Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

آپی بھائی کب آئیں گے ۔عائشہ کو جوس دے کر اس کے پاس بیٹھتے ہوئے امثال نے پوچھا
آجائیں گے۔ انکا فون آیا تھا کہہ رہے تھے تھوڑے لیٹ ہو جائیں گے ۔عائشہ نے جوس پیتے ہوئے کہا
اچھا تم زرا یہ میرے لیپ ٹاپ کی تھوڑی سی سیٹنگ تو کر دو اور میل اکاونٹ بھی دیکھ لینا، بہت ساری میلزسپایم میں جا رہی ہیں ۔عائشہ نے سائیڈ پر رکھا لیپ ٹاپ اس کی طرف بڑھایا
میں فری میں کوئی کام نہیں کرتی آپ کو پتہ ہے نہ یہ بات ۔ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوئے امثال نے کہا
تمہارا بھائی آ جائے تو میں ان سے تمہاری فیس لے کر دے دوں گی ۔عائشہ
مسکراتےہوئے بولی
میرے بھائی سے کیوں ماشاءاللہ سے لاکھوں کما رہی ہیں ان پر سانپ بیٹھا ہوا ہے کیا جو وہاں سے نہیں دے سکتی
وہ میں سیو کر رہی ہوں
کیوں بھئی آپ نےبچت کر کہ کون سی بیٹی بیاہنی ہے
بیٹی تو نہیں لیکن میرے شوہر کے دو سوہنے بچے اور بگڑے شہزادے ہیں ان کے لیے ایک سرپرائزارینج کرنے کا سوچ رہی ہوں
ہیں سچی آپی کیا سرپرائز۔ وہ لیپ ٹاپ چھوڑ کر پرجوش سی اس کے پاس ہو کر بیٹھی
اگر بتا دوں گی تو سرپرائز نہیں رہے گا
نہ بتائیں میں اپنے زرائع سے پتا کر لوں گی ۔امثال کا اشارہ شہریار کی طرف تھا
تم جن ذرائع کا بول رہی ہو ابھی تک تو انہیں بھی نہیں پتا تو تمہیں کیا بتائیں گے۔۔اس سے پہلے امثال کچھ بولتی شہریار کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا ۔ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر باہر بھاگی ۔گیراج میں آئی تو شہریار تھکا ماندہ سا گاڑی سے اترتا دکھائی دیا ۔ شہری بھائی کا نعرہ لگاتی اس کے گلے لگی تو وہ حیران سا مسکرا دیا
کتنی دیر لگاتے ہیں ۔ میں کب سے ویٹ کر رہی تھی اور اسی ویٹ میں آپو کو چار گلاس جوس کے پلا چکی ہوں
کیا بات ہے میرا بیٹا کیوں اتنا انتظار کر رہا تھا ۔شہریار اس کے گرد بازو لپیٹ کر چلتے ہوئے نرمی سے بولا
ویسے ہی ۔۔۔۔۔
نہیں ویسے تو نہیں۔۔۔ کوئی تو کام ہے جو اتنی بے چینی دکھائی جا رہی ہے
ہا آپ کو میں مطلبی لگتی ہوں۔ امثال نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے مصنوعی گھوری دکھائی
ہاہاہاہابلکل بھی نہیں بس میں اپنے بچے کو جانتا ہوں جب اسے کوئی کام ہوتا ہے تو ایسی بے چینی دکھاتا ہے ۔اب بتاؤ کیا بات ہے
ایم سوری بھائی ۔امثال نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا
کس بات پر۔ شہریار نے رک کر اس کے سنجیدہ چہرے کو دیکھا
میں نے دو بار آپ سے بدتمیزی کی نہ اس پر۔ بہت بدتمیز ہو گئی ہوں آپ سے بھی جھگڑنے لگی ہوں ۔امثال نے افسوس سے اپنے سر پر چیت لگائی
ارے میرا بچہ کوئی بات نہیں۔ میں نے مائینڈ نہیں کیا۔ تم پریشان تھی اس لیے ۔ورنہ مجھے پتا ہے میرا بیٹا بدتمیز بلکل بھی نہیں ہے۔ شہریار نے اس کا سر چومتے ہوئے کہا
آپ ناراض تو نہیں ہیں نہ
ہر گز نہیں تم دونوں اور خاص طور پر تم سے میں کبھی ناراض نہیں ہو سکتا پھر کبھی یہ بات مت سوچنا آؤ اندر چلیں ۔شہریار نے اسے لیے اندر آیا
آپ فریش ہو جائیں میں نے آپ کی پسند کا کھانا بنوایا ہے۔ میں نے اور بھابھی نے بھی نہیں کھایا۔ میں لے کر آتی ہوں۔ امثال شہریار کو بھیج کر خود کچن میں چلی گئی ۔ کھانا گرم کر کہ اس کےروم میں لائی
بھائی ،آپی آ جائیں کھانا کھا لیں ٹھنڈا ہو جائے گا ۔امثال ٹرے ٹیبل پر رکھ کر جانے کو پلٹی
ژلے کہاں جا رہی کھانا نہیں کھاؤ گی ۔عائشہ اسے واپس جاتے دیکھ کر بولی ۔ جانتی تھی وہ ابھی تک بھوکی گھوم رہی ہے کہ شہریار کے ساتھ کھائے گی
عادی آ گیا ہے تو میں اسی کے ساتھ کھا لوں گی۔ آپ لوگ کھائیں ۔امثال نے جاتے جاتے جواب دیا پھر کچھ یاد آنے پر مڑی
بھائی آپی کو سمجھا دیں یہ آج کل کھانے پینے کے معاملے میں بہت لاپرواہی برتنے لگیں ہیں اوپر سے مجھ معصوم کو آنکھیں نکال کر ڈرانے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔۔ آپ کو پتہ تو ہے میں کتنی نازک دل ہوں کسی دن میں آپ کو کہیں بے ہوش پڑی ملوں گی
میری پرنسز بہت نازک ہے عائشہ، اسے یوں نہ ڈرایا کرو۔ شہریارمسکراتےہوئے بولا تو امثال نے جتاتی نظروں سے عائشہ کو دیکھا
مبالغہ آرائی کرتے ہوئے آپ دونوں بہن بھائی ہی حد کر جاتے ہیں۔ عائشہ ہنستے ہوئے کھانا نکالنے لگی تو امثال بھی باہر نکل گئی
آن اےسرئیس نوٹ عائشہ میں صحت کے معاملے میں لاپرواہی برداشت نہیں کرتا ،امثال میڈیسن لیتے ہوئے بہت تنگ کرتی ہے۔۔ میں اسے بھی ڈھیل نہیں دیتا اور یہاں تو بات دو جانوں کی ہے ۔ دوبارہ مجھے یہ شکائت نہ ملے ۔شہریار نے سنجیدہ ہوتے کہا
کچھ چیزوں کا ٹیسٹ بہت عجیب سا لگتا ہے ۔ متلی سی ہونے لگتی ہے اور ژلےڈائیٹ ٹیبل کے حساب سے عین ٹائم پر کوئی نہ کوئی چیز لے کر حاضر ہو جاتی ہے اور جب تک ختم نہ کر لوں سر پر کھڑی رہتی ہے۔ اس لیے کبھی کبھی چڑچڑی ہو جاتی ہوں۔اسے لگا کہ وہ شائد امثال پرغصہ کرنے والی بات کو لے کر سنجیدہ ہوا ہے ۔شہریار نے بے اختیار ماتھا پیٹا
عائشہ میں وہ بات نہیں کر رہا اور نہ ہی ژلے تمہاری شکائت لگا کر گئی ہے۔۔ اس نے صرف تمہاری لاپرواہی کی برتنے کا بتایا ہے
جانتی ہوں ۔وہ بے دلی سے نوالہ توڑ کر کھانے لگی پیٹ میں تو اس کے جگہ نہیں تھی اور اگر نہ کھاتی تو شہریار لازمی پوچھتا
بھابھی آپ کی چائے ۔ کچھ دیر بعد امثال ٹرے میں ایک کپ چائے اور دو مگ کافی لیے حاضر ہوئی
دیکھا ایسے کرتی ہے یہ ۔عائشہ نے کپ پکڑتے ہوئے منہ بسورا
میری کیوٹو سی آپی یوں منہ بسورتے کتنی کیوٹ لگ رہی ہیں۔ ہے نہ بھائی۔ امثال نے عاشہ کا گال کھینچتے ہوئےشہریار سے کہا
واقعی تمہاری بھابھی کیوٹ تو ہے ۔۔ایسے ہی تو نہیں ہم بہن بھائی کا ان پر دل آیا ۔شہریار نے مسکاتے لہجے میں کہا
آہم آہم۔ امثال مصنوعی انداز میں گلا کھنکھارا
ارے ایک منٹ یہ کب ہوا آپ کی سٹوری میں ہیرو کی بجائے ہیروئن کا دل آیا تھا ۔امثال نے ڈرمائی انداز میں آنکھیں گھمائیں
نکلو یہاں سے۔۔۔ تم اب غلط سمت چل پڑی ہو چلو شاباش۔۔ عائشہ کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اٹھی وہ بچاری ابھی تک بے خبر تھی کہ امثال شہریار کو اس کی پسندیدگی کے بارے میں بتا چکی ہے
بھائی آپ دیکھ رہے ہیں آپ کے سامنے یہ میرے ساتھ ایسا کرتی ہیں پیچھے کیا حال کرتی ہوں گی ۔آپ سوچ بھی نہیں سکتے امثال نے نہ نظر آنے والے آنسو صاف کیے
تم پر بہت ظلم کرتی ہوں ۔ چلو میری بہن جاؤ ۔۔لالہ کی کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے ۔عائشہ اسے لیے دروازے تک آئی
بڑے رسوا ہو کر تیرے کوچے سے نکلے۔ امثال ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے باہر نکلی
شکر ہے یہ نارمل تو ہوئی مجھے بہت فکر ہو رہی تھی شہریار نے اس کے جانے کے بعد کہا
ہاں یہ تو ہے سارا گھر سونا پڑ گیا تھا اس کی خاموشی سے ۔عائشہ نے تائید کی
ارے ہاں یہ کس سٹوری کے بارے میں بات کر رہی تھی۔ شہریار جان کر بھی انجان بنا
کسی بارے میں نہیں آپ جانتے تو ہیں ہر وقت الٹا سیدھا بولنا اس کا مشغلہ ہے ۔کہتے ہوئے وہ چھپاک سے واش روم میں گھسی
ہائے میری معصوم اور بے خبر بیوی ۔شہریار نے زوردارقہقہ لگایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شہریار کے آفس میں بیٹھی تھی شہریارمیٹینگ کے لیے گیا ہوا تھا چونکہ یہ پروجیکٹ وہ دونوں ہی ہینڈل کر رہے تھے اس لیے بازل بھی ساتھ ہی تھا۔ شہریار کی چئیر کی پر بیٹھی پیپر ویٹ گھماتے ہوئے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ وہ چاہ کر بھی اس واقعے کو نہ بھول پا رہی تھی ۔ اپنی وجہ سے گھر والوں کو پریشان دیکھتے ہوئے اس نے بھی خود کو کسی حد تک نارمل کر لیا تھا ۔
میم مسٹر عافین آئے ہیں ۔تانیہ دروازہ کھول کراندر آئی
ٹھیک ہیں بجھوا دیں ۔امثال نے کہا ۔تھوڑی دیر بعد عافین دروازہ کھول کر اندر آیا
آئیں عافین صاحب تشریف رکھیے ۔امثال نے ازرہ مروت کہا ورنہ اس وقت اس کا کسی کی بھی شکل دیکھنے کا موڈ نہیں تھا
کیا لیں گے چائے کافی
کافی ۔۔۔۔۔عافین نے کہا امثال نے فون اٹھا کر کافی لانے کا کہا ۔تھوڑی دیر بعد کافی آ گئی تو وہ کافی پیتے ہوئے فرصت سے اسے دیکھنے لگا
جی فرمائیں کس سلسلے میں آںا ہوا
لوکیشن وزٹ کرنا چاہ رہا تھا مسٹر شہریار کے ساتھ اسی لیے حاضر ہوا ہوں ۔اب اسے کیا بتاتا کہ دل کہ ہاتھوں مجبور ہو کر چلا آیا ہے
بھائی تو نہیں ہیں میٹنگ کے لیے گئےہوئے ہیں
اوہ۔۔ چلیں کوئی بات نہیں میں پھر کبھی آ جاؤں گا
ایک بات پوچھوں۔ عافین کو اس کے چہرے کی پھیکی پڑتی رونق اور آنکھوں کی ماند پڑی شرارت کی چمک الجھا رہی تھی
جی پوچھیں۔۔۔
کوئی مسئلہ ہے کیا ۔آپ کافی ٹینس لگ رہی ہیں حالاں کہ آپ اتنی سنجیدہ مزاج نہیں ہیں
بس ایسے ہی۔امثال نے آہستہ سے کہا
کوئی بات تو ہےاگر آپ نہیں بتانا چاہتی تو وہ الگ بات ہے ۔عافین نے اصرار کیا
کچھ خاص نہیں بس کچھ دن بہلے میرے ڈرائیور کا انتقال ہوگیا ہے اسی کو لے کر تھوڑی اپ سیٹ ہوں
کیا ہوا تھا انہیں ۔عافین نے پوچھا اسے حیرت تو ہوئی تھی کہ ایک معمولی ڈرائیور کے لیے اتنی پریشانی
قتل۔ امثال نے یک لفظی جواب دیا
اوہ سیڈ۔۔۔۔۔۔ چلیں کوئی بات نہیں آپ ٹیننشن نہ لیں یہ تو ہوتا ہی رہتا ہے ۔عافین نے لا پرواہی سے کہا
کیا مطلب کوئی بات نہیں ۔وہ پیپر ویٹ پھینکتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی
آپ نے شائد ٹھیک سے سنا نہیں عافین صاحب ۔ میں نے کہا ہے کہ کسی کی جان گئی ہے ۔دن دیہاڑے کسی ظالم نے بے رحمی سے قتل کیا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کوئی بات نہیں آپ کو اس بات سے فرق ہی نہیں پڑا۔ امثال نے چبا چبا کر کہا ۔غصے سے اس کی سرخ پڑتی رنگت اور شعلے اگلتی آنکھیں دیکھ کرعافین ششدر ہوا
ریلیکس میرا مطلب تھا کہ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا اب ٹینشن لینے کا کیا فائدہ ۔ گڑبڑاتےہوئے اس نے بات بدلی۔ امثال جا کر دیوار کے پاس رکھےصوفے پر جا بیٹھی
انسانی جان اتنی سستی تو نہیں ہوتی جو یوں کوئی بھی اٹھ کر کسی کی بھی لے لیتا ہے۔ کوئی اتنا بےرحم کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی کا ہنستا بستا گھر اجاڑ دے ، لوگوں کو خدا کا خوف کیوں نہیں آتا ۔ان کے ہاتھ کیوں نہیں کانپتے اور نہ کسی کے قتل کا سوچتے ہوئے ان کے دل لرزتے ہیں ۔ پتہ نہیں رات کو سوتے کیسے ہیں۔۔ ان کے ضمیر اجازت کیسے دے دیتے ہوں گے۔ میرے تو پاؤں تلے کوئی چونٹی آ کر مر جائے تو میرا افسوس نہیں جاتا اور یہ لوگ ایک کی جان لے کر اس سے منسلک لوگوں کو ساتھ ہی مار دیتے ہیں ۔ اپنی ہی دھن میں افسوس سے بولتی وہ عافین کی متغیر ہوتی رنگت نہ دیکھ سکی اس کے زہن میں بے اختیار کچھ دن پہلے کی بات گھومی جب وہ جمیشد کو امثال شاہ کے ڈرائیور کی موت کے احکامات جاری کر رہا تھا ۔کتنی بے رحمی سے اس نے کہا تھا کہ مار دو اور گولی سیدھا دل میں اتارنا
ان کا قاتل اگر کبھی آپ کو مل جائے تو کیا کریں گی ۔خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے نجانے کیا سننا چاہا
میں نے کیا کرنا جو کرے گا قانون ہی کرے گا مگر جس طرح میری آنکھوں کے سامنے میرے دیکھتے دیکھتے ان کی ڈیتھ ہوئی ایک بار ضرور گریبان سے پکڑ کہ جھنجھوڑوں گی کہ بے غیرت انسان کیا ملا یہ سب کر کہ۔ امثال اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی ۔ اس کا نفرت زدہ لہجہ اور آنکھوں سے ٹپکتی وحشت دیکھ کر عافین کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا اس کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا بولے
میں میں چلتا ہوں دوبارہ آجاؤں گا ابھی مجھے کسی کام سے جانا ہے اللہ حافظ۔۔ سفید پڑتی رنگت لیے وہ جلدی سے اٹھا اسے لگا اگر وہ مزید کچھ دیر بیٹھا تو اس کی چوری پکڑی جائے گی۔ امثال نے اس کی طرف دیکھے بغیر سر ہلا دیا ۔وہ دروازے کے پاس جا کر رکا پلٹ کر دیکھا تو امثال ٹیبل پر سر رکھے بیٹھی تھی کچھ سیکنڈز تک کھڑا اسے دیکھتا رہا اور پھر مڑ کر باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار رمل تم کیوں دل پر لے رہی ہو جانتی تو ہو ان کی عادت ہے ایسی باتیں کرنے کی
وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہیں عاشی چھ سال ہوگئے ہیں شادی کو اب تو جو بھی ملتا ہے پہلے بچوں کا ہی پوچھتا ہے
کیا ہوا ہے اسے۔ زریاب نے نے بیٹھتے ہوئے پوچھا
ہونا کیا ہے سبین خالہ آئی ہوئی ہیں اور حسب معمول بے پر کی اڑا رہی ہیں اور اس بار رمل زد میں ہے۔ عائشہ نے بے زاری سے کہا۔ سبین خالہ دور کی رشتے دار تھی۔ گھر گھر گھومنا ،ایک جگہ سے سن کر دوسری جگہ چٹخارے لے لے کر پہنچانا ان کا پسنددیدہ مشغلہ تھا
تم تو ایسے رو رہی ہو جیسے پہلی بارہے وہ تو جب بھی آتی ہیں کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑتی ہی ہیں ۔زریاب نے عائشہ سے بھی دوگنی بےزاری دکھائی
آپ دونوں کو سننی پڑتی کسی کی باتیں تو میں پوچھتی۔ رمل نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا
یار کسی ڈھنگ کے بندے کی باتوں پر ہرٹ ہوتے ہیں ان کی باتون کا کیا برا منانا اور جب تم سے گھر میں اس بارے کوئی بات نہیں کرتا تو باہر والوں کی کیا فکر ۔۔اس میں تمہاری کیا غلطی ہے ۔جب بچے ہونے ہوں گے ہو جائیں اب موڈ ٹھیک کرو اپنا۔ زریاب نے نرمی سے کہا
کیا ہوا یہ کیوں نیر بہا رہی ہیں۔ امثال نے پاس آتے ہوئے پوچھا ۔وہ لوگ اس وقت سکینڈ فلور کے کوریڈور میں رکھی کرسیوں پر بیٹھے تھے اس لیے نیچے ہال سے باتوں کی صاف آواز آ رہی تھی اور کچھ ان خاتون کا سپیکر ماشاءاللہ کافی بلند تھا
دماغ خراب ہو گیا ہے اس کا۔ زریاب نے کہا
یہ تو مجھے پتا ہے۔ امثال شرارت سے کہتے ہوئے بیٹھی اور موبائل میں بزی ہو گئی ۔کوریڈور میں خاموشی چھا گئی اچانک نیچے سے آتی آوازیں سن کر وہ چونکی اور ان سب کی طرف دیکھا
یہ آپی اسی وجہ سے رو رہی ہیں نہ۔ امثال نے پوچھا تو زریاب نے سر ہلایا
عجیب جاہل عورت ہے ۔ رکیں ان کی گود میں بچہ میں ڈال کر آتی ہوں امثال اٹھتے ہوئے بولی تو رمل نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا
رہنے دو بہت لڑاکا ٹائپ اور عجیب سی ہے خوامخواہ ایشو کریٹ کر دے گی
پھر آپ ابھی مجھے نہیں جانتی۔ امثال نے ہاتھ چھڑوایا
ژلے سارے خاندان میں تمہارے بارے میں الٹا سیدھا پھیلا دے گی
تو میں نے کونسا کسی سے سرٹیفکیٹ لینا ہے جو کہنا ہے کہے ۔ امثال سیڑھیوں کی طرف بڑھی
سائیں روکیں اسے ۔رمل نے زریاب سے کہا
جانے دو سبین خالہ ایسے باز بھی نہیں آئے گیں۔۔ ویسے بھی سب ہی ان کی عادت سے واقف ہیں ۔زریاب نے اٹھتے ہوئے کہا
آپ کہاں جا رہے ہیں
لائیو شو دیکھنے کا اتنا اچھا موقع میں تو مس نہیں کر سکتا ۔۔آجاؤ تم دونوں بھی ۔زریاب ہنستے ہوئے بولا اور اپنا چائے کا کپ اٹھا کر چلا گیا۔ وہ نیچے آئی تو وہ مالٹے کھانے کے ساتھ ساتھ زبان بھی چلا رہی تھی ۔امثال اپنی پاکٹ میں سے ایک کینڈی نکال کر منہ میں رکھتے ہوئے ان کے سامنے صوفے پر بیٹھی خدیجہ بیگم کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی
یہ تیری بہو ہے ۔ سبین خالہ نے جائزہ لیتی نظروں سے اسے دیکھا
ہاں ماشاءاللہ سے ہے تو میری بہو مگر بیٹی سے کم نہیں ۔خدیجہ بیگم نے نثار ہوتے ہوئے کہا
یہ سب کہنے کی باتیں ہوتی ہیں بی بی، بہو بہو ہی ہوتی ہے ۔انہوں نے مالٹے کی قاش منہ میں رکھتے ہوئے کہا
نہیں آپا میری بہو تو بیٹیوں سے بڑھ کر ہے بہت پیاری بچی ہے۔ آپ بتائیں کچھ اور کھائیں گی ۔خدیجہ بیگم نے امثال کے چہرے کے بگڑتے زاویے دیکھ کر بات بدلی
کوئی خوشی کی خبر ہے یا نہیں ۔ پوچھتے ہوئے وہ جان ہی نہ پائیں کہ انہوں نے کہاں جا کر ہاتھ رکھا تھا ۔
نہیں آپا بچی کی عمرہی کیا ہے ۔پڑھ رہی تھی کہ شادی ہوگئی۔۔ بمشکل بائیس کی ہو گی اور ابھی شادی کو عرصہ ہی کتنا ہوا ہے ۔ خدیجہ بیگم نے ناگواری دباتے ہوئے تحمل سے جواب دیا
آئے یہ کیا بات کی بھلا ،ہم اس عمر میں دو دو بچوں کو سنبھال رہے ہوتے تھے میری مانو تو کسی ڈاکٹر کو دکھا لو ورنہ فوزیہ کی طرح تم بھی پوتوں کا منہ دیکھنے کو ترس جاؤ گی ۔اپنی طرف سے اس نے مخلص مشورہ دیا تھا ۔امثال نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا تو خدیجہ بیگم نے جلدی سے اس کا ہاتھ دبایا تو وہ خاموش ہوگئی ۔
میں ایک پیر صاحب کو جانتی ہوں۔ بانجھ پن کا علاج کرتے ہیں، میری مان فوزیہ تو ایک بار لے جا اپنی بہو کو اللہ جلدی ہی کوئی خیر کی خبر سنائے گا ۔ سیڑھیوں پر کھڑی رمل نے منہ پر ہاتھ رکھ کر سسکی روکی ۔جسے دیکھتے امثال کی بس ہوئی ۔وہ ایک جھٹکے سے اٹھی
آنٹی مجھے لگتا ہے آپ کو بچوں کا بہت شوق ہے۔۔۔۔۔۔ نہیں
ژلے ۔۔خدیجہ بیگم نے اسے روکنا چاہا
نہیں خالہ بات تو کرنے دیں نہ
اور آپ یہ جو گھر گھر جا کر دوسروں کے بہو بیٹیوں پر نظر رکھےہوئے ہیں کہ کس کہ ہاں بچہ ہونے والا ہے۔ کس کے ہاں ہو گیا ہے اتنی خجل خواری سے بہتر نہیں کہ آپ اپنا بچہ پلان کر لیں ۔امثال نے خاصی سنجیدگی سے کہا اس کی بات پر جہاں سبین خالہ ہکا بکا ہوئیں وہیں چائے پیتے زریاب کو بھی اچھو لگا ۔خدیجہ بیگم نے رخ موڑ کر مسکراہٹ دبائی
امثال نہ کرو ۔ہاجرہ شاہ نے ہنسی روکتے ہوئے مصنوعی گھوری دکھائی
نہیں دادو یہ جو کافی دیر سے بچے بچے کی رٹ لگائے بیٹھی ہیں تو ان کو چایئے کہ ایک بچہ پیدا کر ہی لیں۔ ایک تو ان کا شوق پورا ہوجائے گا اور بچے کے پیمپر دودھ فیڈر اور دوسرے کاموں میں مصروف رہیں گی تو چار دن لوگوں کو بھی سکون نصیب ہوجائے گا دوسرا بڑھاپے کا سہارا بھی مل جائے گا ۔
آئےہائے میری کوئی عمر ہے بھلا بچے پیدا کرنے کی۔سبین خالہ نے کھسیائیں
تو خالہ کسی کو بانجھ کہہ کر اسے تکلیف دینے کی بھی آپ کی عمر نہیں ہے ۔ یقین کریں یہ عمر خالص اللہ اللہ کرنے کی ہوتی ہے کہ کسی کی بھی وقت بلاوا آ سکتا ہے ،یہ فکر تائی جان کو یا زریاب لالہ کو ہونی چایئے انہیں نہیں ہے تو آپ کو بے چینی کیوں ہو رہی ہے ۔رمل آپی کے ہاں اولاد نہیں ہے اس میں ان کا کیا قصور جو آپ فضول کی اڑا رہی ہیں ۔ ویسے بھی اولاد ہونا یا نہ ہونا اللہ کے ہاتھ میں ہے ہم انسان کیا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ صاحب اولاد ہے تو یہ آپ کی بہادری نہیں ہے اللہ کی دین ہے ۔امثال نے ان کی طبعیت صاف کرتے ہوئے ان کی عمر کا بھی لحاظ نہیں کیا
توبہ توبہ لڑکی کتنی لمبی زبان ہے تمہاری ۔ وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے اٹھیں
کسی تیسرے بندے کو پاس بٹھا کر فیصلہ کروا لیں آپ سے دو چار میٹر کم ہی ہو گئی۔ امثال نے ترکی بہ ترکی جواب دیا
ژلے بیٹا جاؤ کچن میں چائے دیکھ لو۔ فوزیہ بیگم نے اسے وہاں سے ہٹانا چاہا
سنا تھا شہری لڑکیاں منہ پھٹ ہوتی ہیں آج دیکھ بھی لیا ۔۔ساریہ نے زرا تربیت نہیں کی اپنی بیٹی کی ۔اپنا جوتا ڈھونڈتے ہوئے وہ اسے سنانا نہیں بھولی تھی۔ امثال نے شکر کیا کہ ساریہ بیگم گھر پر نہیں تھیں ورنہ بہت بے عزتی ہونی تھی
ارے آپا بیٹھیں تو سہی بچی ہے نادانی میں بول گئی۔ خدیجہ بیگم نے انہیں ٹھنڈا کرنا چاہا کہ وہ ایک ایک گھر جا کہ بڑھا چڑھا کر سٹوری سنایئں گی
ہٹو بھی چھٹانک بھر کی لڑکی نے مجھے کتنا بے عزت کیا تب تو منہ سئیے بیٹھی رہی اور بات کرتی ہو۔ بڑبڑاتی ہوئی چادر لیپیٹے باہر نکل گئی
بیٹا یہ کیا کر دیا وہ ناراض ہو کر چلیں گئی ہیں خدیجہ بیگم نے امثال سے کہا تو اس نے جواباً کندھے اچکا دیئے کہ میری بلا سے
کیا بات ہے خالہ اتنے غصے میں کہاں جا رہی ہیں عادل نے سبین خالہ کو بڑبڑاتے ہوئے جاتے دیکھا تو روک کر پوچھا
تیری بیوی نے مجھے بڑا زلیل کیا ہے عادل ۔ تو میرا سب سے پیارا بیٹا تھا میرے ہاتھوں میں پلا بڑھا ہے اور تیری ہی بیوی نے مجھے بے عزت کر کہ نکالا ہے۔ تمہاری جگہ میرا سگا بیٹا ہوتا تو چوٹی سے پکڑ کر نکال دیتا ۔ اس نے جاتے جاتے آگ لگائی
آپ آئیں میں پوچھتا ہوں اس سے۔ کیسے اس نے بدتمیزی کی ہے آپ سے ۔۔۔۔۔۔ اس کی اتنی ہمت کے آپ کو بے عزت کرے ۔عادل نے سنجیدگی سے کہا
رہنے دو میاں تمہاری ماں تو چپ چاپ سنتی رہی تم کیا خاک پوچھو گے ۔جانتی تھیں کہ گھر بھر کی لاڈلی کو کون پوچھے گا الٹا اس نے رہی سہی کسر بھی نکال دینی ہے
یہ سبین خالہ کو کیا کہا ہے تم نے۔ عادل اندر آیا تو اسے خدیجہ بیگم سے ٹیک لگائے بیٹھا دیکھ کر پوچھا
اوہ تو انہوں نے شکائت لگائی ہے جاتے جاتے بھی آگ لگانا نہیں بھولیں
کہہ رہی تھی کہ تمہیں چوٹی سے پکڑ کر نکال دوں۔ عادل نے مسکراتےہوئے کہا تو امثال نے خدیجہ بیگم کو دیکھا
ابھی بھی آپ مجھے ہی کہیں گی کہ میں نے زیادتی کر دی ہے
ہوا کیا ہے وہ اچھی خاصی بھڑکی ہوئی تھیں ۔عادل نے پوچھا
رمل آپو کو بانجھ پن کا طعنہ دے رہی تھیں تو تھوڑا سا سمجھایا ہے کہ یوں نہیں کہتے۔ بری بات ہوتی ہے ۔امثال نے معصومیت سے کہا
تمہارا تھوڑا سا سمجھانا بھی کمال کا ہو گا۔ عادل نے قہقہ لگایا
زندگی میں پہلی بار پراؤڈ آف یو بیٹا۔ زریاب نے ہنستے ہوئے کہا تو رمل بھی نم آنکھوں سے مسکرا دی
وہاں پر کھڑے ہو کر رونے کی بجائے اگر یہاں آ کر انہیں جواب دے دیتی تو زیادہ بہتر ہوتا ۔دوبارہ ہرٹ کرنے کی جرات نہ ہوتی ۔یار فار گاڈ سیک اپنے لیے سٹینڈ لینا سیکھیں۔جب سے آئی ہوں بول بول کر تھک گئی ہوں ۔امثال نے رمل کو گھورا
تم ہو نہ ہمارے لیے بولنے والی تھینک یو سو مچ ۔رمل نے اس کا گال چومتے ہوئے محبت سے کہا
یہ آخری سٹیپ آپ کو کہیں اور ٹرائے کرنا چایئے تھا امثال آنکھ دباتے ہوئے آہستگی سے بولی
تمہیں عزت راس ہی نہیں ہے۔ رمل نے مسکراتےہوئے اسے تھپڑ لگایا
زریاب بھائی آپ دیکھ لیں اب آپو کے کام۔ کیسے مظلوم ہیروئن بنی کھڑی تھی اور اب مجھ پر رعب جما رہی ہیں
تم پر کونسا مائی کا لال رعب جما سکتا ہے یہاں آ کہ بیٹھو ۔عادل نے اسے کھینچ کر اپنے پاس بٹھایا
جاری ہے