Tum Joh Aaye Zindagii Mein Season 2 By Shagufta Kanwal Readelle50241

Tum Joh Aaye Zindagii Mein Season 2 By Shagufta Kanwal Readelle50241 Last updated: 16 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Joh Aaye Zindagi Mein Season 2

By Shagufta Kanwal

"ژلے تمہارا بیٹا کہاں سے منہ کالا کر کہ آ رہا ہے ؟"امان نے بازل کی انگلی پکڑ کر اندر آتے سنان کو دیکھتے ہوئے قہقہ لگایا ۔امثال نے پلٹ کر اپنے دو سالہ بیٹے کو دیکھا ۔ اور اس کی آنکھیں پھیل کر کانوں کو جا لگیں ۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اس نے تیار کر کہ بازل کے ساتھ بھیجا تھا ۔سفید شلوار قمیض پر جا بجا کالک لگی ہوئی ۔ ہاتھ اور منہ بھی گندہ ہو رہا تھا اس نے شاید وہی ہاتھ منہ پر لگا لیے تھے "بازی بے غیرت انسان! کیا کر کہ لے آئے ہو ؟"امثال اسے گھورتے ہوئے سنان کی طرف آئی "مجھے چاچو نے کھانے کا انتظام دیکھنے کے لیے بھیجا ۔بس پانچ منٹ کے لیے میرا دھیان دوسری طرف ہوا اور یہ صاحب وہاں پڑی ایک خالی دیگ میں منہ مارنے بیٹھ گئے ۔"بازل نے اس کی انگلی چھوڑتے ہوئے بتایا "اگر خیال نہیں رکھ سکتے تو لے کر کیوں گئے تھے ؟خدانخوستہ آگ کو چھو لیتا پھر ۔"امثال نے اسے گود میں اٹھاتے ہوئے کہا "مما مجھے آپ کی پالی کلنی ہے ۔"سنان نے اپنا منہ اس کی طرف کر کے کہا تو امثال نے اپنا منہ پیچھے کیا "اپنا حال دیکھا ہے ؟ایسے کون پاری کرتا ہے ۔"امثال نے اسے آنکھیں دکھائیں "میں کلتا ۔ "اس نے آنکھیں مٹکائیں "ژلے بری بات ہے ۔ بیچارے بچے کو پاری کرنے دو ۔" دریاب نے ہنستے ہوئے کہا "اگر اتنی ہی ہمدردی ہو رہی ہے تو خود کر لو ۔لاؤں؟" امثال نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا " مما۔ "خود کو نظرانداز ہوتا دیکھ کر وہ چیخا "کیا ہے ؟"امثال اسے لے کر سیڑھیوں کی طرف بڑھی "پالی ۔" "ابھی ہاتھ منہ دھلا کر چینج کرتی ہوں ۔پھر کرنا ۔ ٹھیک ہے ۔"امثال نے اس کو پیار سے سمجھانا چاہا "میں نیں بولتا آپ شے ۔" اس نے ہونٹ باہر لٹکاتے ہوئے دھمکی دی "کوئی بات نہیں ۔"امثال نے اسے خاطر میں لائے بغیر کہا ۔اس کو اپنی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتا دیکھ کر اس نے ایک دم سے اونچا اونچا رونا شروع کر دیا "کیا ہوا سنی ؟ کیوں رو رہے ہو؟"امثال نے اس کو روتا دیکھ کر تشویش سے پوچھا "کیا بات ہے ژلے؟ یہ کیوں رو رہا ہے ؟" ساریہ بیگم نے کچن سے نکلتے ہوئے پوچھا "پتہ نہیں ماما اچانک سے رونا شروع ہو گیا ہے ۔ سنان میرا بیٹا کیوں رو رہے ہو ؟"امثال نے ساریہ بیگم کو بتانے کے ساتھ ساتھ اسے بھی پچکارا "مجھے آپ کی پالی کلنی ہے ۔"اس نے رونے سے وقفہ لے کر مطلع کیا "سنی تم ! "امثال کو سمجھ نہ اسے کیا کہے "کیا ہوا ژلے دیوار میں سر مارنے کو جی چاہ رہا ہے ۔میری بھی ایسی ہی حالت ہوتی ہے جب تم بے جا ضد کرتی ہو ۔خیر کروا لو پاری۔ بچہ ہی تو ہے کچھ نہیں ہوتا ۔"ساریہ بیگم نے مسکراہٹ دباتے ہوئے سنجیدگی سے کہا اور امثال کو بے اختیار اپنی کی گی الٹی سیدھی ضدیں یاد آئیں جن کے جواب میں سب لوگ ساریہ بیگم سے کہتے کہ بچے ہی تو ہیں "کرواتی ہوں اس کو۔ ایک گھنٹہ لگا کر پہلے تیار ہوئی ہوں اب دوبارہ سے اس لاڈ صاحب سے ستیاناس کروا لوں ۔"اس کو لے کر بڑبڑاتے ہوئے وہ مڑ کر سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔ اس کی طرف سے صاف جواب پا کر دوبارہ سے اس کا بجا بجنا شروع ہو گیا تھا "کیا ہوا بے بی کو؟ کیوں رو رہا ہے ؟"زروا اپنے کمرے کے دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے بولی "لڑکی چین سے بیٹھ جاؤ۔ دو دن بعد تمہاری شادی ہے اور تم یوں تانکا جھانکی کر رہی ہو ۔" "آپی میں تھک چکی ہوں کمرے میں رہ رہ کر۔ آپ اپنے بھائی کو کہیں بھیج دیں نہ تاکہ میں بھی سکون سے باہر کی ہوا لے سکوں ۔بی جان نے تو کڑا بین لگایا ہوا ہے ۔"زروا نے منہ لٹکاتے ہوئے کہا "ابھی وہ گھر پر نہیں ہے۔نیچے جانا چاہو تو جا سکتی ہو۔"امثال نے مسکراتے ہوئے کہا "سچی ۔"اس نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا "میں بھلا کیوں جھوٹ بولوں گی ؟"اس نے کندھے اچکائے "اسے کیا ہوا ہے؟کیوں رو رہا ہے؟" "پالی کرنی ہے ۔"امثال نے اکتا کر کہا "اوہ تو اپنے ساتھ ساتھ ماں کا بھی منہ کالا کرنا چاہ رہا ہے ۔"زروا ہنستے ہوئے بولی "تم جاؤ ۔۔ایک بار نیچے کا چکر لگا آؤ ورنہ پھر بازی آجائے گا ۔"امثال نے کہا تو وہ سر ہلاتی نیچے چلی گئی "سنان بس بھی کرو ۔ خوامخواہ روئے جا رہے ہو ۔"امثال اسے کہتے ہوئے نیچے جھانکنے لگی ۔ وہ جو تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی ہال میں دریاب اور امان کے پاس بیٹھے بازل کو دیکھ کر رکی ۔ اس سے پہلے وہ واپس پلٹتی ہاجرہ شاہ کی کڑک دار آواز سے اس نے خود پر فاتحہ پڑھ لی "تمہیں میں نے کہا تھا کہ کمرے سے نہیں نکلنا اور تم یوں سب کے سامنے دندناتی پھر رہی ہو۔" "وہ بی جان مجھے امثال آپی نے ۔" زروا نے ہلکا سا منمنائی "جاؤ اپنے کمرے میں اور دوبارہ مجھے یہاں وہاں پھرتی نظر نہیں آؤ ۔" ہاجرہ شاہ نے کہا تو وہ الٹے پاؤں دوڑی ۔بازل نے امثال کو دیکھتے ہوئے ہوائی کس اچھالی جواب میں اس نے کالر اچکا کر وصول کی "اللہ کرے آپ کا یہ دو فٹ کا فتنہ آپ کو اور تنگ کرے ۔ "اس کے پاس رک کر اس نے دانت پیستے ہوئے کہا جواب میں امثال نے زوردار قہقہ لگایا "ڈئیر بھابھی صاحبہ! یاد نہیں میری باری کیسے آٹھ دن ٹک کر پہرہ دیا تھا ۔ابھی تو شکر کرو میں نے وہ بدلہ نہیں لیا ۔" اس کی ہنسی پر وہ جلتی کڑھتی اپنے کمرے میں چلی گئی اس کے جانے کے بعد وہ سنان کی طرف متوجہ ہوئی تو اس کے گالوں پر لڑھکتے آنسو دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا "ارے میلا پارا بیٹا آپ کو مما کی پالی کلنی ہے ۔ چلو کر لو ۔"امثال نے اپنا گال آگے کیا تو اس نے چٹا چٹ اس کے گال چوم ڈالے وہ اور بات تھی کہ اس نے چومے کم اور رگڑے زیادہ تھے اس کا منہ اچھا خاصہ خراب کرنے کے بعد اس نے اپنا منہ آگے کیا کہ اب میری کرو تو امثال نے اس کا منہ چوما ۔ اس کا منہ دیکھ کر وہ کھلکھلا کر ہنس دیا "گندہ بے بی ۔" امثال نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ناک چڑھائی "دندی الے ۔" جواب اس نے بھی ویسے ہی ناک چڑھائی اور کوریڈور دونوں کی کھلکھلاہٹ سے گونج اٹھا تھا۔۔ اسے لیے اندر آئی تو ڈریسنگ ٹیبل پر بالوں کو برش کرتا عادل انہیں دیکھ کر حیران ہوا ۔ "یہ ماں بیٹا کہاں سے منہ کالا کر کہ آ رہے ہو ؟" اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو امثال نے اسے گھورا مگر اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں شرارت سے چمکیں "میرے بے بی نے اپنے پپا کی پاری نہیں کرنی ۔"اس نے سنان کا گال چومتے ہوئے اسے اکسایا "ژلے نو ۔"عادل ان کو اپنی طرف آتا دیکھ کر پیچھے ہٹا "آآآآ۔۔۔۔۔۔ کیسے پپا ہو۔ اپنے بے بی کو منع کر رہے ہو؟" "نہیں کرو نہ ۔میں پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہوں۔ دوبارہ سے چینج کرنے کی ہمت نہیں ہے۔" "چلو سنی اس بار معاف کر دیتے ہیں اگلی بار سہی۔" امثال نے سنان کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ دونوں ہنس دیئے "تم دونوں ماں بیٹا مجھے اچھا خاصا جیلس فیل کرواتے ہو ۔"عادل نے ان دونوں کے گال پر پڑتے ڈمپل دیکھتے ہوئے کہا۔ باقی شکل و صورت سے وہ عادل پر گیا تھا بس ڈمپل اور حرکتیں امثال پر گئی تھیں " تمہاری ہی خواہش تھی کہ بے بی کہ گال پر ڈمپل ہونا چایے ۔"امثال اسے گود سے اتار کر الماری میں سے اس کے کپڑے نکالنے لگی "تم اسے زری کے پاس بجھوا دو۔ وہ چینج کروا دے گی۔ یہاں آؤ مجھے تم سے باتیں کرنی ہیں ۔کتنے دن بعد میں واپس آیا ہوں اور تمہارے پاس ٹائم نہیں ہے ۔ "عادل نے اس کو واش روم کی طرف لے جاتے دیکھ کر کہا ۔ وہ چار پانچ دن کے لیے کسی کام سے آوٹ آف سٹی گیا ہوا تھا "بیٹا زری پھپھو کے پاس جاؤ وہ چینج کروا دے گی۔" "میں نیں ۔میں آپ تے پاش لہنا۔" اس نے صاف جواب دیا ۔امثال جانتی تھی اگر ایک بار اس نے منع کر دیا تو لاکھ سر پٹک لو اس نے اپنی ہی کرنی تھی "تم بیٹھو میں اس کا منہ دھو کر آتی ہوں ۔"امثال اسے اٹھا کر واش روم چلی گئی ۔وہ سر جھٹکتا ہوا صوفے پر جا بیٹھا ۔وہ واپس آئی تو سنان کے کپڑے بدلنے کے ساتھ ساتھ عادل کے ساتھ باتیں کرنے لگی ۔ تیار ہونے کے بعد وہ عادل کی گود میں جا گھسا "جاؤ تم بھی منہ صاف کر لو۔ پھر چلتے ہیں۔ فرہاد کی مہندی شروع ہونے والی ہے ۔"عادل نے سنان کو گود میں اٹھاتے ہوئے کہا تو وہ سر ہلاتے اٹھ گئی ۔ ابھی وہ شیشے کے سامنے کھڑی میک اپ کرنے ہی لگی تھی کہ عدید کی چار سالہ ثمرہ ہاتھ میں برش اور پونیاں لیے اندر آئی "پھپھو میرے بال بنا دیں گی ؟ "وہ اس کے پاس آ کھڑی ہوئی "ہاں کیوں نہیں گڑیا آؤ بیٹھو ۔"اس نے سٹول کھینچ کر اسے بٹھایا "تمہاری ماں کہاں ہے ؟ جو یہاں آ پہنچی ۔"عادل نے اس کو تیکھے چتونوں سے گھورا جواب میں اس نے کندھے اچکا دیے ۔ اس کو فارغ کر کہ ہٹی ہی تھی کہ اسے خدیجہ بیگم نے بلا بھیجا ۔ "چلو بھئی مجھے لگتا ایسے ہی مہندی اٹینڈ کرنی پڑے گی۔" وہ بالوں کو ہاتھ سے ہی پیچھے کر کے بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر کندھے پر پھیلاتی باہر نکل گئی ۔نیچے آئی تو خدیجہ بیگم کو منتظر پایا "یہ کیا ! تم ایسے ہی جاؤ گی ۔" اس کو سادہ حلیے میں دیکھ انہوں نے کہا "خالہ میں تیار ہوئی تھی مگر سنان کی وجہ سے چینج کرنا پڑا ۔خیر آپ بتائیں کیوں بلایا ہے ؟" "اماں جان کا بار بار بلاوا آ رہا ہے پھر واپس آ کر رامین کی بھی رسم کرنی ہے ۔ تم جاؤ تیار ہو کر آؤ اور اپنا زیور بھی پہن لینا ۔عورتیں باتیں بناتی ہیں ۔جاؤ شاباش ۔"خدیجہ بیگم نے اسے واپس بھیجا