Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Ho Bas (Episode 04)

Tum Meri Ho Bas by Razia Ahmad

گل ساری رات جاگ کر گزری اور شہزاد کی بےتابی میں . آخر یہ دن تو انا ہی تھا آخر ایک نا ایک دن شہزاد نے اسے اپنے دِل کی بات بتانی ہی تھی . کچھ ہی دیر بَعْد گل چھت پر چلی گئی اور شہزاد کےبارے میں سوچنے لگی . شہزاد کی بےتابی بڑھتی جا رہی تھی . رات کے 2 : 30 بجے وہ اٹھا اور گل کے کمرے کی طرف گیا لیکن کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا . شہزاد جان گیا کے گلاس وقت کہاں موجود ھوگی

شہزاد : گل . . . تم ابھی تک سوئی کیوں نہیں ؟

گل : شہزاد . . . تم نے میرے ساتھ کوئی مذاق تو نہیں کِیا ؟ ؟

شہزاد : نہیں

گل : سچ بتاؤ

شہزاد : سچ بتا رہا ہوں . . آئی لو یو گل

گل : کب سے

شہزاد : ( مسکراتے ہوئے ) بچپن سے

گل : ھم

شہزاد : ھم کیا ؟

گل : کچھ نہیں

شہزاد : اچھا ؟ کبھی تم نے یہ نہیں سوچا کے میں تمہیں ہر وقت پروٹیکٹ کرتا رہتا ہوں یہاں تک کے اماں سے بھی لڑ لیتا ہوں

گل : نہیں

شہزاد : ہممم . . اب پتہ چل گیا

گل : ہاں . . . ایک بات کہوں ؟

شہزاد : ہاں جی بولے جی

گل : تم لوگوں پر بہت احسان ہے مجھ پر . بابا اور اماں کے جانےکے بَعْد چچا نے تم نے اور چچی نے سب نے میرا بہت
خیال رکھا . لیکن

شہزاد : اماں . . . حاحاحا انہوں نے کتنا خیال رکھا ہے تمہارا یہ تم بہت اچھی طرح جانتی ہو

گل : جیسا بھی ہے انہوں نے مجھے یہاں رکھا تو سہی

شہزاد : اچھا تو . . . لیکن ؟ . . . اِس کےآگے بھی کچھ کہنے والی تھی تم

گل : کچھ نہیں

شہزاد : بولو

گل : مجھے ایسا لگتا ہے کے میں تم سب پر اک بوجھ ہوں .

شہزاد : کیا میں نے یا ابّا نے کبھی تمہیں ایسا کچھ محسوس ہونے دیا ؟

گل نہیں

شہزاد : تو پِھر تم نے یہ کیسے سوچ لیا کے تم ہم پر بوجھ ہو . . . اچھا سنو رات بہت ہوگئی ہے اپنے کمرے میں جا کر ارام کرلو . تم جتنا اِس کے بارے میں سوچوگی اتنا پریشان ھوگی . . گڈ نائٹ

گل : گڈ نائٹ

بات تو شہزاد کی سہی تھی کے ان دونوں نے بہت خیال رکھا ہے گل کا مگر پِھر بھی شہزاد کی محبت كے اظہار نے گل کو پریشان کر دیا . محبت اپنی جگہ لیکن پناہ دینا بھی اپنا جاگا . خیر … محبت کی بات تو ابھی تک کی ہی نہیں . ڈائری کے بارے میں جب گل کو یاد آیا تو ڈائری میں لکھی ساری باتیں اسےیاد آنے لگی . وہ سب دِل کی باتیں جو اس نے لکھی تھی . ایک لڑکی اپنی پرسنل ڈائری میں کیا لکھتی ھوگی ؟ یہ بات اتنی تفصیل سے بتانے والی نہیں ہے . صبح ناشتے کے ٹیبل پر گل کافی گم سم بیٹھی ہوئی تھی . شہزاد اچانک اندر آیا اور وہ بھی ناچتا ہوا . گل اسے دیکھ کر پریشان ہوگئی . شہزاد کی خوشی کا تو کہی ٹھکانا ہی نہ ہی . شہزاد بہت اچھے نومبروں سے پاس ہوا تھا اور بس اب کینیڈا جانے کی تیاری بھی تھی

شہزاد : بس اور تم بھی چالوگی میرے ساتھ

گل : میں کیسے جاسکتی ہوں میری ابھی ایک یر ہے

شہزاد : تو کیا ہوا وہاں جاکے پورا کرلینا . . ابّا . . جلدی سے قاضیبلوایں

چچا : بے شرم … ہاہاہا پہلے گل کی مرضی تو جان لو

شہزاد : میں اسکی مرضی بڑی اچھے سے جانتا ہوں . گل ؟ چالوگی نا میرے ساتھ

گل : لیکن چچا میری پڑھائی

چچا : شہزاد ٹھیک کہرہا ہے تمادھر بھی پڑھائی پوری کرلینا

گل : لیکن . . . چچا :

شہزاد . . ویسے گل کے بارے میں کئی فیصلے کرتے رہے ہم آج تک . اسکی بھلای کے لیے لیکن کیوں کے اب اسکی پوری زندگی کا سوال ہے اسلئے اسے کچھ وقت دینا چھاہیے

چچا:اور میں یہ تمہیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کے تمہاری اماں کا اِس فیصلہ میں شامال ہونہ بہت ضروری 

ہے

شہزاد : چچا . . آپ تو ایسے کہ رہے ہَیں کے جیسے آپکو پہلے سے ہی سب معلوم تھا

چچا ( مسکراتے ) : باپ ہوں تمہارا

شہزاد : اماں کو رہنے دے وہ تو کبھی نہیںمانینگی . . . بس گل تم ہاں کردو

گل : اتنی جلدی میں ہاں نہیں کرسکتی

شہزاد : اچھا جتنا وقت لینا ہے لے لو لیکن پاسپورٹ آنے سے تمہارا پہلا جواب ہاں میں ہونہ چاہیے

چچا : شہزاد اسے سوچنے کا وقت دو اور میں جانتا ہوں کے میری بیٹی کا فیصلہ بالکل سہی ھوگا . . تم ذرا آؤ مجھے تمھارے ساتھ کچھ کام ہے

گل کافی دیر اِس بارے میں سوچتی رہی کے وہ ہاں کرے یا نہ . ایکچولی اس نے کبھی شہزاد کو ان نظروں سے دیکھا ہی نہیں تھا . اسے تو اپنے خوابوں کے شہزادے کا انتظار تھا . لیکن شہزاد میں ابھی وہ بات نہیں تھی . خیر گل اپنے کمرے میں بیٹھی اپنے فیورٹ ناول میں کھوئی ہوئی
تھی کے دروازے پر کسی نے دستک دی . دیکھا تو چچا جان تھے

چچا : کیا سوچا تم نے بیٹا ؟

گل : چچا میں . . مجھے نہیں پتہ

چچا : شہزاد کا اس طرح تم سے اپنی محبت کا اظہار کرنا اور تمہیں اس طرح کشمکش میں ڈال دیناکچھ عجیب سا لگا لیکن تم تو اسے جانتی ہو وہ کسی سے پوچھے بغیر اپنا فیصلہ سب کو سنا دیتا ہے

گل : کیا آپ بھی اس کے فیصلے کے محتاج ہے ؟

چچا : ( ہنستے ہوئے ) نہیں اُلٹا وہ میرے فیصلے کا محتاج ہے . مجھے اچھا لگا کے اس نے تمھارے لیے فیصلہ لیا ہے اور میں بھی ہمیشہ سے یہی چاہتا تھا کے تم اِس گھر کی ہمیشہ کے لیے ہوجاؤ . پتہ ہے جب تمہاری چچی تمہیں ڈانتی ہے تم سے کام کرواتی ہیں تو مجھے بہت برا لگتا ہے . لیکن جب تم بیٹیو کی طرح اِس گھر کو اپنا گھر سمجھ کر سمبھالتی ہو تو میرے دِل کو بہت سكون ملتا ہوں . میرا خدا گواہ ہے کے تم شہزاد کے لیے بہت اچھا فیصلہ ہو . میں تمہیں بالکل فورس نہیں کرونگا اور نہ ہی شہزاد کرے گا تم اچھی طرح سے سوچ لو . اس میں تمہاری ہی بھلائی ہے

گل : لیکن چچی ؟ ؟ وہ کیسے مانیگی . . . ؟

چچا : اِس کے بار ے میں کچھ سوچنا پڑے گا

چچی : ہرگز نہیں ! ! ! میں اِس لڑکی کو اپنے گھر کی بہو کبھی نہیں بناونگی ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ! ! یا تو آپ اس کا کسی اور کے ساتھ فیصلہ کرے یا یہ میرے گھر میں اسی چطرح پڑی رہے گی نوکرانیوں کی طرح

شہزاد : اماں وہ میری محبت ہے

اماں : محبت گئی تیل لینے ! ! دیکھیں جی
میں آپکو بول رہی ھوں ہوں کے یہ لڑکی میرے گھر کی بہو نہیں بنیگی میں تو مسز . افضل سے بات کر کے آراہی ہوں . انکی بیٹی باہرسے ابھی اپنی تعلیم مکمل کر کے پاکستان آراہی ہے بس وہ آئیگی تو اپنے بیٹے کا اس کے ساتھ نکاح کردونگی

شہزاد : اماں میں مرجاونگا لیکن آپکی پسند کی شادی کبھی نہیں کرونگا ابّا یہ آپ اچھی طرح اماں کو سم جھا دیں ورنہ میں گل سے باغ کر نکاح کرلونگا سمجھی آپ

شہزاد وہاں سے غصے چلا گیا . گل پردے کے پیچھے کھڑی یہ سب سن رہی تھی اور ساتھ ہی اسکی آنکھیں بے حد نم ہوگئی رات گئے تک چچا اور چچی کی اسی بات پر بحث چلتی رہی کے آخر شہزاد کے شادی کس کے ساتھ تایح ھوگی . گل اپنے آپ کو بوجھ سمجھ رہی تھی

کچھ دنوں تک گھر میں کافی خاموشی چائے ہوئی تھی . اِس بار تو چچی کا منہ بھی بند تھا . یونیورسٹی کے دن بھی شروع ہوچکے تھے . شہزاد کا ویسا ابھی تک نہیں لگا تھا اسلئے وہ اپنے ابّا کے ساتھ ہاتھ بتانے آفیس میں چلا جایا کرتا تھا . آج بہت بارش ہورہی تھی . گل نے اپنی کتابیں پکڑی چھتری لی اورچل پری یونیورسٹی کی طرف . راستے میں اک بہت بڑی سفید رنگ کی گاڑی اس کے پاس آئی . لڑکے نے گاڑی کا شیسہ نیچے کِیا اور گل کو پہچان لیا

احسن : ہیلو اینگری ینگ گرل کہاں جارہی ہَیں آپ ؟

گل : یونیورسٹی . . . تم سے مطلب ؟

احسن : میں بھی وہی جا رہا ہوں ، اندر آجاؤ

گل : میں کیوں اندر آئوں ؟ تم اپنے راستے
پر جاؤ میں چلی جائوں نگی . زیادہ نائس بننے کے ضرورت نہیں ہے . . . ابھی تک تم نے مجھے ڈائری بھی نہیں لوٹائی
احسن نے یوز ڈائری نکالی

احسن : یہ لو . . . کب سے اپنے ساتھ لیے گھومرہا ہوں . شاید آپ کہیںمل جاییں اور میں آپکو یہ دوں ، اب تو آپ چلیں میرے ساتھ .

گل : تھینکس . . اینڈ نو تھینکس مجھے نہیں جانا ، . . میں چلی جائوں گی

احسن : دیکھے بارش بہت تیز ہے آپکو ٹھنڈ لگ جاییگی آپ بیمار بھی ہو سکتی ہیں . . . آپ آ جائے

گل : مجھے کچھ نہیں ھوگا آئی ایم فاین‬ یو کین گو

احسن : اچھا . . . آپکی مرضی یونیورسٹی میں ملتے ہَیں ببیی

جاؤ بھاڑ میں . . ! ! گل جب یونیورسٹی پہونچی تو کافی بھیگی ہوئی تھی . انعماسے دیکھ کر حیران رہ گئی . آج گل کو پیدل ہی انا پڑا . چھتری ہونے کے باوجود گل پوری طرح بھیگھ چکی تھی . بریک میں بھوک بھوک کرتے دونوں کینٹین میں گئے تو دیکھا کے سارے کینٹین بھری ہوئی تھی بیٹھنے کی کوئی جگہ بھی نہ تھی . صرف اک ہی ٹیبل تھا جس پر اور 2 چیرس خالی تھی اور وہ ٹیبل احسن کے قبضے میں تھی . گل نے وہاں بیٹھنا بالکل مناسب نہ سمجھا . گل کو کھڑے ہوکر كھانا بالکل پسند نہ تھا . اور گل نے انعم کی سنی بھی نہیں تھی . جیسے ہی انعم نے وہ خالی ٹیبل دیکھی وہ ضد کر کے وہاں جا کر بیٹھ گئی . گل وہی کھڑی رہی . . کافی . انعم احسان کے
ساتھ باتیں کرنے میں بہت بز ی تھی

گل : نوکر نہیں ہوں تمہاری . . پکڑو اپنا كھانا

انعم : آر ے تم کہاں جارہی ؟ ؟ ہو بیٹھو ادھر اک چیئر خالی تو ہے

گل : مجھے نہیں بیٹھنا میں وہاں اس کونے میں کھڑی ٹھیک ہوں

احسن : آپکی فرینڈ بہت غصے والی ہَیں

انعم :دماغ خراب ہے اس کا

گل : ہاں تم سے تو تھوڑا کم

انعم : اب میرے سر پر کھڑی رہوگی تم ؟ جاؤ جا کر کہی اور بیٹھ جاؤ اگر جگہ ملی بھی تو

گل : اُف آج ہے کیا کینٹین میں سب اتنا فل کیوں ہے ؟ ؟

انعم : لڑکی ! ! کبھی تو قسمت کو اپنے دِل پر دستک دینے دیا کرو

گل : بکواس بند کرو

احسن : اچھا آئی تھنک یہ میری وجہ سے نہیں بیٹھ رہی یہاں پر . . میں چلا جاتا ہوں

انعم : آرے نہیں نہیں آپ کیوں جائینگے ؟ آپ بیٹھے یہ کھڑی رہیگی ادھر ہی اچھا یہ بتائیں کے آپکا کاروبر کیا ہے

احسن : چوری کرنا

انعم : ہیں ! ! یہ کیسا کاروبار ہے جناب کا

احسن : میں لوگوں کا سكون چوری کرتا ہوں

یہ کہتے کہتے احسان نے کافی کا گھونت لیا اور گل کی طرف دیکھا . لیکن گل کہی اور دیکھرہی تھی

احسن : اچھا میں اب چلتا ہوں کلاس کا ٹائم ہو گیا اور ویسے بھی میں لوگوں کو زیادہ دیر تنگ نہیں کرتا بائے

انعم : بائے . . اب تو بیٹھ جاؤ ( گل کو مخاطب کرتے ہوئے )

گل : حد کرتی ہو تم بھی تم جانتی ہو نا

انعم : ہاں ہاں سب جانتی ہوں شہزاد کا تمہیں آئی لو یو بولنا حد سے زیادہ تمہے پروٹیکٹ کرنا ہسبینڈز کا یہی کام تو ہوتا ہے

گل : ہی اِس ناٹ مائی ہسبنڈ !

انعم : بن تو جائیگا کبھی نا کبھی
اچھا اب اپنا ناشتہ کرلو اور چلتی بنو یہاں سے . . کلاس کا وقت ہو رہا ہے

یونیورسٹی میں اکثر انعم ، گل اور احسن اک دوسرے كے پاس گزرنے لگے . انعم احسن کو ہیلو کرنے پر مصروف ھوجاتی اور گل کا غصہ ٹھنڈا ہونہ کا نام ہی نہ لیتا . یہ ماجرہ کافی دن تک چلتا رہا لیکن گل بھی ان دونو کو پوری طرح ایوائڈ کرنے میں کامیاب رہی . عجیب سا موڈ لےکر گھر آجاتی . ایک دن اس نے شہزاد کو انعم کی حرکتوں کےبارے میں بتایا

شہزاد : وہ جو کرے سو کرنے دو تم ایسا کچھ نہ کرنا تم میری امانت

ہو گل : تم اسکو اتنا بہن بہن بولتے ہو

شہزاد : وہ کسی کی نہیں سنتی . . . تم اپنے دھیان میں رہو

گل : لیکن میں یونیورسٹی میں اکیلی ھوجاتی ہوں وہ تو اس کے ساٹھیلنے چلی جاتی ہے . تم نے تو بولا تھا کے انعم کے ساتھ رہا کرو

شہزاد : ہاں کہا تو تھا . . تم کچھ دن اور اسے ایوائڈ کرو اک نا اک دناسے سمجھ آ جایگی . ڈونٹ وری

گل : پریشان کر دیا ہے اِس لڑکی نے

شہزاد : اچھا سنو کل میں رنگ لینے جا رہا ہوں . تم بھی میرے ساتھ چلو تمہاری پسند کے رنگ لونگا

گل : رنگ کونسی ؟

شہزاد : منگنی کی رنگ ( اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا ) ، جو ان نازک انگلیوں میں پہناونگا

گل : چچی مان گیی ؟

شہزاد : اتنے رومینٹک موڈ میں یہ اماںکہاں سے آگئی بیچ میں . . . جاؤ میں تم سے نہیں بات کرتا

گل : اچھا . . ناراض مت ہو لیکن یوں اچانک . . میرا مطلب ہے چچا نے تو کہا تھا کے

شہزاد : جو بھی کہا تھا ابّا نے میں تو
اپنی مرضی کرونگا

گل : تو کیا تم میری مرضی نہیں جانوگے ؟

شہزاد : ہاں کیوں نہیں . . . بولو کونسے رنگ کا ڈریس پہنوگی میری پسند کا یا اپنی پسند کا ؟ ؟ دیکھو ! تمہیں تو پتہ ہے کے میری کوئی پسند نہیں ہے . تم جو پہنو گی اچھا لگےگا

گل : شہزاد . . . رکو

شہزاد : کیوں ؟

گل : میں نے تم سے کہا کے کیا تم میرا فیصلہ نہیں جانوگے ؟

شہزاد : نہیں

گل : کیوں

شہزاد : کیوں کے میں جانتا ہوں تمھارے دِل میں کیا ہے

گل : کیا ہے ؟

شہزاد : میرا پیار

گل یہ سن کر شرم سے لال ہوگئی . اب تو گل کو اسکے بارے میں سوچنا ہی پڑے گا . وہ اچھا ہے گل کا خیال رکھتا ہے اسکی ہر خوشی کا خیال رکھتا . چچا بھی بہت پیار کرتے ہَیں گل سے . چوٹی تو اپنی جان جیسی ہے . گل کو آہستہ آہستہ شہزاد کی باتیں اچھی لگنی لگی اور اس نے فیصلہ کِیا کے چلو خدا کا نام لیکراللہ کا نام لیکر خد کو شہزاد کے حوالے کردیتی ہوں . باپ بیٹا کمرے میں بیٹھ کر پتہ نہیں آفیس کےبارے میں کیا باتیں کر رہے تھے . گل دروازے کے پیچھے کھڑے شہزاد کو دیکھ تھی . کبھی اسے شہزاد کا ہنسنا اچھا لگے تو کبھی اسکا سیریوس ہوکر ابّا کی بات سننا . . . ہائے

یہ عشق نہیں آسَن بس اتنا سمجھ لیجیے ، اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *