No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
“کدھر؟” وہ ابھی گیٹ کے پاس ہی پہنچی تھی کہ پیچھے سے عادل کی آواز آئی تو وہ دانت کچکچا کر رہ گئی وہ نظر نہیں اس پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھا
“آج تیسرا دن ہے۔ تم نے دوبارہ ڈیوٹی کب جوائن کرنی ہے ؟کب جانا ہے تھانے؟”امثال نے عاجز آتے ہوئے کہا
“اور کب تمہاری جان چھوڑنی ہے ؟ ہے نہ؟” عادل نے اس کے زمین کو سلامی دیتے دوپٹے کو اٹھا کہ جھٹک کر اس کے کندھے پر رکھا
“تمہیں کوئی اور کام نہیں ہے جب دیکھو میرے پیچھے ہوتے ہو۔ “
“جو پوچھا ہے اس کا جواب دو۔ کہاں جا رہی تھی؟ منع کیا ہے کہیں نہیں جانا اور اس دن کیسے فرماں برداری کے سارے ریکارڈ توڑ کر یقین دہانی کروا رہی تھی کہ گھر پر ہی رہوں گی۔ بس اتنی ہی دیر کی تھی تابعداری ۔”عادل نے اس کے آگے آ کر گیٹ والی سائیڈ پر کھڑے ہوتے ہوئے کہا
“عادی میں عدی کے گھر جا رہی ہوں اور کہاں جاؤں گی بھلا۔” اس نے بے بسی سے کہا
“کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں جانے کی ۔چلو واپس اندر ۔”وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر جاتے ہوے بولا
“یہ سڑک ہی تو کراس کرنی ہے۔ پلیز جانے دو ۔”اس نے منہ لٹکایا
“اوہ گاڈ !کتنا تنگ کرتی ہو۔ چپ کر کہ چلو ۔”اسے لے کر وہ حویلی کے اندرونی دروازے کی طرف جا رہا تھا کہ وہ روش کی سائیڈ پر لگے پام کے چھوٹے سے درخت کو پکڑ کر کھڑی ہوگئی
“میں نہیں جاؤں گی۔ عدی کل سے مجھ سے ناراض ہے ۔مجھے اسے سوری کرنا ہے۔”
“وہ کہیں بھاگا نہیں جا رہا ۔یہاں آئے گا تو کر لینا ابھی چلو۔”
“میں نہیں جا رہی۔ مجھے ابھی اس کی طرف جانا ہے۔ وہ کل دوپہر کا گیا ہوا ہے۔ ابھی تک نہیں آیا۔ رات میں بھی چکر نہیں لگایا ۔مجھے جانا ہے ۔”اس نے درخت کے تنے پر اپنی گرفت مضبوط کی
“ژلے فار گاڈ سیک سب دیکھ رہے ہیں۔ تم کیوں چاہ رہی ہو کہ میں تمہیں ایک لگا کر لے جاؤں ۔”وہ گیٹ کے پاس کھڑے گارڈز اور باہر کام کرتے ملازمین کو متوجہ پا کر دبی دبی آواز میں دھاڑا
“جانے دو نہ ۔اس کے آفس کا ٹائم ہو رہا ہے۔ وہ چلا جائے گا ۔پھر شام میں واپس آئے گا “۔وہ اس کی دھاڑ کا اثر لیے بولی۔ جانتی تھی بس دھاڑ تک ہی رہے گا ہاتھ نہیں اٹھا سکتا ۔شہریار جو آفس کے لیے نکل رہا تھا ہال کے دروازے پر کھڑا ہو کر ان کے مذاکرات سننے لگا تھا۔ اس کو بے بس دیکھ کر مسکراہٹ دباتا ان کی طرف آیا
“کیا ہوا ہے تم لوگ یہاں کیوں کھڑے ہو ۔”نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دبا کر مسکراہٹ روکتے ہوئے وہ انجان بنا
“یار شہری سمجھا اسے۔ کچھ دن کے لیے گھر میں ہی سکون کر جائے ۔”عادل نے کہا
“دیکھو بھئی بات یوں ہے کہ چایے یہ میری جتنی بھی لاڈلی ہو ،مگر میاں بیوی کے معاملے میں ،میں کچھ نہیں بولوں گا ۔سو تم لوگ اسے خود ہی نمٹاؤ ۔”بہت کوشش کے باوجود اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔عادل کی بے بسی سے زیادہ اسے امثال کے انداز پر ہنسی آ رہی تھی۔ جو بچوں کی طرح درخت پکڑے کھڑی تھی ۔اس کو ہنستا پا کر عادل کو آگ لگی ۔وہ امثال کا ہاتھ چھوڑتا اس کی طرف مڑا
“کبھی کبھار میرا دل کرتا ہے ،ایک بار تجھے اکیلے میں لے جا کر تیری خوب پھینٹی لگاؤں کیوں کہ اس سب کا تُو ہی تو زمہ دار ہے گو کہ اس سے یہ ٹھیک تو نہیں ہو جائے گی مگر میرا دل تو کچھ ہلکا ہوجائے گا ۔ اگر یہی صورت حال رہی نہ، تو تُو واقعی ہی کسی دن میرے ہاتھ کے نیچے ہو گا ۔”عادل نے چبا چبا کر کہا گویا دانتوں کے نیچے شہریار ہو ۔شہریارکی زورردار ہنسی چھوٹی تھی
“تم مجھے دھمکی دے رہے ہو ۔”اس نے ہنستے ہوئے کہا ۔امثال کا دھیان چونکہ عدید میں اٹکا ہوا تھا اس لیے وہ سن نہیں پائی ۔وہ رات بھی اس کا انتظار کرتی رہی تھی۔ مگر وہ نہیں آیا تھا ۔جانتی تھی کہ عادل اسے رات میں نہیں نکلنے دے گا ۔اس لیے صبح کا ویٹ کرنے لگی اور اب جیسے ہی نکلنے لگی تھی وہ نمودار ہو گیا
“اگر تم نے اسے سمجھایا نہیں تو میں یہیں عمل بھی کر سکتا ہوں۔ اس لیے اس کو سمجھاؤ۔ کچھ دن گھر میں ہی چین کر جائے۔ کیوں کوئی بڑا نقصان کروانا ہے ۔”عادل نے سنجیدگی سے کہا
“جانے دو بلکہ ایک کام کرو۔ خود چھوڑ آؤ کیوں کہ یہ بھی نہیں مانے گی اور عدید بھی خفا ہے۔ کل سے نہیں آیا۔ لگتا ہے کچھ زیادہ ہی سیرئیس لے لیا ہے اس نے ۔ پاگل ہے پتہ نہیں کیا کیا سوچتا رہتا ہے ۔شروع سے ہی اکیلا رہا تو اس بات کو زیادہ فیل کرتا ہے اس لیے شائد نہیں یقینا اسے لگتا ہے کہ ہم تینوں اس سے پیار نہیں کرتے ۔” ۔شہریار سنجیدہ ہوتے بولا
“ایک تم بہن بھائیوں کی مجھے کوئی لوجک سمجھ نہیں آتی ۔پتہ نہیں کون سے سیارے کی مخلوق ہو ۔”وہ جلتا بھنتا امثال کی طرف آیا اور اس کا ہاتھ پکڑا
“چلو ۔”
“تم کہاں ۔”اس نے حیرت سے دیکھا
“تمہیں چھوڑ کر آؤں۔” وہ اسے گیٹ کی طرف لے جاتے ہوئے بولا
“ایک کام کیوں نہیں کرتے ۔ کمانڈو کیوں نہیں بلوا لیتے ۔”اس نے اس کے ساتھ چلنے پر طنز کیا
“چپ چاپ چلو۔ اس سے پہلے میرا ارادہ بدل جائے۔”
“اوکے بھائی اللہ حافظ ۔”وہ مڑ کر شہریار کو ہاتھ ہلاتی اس کے ساتھ باہر نکلی عدید کے گھر گیراج تک چھوڑ کر وہ واپس چلا گیا۔ گیٹ کے پاس جا کر اس نے مڑ کر دیکھا تو وہ اس کی گاڑی کے پاس بیٹھی ٹائر پنکچر کر رہی تھی۔ وہ نفی میں سر ہلاتا باہر نکل گیا ۔
وہ عدید کی اور ساتھ کھڑی گھر کی گاڑی دونوں کے چاروں ٹائر پنکچر کر کہ اس کی گاڑی کے چھت پر چڑھ کر بیٹھ گئی۔اس کے قدموں کی آہٹ سن کر وہ ہاتھ میں پکڑے موبائل میں غرق ہو گئی ۔عدید جو آفس کے لیے نکلا تھا اس کو گاڑی پر بیٹھے دیکھ کر اس کے پاس آ کر خاموشی سے کھڑا ہو گیا ۔اس کو اٹھتا نہ پا کر اس نے ریموٹ سے دو تین بار ہارن دیا مگر اس نے موبائل سے سر نہ اٹھایا تو اس نے سدرہ کو آواز لگائی
“جی ۔”سدرہ نے آدھ کھلے دروازے سے دیکھتے ہوئے وہیں سے جواب دیا
“اس کو اٹھاؤ یہاں۔ سے مجھے آفس جانا ہے۔”
“کسے اٹھاؤں ۔”اس نے وہیں کھڑے کھڑے پوچھا ۔اس کی نظر امثال پر نہیں پڑی تھی
“اپنی کزن کو ۔”اس نے اشارہ کیا ۔وہ دروازہ کھول کر باہر آئی تو امثال کو دیکھ کر مسکرائی
“امثال سائیں کہہ رہے ہیں ۔انہیں آفس جانا ہے ۔اس لیے تم اٹھ جاؤ یہاں سے ۔”
“آپو اپنے سائیں سے کہیں میں اپنے بھائی کی گاڑی پر بیٹھی ہوں۔اسے کیا مسئلہ ہے جائے جہاں جانا ہے ۔میں نے کب روکا ہے آپ کے سائیں کو ۔۔۔۔ ہنہ۔۔۔۔۔ آئے بڑے ۔” اس نے منہ بگاڑتے ہوئے سر جھٹکا
“مجھے لیٹ ہو رہا ہے۔” عدید نے اس کو مخاطب کیے بغیر کہا
“اوکے جاؤ۔” اس نے گاڑی سے چھلانگ لگائی ۔
“آرام سے ۔” وہ اس کو گرنے سے بچانے کے لیے اسے پکڑنے کو بےاختیار آگے بڑھا
“بس ! “امثال نے سدرہ کو دیکھتے ہوئے شانے اچکائے تو وہ مسکراتی ہوئی واپس پلٹ گئی
“تمہاری دونوں گاڑیوں کے ٹائر تو میں پنکچر کر چکی ہوں۔ شہری بھائی اور بازی بھی چلے گئے ہیں ۔آفس تو تم جا نہیں سکتے سو چپ کر کہ بغیر کوئی نخرہ کیے پیچھے آ جاؤ ورنہ میرا اگر دماغ گھوم گیا نہ تو تمہارے سر پر ایک بھی بال نہیں بچے گا۔ میں تمہیں منانے آئی ہوں ۔”امثال اسے آرڈر دیتی وہی لان میں گھاس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی ۔اس کے منانے کے سٹائل پر وہ اسے دیکھ کر رہ گیا
“تمہارا مسئلہ کیا ہے۔ کیوں بچوں کی طرح بی ہیو کر رہے ہو ۔اس دن جو میں نے کہا تھا کہ تم میرے اچھے بھائی نہیں ہو ۔وہ بس میں نے تمہارے غصے سے بچنے کے لیے کہا تھا کہ تم مجھے چھوڑ دو گے اور دوسری بات بھی مذاق میں کی تھی اس میں اتنا سیرئیس ہونے والی تو کوئی بات ہی نہیں تھی ۔”
“میں رات سے تمہارا انتظار کر رہی تھی ،مگر تم نہیں آئے۔ پتہ بھی مجھے کتنی ٹینشن ہو رہی تھی ۔ اور پھر میں نے کالز بھی کی تم نے ایک بھی ریسو نہیں کی ۔” امثال نے اس کو خاموش پا کر کہا
” اگر تمہیں وہ ہماری تصویروں والی شرارت بری لگی ہے تو بھی رئیلی سوری۔ ہم وہیں تھے اگر بات زیادہ بڑھنے لگتی تو سنبھال لیتے ۔اس دن بازی نے تمہیں کیفے کے باہر دیکھا تو مجھے بولا کہ پک لے لو۔” اس نکی جانب سے کوئی جواب نہ پا کر اس نے وضاحت دی
“عدی میں تم سے بات کر رہی ہوں ۔ اب بول بھی دو کچھ ۔ یہ روٹھی محبوبہ کی طرح منہ بنا کر کیوں بیٹھے ہو ۔” امثال نے اس کو ہنوز خاموش دیکھ کر اس کا کندھا ہلایا
“یہ بات تم اچھے سے جانتے ہو کہ میں تم تینوں سے ایک جیسا ہی پیار کرتی ہوں ۔ہاں شہری بھائی سے پیار کے ستھ ساتھ عزت بھی کرتی ہوں کہ وہ مجھ سے عمر میں بہت بڑے ہیں۔ اگر تمہیں بھی عزت کروانی ہے تو ویسے ہی بول دو، کر دیا کروں گی ۔”امثال نے عزت پر خاصا زور دیا جس کا وہ اچھے سے مطلب سمجھ رہا تھا
“عدی بولو نہ ورنہ میں رونے لگ جاؤں گی اور شہری بھائی کو بھی بتاؤں گی کہ تم نے مجھے ڈانٹا ہے ۔پتہ ہے نہ ان کا ایک تھپڑ ہی تمہارے سارے پرزے اپنی جگہ پر لانے کی اہلیت رکھتا ہے ۔”امثال نے اس کی طرف سے مکمل خاموشی پا کر اس نے دھمکی دی
“عدی! “چیختے ہوئے اس نے اٹھ کر اس کے بال مٹھی میں جکڑ کر کھینچے
“اچھا اچھا بال تو چھوڑو ۔ میں نہیں ہوں ناراض ۔”اس کو زور زور سے بال کھینچتا دیکھ کر اس کی ناراضگی والا فنکشن اپنی جگہ پر آگیا تھا مگر اب امثال کا اپنی جگہ سے کھسک چکا تھا ۔امثال کی چیخ سن کر سدرہ جلدی سے باہر آئی تو وہ فل فارم میں عدید کو پیٹ رہی تھی ۔وہ منہ کھولے وہیں کھڑی ہو گئی ۔اس نے ہمیشہ امثال اور بازل کو لڑتے دیکھا تھا آج پہلی بار عدید کو مار کھاتا دیکھ رہی تھی
“وہاں کھڑی کیا دیکھ رہی ہو یہاں آکر چھڑواؤ ۔یہ مکمل پاگل ہو چکی ہے۔” عدید نے اس کو حیرت زدہ کھڑا دیکھ کر آواز لگائی تو اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر امثال کو اس سے الگ گیا ۔ وہ گھاس پر بیٹھتے ہوئے سانس بحال کرنے لگی
“کیا ہوا تھا ۔”سدرہ نے وجہ جاننا چاہی کہ ایسی کیا بات ہو گئی تھی جو صلح کرتے کرتے بات دوباری لڑائی تک جا پہنچی
“اس کا دماغ خراب تھا۔ کب سے پیار سے سیٹ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی مجبورا مجھے ایکشن لینا پڑا ۔”امثال نے اپنے بالوں سے پونی اتار کر دوبارہ لگاتے ہوئے کہا
“آپ پٹتے بھی ہیں؟ مجھے یقین نہیں آ رہا ۔”سدرہ نے بے یقینی سے عدید کو مخاطب کیا
“یہ سروس صرف میں ہی مہیا کر سکتی ہوں۔ آپ نہ ٹرائے کرنے بیٹھ جایئے گا۔ ورنہ خاطر خواہ نتائج نہیں ملیں گے ،ہاں مجھے بلا لیجے گا جب کبھی ضرورت ہو۔” امثال نے ہنستے ہوئے کہا
“توبہ کرو کچھ بھی بول دیتی ہو۔” سدرہ جھرجھری لیتی واپس جاتی ہوئی بولی
“اب بتاؤ تمہاری نارضگی گئی یا نہیں ۔”سدرہ کے جانے کے بعد اس نے عدید کے بالوں کو سیٹ کرتے ہوئے پوچھا
“ایسے کون مناتا ہے ؟ “اس نے مصنوعی خفگی دکھائی
“کب سے بکواس کر رہی تھی۔ تمہیں سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی ۔”اس نے لاپرواہی سے جواب دیا
“جو بھی کہو۔ تم مجھ سے زیادہ شہری بھائی کو امپورٹینس دیتی ہو ۔”اس کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی
“سچی عدی تمہیں بس ایسے ہی لگ رہا ہے۔ میرے لیے تم تینوں ایک سی حیثیت رکھتے ہو۔ تم تینوں میں میری جان ہے ۔تمہیں بس اسی لیے فیل ہوتا ہے کہ ہم تینوں اکھٹے رہتے ہیں ہر وقت ایک ساتھ ہوتے ہیں ورنہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ جیسا تمہیں لگ رہا ہے ۔”امثال نے سنجیدگی سے کہا ۔ امثال نے شہریار کی کال آتی دیکھ کر موبائل اٹھایا
“دیکھا دیکھا یہ دو منٹ بھی تمہیں میرے پاس بیٹھے برداشت نہیں کر سکتے ۔”اس نے جل کر کہا ۔امثال نے فون ریسو کر کہ کان سے لگایا
“جی بھائی۔”
“یہ روٹھی محبوبہ مانی یا نہیں ۔”دوسری طرف سے شہریار کی آواز آئی تو امثال نے فون کا سپیکر آن کر دیا
“جی بھائی مان گئی ۔”
“طریقہِ کار پر روشنی ڈالو۔”شہریار نے ہنستے ہوئے کہا ۔ وہ روٹھنے اور منانے والی دونوں کو جانتا تھا
“زبان سے سمجھانا چاہا تھا ۔مگر کوئی چارہ نہ پا کر ہاتھوں کو تکلیف دینی پڑی۔” امثال نے کہا
“چلو ٹھیک ہے۔ اسے بولو لنچ بنوا لے۔ آج ہم تینوں اس کے ہاں ہی لنچ کریں گے۔”
” جلدی آجایئے گا ۔ میں ویٹ کروں گی ۔”امثال نے عدید کے طرف دیکھتے ہوئے اسے چڑایا
“کیوں میرا بچہ مجھے مس کر رہا ہے ۔” شہریار نے اس کی شرارت سمجھتا ہوا بولا
“کوئی ایسا ویسا ۔”امثال نے آنکھیں گھمائیں
“میں صدقے ۔ میں بھی بہت مس کر رہا ہوں ۔”شہریار کی بات سن کر عدید کی بس ہوئی
“بس ہو گیا ۔ باقی کا آ کر کر لیجیے گا ۔”اس نے امثال کے ہاتھ سے موبائل چھین کر کال کاٹ دی
“استغفراللہ لوگ کیسے جیلس ہوتے ہیں ۔”امثال نے باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگایا
“اچھا اب جاؤ یہ چینج کر کہ آؤ اور آتے ہوئے شٹل اور ریکٹ لیتے آنا ۔ ان لوگوں کے آنے تک کھیلتے ہیں ۔اگر میں بور ہو گئی نہ تو واپس چلی جاؤں گی۔ یو نو میرا شوہر اکیلا گھر میں اداس ہو رہا ہے اور یہ اس کا دوسرا چکر ہے چھت کا ۔”امثال نے حویلی کی چھٹ پر کھڑے عادل کو ہاتھ ہلایا جواب میں اس نے بھی ہاتھ ہلا دیا
ابھی اسے اندر گئے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ امثال کا فون بجنے لگا ۔کوئی ان نون نمبر تھا
“ہیلو ۔”اس نے ریسو کرتے ہوئے کان سے لگایا
“میں عافین بات کر رہا ہوں ژلے ۔ کیسی ہو ؟” اس کی آواز میں بے چینی نمایاں تھی ۔امثال کی آنکھوں کے سامنے اس دن اس کا جھڑکنا گھوما
“مجھے تم سے بات نہیں کرنی ۔”اس نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی ۔اس کے بعد وقفے وقفے سے اس کا فون بجنے لگا
“پلیز ژلے فون اٹھاؤ ۔ بس ایک بار ۔”عافین کا میسج آیا تو اس نے نا چاہتے ہوئے کال اٹھائی
“بولو کیوں کال کر رہے ہو ؟اس دن کوئی کسرہ گئی تھی جو پوری کرنی ہے؟”امثال نے کاٹ کھانے والے لہجے میں کہا
” تم غلط سمجھ رہی ہو۔ اس دن میں کسی اور وجہ سے پریشانی میں تھا۔ تم نے فون پکڑا تو کسی اور کا غصہ تم پر نکال دیا۔ ایم رئیلی سوری ۔ایک بار معاف کر دو۔ آئیندہ سے ایسا نہیں ہو گا پلیز ۔ “
“میں بزی ہوں اس وقت۔ بعد میں بات کرتی ہوں۔” امثال سپاٹ لہجے میں کہا
“پلیز ژلے۔ تم اب یوں تو نہیں کرو ۔میں سوری بول تو رہا ہوں ۔پکا پرومس آئیندہ ایسا نہیں کروں گا۔ بس آخری بار سمجھ کر سوری ایکسپیٹ کر لو ۔”اس کے یوں جان چھڑوانے پر عافین نے ملتجی لہجے میں کہا
” ٹھیک ہے مگر آج کے بعد مجھ سے اس لہجے میں بات مت کرنا۔ مجھے عادت نہیں ہے کڑوے لہجوں اور سخت رویے کی ۔”امثال نے گویا اس کی سات نسلوں پر احسان عظیم کیا اور عافین کی جان میں جان آئی تھی
“تھینک یو۔ تھینک یو سو مچ ۔ دوبارہ تمہیں مجھ سے کوئی بھی شکائت نہیں ہو گی۔” اس نے بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے کہا
“صیح ہے۔ ہونی بھی نہیں چایئے۔”
“کیا کر رہی ہو ۔”اس کو نارمل ہوتا دیکھ کر عافین نے پوچھا
“کچھ نہیں آج آفس سے چھٹی ماری ہے تو ساتھ عدی کی بھی کروا لی۔ اس کے ساتھ ہوں۔”
“ہمم کل ملو گی ؟سوری لنچ کر لیں گے ۔”عافین نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“نہیں عادی نے سختی سے منع کیا ہوا ہے۔ گھر سے نکلنے کی تھوڑی سی پرمیشن بھی نہیں ہے ۔”اس نے بےزاری سے کہا
“کیوں اس نے کیوں منع کر دیا ہے اور یہ عادی کون ہے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں تمہارے تین ہی بھائی ہیں ۔”
“ہیں! میں نے تمہیں عادی کے بارے میں نہیں بتایا ۔”اس نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا
” نہیں بتایا کون ہیں یہ صاحب ۔کیا تمہارا چوتھا بھائی ہے ۔”عافین نے کہا تو امثال کے منہ سے بے ساختہ استغفراللہ نکلا
“عادی میرا کزن ہے خالہ اور چاچو کا بیٹا اور اس کے ساتھ میرے ۔۔۔۔”اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی عدید نے اس کے ہاتھ سے فون کھینچا
“اپنے شوہر کو بعد میں متعارف کروا لینا۔ ابھی تم چلو میں کب سے تمہارے فری ہونے کا انتظار کر رہا ہوں ۔”عدید کال کاٹ کر موبائل پیچھے پڑی چئیر پر رکھتے ہوئے بولا تو وہ شانے اچکاتی ریکٹ پکڑ کر کھیلنے لگی ۔عافین نے دو تین بار فون کیا مگر سائلینٹ پر ہونے کی وجہ سے وہ اٹھا نہ سکی تو وہ بھی خاموش ہو گیا وہ اس سے ناراض نہیں تھی فی الوقت اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مراد امثال شاہ کی این جیو کا ایڈریس سینڈ کرو۔”عافین نے مراد کو فون کرتے ہوئے کہا ۔امثال کی نارضگی کی ٹینشن سے فری ہوا تو اسے کام کا ہوش آیا ۔نواز عالم کے زریعے ہی اسے پتہ چلا تھا کہ اسلحہ تھانے نہیں پہنچا بلکہ واپس انہی پر ڈال دیا گیا ہے کہ اٹیک کر وہ لوگ چھڑوا کرو لے گئے ہیں اور اس دوران ایک انسپکیٹر سمیت ایس پی بھی زخمی ہوا ہے ۔
“جی سر میں میسج کرتا ہوں ۔”اس نے کہا تو وہ موبائل ہاتھ میں پکڑے ویٹ کرنے لگا کچھ دیر بعد میسج کی بپپ ہوئی ۔میسج کھولا تو شہر کے باہر کی ایک بلڈنگ کا ایڈریس تھا ۔وہ گاڑی لے کر گھر سے نکلا۔این جیو پہنچا تو وہاں جا کر معلوم ہوا کہ کہ وہ آج نہیں آئی
“کب تک آئیں گی؟ مجھے ان سے ارجنٹ ملنا ہے ۔”
“سر کچھ کہہ نہیں سکتے ۔میم اپنی مرضی کی مالک ہیں۔ آتی رہیں تو روزنہ آتی رہیں اور اگر نہ آئیں تو کئی کئی دن گزر جاتے ہیں ۔” ریسپشنسٹ نے پیشہ وارنہ اندز میں کہا
“ہمم۔۔۔ کب سے چھٹی پر ہیں ؟”
“پچھلے تین دنوں سے نہیں آ رہی ہیں ۔شائد ایک دو دن میں آ جائیں ۔”
” یہ میرا نمبر ہے ۔جب وہ آئیں تو مجھے انفارم کر دیجے گا۔ پلیز میرا ان سے ملنا بہت ضروری ہے ۔”عافین نے پاس پڑی فائل پر اپنا نمبر لکھتے ہوئے کہا
“سر اگر مجھے یاد رہا تو ضرور کال کر دوں گی ۔”ریسپشنسٹ فائل اٹھاتے ہوئے کہا تو عافین نے والٹ نکال کر پانچ ہزار کا نوٹ اس کے سامنے رکھا
“ایم شیور اب آپ نہیں بھولیں گی ۔”اس کی طرف مسکراہٹ اچھالتا وہ باہر نکل گیا
“بلکل سر ۔”وہ نوٹ اٹھا کر اپنے بیگ میں رکھتے ہوئے بولی
“تو ایس پی صاحب تمہیں لگتا ہے کہ اس طرح گھر بٹھا کر تم اسے بچا لو گے ۔جو تم نے کیا ہے ۔اس کا حساب تو تمہیں دینا ہی ہوگا اور چکائے گی تمہاری لاڈلی۔”گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہ بڑبڑایا
جاری ہے
