوائڈ نہیں کیا
گل : اچھا اور اتنے دنوں سے تم نے مجھ کال نہیں کی میرا حال بھی نہیں پوچھا اور آج صبح سے میں تمھارے پیچھے جارہی ہو؟
انعم : گل میں بہت ٹینشن میں ہوں
گل : ٹینشن ؟ . . . وہی تو نہیں جس کے بارے میں شیزاد نے مجھے بتایا ہے ؟
انعم : تمہاری کب بات ہوئی اس سے ؟
گل : میری روز بات ہوتی ہے . بتاؤ کیا ہوا ہے
انعم : ادھر نہیں
دونوں لڑکیاں کینٹین کی طرف گئی اور انعم نے وہی سب باتیں گل سے کہیں جو اس نے شیزاد سے کہی تھی . آہستہ آہستہ تَرْقیب کامیاب ہوتی ہوئی نظر آراہی تھی
گل : دیکھ یار شادی تو ایک نا ایک دن کرنی ہے . تُم دادی اماں سے کہ دو تمہیں یہ رشتہ پسند نہیں سمپل
انعم : میں دادی اماں كو منع نہیں کرسکتی
گل : کیوں نہیں کرسکتی ؟ اتنا پیار کرتی ہیں وه تمہیں اور ویسے بھی شادی سے پہلے لڑکی کی مرضی جان لی جائے تو اچھا رہتا ہے
انعم : تمہاری مانی تھی ؟
گل : میری تو کوئی دادی نہیں ہے
انعم : نہ بھی ہو پِھر بھی تم سے کسی نے پوچھا تھا کے شہزاد کے ساتھ شادی کرلو ؟
گل : تُم تو سب کچھ جانتی ہو پِھر یہ باتیں مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو ؟
انعم : اسلئے کیوں کے مجھے شادی نہیں کرنی
گل : تو میں کیا کرسکتی ہوں اس میں ؟ ؟
انعم : تم نے آج تک اپنے لیا تو کچھ کیا نہیں میرے لیے کیا کروگی تُم
گل : اچھا پِھر یہ بتاؤ شہزاد کیا کر سکتے ہیں تمھارے لیے ؟ ان کو کیوں بتائی تم نے یہ بات ؟
انعم : وه بھائی ہے میرا
گل : اچھا ! ! تو جناب اب بھائی ہو گیا تمہارا ؟ واہ کمال ہے
انعم : میں نے بھائی سے معافی مانگلی تھی
گل : وه تو جلدی معاف کردیتے ہیں زیادہ دیر اپنے دِل میں غصہ نہیں رکھتے
انعم : تبھی تو
گل : اچھا تُم پریشان ہا ہو کوئی نا کوئی تو حَل ضرور نکلے گا
احسان دور بیٹھا یہ سب دیکھرہا تھا . لیکن اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا . چھٹی کے وَقت انعم اور گل جب گھر کی طرف روانہ ہوئی تو راستے میں چچا مل گئے . انعم كو گھر چھوڑتے وَقت گل نے اندر جانے کی ضد لیکن انعم نہیں مانی . دادی ماں کی خراب طبیعت کا بہانہ کر کے اس نے گل كو اندر نہیں آنے دیا . جیسے ہی گل گھر لوٹی اس وقت شہزاد اون لائن آ چکا تھا اور گڑیا اپنے بھائی کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی
گڑیا : بھابھی آگیی
شہزاد : کیسی ہو جانو ؟
گل : ٹھیک ہوں . . یار عجیب لڑکی ہے یہ انعم بھی
شہزاد : کیا ہوا ؟
گل : آج منہ سے پھوٹی اپنی پروبلم . اتنی بڑی بات بھی نہیں ہے جتنی بنا رہی ہے . میں نے سوچا چلو دادی ماں سے میں بات کرلیتی ہوں لیکن انعم نے مجھے دادی ماں سے ملنے نہیں دیا . . . کہتی ہے بیمار ہے .
شہزاد : ھم
گل : شہزاد . انعم بہت پریشان ہے
شہزاد : ابھی کل تو تُم اسے کہ رہی تھی کے ڈرامہ کرتی ہے یہ وه آج پریشان ہوگئی ہو ؟
گل : اس کمبخت کے بغیر رہا بھی تو نہیں جاتا اسکی اتنی عادت ہوگئی ہے مجھے
شہزاد : ہاہاہاہاہا . . . پاگل
گل : آپ ہنس رہے ہیں ؟
شہزاد : ہنسو نہیں تو اور کیا کروں . . . تُم پ بےحد پیار آرہا ہے . اک دن خوب پیار جتاونگا تم پر .
گل : آپ بھی نا . . مجھے بہت بھوک لگی رہی ہے میں کچھ کھا کر آتی ہوں
شہزاد : او کے ادھر ہی لے او كھانا
گل : ھم آپکو دکھا دکھا کےکھاونگی
شہزاد : ہاں کیا بنا ہے
گل: اماں نے بریانی بنائی ہے
گل اور شہزاد کی زورو کی ہنسی نکل گئی . چچی اور بریانی ؟ ؟ کچھ یاد آیا ؟ ؟ کچھ دیر بَعْد گل كو خیال آیا کے دادی ماں کا حَال ہی پوچھا جائے تو اس نے انعم كو کال ملایا لیکن کوئی کال اٹھانے کے لیے تیار ہی نہیں تھا . گڑیا كو پکڑا اور چلپڑی انعم کے گھر . انعم کے کزن نے دروازہ کھولا تو پتہ چلا دادی ماں گھر پھر نہیں ہے کشمیر گئیں ہے اپنے بیٹے کے پاس . گل یہ سن کر کافی حیران رہ گیی . . . آج صبح تو دادی ماں کی طبیعت خراب تھی اور اب کشمیر چلی گئی ہے . واپسی کا پوچھا تو کچھ پتہ نہ تھا . انعم اپنے روم کی ونڈو سے گل كو دیکھ رہی تھی . انعم نے کال اُٹھائی
انعم : پلان کامیاب ہوگیا . . . آپکو بھی ! بائے سی یو
انعم حسب عادت احسان کے ساتھ باتیں کرنے میں میں مصروف تھی . یہ نظارہ جب گل نے دیکھا تو کچھ سکون کا سانس لیا اور سوچا کے چلو آج تو لڑکی کا موڈ ٹھیک ہے . اور پِھر خیال آیا کے کیا پتہ دادی ماں مان گئی ہوں اور اِس رشتے انکار بھی کر دیا ہو . گل خوشی خوشی ان دونوں کے پاس جا کر بیٹھ گئی
گل : آر ےواہ ! ! آج تو بڑی خوش نظر آراہی ہو
انعم : ہاں تمہاری طرح نہیں ہوں رونددھو
گل نے انعم کو گلے لگا لیا
انعم : ارے چھوڑو یار ماروگی کیا ؟
گل : ہاں نہ آئی ایم سو ہیپی فور یو
انعم : فور می ؟
گل : ہاں کیوں ؟ نہیں ھونا چاہئے ؟
انعم : ہوجاؤ . . . میں نے کب روکا ہے
گل : اچھا تم بتاؤ تم کیوں خوش ہو ؟
انعم : میں . . آج احسن کا برتھ ڈے ہے اسلئے خوش ہوں . تم نے تو وش ہی نہیں کرنا اِس بچارے
گل : اوہ اچھا ہیپی برتھ ڈے احسن
احسن : تھینکس . . انعم کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے ہمیں اب جانا چاہئے
انعم : ہاں چلو
گل : مجھے تم سے بات کرنی ہے
انعم : احسن تم چلو میں آتی ہوں
گل : انعم مجھے بتاؤ نا تم اتنی خوش کیوں ہو
انعم : بس ویسے ہی
گل : ویسے نہیں کوئی تو بات ہے . دادی ماں مان گئی کیا ؟
انعم : کیا ؟
گل : تمہارا رشتہ تو نہیں ہوا اس کے ساتھ ؟
انعم : کس کا رشتہ
گل : تمہارا اور . . . کمینی تم نے تو مجھے کہا تھا کے دادی ماں بیمار ہے شام کو تمھارے گھر آئی تھی تو پتہ چلا دادی ماں نہیں تھی . دادی ماں کو بیماری میں ہی کشمیر بیجھ دیا شرم نہیں آئی تجھے ؟
انعم : دادی ماں گھر پر نہیں ہے
گل : مطلب کیا ؟
انعم : دیکھو یار یہ میری پلنگن کی تھی . تمھارے اندر کانفیڈینس پیدا کرنے کی . شہزاد کو میں نے یہ کہانی اسلیے بتائی تاکے وہ تمہیں اِس بات کا احساس دلا سکے کے تم ابھی بھی میری فرینڈ ہو اور ہم دونوں اک دوجے کے بنا نہیں رہ سکتے . یو نو واٹ ؟ سب سے اچھی بات مجھے کیا لگی ؟ کے تم نے میرے لیے اسٹینڈ لینے کی کوشیش کی اور تو اور تم دادی ماں سے بات بھی کرنے آگئی . فائنلی تم نے سوچنا شروع کر دیا ہے اور تمہیں شاید یاد ہو کے ن ہو احسن نے تمہے کہا تھا کے دوسروں کو اپنی طرح مت
سمجھو . میں نے اگر احسن کو تمھارے بارے میں باتیں بتائی ، تو تمھارے بھلےکے لیے بتائی ہیں . وہ اِس پلان میں شامل تھا
گل یہ سن کر خاموش رہ گئی . لیکن احسن نے کیا کِیا ؟
انعم : ویسے تو میرا پلان کچھ اور ہی تھا لیکن احسن نے میرے پلان میں میری مدت کی . اس نے تم سے جو کچھ بھی کہا وہ سب سچ تھا اینڈ آئی ایم شیور کے تم نے اِس باے میں ضرور سوچا ھوگا . ٹھیک ہے شہزاد تمہارا ہونے والا ہے تمہیں اسکی بات مان نی پڑے گی لیکن تم خود بھی تو سانس لیتی ہوں . بچپن سے لیکر آج تک دیکھتی آئی ہوں تمہیں شہزاد نے یہ کہا شہزاد نے بولا شہزاد شہزاد . . اتنا تو اس نے کبھی میرے سامنے گل گل نہیں کِیا ! ! سوچو یار ! مجھ سے زیادہ تمہیں احسن کا شُکْر گزار ھونا چاہئے . تم اس بچارے کو اتنا برا بولتی ہو . جسٹ اس نے یہ کہا کے تم نےاسےبگڑ دیا اور تمہیں نہ جانے کیا کیا اس کے منہ پر پھینکا . اگر وہ بگڑا ہوا ہوتا نہ تو . . خیر جو بھی ہے . آج اسکا برتھ ڈے ہے اور میں سمجھتی ہوں کے ہے ڈیزرو آ گڈ برتھ ڈے . اور میں جانتی ہوں کے تم ہمیشہ کی طرح اسے اگنورکر دو گی . تو ٹھیک ہے . . کرو اپنی مرضی
اُف انعم ! ! ! گل اکیلی کینٹین میں بیٹھی رہی اور انعم کی باتوں پر غور کرنے لگی . کلاس ختم ہونے کے بعد کینٹین میں کافی شور مچا ہوا تھا اور اس شور نے گل کو ہوش میں للا کے رکھ کر دیا . سامنے انعم احسن اور چند دوست اسکی برتھ ڈے پارٹی منا رہے تھے . سب احسن کو ٹریٹ کے لیے کیہ ہے تھے اور جب وہ وہاں سے اٹھ کر آرڈر کرنے کے گیا تو اسکی نظر گل پر پڑی . گل اسکی طرف ہی دیکھ تھی . احسن آرڈر کرنے کے بَعْد
گل کی ٹیبل کی طرف آہستگی سے چلتی آئی لیکن احسن نے اسے دیکھ کر چہرہ دوسری طرف کر لیا
گل : احسن
احسان : جی
گل : ہیپی برتھ ڈے
احسن : تھینکس . . . اچھا یارآگےتو گو آج اگر ٹائم پر گھر نہ پہنچا تو آپی میری جان لے لینگی.
گل : بائے احسن . . . انعم
انعم : ھم . . کیا ہوا ؟
گل : یہ ایسے کیوں چلاگیا. . ؟
انعم : کام تھااسے اسلئے گیا
گل : لیکن
انعم : میں جانتی ہوں تم کیا سوچ رہی ہو ؟ … ایڈیا ہے میرے پاس
بیچ پر اکیلےٹہیلنے کا اپنا ہی مزہ ہے . بہت سکون ملتا ہے . انسان اگر محبت میں گرفتار ہو تو ہر ہوا کی لہر سے محبوب کی خوشبو آتی ہے . کچھ ایسی حالت شہزاد کی بھی تھی . ٹھنڈی ہوا اور ڈھلتی شام اور گل کی یاد . . ہائے
گل : آئی ایم سوری میں نے تمہیں اتنے برا کہا .
احسن : اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے گل . میں سب کو ہی برا لگتا ہوں . اور جو چیز مجھے اچھی لگتی ہے وہ مجھے کبھی نہیں ملتی .
گل : نہیں نہیں اصل میں میں نے تمہاری اور انعم کی باتوں پر بہت غور کِیا تم ٹھیک کہتے تھے میں خد سانس نہیں لینا چاہتی تھی اسلئے شاید … میں اِس معاملے
میں تھوڑی خدغرز بھی ہوگئی تھی
احسن : تھوڑی نہیں بہت زیادہ . . . تم میرےبارے میں کتنے جانتی ہو ؟
گل : زیادہ نہیں جانتی
احسان : چلو آج میں تمہیں اپنی زندگی کی کہانی بتاتا ہوں . میں احسن خان ، اپنے ماں باپ کا اک لوٹا بیٹا نو نو ایکچولی اپنے باپ کا بیٹا . میں 9 سال کا تھا جب میرے ڈیڈ نے دوسری شادی کرلی . میں اور میری بڑی بہن صِرف اک دوسرے کے لیے ہیں . مجھے آج بھی یاد ہے جب ابو نے امی کو گھر سے دھکھا مار کر باہر نکالا تھا . وہ نظارہ میں کبھی نہیں بھول سکتا . میری دادی اتنی ضدی تھی کے اس نے مجھے اور میری بڑی بہن کو امی کے ساتھ جانے نہ دیا . لیکن دادی بہت ھوشیار تھی . سب نے مل کر میری بہن کے کانوں میں امی کے خلاف زہر گھولنا شر کر دیا . کیوں کے میں چھوٹا تھا اور ان باتوں کی اتنی سمجھ نہیں تھی . لیکن پِھر بھی ماں کی کمی محسوس ہوتی رہتی تھی . جب میں 9 سال کا ہوا تو ابّا نے نے دوسری شادی کرلی . مجھے وہ عورت پہلی نظر سے ہی بری لگی . میں جب بھی اسکول سے آتا کبھی كھانا ملتا تو کبھی نہیں ملتا . بڑی بہن کی بڑی خاتر داری ہوتی گھر میں ظاہر ہے دادی کی ہر بات مانتی تھی اور نیو موم کی بھی مرضی کا کام کرتی تھی . یہ تماشہ میں دیکھتا رہا . پِھر اک دن میں اسکول کے بَعْد گھر نہ آیا . . اور میں سڑکوں پر مارا مارا پھرتا رہا کے شاید کہی کسی گلی میں مجھے میری ماں مل جاۓاور میں بھاگھ کر ان کے پاس چلا جاؤں لیکن میری قسمت بہت خراب ہے . مجھے میرے سوتیلی ماموں نے سرق پر دیکھ لیا ، میرے منع کرنے کے باوجود وہ مجھے گھسیٹ کر گھر لگایا . ابّا گھر پر نہیں تھے . دادی اماں بیمار تھی اور بہن سہیلی کے گھر . پِھر میری نیو ماں نے میری خوب پٹائی کی . شام کو جب ابّا گھرؔاۓ تو مجھے ابّا سے ملنے نہ دیا .
صبح جب اٹھا تو میرا چہرہ سوجا ہوا تھا کیوں کے نیو اماں نے بڑے کی پیار میرے منہ کو مار مار کر لال کر دیا . یہاں تک کے میری آنکھ بھی سوج گئی تھی . ابّا نے جب مجھے دیکھا تو نیو اماں نے فکرمندی کی ایکٹنگ کی اور کہنے لگی بچو کے ساتھ باہر لڑ کر آیا ہے . کمال ہے . . .حاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحااحاحاحا . . . . لائف بڑی کتّی چیز ہے ! ! ہاہاہا . . . . بس وہ دن اور آج کا دن میرے ابّا میرے لیے جیتے جی مرگئے .
گل : اور تمہاری بہن ؟
احسن : اس کا کو میں نے ایسا سیدھا کِیا کے اب مجھ سے بنا پوچھے کوئی کام نہیں کرتی وہ !
گل :اچھا ہو ؟ ؟
احسن : وہ تو ہماری سگی ماں کی بھی نہیں سنتی تھی ہر وقت دادی کے گن گاتی تھی . . . لیکن میں ٹھہرا ماں دا لاڈلا وہ بھی بگڑا ہوا حاحاحا
گل : حد ہے . . . ، لیکن تم نے اپنی بہن کو کیسے ٹھیک کِیا ؟
احسن : تم سونوگی تو تم یہی بے ہوش ہوجاوگی
گل : نہیں ہونگی . . . بتاؤ تو سہی
احسن : اسے میں نے کسی کے ساتھ رومینس کرتے ہوئے رنگی ہاتھوں پکڑ لیا تھا
گل : واٹ ؟ !
احسن : ہاہاہا یا
گل : بکواس بند کرو ریلی ؟
احسن : ہاں . . . جب وہ 16 کی تھی اور میں 14 کا وہ لڑکا اس وقت 20 کا تھا
گل : پِھر کیا ہوا ؟
احسن : پِھر کیا ھونا تھا . . . ا اپنی بہن کی کھال اُد دھیڑ ڈ ی
گل : اور وہ لڑکا . . . ؟
احسن : وہ باگھ. . اور میں اپنی بہن کو تب تک مارتا رہا جب تک
گل : بڑے ظالم بھائی ہو تم بڑی بہن کو مارتے ہو
احسن : تو میری بہن نے کیا کم ظلم کیے
ہیں مجھ پر ! ؟ بس پِھر جب تک گھر پہنچی میری بہن میرے سائے سے بھی دو رہنے لگی . دادی نے ہر قسِم کا بگاڑ پیدا کر رکھا تھا
گل : ہممم . . . آج كہاں ہے وہ
احسن : اسکی شادی ہوگئی ہے اور دبئی میں ہوتی ہے . اسکے ہسبنڈ کو میں نے کہاتھا کے اسے کبھی پاکستان نہ لے کے انا
گل : شادی کے بَعْد بھی ؟
احسن : ہاں میں اسکی شکل نہیں دیکھنا چاہتا اور اسکی یہی سزا ہے کے وہ وہی رہے
گل : تمہاری بات نہیں ہوتی اس کے ساتھ
احسن : میری ؟ ؟ ؟ یہ پوچھو کے جس دن میری اس کے ساتھ بات نہیں ہوتی تو میں اسکا کیا حشر کرتا ہوں
! گل : حالات انسان کو کبھی کبھی جانور بنادیتے ہیں یا بے بس
احسن : مجھے جانور بن نا پڑا
گل : ہممم . . . . تم نے کیا سوچا ہے اپنے فیوچر کے لیے ؟
احسن : ابھی تک تو کچھ نہیں سوچا . پڑھائی مکمل ھوگی جوب کرونگا کرونگا بھی کچھ پلان نہیں کِیا . . . تم ؟
گل : میں تو شاید ایگزامس تک بھی نا رکوںشادی کر کے شہزاد کے ساتھچلی جائوں گی
احسن : دیٹس
گڈ . . . آئی ایم سوری گل
گل : کس بات کے لیے
احسن : شاید مجھے تم سے وہ سب باتیں نہیں کہنی چاہئے تھی تمہاری لائف ہے تم جانو میں کون ہوتا ہوں تمہیں سیدھے رستے پر چلانے والا
گل : لیکن … اک بات کہو
احسن : ہاں بولو
گل : تمہاری کافی باتیں ٹھیک بھی تھی لیکن میں اپنے خدا کے حکم کےآگے کچھ نہیں کرسکتی
احسن : ہاں رائٹ ، اور کرنا بھی مت ، اس کے راستے میں پتھر رکھوگی تو خود پتھر بن جاوگی
گل : ہممم . . . یہ سب باتیں تمہیں انعم نےبتائی ؟
احسان : ہاں . . . اس نےبتائی . ویسے قسم کھاتا ہوں میں نے اسے منع بھی کِیا تھا کے مجھے تمھارےبارے میں کچھ نہ بتایے لیکن وہ ٹھہری اپنی مرضی کی ملک
گل : تمھارے ساتھ بہت چپکتی ہے
احسن : ہا ہا ہا ہا احسن خان کے ساتھ ہر لڑکی چپکنا چاہتی ہے ہا ہا
گل : اُف . . . سچی بگڑے ہوئے ہو
احسن : اچھا اِس سے پہلے کے کوئی پنگا ہوجائے کوئی دیکھلے تم یہاں سے چلتی بنو
گل : اچھا باۓ
احسان : بائے
…
کچھ ہی ان بَعْد گل کا برتھ ڈے تھا اور اِس برتھ ڈے پر شہزاد موجود نہیں تھا . اسلئے برتھ ڈے منانے کا بھی کوئی پروگرام نہیں تھا . اک نارمل ڈے کی طرح گل یونیورسٹی چلی گئی لیکن وہاں پر اسکی کی برتھ ڈے کا کافی انتظام تھا . انعم اور احسن نے خوب تنگ کِیا گل کو . گل بھی مستی کے موڈ میں آ گئی . لیکن اسکی نظر احسن پر اٹکی رہ گئی . وہ آج بہت خوش تھا . گل بھی بہت خوش تھی . جیسے ہی گھر پہنچی تو دیکھا سارا گھر خاموش تھا جیسے ہی اس نے اپنے کمرے کی لائٹ آن کی سب نے ہیپی برتھ ڈے کے ننعرے لاگانے شروع کردیئے . چچی چچا گڑیا سب نے گل کو وش کِیا اور کیک کاٹنے کو کہا . . . سامنے شہزاد کھڑا یہ خوشی کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہ تھا . کل جب اسکی اماں گل سے اتنی نفرت کرتی تھی آج اسکی برتھ ڈے کی ساری تیاری میں چچی نے ساتھ دیا ہے . چچا جان تو ہمیشہ س گل کو اپنی بیٹی مانتے تھے اور گڑیا تو ہر وقت گل کے نام کی مالہ چپتی ہتی . . اک شہزاد ہی تو تھا جو مسکرائے جا رہا تھا . گل کی نظر اپنے ہونے والے شریک
حیات پر پڑی . گل اسے دیکھ کر شرما گئی . شہزاد اسے دیکھ کر بہت خوش تھا . اک بہت بڑا پھولوں کا گلدستہ گل کو پیش کِیا . گل کو گلاب بہت پسند ہے اور ان گلابوں دیکھ کر اسکا رنگ بھی گلابی سا ہو گیا . کچھ دیر بَعْد سب بیٹھے كھانا کھا رہے تھے کے چچا جان نے شادی کی بات کی . سب گھر والے شادی کی پلاننگ کی باتیں کرنے لگے اور شہزاد کی نظری گل پر ہی اٹکی رہ گئی . . . وہی دلہن کا جوڑا وہی سجاوٹ وہی آنکھوں آنکھوں
میں ازہارے محبت وہی مہندی اور اس میں چھپا ہوا شہزاد کا نام . . ھائے . . . یہ دن اب دور نہیں
