Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

“کہو کیوں بلایا ہے؟”عادل نے سلاخوں کے دوسری طرف دیوار سے ٹیک لگائے اپنے خیالوں میں گم بیٹھےعافین کو مخاطب کیا ۔آج صبح جب وہ ڈیوٹی پر آیا تو انسپیکٹر عباس نے اس کا پیغام دیا تھا کہ وہ اس سے ملنا چاہتا ہے ۔ عادل کی آواز سن کر اٹھ کر اس کی طرف آیا
“آپ سے ایک فیور چایئے تھی”
“بولو اگر میرے بس میں ہوا تو ضرور دوں گا ۔”عادل نے اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا جس پر ندامت اور بے بسی صاف چھلک رہی تھی
“مجھے عدالت میں پیش ہونے سے پہلے ایک بار اس ڈرائیور کی فیملی سے ملنا ہے۔ میں ان سے معافی مانگنا چاہتا ہوں اور۔ “اس نے عاد کی طرف دیکھتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی
“اور؟” عادل نے بھنوئیں سکیڑیں
“اور امثال سے بھی ملنا چاہتا ہوں ۔”عافین نے اس کے بگڑتے تاثرات دیکھ کر اپنی نظریں اس کے چہرے سے ہٹائیں
“امثال سے کیوں ملنا ہے؟” عادل نے سرد لہجے میں کہا
“میں اپنے کیے کی معافی مانگنا چاہتا ہوں ۔میری وجہ سے وہ ہرٹ ہوئی تھی۔” عافین نے اس کی بوٹوں پر نظریں ٹکاتے ہوئے جواب دیا
“میں کریم چچا کی فیملی سے ملوا سکتا ہوں۔ تمہاری دوسری خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔ ایم شیور وہ بھی تم سے نہیں ملنا چاہے گی اور میں بھی نہیں چاہوں گا کہ وہ تم سے ملے ۔سو اس بات کو بھول جاؤ۔”عادل نے سپاٹ لہجے میں کہا
“میں بس ایک بار ملنا چاہتا ہوں ۔اس کے بعد آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گا ۔”عافین نے منت بھرے انداز میں کہا
“میں تمہاری صرف پہلی خواہش پوری کر سکتا ہوں اور اس کا بندوبست کرتا ہوں ۔”عادل کہتے ہوئے واپس پلٹا
“پلیز سر ۔”عافین نے التجائیہ انداز میں کہا تو اس نے مڑ کر اسے دیکھا اور لب بھینچتا ہوا چلا گیا ۔پیچھے وہ تھکے تھکے انداز میں وہیں سر ٹکا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ژلے عافین عالم تم سے ملنا چاہتا ہے ۔”عادل نے تکیے کا کور بدلتی امثال سے کہا
“کیوں؟ مجھ سے کیا کام ہے ؟” امثال نے ناگواری سے جواب دیا
“کہہ رہا تھا کہ اسے سوری کرنا ہے اور کریم چچا کی فیملی سے بھی ملنا چاہ رہا ہے۔”
“تم رضیہ چچی سے ملوا دو مگر میں نہیں ملنا چاہتی ۔”وہ تکیے رکھ کر بیڈ کی چادر سیٹ کرنے لگی
“مل لو ایک بار ۔اپنے کیے پر کافی پیشمان ہے ۔ہم اریسٹ کرنے گے تھے تب بھی اس نے کوئی مزاحمت کیے بغیر گرفتاری دے دی تھی ۔مجھے لگتا ہے بدل گیا۔”
“مجھے نہیں ملنا۔ انفیکٹ اس کی شکل بھی نہیں دیکھنی ۔”امثال نے نخوت سے ناک چڑھائی
“میں کل رضیہ چچی کو لے کر جا رہا ہوں اور تمہارا ساتھ ہونا بہت ضروری ہے ۔اُس کے لیے نہ سہی ،رضیہ چچی کے لیے تمہیں وہاں جانا پڑے گا ۔کل دس بجے تیار رہنا میں رضیہ چچی کو بتا کر آتا ہوں ۔”عادل حتمی انداز میں کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا
“حد ہے یار۔ مجھے نہیں جانا تو کوئی زبردستی ہے کیا ۔”تکیہ اٹھا کر صوفے پر پھینکتی بولی
اگلے دن اس کے پس و پیش کرنے کے باوجود عادل اسے اور رضیہ چچی کو لے کر پولیس سٹیشن آیا ۔رضیہ چچی کو بھی اس نے بڑی مشکل سے تیار کیا تھا کہ ایک بار ان کا اس سے ملنا بہت ضرری ہے۔
“ژلے تم ان کے ساتھ جاؤ ۔میں ایک کام نمٹا کر آتا ہوں۔” عادل نے اپنے روم میں جاتے ہوئے کہا ۔ وہ ان کو لے کر انسپیکٹر عباس کے ہمراہ حوالات کی طرف آئی ۔انسپکیٹر لاک کھلوا کر واپس چلا گیا ۔دروازہ کھلنے کی آواز پر عافین متوجہ ہوا تو سامنے امثال کے ساتھ ایک عورت کوکھڑے پایا جو اپنا آدھا چہرہ لپیٹے ہوئے تھی وہ اٹھ کر دھیرے سے چلتا ہوا سلاخوں کے نزدیک آیا اور اردگرد کا ہوش بھلائے اسے دیکھنے لگا ۔ آج آٹھ دس دن بعد وہ اس کو دیکھ رہا تھا ۔پہلے جب بھی وہ اس سے ملتی تھی تو ایک اپنائیت بھری سمائل اس کے فیس پر ہوتی تھی اور آج بیزاری اور اجنبیت تھی جس کو اگنور کیے وہ اسے دیکھے جا رہا تھا ۔امثال جو افسوس سے اس کا اجڑا ہوا حلیہ دیکھ رہی تھی اپنے ہاتھ پر کسی کی گرفت محسوس کر کہ مڑی تو رضیہ چچی سختی سے اس کا ہاتھ تھامے یک ٹک عافین کو دیکھ رہی تھیں
“چچی آپ ٹھیک ہیں نہ ۔” امثال نے ان کی بگڑتی حالت دیکھتے ہوئے تشویش سے پوچھا
“عا۔۔۔ عافی ۔ “انہوں نے اٹکتے ہوئے اس کی طرف اشارہ کیا ۔ امثال نے نا سمجھی سے ان کی طرف دیکھا ۔اگلے ہی لمحے وہ لاک اپ کے اندر کی طرف بھاگیں ۔ ہلچل میں ان کا دوپٹہ چہرے سے ہٹا اور عافین جو حیرانی سے انہیں ہی دیکھ رہا تھا ان کا چہرہ دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بے یقینی اتری۔
“عافی میرا بیٹا ۔” اس کے چہرے کو چھوتے ہوئے انہوں نے اسے گلے لگایا ،جبکہ وہ ابھی تک ساکت کھڑا تھا کہ آیا وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا اور صدا کی بونگی امثال شاہ آنکھیں پھاڑے انگلی دانتوں تلے دبائے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔
“ماما کہاں چلی گئی تھیں آپ ۔میں نے کتنا ڈھونڈا مگر آپ نہیں ملی ۔میں نے آپ کو بہت مس کیا ۔عافین کو جب یقین ہو گیا کہ وہ خواب میں نہیں حقیقت میں ان کے سینے سے لگا کھڑا ہے تو ان کے گرد مضبوطی سے بازو باندھتے ہوئے بھیگی آواز میں کہا ۔ اس کے منہ سے لفظ ماما سن کر امثال کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ منہ بھی کھلا
“میرا بیٹا کتنا بڑا ہو گیا ہے ۔” انہوں نے دیوانہ وار اس کا منہ چومتے ہوئے ایک بار پھر انہوں نے اسے گلے لگایا
“ہائے! آپ لوگ مجھے ایموشنل کر رہے ہیں۔” امثال آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے اندر آئی اور انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا ۔ باہر کھڑے سپاہی کو کرسی لانے کا اشارہ دیا اور خود وہیں رکھا پانی کا گلاس اٹھا کر لائی اور انہیں پینے کو دیا
“آپ لوگ باتیں کریں ۔میں چلتی ہوں ۔جب جانا ہو تو بتا دیجیے گا ۔”امثال انہیں کرسی پر بٹھاتی خود باہر نکل گئی۔عافین ان کے گھٹنوں پر سر رکھے زمین پر بیٹھ گیا
“آپ کو پتہ ہے میں نے آپ کو بہت مس کیا۔ ڈھونڈنے کی بھی کوشش کی تھی مگر آپ ملی ہی نہیں ۔ڈیڈ بلکل بھی اچھے نہیں ہیں۔” منہ بسور کر بولتا انہیں وہ بارہ تیرہ سالہ بچہ لگا جسے وہ چھوڑ کر گئیں تھیں اور اب ملنے پر انہیں شکائیتں لگا رہا تھا
“اس دن میں واپس گاؤں چلی گئی تھی اور پھر اماں جان کے انتقال کے بعد خالہ کے ساتھ ان کے ہاں رہنے لگی ۔”انہوں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ کمرے میں ایک دم سے خاموشی چھا گئی تھی سالوں سے بچھڑے دو لوگ یوں اچانک سے اور وہ بھی اس حال میں ملنے پر خاموش تھے۔
“مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا میرا بیٹا ایک غلط انسان ہے۔ یہ کس راہ پر چل نکلے ہو عافی ۔”کچھ دیر کی خاموشی کے بعد رضیہ چچی نے کہا ۔وہ جو آنکھیں بند کے ان کی آغوش میں سکون محسوس کر رہا تھا آنکھیں کھولتا سیدھا ہوا
“مجھ سے غلطی ہو گئی ماما ۔بھٹک گیا تھا مگر اب سوری ہوں ۔آپ پلیز خفا مت ہونا۔ آج سے کوئی غلط کام نہیں کروں گا پکا پرومس ۔” اس نے ان کا چہرہ تھامتے ہوئے بچوں کے سے انداز میں کہا
“ہمم۔”انہوں نے سر ہلانے پر اکتفا کیا تو وہ دوبارہ ان کے گھٹنوں پر سر ٹکا گیا۔ اچانک کسی خیال کے تحت اس نے سر اٹھایا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھیں
“ماما جن کی ڈیتھ ہوئی تھی وہ آپ کے ہزبینڈ تھے ؟” اسے یاد آیا تھا کہ اس نے عادل سے کریم کی فیملی سے ملنے کو کہا تھا تو کیا اس کی ماں ہی اس کی فیملی تھی جو وہ یہاں آئیں تھیں۔
“خالہ نے پانچ سال بعد میری شادی کروا دی تھی کہ ان کے بعد کوئی تو ہو جو میرا سہارا بن سکے۔” انہوں نے ہولے سے جواب دیا
“ایم سوری ماما !میری وجہ سے ان کی ڈیتھ ہوئی ۔ میں بلکل بھی اچھا نہیں ہوں۔ مجھ سے غلطی ہو گی معاف کر دیں ۔”اس نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔ تو آنسو صاف کرتے ہوئے سرہلا گئیں ۔ ایک ماں بھلا کب تک انے بچے سےناراض رہ سکتی تھی ۔وہ بھی اس صورت میں جب وہ تیرہ چودہ سال بعد ملا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مے آئی کم ان سر ۔”امثال اس کے روم کا دروازہ ناک کرتے ہوئے بولی ۔اس کا انداز دیکھ کر فائل پر دستخط کرتا عادل مسکرا دیا
“نو۔” اس نے سر اٹھائے بغیر کہا مگر تب تک وہ کمرے میں داخل ہوچکی تھی
“یہ تو خیر نہیں ہو سکتا ۔”وہ اس کے سامنے رکھی کرسیوں میں سے ایک گھسیٹ کر بیٹھی
“جانتا ہوں۔” اس نے فائل بند کر کے ایک طرف رکھتے ہوئے کرسی کی پشت پر ٹیک لگائی
” اچھا یہ بتاؤ ۔تم جانتے تھے کہ عافین رضیہ چچی کا بیٹا ہے؟”
“ہاں انوسٹیگیشن کے دوران سوہا ،میرا مطلب ہے کہ انسپیکٹر سوہا ان کے پرانے گھر گئی تھی۔ وہاں سے پتہ کرتے کرتے وہ ان تک پہنچی ۔”عادل نے اس کے گھورنے پر سوہا کے ساتھ انسپکیٹر لگایا
“صیح ۔میرے لیے کچھ کھانے پینے کو منگواو۔ آخر کو پہلی بار تمہارے آفس میں آئی ہوں ۔”امثال نے کہا ۔اس نے گھنٹی بجا کر پیون کو جوس لانے کو کہا۔ وہ اس کے کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے بے اختیار مسکرا دی
“تمہیں یاد ہے عادی۔ ہماری پہلی ملاقات یہاں ہوئی تھی .” وہ سب یاد کر کہ امثال کی ضبط کے باوجود ہنسی چھوٹ گئی تھی
“کیسے بھول سکتا ہوں زندگی میں پہلی بار تھا جب شدت سے دل چاہ رہا تھا اپنے ہی پسٹل سے سو سائیڈ کر لوں ۔”عادل نے ہنستے ہوئے کہا امثال کا قہقہ بلند ہوا ۔وہ مسکراتے ہوئے اس کا ڈمپل دیکھنے لگا جو اس کی ہنسی کی وجہ سے گہرا ہو گیا تھا
“سچی اس دن بہت مزہ آیا تھا ۔تمہارا وہ ماتحت بہت کروفر سے لایا تھا کہ انکو سیدھا کریں گے مگر آخر میں بیچارے کی حالت رونے والی ہو گئی تھی اور تمہیں یاد ہے اس صفائی کرنے والے کا جھاڑو تمہاری گود میں گرا تھا۔ وہ دیکھ کر مجھے بہت ہنسی آئی تھی اور تمہارا غصہ ساتویں آسمان پر جا پہنچا تھا اور اور جو چٹنی میں نے بازی پر پھینکی تھی وہ بھی تم پر گری تھی ۔”امثال ہنستے ہوئے بول رہی تھی
“اچھا بس! زیادہ مت ہنسو۔ بی جان کہتی ہیں کہ زیادہ ہنسنے سے نظر لگ جاتی ہے۔” عادل نے اس کے چہرے سے نظر ہٹاتے ہوئے اسے سنجیدہ ہو کر اسے ڈپٹا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ نظر لگ چکی ہے۔
“ژلے ۔” اس کو مسلسل ہنستا پا کر عادل نے اسے آنکھیں دکھائیں
“اوکے اوکے ۔میں سنجیدہ ہوں ۔لیکن ایک بات بتاؤ اس دن یہاں پہنچ کرتمہارے زہن میں پہلا خیال کیا آیا تھا۔”امثال نے سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا
“کہیں دہشت گردوں نے حملہ تو نہیں کر دیا ۔”اس نے بے ساختہ کہا تو وہ ایک بار پھر ہنسی۔ اب کی بار عادل نے بھی ہلکا سا ہنس دیا
“رضیہ چچی کا سناؤ۔”
“بہت خوش لگ رہی تھیں ۔اتنے سالوں بعد اپنے بیٹے کو روبرو پا کر پھولے نہیں سما رہیں مگر عادی تم اب کیا کرو گے میرا نہیں خیال کے چچی اسے کوئی سزا دلوانے کے حق میں ہوں گی ۔ پہلے شوہر اور اب اپنا بیٹا، وہ بلکل بھی نہیں کھونا چاہیں گی ۔”
“میں بھی اتنے دنوں سے یہی سوچ رہا ہوں ۔ اس کے رہا ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک چچی اپنے شوہر کا خون معاف کر کہ ایف آئی آر واپس لیں جو کہ وہ کر ہی لیں گی لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس سب میں انوالوڈ رہے گا کیونکہ وہ سمگلنگ میں ملوث ہے ۔اس کے لیے اسے اپنے باپ کے الیگل کام کا وعدہ معاف گواہ بننا ہو گا اور سارے ثبوت اور عدالت میں جا کر گواہی دینی ہو گی ان شارٹ اس کیس میں پوری پوری معاونت کرنا پڑے گی تب جا کر رہائی کی صورت ممکن ہے ۔لیکن مجھے نہیں لگتا وہ اس سب کے لیے ہامی بھرے گا کہ اپنے باپ کے خلاف کیوں کر جائے گا۔”
“تم اس سے بات کرو اور سمجھاؤ کہ وہ قانون کا ساتھ دے ۔عادی میں چاہتی ہوں کہ تم اسے رہا ہونے میں مدد دو ۔چلو چچی کو شوہر نہ سہی بیٹا تو مل ہی جائے ۔”امثال نے سنجیدگی سے کہا تو اس نے سر ہلا دیا
دو گھنٹے بعد عادل جا کر انہیں بلا لایا اور انہیں گھر چلنے کو بولا ۔ انہوں نے عافین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کی درخواست کی ۔ انہیں گھر چھوڑ کر وہ واپس عافین کے پاس آیا اور اس سے بات کی ۔ وہ اس کی مدد کرنے کو تیار ہو گیا ۔ نواز عالم بیل پیپر لے کر آئے تو عافین ان کے ساتھ چلا گیا ۔ اگلے دو چار دنوں میں اس نے ان کی سمگلنگ کی تمام تر تفصیلات لا کر عادل کو دے دیں اور اس کے ساتھ ہی تمام اڈوں کے اڈریس اور ثبوت کے طور پر کچھ اہم پیپرز بھی دیے ۔ عافین اپنی پہلی پیشی پر ہی رضیہ چچی کے بیان پر رہا ہو گیا تھا عادل نے سمگلنگ کے کیس میں اسے وعدہ معاف گواہ کے طور پر نامزد کر کہ نواز عالم پر کیس چلایا ۔ اس کے اریسٹ وارنٹ جاری ہوئے مگر ان کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی وہ فرار ہو چکے تھے۔ تمام ممکنہ جگہوں پر وہ ریڈ کر چکا تھا مگر اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں مل رہا تھا ۔عافین رضیہ چچی کو لے کر اپنے ایک دوست کے فلیٹ میں شفٹ ہوچکا تھا ۔ عادل ان دنوں جھنجھلایا سا ہوا تھا اور اسی جھنجھلاہٹ میں وہ بھول گیا کہ اس نے عافین کو اپنے ساتھ ملا کر نواز عالم کی شہ رگ پر پاؤں رکھا ہے ۔وہ اس وقت زخمی شیر بنا ہوا تھا اور ایک زخمی شیر بہرحال زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اپنی اس لاپرواہی کا خمیازہ اسے بھگتنا ہی تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بازل کو دو دن سے بخار تھا اس لیے وہ چھٹی پر تھا ۔ وہ دو دن سے اکیلی ہی آ جا رہی تھی ۔ابھی بھی وہ مگن سی ڈرائیو کرتی شاہ ہاوس سے واپس آ رہی تھی جب راستے میں ایک سنسان جگہ پر سڑک کے درمیان ایک کار آڑی ترچھی کھڑی گاڑی اس انداز میں کھڑی تھی کہ پیچھے سے آنے والی گاڑی کسی صورت بھی نہیں گزر سکتی تھی ۔ اس نے دو تین ہارن دیئے مگر کوئی رسپانس نہ پا کر غصے سے باہر نکلی
“ایک تو ان لوگوں کا مسئلہ سمجھ نہیں آتا ۔سڑک کے بیچ گاڑی روک کر پتہ نہیں کون سی حس کو تسکین دیتے ہیں ۔”بڑبڑاتے ہوئے وہ گاڑی تک آئی اور شیشہ ناک کرنے لگی ۔سیاہ شیشوں والی گاڑی ہونے کی وجہ سے وہ دیکھ ہی نہ پائی کہ گاڑی میں کوئی نہیں ہے ۔اپنے پیچھے کسی کی آہٹ پا کر وہ پلٹنے لگی تھی کہ کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھا ۔کلوروفام کی تیز خوشبو اس کے ناک سے ٹکرائی اور اگلے ہی لمحے وہ ہوش و حواس سے بےگانہ ہو چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نواز عالم تمسخر سے اپنے سامنے کرسی پر بندھے ہوئے بے ہوش وجود کو دیکھ رہا تھا۔ اسے اس لڑکی سے دوہری نفرت محسوس ہو رہی تھی ۔ایک تو وہ اس ایس پی کی چہیتی بیوی تھی اور دوسرا اس کے اپنے بیٹے کی محبوبہ ۔جس نے کچھ ہی مہنیوں میں اس کا بیٹا اس سے چھین لیا تھا ۔اس کے زہن میں اپنے بیٹے کی غداری گھومی کہ کس طرح اس کا اپنا ہی بیٹا اس کی بربادی کی وجہ بنا تھا ۔غصے سے ان کا خون کھولا تو اٹھ کر پوری قوت سے ایک تھپڑ امثال کے گال پر دے مارا ۔تھپڑ اتنا شدید تھا کہ اس کے گال کی جلد پھٹ گئی تھی ۔ اس نے کراہتے ہوے آنکھیں کھولیں تو نواز عالم کو سامنے کھڑا پایا ۔وہ کئی بار شہریار کے آفس میں ان سے مل چکی تھی اور اب تو عافین عالم کے معاملے کے بعد سے اچھے سے جان گئی تھی
“میں کہاں ہوں؟”اس نے گردن موڑ کر ادھر ادھر دیکھا اور پھر انہیں جو خونخوار نظروں سے اسے ہی گھور رہے تھے
“تم اس وقت میری قید میں ہو ۔” انہوں نے چبا چبا کر کہآ
“کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟ “اس نے ہاتھوں کو حرکت دینا چاہی مگر رسیوں کی گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے کسمسا کر رہ گئی۔
” تم نے میرے بیٹے کو باغی کیا ہے اور تمہارے شوہر نے اس کو استمعال کرتے ہوئے مجھے برباد کیا ہے تو کچھ بربادی کا مزہ اسے بھی تو چکھنا چایئے ۔”نواز عالم نے طنزیہ کہا اور اس کی دو تین تصاویر لے کر باہر کی طرف بڑھا
“انکل مجھے کھول تو دیں۔ کہیں بھاگی تھوڑی نہ جا رہی ہوں ۔”امثال نے گال کی تکلیف نظرانداز کرتے ہوئے معصومیت سے کہا کہ ایک بار ہاتھ کھل جائیں تو حساب تو وہ برابر کر ہی لے گی
“وہ عافین تھا جو تمہیں مکمل طور پر جانے بغیر تم سے الجھا اور ایسا الجھا کہ اسے خود کی بھی ہوش نہ رہی۔ میں اس کا باپ ہوں تمہارے بارے میں اچھے سے تحقیق کر کہ یہاں لایا ہوں ۔میں جانتا ہوں تم مارشل آرٹ فائٹر ہو اور میرا فی الحال اپنی ہڈیاں تڑوانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔”نواز عالم نے مڑ کر مسکراتے ہوئے کہا تو وہ دانت پیس کر رہ گئی
نواز عالم نے باہر جا کر عادل کال کی وہ جو امثال کی شکائیت پر جلدی گھر جا رہا تھا کہ وہ اسے ٹائم نہیں دے پا رہا۔ انجان نمبر دیکھتے ہوئے ایک سائیڈ پر جیپ روکتے ہوئے جیسے ہی فون اٹھایا نواز عالم کی مسکراتی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی
“میں نے سنا ہے کہ ایس پی صاحب بہت بے تابی سے مجھے دھونڈ رہے ہیں تو سوچا کال کر کہ حال چال پوچھ لوں۔”
“بالکل صیح سنا ہے اور حال چال بھی بہت جلد پوچھوں گا وہ بھی روبرو بیٹھ کر۔”
“میرا بعد میں پوچھ لینا۔ پہلے اپنی چہیتی کا تو پوچھ لو۔ وہ خیر وعافیت ہے بھی یا نہیں ۔”انہوں نے زور دار قہقہ لگاتے ہوئے کہا ۔ ان کے قہقہ لگانے کے انداز سے عادل کو خطرے کا احساس ہوا
“کیا مطلب ہے اس بکواس کا۔”
“مطلب یہ کہ میں جانتا ہوں جلد یا بدیر مجھے گرفتار ہونا ہی ہےتو میں نے سوچا کیوں نہ مار کر مرا جائے ۔ اس لیے تمہاری لاڈلی کو اٹھوا لیا ہے۔ تمہارے پاس کل شام تک کا وقت ہے اگر ڈھونڈ سکتے ہو تو ڈھونڈ لو ورنہ اس کی لاش تو مل ہی جائے گی تمہیں ۔ اب اتنا بھی ظالم نہیں ہوں کہ ورثا کو لاش بھی نہ دے سکوں ۔”وہ جوں جوں بول رہا تھا عادل کو اپنا وجود سن ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔ وہ اس پہلو کو کیسے بھول گیا تھا ؟وہ جانتا تھا کہ نواز عالم بدلے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے مگر پھر بھی وہ غفلت کر گیا ۔ہر وقت اس پر سخت نظر رکھنے والا امثال کو اس سچوئیشن میں کیسے بھول گیا ؟اسے نہیں بھولنا چاہیے تھا۔
“کیا چاہتے ہو ؟” اپنے اعصاب پر قابو پاتے ہوئے اس نے پوچھا
“تم نے مجھے برباد کیا ہے ایس پی اور وہی بربادی تمہیں بھی دینا چاہتا ہوں ۔میرا بیٹا میرے جگر کا ٹکڑا چھینا ہے۔ اب میں تم سے تمہارا سب سے عزیز رشتہ چھینوں گا تو تمہیں پتہ چلے گا کہ کتنی ازیت ،کتنی تکلیف ہوتی ہے جب کوئی اپنا آپ سے دور ہوتا ہے۔” اس نے نفرت آلود لہجے میں کہا
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ۔ سمجھے تم۔ ایسا کچھ بھی نہیں کرو گے “عادل اس کے ارادے جان کر چلایا
“چیخو چلاؤ۔ تمہارا یہ تڑپنا مجھے بہت سکون دے رہا ہے ۔کچھ بھیج رہا ہوں تمہارے لیے ۔دیکھ لینا فائدہ مند رہے گا اور ہاں میری بات یاد رکھنا کل تک کا وقت ہے تمہارے پاس ۔” اس نے کہتے ہوئے فون کاٹ دیا ۔جواب میں وہ ہیلو ہیلو کرتا رہ گیا ۔ابھی وہ موبائل ہاتھ میں پکڑے کھڑا تھا کہ موبائل کی میسج ٹیون بجی اس نے جلدی سے کھولا تو امثال کی تین چار تصویریں تھیں۔ ایک میں وہ بے ہوش بندھی ہوئی ۔ ایک میں صرف اس کا چہرہ نظرآ رہا تھا جس میں اس کے گال کا زخم صاف دکھائی دے رہا تھا ۔اس کے گال کی پھٹی جلد اور رستا ہوا دیکھ کر جلدی جلدی سے سکرین پر ہاتھ مارتے عادل کا ہاتھ کانپا
“ژلے ۔”اس کے منہ سے بےاختیار نکلا ۔ اس نے دوبارہ کال ملانی چاہی مگر نواز عالم کا نمبر بند جا رہا تھا ۔اس نے بار بار نمبر ملایا مگر ناکام رہا ۔بے بسی سے وہ سر تھام کر رہ گیا ۔
“ریلیکس عادل۔حوصلے سے کام لو۔ ایسے نہیں چلے گا ۔”اس نے خود کو حوصلہ دیتے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیرا ۔ انسپکیٹر عباس اور سوہا کو کال کر کہ صورتحال سے آگاہ کیا اور خود گاڑی ریورس کرتا ہوا واپس شہر کی طرف مڑا
دوپہر سے شام ہونے کو آئی تھی مگر اس کا کچھ اتہ پتہ نہیں چل رہا تھا ۔ حویلی سے بار بار شہریار اور راسم شاہ کی کالز آ رہی تھیں مگر وہ کاٹ دیتا۔۔ جانتا تھا کہ امثال کے ابھی تک گھر نہ پہنچنے کی وجہ ہی پوچھیں گے ۔کچھ سوچ کر وہ عافین کے فلیٹ پر آیا
” جہاں اتنی ہیلپ کی ہے وہاں تھوڑی سی اور کر دو پلیز۔ کسی طرح پتہ لگوا دو کہ وہ اسے کہاں لے کر جا سکتے ہیں ۔”عادل کی بے بسی انتہاوں کو چھو رہی تھی ۔عافین نے اس کی نم ہوتی سرخ آنکھوں کو دیکھا جن سے آنسو چھلکنے کو کو بے تاب تھے مگر وہ ضبط کیے ہوئے تھا۔
“میں جہاں جہاں پتہ کر سکتا تھا کر چکا ہوں اور ایم شیور وہ اسے کسی بھی ایسی جگہ نہیں لے کر جا سکتے جس کا پتہ میں جانتا ہوں ۔”عافین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی
“تم پلیز ایک بار پھر سے ٹرائے کرو۔”
“اوکے میں رشید کو پھر سے کال کرتا ہوں ۔”عافین نے سامنے ٹیبل پر رکھا موبائل اٹھایا تو عادل کی نظر اس کی رسٹ واچ پر پڑی اور ا اس کے زہن میں امثال کی بات گھومی
“یہ عدی نے دی تھی ۔بعد میں پتا چلا کہ میری جاسوسی کرنے کے لیے اس نے اس میں کچھ فٹ کروایا اور اتارنے بھی نہیں دیتا ۔ اس کے سیل ختم ہو گئے تھے تو وہ ڈلوا کر لایا ہے ۔” ابھی کچھ دن پہلے ہی تو جب ملازمہ اسے دے کر گئی کہ یہ عدید صاحب نے بجھوائی ہے اور اس کے پوچھنے پر وہ منہ بناتے ہوئے اسے بتا رہی تھی ۔اس نے جلدی سے عدید کو کال کی
“سنو! تمہاری ژلے کو دی گئی واچ تمہارے ساتھ کنیکٹڈ ہے یا نہیں۔”
“کیوں کیا ہوا خیریت ؟”عدید نے اس کے غیر متوقع بات پر حیرانی سے پوچھا
“تم جلدی سے بتاؤ ۔باقی کی بات پھر بتاوں گا۔”
“اچھا دیکھتا ہوں۔” اس نے کال لاوڈ سپیکر پر لگاتے ہوئے سرچ کرنا شروع کیا
“یہ شہر سے پانچ کلومیٹر دور ایک ایریا دکھا رہا ہے مگر تم پوچھ کیوں رہے ہو اور یہ وہاں کیا کر رہی ہے؟”
“ژلے کو کسی نے کڈنیپ کر لیا ہے ۔تم پلیز مجھے ایگزیکٹ لوکیشن بتاؤ۔ ٹائم بہت کم ہے۔”عادل نے جلدی سے اسے آدھی بات بتائی۔
“کک۔۔۔ کیا کہہ رہے ہو ؟ کس نے کیا ہے ؟”اس نے بوکھلاتے ہوئے پوچھا
“ابھی پتہ نہیں ۔ تم پلیز مجھے بتاؤ۔”عادل نے پوچھا
“پلیز عدید سنبھالو خود کو اور مجھے بتاؤ کہاں ہے ۔”اس کی طرف سے خاموشی پا کر عادل نے اسے جھڑکا ۔ اس نے لوکیشن میسج کی تووہ جلدی سے وہاں سے نکلا ۔ راستے میں اس نے سوہا اور عباس کو ایڈریس دیتے ہوئے وہاں پہنچنے کا کہا
مطلوبہ جگہ پر پہنچا تو وہ ایک کھنڈر سی جگہ تھی ۔ایک سائیڈ پر بلڈنگ بن رہی تھی اس کے دائیں طرف ٹوٹی پھوٹی سی آٹھ دس کمروں پر مشتمل ایک منزلہ عمارت تھی ۔وہ ہاتھ میں پسٹل لیے سب کمروں کو چیک کرتا جا رہا تھا کہ ایک کمرے کا درواز کھولنے پر سامنے امثال کرسی پر بندھی نظر آئی ۔وہ پسٹل وہیں پھینکتا بھاگ کر اس کی طرف آیا۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولیں تو عادل کو اندر آتے دیکھ کر مسکرائی۔
“مجھے پتہ تھا ۔تم ڈھونڈ ہی لو گے۔”
“تم ٹھیک ہو نہ ؟”اس کے ہاتھ پاؤں کھولتے ہوئے اس نے پوچھا
“ہاں ٹھیک ہوں ۔” اس نے مدہم سا مسکراتے ہوئے کہا ۔عادل کی نظر اس کے گال پڑی تو بے اختیار اس کا ہاتھ اس کے گال پر گیا ۔اس کے ہاتھ رکھنے پر امثال کے منہ سے سی کی آواز نکلی
“درد ہو رہا ہے ؟”س کی آنکھوں میں تفکر کی لکیریں نمایاں تھیں
“نہیں بس تھوڑی تھوڑی جلن ہو رہی ہے ۔”امثال نے اس کو تسلی دینے کو جھوٹ بولا ورنہ اسے تب سے اپنا جبڑا ٹوٹا محسوس ہو رہا تھا
“کوئی بات نہیں۔ میں دیکھ لوں گا ۔اٹھو۔ چل لوگی ؟ “عادل نے اس کو بازو سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے پوچھا ۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔وہ اسے لے کر باہر نکلا۔ ابھی وہ گاڑی سے کچھ دور ہی تھے جب نواز عالم کی آواز پر پلٹے
واہ بھئی ! تم تو میری سوچ سے بھی پہلے پہنچ گئے۔ پولیس کی پھرتیوں کو ماننا پڑے گا۔”
“بقول تمہارے بات میری لاڈلی کی تھی تو کیسے ہو سکتا کہ میں اسے مشکل میں چھوڑ دہتا۔” عادل نے مسکراتے ہوئے کہا
“تمہیں کیا لگا کہ اتنی آسانی سے اسے لے جاؤ گے ۔” اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتے اس نے یکے بعد دیگرے تین فائر کیے ۔ دو گولیاں امثال کے پیٹ میں جب کے تیسری گولی اس کے لڑکھڑانے پراس کے دائیں کندھے پر لگی تھی ۔ اس سے پہلے وہ دوبارہ گولی چلاتا انسپیکٹر عباس نے ان کی کنپٹی پر پسٹل رکھی تھی ۔سوہا نے اس سے پسٹل لے کر ساتھ کھڑے سپاہی کی طرف اچھالی اور اسے ہتھکڑی لگانے لگی ۔عادل جو ابھی تک ششدر کھڑا تھا امثال کے نیچے گرنے سے ہوش میں آیا
“ژلے کچھ نہیں ہوا ۔ ہم ۔۔۔۔ ہم ابھی ہوسپیٹل چلتے ہیں ۔” اس کی آدھ کھلی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے اس نے جھک کر اسے اٹھانا چاہا
“نہیں۔۔۔ پہلے میری۔۔۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔۔ پتہ نہیں پھر موقع ملے نہ ملے ۔امثال نےمسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ تھام کر کہا
تمہیں ہمیشہ سے یہی ۔۔۔۔۔ شکوہ رہا ہے نہ کہ میں۔۔۔۔۔۔ اظہار نہیں کرتی تو۔”
ژلے یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے ۔ ابھی ہمیں ہوسپیٹل جانا ہے۔” عادل نے اٹھنا چاہا کہ اس نے اس کو روک دیا
نہیں۔۔۔۔۔ تم میری بات۔۔۔۔۔۔ سنو۔۔ پہلے ۔ تم ۔۔۔تم کہتے تھے ۔۔۔۔۔۔نہ۔۔۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔۔۔۔ کہ تمہیں۔۔۔۔۔ مجھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔ اظہار۔۔۔۔۔۔۔۔ سننا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔ تو ۔۔سنو میں اس۔۔۔۔۔ دنیا ۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں سب سے۔۔۔۔۔ زیادہ۔۔۔۔ پیار شہری بھائی۔۔۔۔۔۔ سے کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔تم سے ۔۔۔۔۔جب جب آس پاس۔۔۔۔۔ ہوتے۔۔۔۔ ہو۔۔۔۔۔۔ ہو۔۔ نہ تو۔۔۔۔ بہت اچھا ۔۔۔۔لگتا ہے ۔۔۔۔۔ ۔اک ۔۔اکثر تمہاری گھوریاں۔۔۔۔۔۔ دیکھنے کے لیے ۔۔۔۔ میں الٹی سیدھی۔۔۔۔۔ حرکتیں کرتی۔۔۔۔۔ کرتی ۔۔۔ ہوں۔ می ۔۔۔۔۔۔میں نہ تم سے۔۔۔۔۔۔ ڈھیر۔۔۔۔۔ ڈھیر سارا۔۔۔۔ پیار۔۔۔۔ کرتی۔۔۔۔ ہوں ۔آئی ۔۔۔۔۔آئی ۔۔۔۔لو ۔ اس سے پہلے اس کا جملہ مکمل ہوتا اس کی آنکھیں بند ہوگئی
“ژلے ۔”عادل نے اس کا گال تھپتپھایا
” پاگل ہو گے ہو؟ ہٹو پیچھے ۔” فائرنگ کی آواز سن کر تیزی سے آتے عدید نے اس کو امثال کا سر گود رکھے دیکھ کر دھاڑتے ہوئے اسے پیچھے ہٹایا ۔ اسے اٹھا کر باہر کی طرف بھاگا اور ساتھ ہی عادل کو بھی آواز دیتے ہوئے آنے کو کہا ۔سوہا نے اگے بڑھ کرعادل کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا جو امثال کے خون سے رنگے اپنے ہاتھ دیکھ رہا تھا ۔اس کے کانوں بھی اس کی آخری باتیں گونج رہی تھیں ۔ اس کی کتنی خواہش تھی کہ وہ کسی دن اسے کہے کہ وہ بھی اس سے پیار کرتی ہے اس نے اظہار کیا بھی تو کب جب وہ موت کے دہانے پر تھی ۔ اب کچھ دن پہلے ہی تو وہ کہہ رہی تھی کہ وہ بہت جلد اظہار کرے گی اور وہ بھی الگ انداز میں اور اس نے واقعی ہی الگ انداز میں کیا تھا ۔ اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتا وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کی یہ بند آنکھیں دوبارہ کھلیں گی بھی یا نہیں۔سوہا کے ہلانے ہر وہ ہوش میں آیا
“امثال۔۔۔۔ وہ کہاں ہے ؟” اس نے ادھر ادھر دیکھا
“ان کے بھائی لے گے ہیں۔ آپ پلیز اٹھیں ہمیں ہوسپیٹل جانا ہے ۔ڈاکٹرز پولیس کیس کہہ کر ٹال مٹول کرتے ہیں ۔”سوہا نے کہا تو اس نے غائب دماغی سے سر ہلا دیا
“سر اٹھیں نہ ۔”اس کو وہیں بیٹھا دیکھ کر سوہا کا سر پیٹنے کا جی چاہا۔ اس کو اٹھا کر وہ گاڑی کی طرف لائی۔ بیک سیٹ پر امثال کو لٹاتے عدید نے مڑ کر پولیس موبائل میں بیٹھتے نواز عالم کو دیکھا گویا اس کی صورت حفظ کی ہو ۔سوہا انہیں ییچھے بیٹھنے کا کہہ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی اور اگلے ہی لمحے ان کی گاڑی ہوا سے باتیں کرتی شہر کی طرف جا رپی تھی۔
جاری ہے