Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

بازل اور شہریار حویلی میں داخل ہوئے تو گہری خاموشی نے ان کا استقبال کیا۔امثال گھر پر ہو اور خاموشی ہو ناممکن سی بات تھی لاونج میں بیٹھی زروا کو ہاجرہ شاہ نے پانی لانے کا اشارہ دیا ۔
“ژلے کہاں ہے ؟نظر نہیں آ رہی ہے ۔”بازل نے زروا سے پانی لیتے ہوئے پوچھا
“پتا نہیں۔ میں تو جب سے یونی سے آئی ہوں مجھے نظر نہیں آئی، شائد اپنے کمرے میں ہوں گی۔”اس نے جواب دیا
“اس کی طبعیت تو ٹھیک ہے نہ ؟”شہریار متفکر ہوا
“طبعیت تو ٹھیک ہے مگر موڈ ٹھیک نہیں ہے ۔”ہاجرہ شاہ مسکراتے ہوئے بتایا
“کیوں ؟کیا ہوا ؟کسی نے کچھ کہا ہے ؟”
“آپا سے ڈانٹ کھائی تھی اور اب احتجاجا اپنے کمرے میں پڑی ہے۔”
“اوہ ! میں دیکھتا ہوں ۔”شہریار اٹھتے ہوئے بولا ۔
وہ دستک دے کر کے کمرے میں آیا تو امثال ٹانگیں سمیٹ کر گھٹنوں پر سر رکھے صوفے پر بیٹھی تھی ۔شہریار کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔وہ اس کے پاس جا کر بیٹھا تو اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
“کیا بات ہے؟ میرا بگڑا شہزادہ اتنا سیڈ کیوں بیٹھا ہے؟”
“کچھ نہیں بس ایسے ہی ۔”اس نے آہستگی سے کہا
“ایسے تو نہیں کرتے ۔ نانو نے اگر ڈانٹ دیا ہے تو کیا ہوا ۔وہ بڑی ہیں اور بڑے ڈانٹ دیتے ہیں۔ مائنڈ تو نہیں کرتے نہ ۔”شہریار نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے نرمی سے کہا
“میں نے نہیں مائنڈ کیا ۔”اس نے سر اٹھائے بغیر کہا
“تو پھر کمرے میں بند ہو کر کیوں بیٹھ گئی ہو ۔وہ کیا سوچیں گی کہ تم نے ان کی اتنی سی ڈانٹ کا بھی برا منایا ہے۔”
“میں نے کچھ کہا کیا ؟اور نہ ہی میں نے ان سے کوئی بدتمیزی کی ہے ۔بس خاموشی سے سنتی رہی ہوں۔ ” واش روم سے نکلتا عادل ان کو یوں راز و نیاز کرتا دیکھ کر جل کر رہ گیا
” تو تم حاضر ہو گئے۔ میں ابھی یہی سوچ رہا کہ سالے صاحب کی آمد کا وقت ہونے والا ہے ۔”عادل نے تولیہ بیڈ پر اچھالتے ہوئے طنز کیا
“ظاہر ہے جب تم میری بہن کا خیال نہیں رکھو گے تو مجھے آنا ہی پڑے گا ۔” شہریار نے الٹا اسے لتاڑا
“میں سوچ رہا ہوں کہ دوسرے شہر ٹرانسفر کروا لوں اور اپنی بیوی کو لے کر شفٹ ہوجاؤں ۔”عادل نے اس کے بگڑتے تیور دیکھتے ہوئے دل جلانے والی مسکان اس کی طرف اچھالی
“شائد تمہیں اپنی نوکری پیاری نہیں ہے ۔مختار انکل کو ایک کال کروں گا اور تمہیں کل ڈیوٹی پر جانے کی زحمت ہی نہیں کرنی پڑے گی ۔”شہریار نے اطمینان سے کہا
” جب ایسی حرکتیں کرتے ہو تو واقعی ہی لگتا ہے کہ تم ان فتنوں کے بھائی ہو ۔”عادل نے دانت پیسے
“آؤ ہم کہیں باہر چلتے ہیں ۔”شہریار اسے چھوڑ کر امثال کی طرف مڑا
“کہاں جانا ہے؟ ” امثال نے بے زاری سے پوچھا
“ہممم۔ ایسا کرتے ہیں سکول کے وزٹ پر چلتے ہیں ۔واپسی پر عدید کے ہاں سے ہو آئیں گے۔”
“میں چادر لے لوں۔”امثال اٹھ کر الماری کی طرف گئی
“مجھے بھی جانا ہے ۔”ان دونوں کو نکلتا دیکھ کر عادل جلدی سے اٹھ کر ان کی طرف آیا ۔وہ تینوں نیچے آئے تو ہاجرہ شاہ مسکرائیں
“تینوں کی سواری کہاں جا رہی ہے ؟”
“کہیں نہیں دادو بس یہیں گاؤں کا چکر لگا کر آتے ہیں ۔”شہریار نے جواب دیا ۔ہاجرہ شاہ کی نظر امثال پر پڑی تو وہ ترچھی نظروں سے انہیں ہی دیکھ رہی تھی ۔انہوں نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی کہ اس کا کوئی بھروسہ نہیں تھا دوباہ منہ پھلا کر بیٹھ جاتی
“ٹھیک ہے جاؤ جلدی آجانا۔ میں نے اپنے سوہنے بچے کی پسند کا کھانا بنوایا ہے۔”
“میری بات کر رہی ہیں نہ ۔”عادل نے ان کی بات سمجھ کر جلدی سے پوچھا
“نہیں بھئی میں اپنی لاڈو کی بات کر رہی ہوں ۔میری بچی نے دوپہر کو بھی نہیں کھانا کھایا۔” انہوں ےن محبت بھری نگاہوں سے امثال کو تکتے ہوئے کہا جو منہ پھیلائے کھڑی تھی
“چل شہری ہماری تو قدر ہی نہیں ہے حالاں کہ ایک وقت تھا بہت پرٹوکول ملتا تھا مگر اب ہم یاد ہی نہیں ہوتے ۔” وہ آہیں بھرتا باہر نکل گیا اور اس کے پیچھے امثال اور شہریار بھی چلے گئے ۔
“یہ لوگ کہیں جا رہے ہیں ؟” باہر لان میں زروا کے ساتھ کھڑے بازل کی نظر پڑی
“لگ تو رہا ہے۔”
“اچھا میں بھی ان کے ساتھ جا رہا ہوں تم نے جانا ہے تو آجاؤ ۔”بازل کہتے ہوئے تیز تیز قدموں سے ان کی طرف بڑھا
“بھائی ہمیں بھی جانا ہے۔” بازل ان کے پاس کر بولا
“ہم لوگ تھوڑی دیر کے باہر جا رہے ہیں ۔کسی ریلی پر نہیں جو سب ایک ایک کر شامل ہوتے جا رہے ہیں ۔”امثال اس کو سائیڈ پر دھکیلتے ہوئے خود فرنٹ سیٹ پر جا بیٹھی
“تم ریلی پر جا ہی نہیں سکتی۔ تمہیں لے کر کون جائے گا ۔لوگوں کو اپنی سلامتی بہت عزیز ہوتی ہے ۔”بازل نے جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی
“میرے خیال سے ہمیں واپس چلے جانا چایئے ۔”شہریار نے عادل کو دیکھتے ہوئے کہا
“چل نکل یہاں سے۔” امثال نے بازل کو باہر کی طرف دھکا دیا
“میں نہیں میں بھی ساتھ جاؤں گا۔” بازل نے سٹئیرنگ مضبوطی سے پکڑا
“تم نکلتے ہو یا میں اتاروں جوتا۔ ” امثال نے اسے آنکھیں دکھائیں تو اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ڈور لاک کر دیا ۔وہ جو پہلے ہی بھری بیٹھی تھی اس کے ڈھٹائی دکھانے پر اس کا دماغ گھوما ۔اس نے سینڈل اتار کر اس کے بازو میں دے ماری
“تم مجھے میری بیوی کے سامنے مار رہی ہو کچھ تو لحاظ کر لو ۔” بازل نے اس کے ہاتھ سے سینڈل چھین کر زور سے گاڑی کے کھلے شیشے میں سے باہر پھینکی۔ وہ اڑتی ہوئی لان میں جا گری ۔عادل پاس کھڑی جیپ کے بونٹ پر چڑھ کر بیٹھ گیا اور شہریار کو بھی اشارہ کیا کہ یہاں آجاؤ ۔سکون سے بیٹھ کر دیکھتے ہیں ۔ وہ اسے نظرانداز کرتے ہوئے سینڈل اٹھانے کو مڑا
“تمہیں زبان سے کوئی بات سمجھ آتی ہے ۔ چلو دفع ہو میرا جوتا اٹھا کر لاؤ ۔”
“خود جا کر لے آؤ ۔ میں تمہارا ملازم ہوں ۔” اس نے تڑخ کر جواب دیا
“منحوس انسان پھینکی کیوں تھی؟” وہ دوسری سینڈل اتارنے کو جھکی ۔ دھکم پیل میں اس کا دوپٹہ سر سے اترا تو بازل کی نظر اس کے پونی میں جکڑے بالوں پر پڑی ۔ اس کے سیدھے ہونے سے پہلے ہی اس کے بال بازل کے ہاتھ میں تھے ۔ اس سے پہلے وہ اسے مارتی اس نےزور سے اس کے بال کھینچے تو وہ ایک دم سے چیخی
“لالہ انہیں چھڑوائیں نہ ۔”زروا اس کی چیخوں سے پریشان ہوتی عادل سے بولی تو اس نے شانے اچکا دئے۔شہریار اس کی چیخ سن کر بھاگتا ہوا آیا
“بازی چھوڑو اسے ۔” شہریار نے اندر کی طرف سے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا
“اگر تم نے اگلے دو سکینڈ میں اس کے بال نہ چھوڑے تو آئی سوئیر آج میرے ہاتھوں نہیں بچو گے ۔”اب کی بار اس نے سختی سے کہا ۔ کچھ ہی دیر میں دونوں کے حلیے بدل چکے تھے ۔امثال کے بال کسی الجھی ہوئی جھاڑی سے بھی بدتر ہو چکے تھے ۔اپنی کلائی سہلاتی وہ گاڑی سے باہر نکلی تو اس کا حال دیکھتے ہوئے عادل کا قہقہ چھوٹا ۔امثال کی نظر دوسری طرف کھڑے بازل پر پڑی ۔وہ اپنے ہاتھ کی پشت کے زخموں پر ہاتھ پھیر رہا تھا جو اس کے ناخن لگنے کی وجہ سے آئے تھے ۔ اس کا غصہ نئے سرے سے جاگا ۔وہ چیل کی مانند اڑتی ہوئی اس کی طرف آئی ۔ اس کو دھکا دے کر گرایا اور اس کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر دونوں ہاتھوں سے اسے مارنے لگی
“کتے کمینے منحوس میرے سارے بال خراب کر کہ رکھ دیے ہیں۔” ہاتھوں کے ساتھ ساتھ وہ زبان کا بھی بے دریغ استمعال کر رہی تھی
“بھائی اب آپ کہاں گئے ہیں میری باری تو بڑی دھمکیاں لگا رہے تھے۔” اس نے نیچے سے شہریار کو آواز دی
“اس لڑکی کو میں نے بٹھا کر دو گھنٹے تک اس کے ساتھ سر کھپایا ہے مگر مجال ہے جو اس نے اپنے دماغ میں کوئی بات جانے دی ہو ۔”اپنے لان میں کھڑی ثریا شاہ نے افسوس سے سر جھٹکا۔شہریار نے جھک کر اسے اٹھایا اور پچکارتے ہوئے ٹھنڈا کرنے لگا
“یہ تم سب یہاں کیوں کھڑے ہو اور ان دونوں کو کیا ہوا ہے ۔”راسم شاہ کالج سے واپس آئے تو ان سب کو گیراج میں کھڑا پایا ۔ کالج میں بچوں کے ایگزامز کی وجہ سے وہ آج کل لیٹ آ رہے تھے
“بابا آپ کا یہ بیٹا بہت ہی برا انسان ہے۔ اسے زرا خیال نہیں ہے میرا ۔آپ اس کو عاق کر کہ فارغ کریں ۔” امثال شہریار کے بازو کے حصار سے نکلتی ان کے سامنے آئی
“اوہ ہیلو! مجھے نہیں تمہیں نکالیں آخر تم کونسا ان کی سگی بیٹی ہو۔ تھوڑا سا آٹا دے کر ہی تو لیا تھا ۔”بازل نے اپنا گال سہلاتے ہوئے کہا
“میں نہیں جا رہی کہیں بھی ۔ آپ اس کو لے جائیں۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی واپس آئی تو اس کا حال دیکھ کر ہاجرہ شاہ کا منہ کھلا چونکہ اندرونی دروازہ گیراج سے کافی فاصلے پر تھا اس لیے باہر ہوئی کاروائی سے بے خبر تھیں ۔وہ پوچھنے کا موقع دیئے بغیر اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی
“اب آجاؤ اندر ۔” راسم شاہ ان سب کو کہتے حویلی کے اندر چلے گئے
“تم کیا بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہے تھے ۔روک نہیں سکتے تھے ۔”شہریار نے خفگی سے عادل کو دیکھا
“دیکھو بھئی! چایئے وہ مجھے جتنی بھی عزیز ہو مگر بہن بھائی کے معاملے میں ،میں نہیں مداخلت کر سکتا۔ “اس نے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے اس کی کچھ دن پہلے کی ، کی گئی بات اس کو لوٹائی تو وہ اسے گھورتا ہوا بازل کی طرف پلٹا
“بھائی بہت جلن ہو رہی ہے ۔”اس نے ہاتھ پر پھونک مارتے ہوئے معصومیت سے کہا
“کتنی بار کہا ہے کہ مت لڑا کرو ۔ اندر جا کر کوئی کریم لگا لو۔”
“شروعات اسی چڑیل نے کی تھی۔”
“اچھا اب چلو اندر۔ باہر تو جو جانا تھا وہ جا لیا ہم نے ۔” وہ سر جھٹکتا ہوا اس کے سینڈل اٹھا کر اندر کی جانب چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھی اپنے بالوں میں برش کر رہی تھی جبکہ عادل ٹی وی پر کوئی مووی دیکھ رہا تھا ۔برش کرتے کرتے اس کی نظر عادل پر پڑی تو اس کے چھوٹے چھوٹے بالوں کو دیکھتے ہوئے اس کے زہن میں آئیڈیا آیا اور وہ سائیڈ پر رکھی چھوٹی سے دبی سے ربڑ نما پونیاں اٹھا کر اس کے سر پر پہنچی
“عادی مجھے تمہاری پونیاں بنانی ہیں ۔”
“میرا کیا بنانا ہے ؟” عادل نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو ہاتھ میں برش اور چھوٹی چھوٹی پونیاں لیے کھڑی تھی
“تمہاری پونیاں بنانی ہیں۔”
“میں سن رہا ہوں کہ تم کہہ رہی ہو ، تمہیں میری پونیاں بنانی ہیں رائٹ ؟” اسے لگا اس نے شائد کچھ غلط سنا ہے اس لیے بات کو دہرایا ۔جس پر امثال نے زور شور سے سر ہلایا
“ژلے !” عادل نے بے یقنی اور شاک کی سی کیفیت سے اسے دیکھا ۔ اس کی بیوی کسی بھی وقت کچھ بھی سوچ لیتی اور پھر اس پر عمل کرنے چل پڑتی تھی ۔
“کیا ژلے ! میں نہ مختلف انداز سے بناؤں گی اور پھر سیلفیز بھی لیں گے ۔سچی بہت کیوٹ لگیں گی بلکل بےبیز کی طرح۔”
“تم مکمل طور پر کھسک چکی ہو ۔علاج کرواؤ اپنا ۔حد ہو گئی ۔ آج تم میری پونیاں بناؤ گی ،کل کو کہو گی عادی میں تمہارے لیے فیڈر بنا کر لائی ہوں۔ پرسوں کہو گی نیکر لائی ہوں۔ترسوں غراراہ ۔ “وہ تصور میں خود کو کبھی فیڈر پیتا تو کبھی غرارہ پہنتے دیکھ کر جھر جھری لے کر رہ گیا
“پلیز نہ عادی۔ اچھے والے دوست نہیں ہو ۔بس ایک بار ۔”اس نے ملتجی لہجے میں کہا
“ژلے سکون سے بیٹھ جاؤ ۔مار کھاؤ گی مجھ سے۔” عادل نے اسے آنکھیں دکھائیں
“میں تم سے بات ہی نہیں کرتی ۔”وہ منہ بسورتی وہیں قالین پر بیٹھ گئی
“وہاں کیوں بیٹھ رہی ہو ،اُوپر آ کہ بیٹھو۔”اس کو نیچے بیٹھتا دیکھ کر اس نے کہا
“مجھے نہیں آنا۔ اور خاموش ہو کر بیٹھو ۔کوئی نہیں بات کر رہا تم سے ۔”اس نے خفگی سے کہا
“اچھا یہاں آؤ کوئی مووی دیکھتے ہیں ۔” عادل نے اس کا دھیان بٹانا چاہا
“مجھے نہیں دیکھنی ۔” اس نے نفی میں سر ہلایا
“جاؤ کافی لے آؤ۔”
“مجھے نہیں پینی۔”
“تو پھر آ کے سو جاؤ ۔” وہ کسی بھی طرح اسے اس کی ضد سے ہٹانا چاہ رہا تھا
“نہیں سونا ۔” وہ بھی ایک ہی ضد ” میں نہ مانوں ” پکڑے بیٹھی تھی
“امثال ہنی ضد نہیں کرتے۔” اس کو اپنی بات پر اڑا دیکھ کر وہ بےبسی سے بولا
“اچھا جیسے تمہاری مرضی ۔ بیٹھی رہو ۔”اس کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر وہ کندھے اچکاتا موبائل کی طرف متوجہ ہوگیا۔کچھ دیر تک اسے اسی پوزیشن میں بیٹھا دیکھ کر گہری سانس لی
آؤ ۔بنا لو جو بنانا ہے ۔ اس نے ہار مانتے ہوئے کہا۔اس کے کہنے کی دیر تھی کہ وہ جھٹ سے اُٹھی اور مختلف سٹائلز سے اس کی پونیاں بنا بنا کر تصویریں لینے لگی
“واہ عادل یہ دن بھی دیکھنا تھا تم نے ۔”اس نے بڑبڑاتے ہوئے اسے دیکھا جو پورے جوش و خروش سے اب اس کی چھوٹی چھوٹی دو پونیاں بنارہی تھی
“یہ لو موبائل تم سیلفی لو ۔”امثال نے موبائل اسے پکڑا کر اسکی پولیس کیپ اپنے سر پر رکھی
“تم انہیں اتارنا مت۔ میں ابھی کافی لےکر آتی ہوں ۔” اس کے جانے کے بعد وہ اٹھ کر شیشے کے سامنے آ کھڑا ہوا سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بے ساختہ سی مسکراہٹ نےاس کے لبوں کو چھوا
“پاگل ہے یہ لڑکی۔”
“اگر کوئی مجھے ایسے دیکھ لے تو کیا سوچے گا ۔”اس نے آدھ کھلے دروازے کو دیکھتے ہوئے جھٹ سے پونی اتار کر ڈریسنگ پر پھینکی اور اس کے آنے سے پہلے وہ جا کر لیٹ گیا کہ اس کا کوئی بھروسہ نہیں تھا کہ جب واپس آتی تو کوئی نئی بات اس کے زہن میں سما جاتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“واٹ اے پلیزننٹ سرپرائز! تم یہاں ۔”عافین امثال کو اپنے آفس دیکھ کر خوش گوار حیرت میں مبتلا ہوا
“دیکھ لو۔ ایسے چھوٹے موٹے سرپرائزز میں دیتی رہتی ہوں ۔” اس نے کرسی کھینچ کر بیٹتھے ہوئے بھرپور مسکراہٹ سے کہا
“کیسے آنا ہوا ؟”
“ایسے ہی۔ میں یہاں سے گزر رہی تھی تو سوچا تمہارے آفس سے ہو کر چلتی ہوں۔”
“اچھا کیا۔ کیا پئیو گی؟”
“وہسکی ۔”امثال نے سنجیدگی سے کہا تو اس کا منہ کھلا
“واٹ! وہسکی؟”اس نے حیرت سے اسے دیکھا
“ظاہر ہے تم پوچھ ہی ایسے رہے ہو ۔تمہیں پتہ تو ہے کہ میں کچھ بھی کھا پی لیتی ہوں اس لیے کچھ بھی منگوا لو بلکہ رہنے دو لنچ ٹائم ہو رہا ہے۔ بس تین گھنٹے ہی تو رہتے ہیں تو چلو کہیں لنچ کر کہ آتے ہیں۔” اس نے خود سے ہی پلان بنایا
“تین گھنٹے پہلے کون لنچ کرتا ہے ۔”عافین ہنستے ہوئے بولا ۔ اس نے اپنی طرف اشارہ کیا کہ میں کرتی ہوں۔
وہ دونوں آفس سے نکل کر گاڑی میں بیٹھے تو کچھ دور کھڑے مراد نے نواز عالم کو کال کر کے بتایا ۔اس نے اسے کہا کہ وہ ان کا پیچھا کر کہ بتائے کہ کہاں جاتے ہیں۔ ریسٹورینٹ پہنچ کر اس نے دوبارہ انہیں فون کر ریسٹوریننٹ کا نام بتایا ۔اس نے مراد کو واپس آنے کا کہا اور خود عادل کو فون ملایا۔
“کیسے ہو ایس پی صاحب؟”عادل جو پہلے ہی ان باپ بیٹے کے اریسٹ وارنٹ نہ ملنے کی وجہ سے جھنجھلایا ہوا تھا ۔اس کے فون کر پر تپ کر رہ گیا
“جی کہیں کس سلسلے میں زحمت کی ۔”اس نے اکھڑے لہجے میں جواب دیا
“تمہاری بیوی کے بارے میں اطلاع دینی تھی ۔”اس نے معنی خیزی سے کہا تو وہ چونک کر سیدھا ہوا
“کیا مطلب ہے اس بات کا ۔میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ لڑکی کا نام استمعال کرنا بند کرو ۔”اس نے حتی الوسع خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کی کہ پوزیسونیس شو کرنا اپنے ہی حق میں نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی
“میں کہاں کر رہا ہوں۔ تمہاری بیوی ہی میرے بیٹے کے ساتھ گھوم رہی ہے ۔”
“ویسے یہ بیویاں ہوتی ہی بےوفا ہیں ۔میری بیوی نے بھی مجھے دھوکہ دیا ۔میں نے تو اسے اسی وقت اپنی زندگی سے نکال پھینکا تھا ۔میں نے تو سنا تھا کہ تمہاری لو میرج تھی مگر دیکھو نہ پھر بھی میرے بیٹے کو پھانس لیا ہے۔ وہ بیچار تو کسی کام کا ہی نہیں رہا ۔” نواز عالم نے اس انداز میں کہا کہ اسے اس سے اور اپنے بیٹے سے مکمل ہمدردی ہو۔عادل ماتھے کی رگیں ابھری تھیں ۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سامنے ہوتا تو اس کا منہ توڑ دیتا
“تم جانتے ہو کیا بکواس کر رہے ہو ۔اس حد تک گر گئے ہو کہ ایک لڑکی پر تہمت لگا رہے ہو ۔ “آس پاس تھانے کا عملہ دیکھ کر وہ دبی دبی آواز میں غرایا
“میں تمہت نہیں لگا رہا ایس پی! اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔میرے بیٹے کے ساتھ ساتھ لنچ ڈیٹ پر گئی ہے۔ یقین نہیں ہے تو خود جا کر دیکھ لو۔ فائیو سٹار میں دونوں موجود ہیں ۔مگر خدارا اپنی بیوی کو سمجھاؤ میرے بیٹے کا پیچھا چھوڑ دے ۔ایسی لڑکیوں کی سزا بہت عبرت ناک ہونی چایئے جو اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے دوسرے مردوں کے ساتھ گلچھڑے اڑاتی ہیں ۔”انہوں نے آخری تیلی بھی جلا کر پھینکی ۔عادل نے فون بند کر کہ امثال کو ملایا
“کہاں ہو ؟”
“یہیں کہیں ہوں ۔”دوسری طرف سے اس کی شرارت سے بھرپور آواز سنائی دی
“ژلے میں نے پوچھا کہاں ہو ؟” اس کے مذاق کو نظرانداز کرتے ہوئے اس نے اپنی بات دہرائی
“ریسٹورینٹ ہوں ایک دوست کے ساتھ لنچ کرنے آئی تھی ۔کیوں کیا ہوا ؟”اس کی سنجیدگی محسوس کرتے ہوئے اس نے پوچھا تو اس نے فون بند کر دیا
“یہ لڑکی کسی دن کچھ بہت بڑا کرے گی ۔”ٹیبل پر سے جیپ کی چابی اٹھاتا وہ باہر نکلا۔ پانچ منٹوں میں وہ ریسٹورینٹ پہنچ چکا تھا۔ اندر داخل ہوا تو ایک کونے میں وہ عافین کے ساتھ بیٹھی تھی
“تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟” ان کے پاس جا کر اس نے سختی سے کہا
“تم یہاں؟ ابھی تو تم کال کر رہے تھے اور ابھی پہنچ بھی گئے ۔ “جہاں وہ خوشگوار حیرت سے بولتی ہوئی اٹھی وہیں عافین کی رنگت بھی فق ہوئی ۔تو وہ لمحہ آن پہنچا تھا جب وہ اس کی دوستی سے ، اس کے دو پل کے دیدار سے بھی محروم ہونے والا تھا ۔جب سے دل بدلا تب سے اکثر وہ سوچتا تھا کہ جس دن اسے اس کی اصلیت پتہ چلے گی۔ اسی دن وہ اس کی طرف پلٹ کر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرے گی ۔
“چلو یہاں سے ۔”اس کی ایکسئاٹمنٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے اس نے اس کا ہاتھ پکڑا
“چلتے ہیں۔ میں لنچ تو کر لوں اور رکو میں تمہیں اپنے دوست سے ملواتی ہوں ۔”امثال نے عافین کی طرف دیکھا
“دوست ! رئیلی مسٹر عافین؟ آپ جیسے لوگ کسی کے دوست بھی ہوتے ہیں ۔”عادل نے استہزایہ کہا
“دیکھو یہ ہمارا مسئلہ ہے تو ہم ہی سولو کریں گے۔ تم امثال کو بیچ میں نہ لاؤ۔ ہم بعد میں دیکھ لیں گے ۔”عافین نے بات ختم کرنے کی کوشش کی
“ہمارا مسئلہ واقعی؟ یہ بات میں نے بھی کی تھی کہ یہ ہمارا مسئلہ ہے ۔ تم امثال کو بیچ میں نہ لاؤ مگر تم نہ صرف لائے بلکہ اسے ہرٹ بھی کیا تو اب یہ کون سا کھیل کھیل رہے ہو ؟دوستی کی آڑ میں کون سی گیم پلان کر رہے ہو؟”
“تم غلط سمجھ رہے ہو ۔ ہم بعد میں بات کریں گے نہ۔ تم لوگ جاؤ ۔”عافین نے امثال کو الجھن بھرے انداز میں اپنی طرف دیکھتا پا کر اس کو بھیجنا چاہا
“کیا ہو رہا ہے ؟ آپ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور کس نقصان کی بات ہو رہی ہے ۔ “امثال نے عادل سے پوچھا
“تم اکثر مجھ سے پوچھتی ہو نہ کون لوگ ہیں جو تمہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور کریم چچا کا قتل کس نے کیا تھا ۔” اس نے ایک لمحے کو رک کر عافین کو دیکھا جس کی رنگت فق ہوتی جا رہی تھی
” ان سے ملو یہ ہیں مسٹر عافین عالم ۔ کریم چچا اور نجانے کتنوں کے قاتل ۔”عادل نے اپنی بات کے ردعمل میں عافین کی بدلتی رنگت بغور دیکھی تھی ۔ امثال نے بے اختیار منہ پر ہاتھ رکھا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے عافین کو دیکھ رہی تھی ۔ عافین نے پل میں اس کی آنکھوں میں اپنے لیے عزت احترام کی جگہ نفرت ابھرتی دیکھی تھی۔
“تو تم ایک قاتل ہو؟” اس کی آواز سرگوشی سے زیادہ نہیں تھی
“تم نے؟ تم نے کریم چچا کا مرڈرد کروایا تھا ؟” اس نے دوبارہ پوچھا اور عافین کے ہونٹوں کو گویا تالا لگ گیا تھا۔ وہ اپنی جگہ خاموش کھڑا تھا۔ ساکت و جامد جیسے مٹی کا بت ۔
“میں جانتی ہوں عادی جھوٹ نہیں بولتا اور تمہاری یہ اڑی رنگت اس پر مہر ثبت کر رہی ہے ۔ پھر بھی مجھے تمہارے منہ سے سننا ہے ۔ کیا واقعی ہی تم نے ایک بےگناہ کی جان لی تھی؟”
“بولو ۔” وہ چلتی ہوئی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی ۔عافین کو لگا کہ وہ وقت سے پہلے ہی کسی کٹہرے میں کھڑا ہے اور اس کا یوم حساب چل رہا ہے
“ژلے میں ۔”
“تم چلو یہاں سے۔ اسے میں دیکھ لوں گا ۔”عادل نے اس کا بازو پکڑ کر وہاں سے لے جانا چاہا
“نہیں عادی ۔ مجھے اس کے منہ سے سننا ہے تاکہ مجھے یقین ہو سکے کہ اس جیسا معصوم اور شریف دکھنے والا بندہ قاتل بھی ہو سکتا ہے ۔ اور تم ۔۔۔تم کوئی صفائی کوئی دلیل نہیں۔ بس ہاں یا ناں میں جواب دو۔”
“میں بتاتا ہوں۔” اس نے بچنے کی ایک آخری کوشش کرنی چاہی
“ہاں یا ناں ۔”وہ ایک دم سے چیخی ۔ وہاں پر بیٹھے سبھی لوگوں نے مڑ کر دیکھا
“ہاں ۔”اس نے سر جھکاتے ہوئے اعتراف کیا ۔ وہ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہوئی ۔اس کی آنکھوں کے سامنے کریم چچا کا مسکراتا اور پھر خون آلود وجود لہرایا ۔
“چٹاخ۔” بے اختیار اس کا ہاتھ اٹھا اور عافین کے گال پر اس کی پانچوں انگلیاں چھپ گئیں
“یس۔ یو آر اے مرڈر ۔ ایک قاتل، ایک سفاک انسان میرا دوست ۔ہاؤ ریڈیکلس ۔ “دبی دبی آوازمیں چلاتے ہوئے اس نے آنکھوں میں آئی نمی صاف کی
“ویسے مجھ سے دوستی کیوں کی تھی جب کہ میرے شوہر کو تو تم لگاتار دھمکاتے رہے ہو نہ میرا نام لے کر تو پھر ۔”اس کو ایک ایک کر پھر سے ساری باتیں یاد آنے لگیں تھیں ۔ ڈرائیور کا قتل عادل اور شہریار کا پریشان ہونا ۔غصے کا گراف ایک بار پھر ہائی ہوا اور اس نے دوسرا تھپڑ اس کے دوسرے گال پر دے مارا
“یہ میرا نام استعمال کر کہ میرے شوہر اور بھائیوں کو دھمکانے کے لیے۔ یقین کرو اگر تم مجھے کوئی تھوڑی سی بھی گزند پہنچانے کی کوشش کرتے نہ تو ان تک بات جانے سے پہلے ہی ایسے میٹر تو میں خود ہی سولو کر لیتی ہوں ۔میرا نام لے کر انہیں بلیک میل کرنے سے پہلے میرے بارے جان لیتے تو ایسی غلطی کبھی کرتے ہی نہیں ۔ تم جیسے کئی گھٹیا انسان سیدھے کر چکی ہوں ۔”اس کی ندامت سے بھرپور آنکھوں میں اپنی شعلے اگلتی آنکھیں ڈالتے ہوئے وہ پھنکاری
“ژلے چلو یہاں سے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں ۔”عادل نے اس کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی طرف لے کر بڑھا۔ان کے جانے کے بعد اس نے سر اٹھا کر اس کی پشت کو دیکھا ۔ ابھی وہ دیکھ ہی رہا تھا وہ اپنا ہاتھ چھڑوا کر واپس آئی
“آج کے بعد اپنی شکل مت دکھانا ۔ جب جب تمہاری شکل دیکھوں گی تب تب مجھے کریم چچا کی موت یاد آجائے گی جو کہ تمہارے حق میں بلکل بھی اچھا ثابت نہیں ہوگا۔”انگلی اٹھا کر اسے تنبیہ کرتی وہ واپس پلٹ گئی ۔ عافین ابھی تک بے یقین کھڑا تھا ۔اتنے سارے لوگوں کے سامنے بےعزتی ، تھپڑ کچھ بھی یاد نہیں تھا ۔ اسے یاد تھی تو اس کی آنکھوں اور اس کے لہجے کی نفرت ،اس کی آخری وارننگ ۔ وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی مانند ڈھیلے قدموں سے ریسٹورینٹ سے باہر نکل گیا۔