Tum Joh Aaye Zindagii Mein Season 2 By Shagufta Kanwal Readelle50241

Tum Joh Aaye Zindagii Mein Season 2 By Shagufta Kanwal Readelle50241

Author: Shagufta Kanwal

Last updated:

3.0(2 ratings)
Episodes
33
Views
31.8K
Status
—

About this novel

Tum Joh Aaye Zindagi Mein Season 2

By Shagufta Kanwal

“ژلے تمہارا بیٹا کہاں سے منہ کالا کر کہ آ رہا ہے ؟”امان نے بازل کی انگلی پکڑ کر اندر آتے سنان کو دیکھتے ہوئے قہقہ لگایا ۔امثال نے پلٹ کر اپنے دو سالہ بیٹے کو دیکھا ۔ اور اس کی آنکھیں پھیل کر کانوں کو جا لگیں ۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اس نے تیار کر کہ بازل کے ساتھ بھیجا تھا ۔سفید شلوار قمیض پر جا بجا کالک لگی ہوئی ۔ ہاتھ اور منہ بھی گندہ ہو رہا تھا اس نے شاید وہی ہاتھ منہ پر لگا لیے تھے
“بازی بے غیرت انسان! کیا کر کہ لے آئے ہو ؟”امثال اسے گھورتے ہوئے سنان کی طرف آئی
“مجھے چاچو نے کھانے کا انتظام دیکھنے کے لیے بھیجا ۔بس پانچ منٹ کے لیے میرا دھیان دوسری طرف ہوا اور یہ صاحب وہاں پڑی ایک خالی دیگ میں منہ مارنے بیٹھ گئے ۔”بازل نے اس کی انگلی چھوڑتے ہوئے بتایا
“اگر خیال نہیں رکھ سکتے تو لے کر کیوں گئے تھے ؟خدانخوستہ آگ کو چھو لیتا پھر ۔”امثال نے اسے گود میں اٹھاتے ہوئے کہا
“مما مجھے آپ کی پالی کلنی ہے ۔”سنان نے اپنا منہ اس کی طرف کر کے کہا تو امثال نے اپنا منہ پیچھے کیا
“اپنا حال دیکھا ہے ؟ایسے کون پاری کرتا ہے ۔”امثال نے اسے آنکھیں دکھائیں
“میں کلتا ۔ “اس نے آنکھیں مٹکائیں
“ژلے بری بات ہے ۔ بیچارے بچے کو پاری کرنے دو ۔” دریاب نے ہنستے ہوئے کہا
“اگر اتنی ہی ہمدردی ہو رہی ہے تو خود کر لو ۔لاؤں؟” امثال نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا
” مما۔ “خود کو نظرانداز ہوتا دیکھ کر وہ چیخا
“کیا ہے ؟”امثال اسے لے کر سیڑھیوں کی طرف بڑھی
“پالی ۔”
“ابھی ہاتھ منہ دھلا کر چینج کرتی ہوں ۔پھر کرنا ۔ ٹھیک ہے ۔”امثال نے اس کو پیار سے سمجھانا چاہا
“میں نیں بولتا آپ شے ۔” اس نے ہونٹ باہر لٹکاتے ہوئے دھمکی دی
“کوئی بات نہیں ۔”امثال نے اسے خاطر میں لائے بغیر کہا ۔اس کو اپنی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتا دیکھ کر اس نے ایک دم سے اونچا اونچا رونا شروع کر دیا
“کیا ہوا سنی ؟ کیوں رو رہے ہو؟”امثال نے اس کو روتا دیکھ کر تشویش سے پوچھا
“کیا بات ہے ژلے؟ یہ کیوں رو رہا ہے ؟” ساریہ بیگم نے کچن سے نکلتے ہوئے پوچھا
“پتہ نہیں ماما اچانک سے رونا شروع ہو گیا ہے ۔ سنان میرا بیٹا کیوں رو رہے ہو ؟”امثال نے ساریہ بیگم کو بتانے کے ساتھ ساتھ اسے بھی پچکارا
“مجھے آپ کی پالی کلنی ہے ۔”اس نے رونے سے وقفہ لے کر مطلع کیا
“سنی تم ! “امثال کو سمجھ نہ اسے کیا کہے
“کیا ہوا ژلے دیوار میں سر مارنے کو جی چاہ رہا ہے ۔میری بھی ایسی ہی حالت ہوتی ہے جب تم بے جا ضد کرتی ہو ۔خیر کروا لو پاری۔ بچہ ہی تو ہے کچھ نہیں ہوتا ۔”ساریہ بیگم نے مسکراہٹ دباتے ہوئے سنجیدگی سے کہا اور امثال کو بے اختیار اپنی کی گی الٹی سیدھی ضدیں یاد آئیں جن کے جواب میں سب لوگ ساریہ بیگم سے کہتے کہ بچے ہی تو ہیں
“کرواتی ہوں اس کو۔ ایک گھنٹہ لگا کر پہلے تیار ہوئی ہوں اب دوبارہ سے اس لاڈ صاحب سے ستیاناس کروا لوں ۔”اس کو لے کر بڑبڑاتے ہوئے وہ مڑ کر سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔ اس کی طرف سے صاف جواب پا کر دوبارہ سے اس کا بجا بجنا شروع ہو گیا تھا
“کیا ہوا بے بی کو؟ کیوں رو رہا ہے ؟”زروا اپنے کمرے کے دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے بولی
“لڑکی چین سے بیٹھ جاؤ۔ دو دن بعد تمہاری شادی ہے اور تم یوں تانکا جھانکی کر رہی ہو ۔”
“آپی میں تھک چکی ہوں کمرے میں رہ رہ کر۔ آپ اپنے بھائی کو کہیں بھیج دیں نہ تاکہ میں بھی سکون سے باہر کی ہوا لے سکوں ۔بی جان نے تو کڑا بین لگایا ہوا ہے ۔”زروا نے منہ لٹکاتے ہوئے کہا
“ابھی وہ گھر پر نہیں ہے۔نیچے جانا چاہو تو جا سکتی ہو۔”امثال نے مسکراتے ہوئے کہا
“سچی ۔”اس نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا
“میں بھلا کیوں جھوٹ بولوں گی ؟”اس نے کندھے اچکائے
“اسے کیا ہوا ہے؟کیوں رو رہا ہے؟”
“پالی کرنی ہے ۔”امثال نے اکتا کر کہا
“اوہ تو اپنے ساتھ ساتھ ماں کا بھی منہ کالا کرنا چاہ رہا ہے ۔”زروا ہنستے ہوئے بولی
“تم جاؤ ۔۔ایک بار نیچے کا چکر لگا آؤ ورنہ پھر بازی آجائے گا ۔”امثال نے کہا تو وہ سر ہلاتی نیچے چلی گئی
“سنان بس بھی کرو ۔ خوامخواہ روئے جا رہے ہو ۔”امثال اسے کہتے ہوئے نیچے جھانکنے لگی ۔ وہ جو تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی ہال میں دریاب اور امان کے پاس بیٹھے بازل کو دیکھ کر رکی ۔ اس سے پہلے وہ واپس پلٹتی ہاجرہ شاہ کی کڑک دار آواز سے اس نے خود پر فاتحہ پڑھ لی
“تمہیں میں نے کہا تھا کہ کمرے سے نہیں نکلنا اور تم یوں سب کے سامنے دندناتی پھر رہی ہو۔”
“وہ بی جان مجھے امثال آپی نے ۔” زروا نے ہلکا سا منمنائی
“جاؤ اپنے کمرے میں اور دوبارہ مجھے یہاں وہاں پھرتی نظر نہیں آؤ ۔” ہاجرہ شاہ نے کہا تو وہ الٹے پاؤں دوڑی ۔بازل نے امثال کو دیکھتے ہوئے ہوائی کس اچھالی جواب میں اس نے کالر اچکا کر وصول کی
“اللہ کرے آپ کا یہ دو فٹ کا فتنہ آپ کو اور تنگ کرے ۔ “اس کے پاس رک کر اس نے دانت پیستے ہوئے کہا جواب میں امثال نے زوردار قہقہ لگایا
“ڈئیر بھابھی صاحبہ! یاد نہیں میری باری کیسے آٹھ دن ٹک کر پہرہ دیا تھا ۔ابھی تو شکر کرو میں نے وہ بدلہ نہیں لیا ۔” اس کی ہنسی پر وہ جلتی کڑھتی اپنے کمرے میں چلی گئی اس کے جانے کے بعد وہ سنان کی طرف متوجہ ہوئی تو اس کے گالوں پر لڑھکتے آنسو دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا
“ارے میلا پارا بیٹا آپ کو مما کی پالی کلنی ہے ۔ چلو کر لو ۔”امثال نے اپنا گال آگے کیا تو اس نے چٹا چٹ اس کے گال چوم ڈالے وہ اور بات تھی کہ اس نے چومے کم اور رگڑے زیادہ تھے اس کا منہ اچھا خاصہ خراب کرنے کے بعد اس نے اپنا منہ آگے کیا کہ اب میری کرو تو امثال نے اس کا منہ چوما ۔ اس کا منہ دیکھ کر وہ کھلکھلا کر ہنس دیا
“گندہ بے بی ۔” امثال نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ناک چڑھائی
“دندی الے ۔” جواب اس نے بھی ویسے ہی ناک چڑھائی اور کوریڈور دونوں کی کھلکھلاہٹ سے گونج اٹھا تھا۔۔ اسے لیے اندر آئی تو ڈریسنگ ٹیبل پر بالوں کو برش کرتا عادل انہیں دیکھ کر حیران ہوا ۔
“یہ ماں بیٹا کہاں سے منہ کالا کر کہ آ رہے ہو ؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو امثال نے اسے گھورا مگر اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں شرارت سے چمکیں
“میرے بے بی نے اپنے پپا کی پاری نہیں کرنی ۔”اس نے سنان کا گال چومتے ہوئے اسے اکسایا
“ژلے نو ۔”عادل ان کو اپنی طرف آتا دیکھ کر پیچھے ہٹا
“آآآآ۔۔۔۔۔۔ کیسے پپا ہو۔ اپنے بے بی کو منع کر رہے ہو؟”
“نہیں کرو نہ ۔میں پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہوں۔ دوبارہ سے چینج کرنے کی ہمت نہیں ہے۔”
“چلو سنی اس بار معاف کر دیتے ہیں اگلی بار سہی۔” امثال نے سنان کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ دونوں ہنس دیئے
“تم دونوں ماں بیٹا مجھے اچھا خاصا جیلس فیل کرواتے ہو ۔”عادل نے ان دونوں کے گال پر پڑتے ڈمپل دیکھتے ہوئے کہا۔ باقی شکل و صورت سے وہ عادل پر گیا تھا بس ڈمپل اور حرکتیں امثال پر گئی تھیں
” تمہاری ہی خواہش تھی کہ بے بی کہ گال پر ڈمپل ہونا چایے ۔”امثال اسے گود سے اتار کر الماری میں سے اس کے کپڑے نکالنے لگی
“تم اسے زری کے پاس بجھوا دو۔ وہ چینج کروا دے گی۔ یہاں آؤ مجھے تم سے باتیں کرنی ہیں ۔کتنے دن بعد میں واپس آیا ہوں اور تمہارے پاس ٹائم نہیں ہے ۔ “عادل نے اس کو واش روم کی طرف لے جاتے دیکھ کر کہا ۔ وہ چار پانچ دن کے لیے کسی کام سے آوٹ آف سٹی گیا ہوا تھا
“بیٹا زری پھپھو کے پاس جاؤ وہ چینج کروا دے گی۔”
“میں نیں ۔میں آپ تے پاش لہنا۔” اس نے صاف جواب دیا ۔امثال جانتی تھی اگر ایک بار اس نے منع کر دیا تو لاکھ سر پٹک لو اس نے اپنی ہی کرنی تھی
“تم بیٹھو میں اس کا منہ دھو کر آتی ہوں ۔”امثال اسے اٹھا کر واش روم چلی گئی ۔وہ سر جھٹکتا ہوا صوفے پر جا بیٹھا ۔وہ واپس آئی تو سنان کے کپڑے بدلنے کے ساتھ ساتھ عادل کے ساتھ باتیں کرنے لگی ۔ تیار ہونے کے بعد وہ عادل کی گود میں جا گھسا
“جاؤ تم بھی منہ صاف کر لو۔ پھر چلتے ہیں۔ فرہاد کی مہندی شروع ہونے والی ہے ۔”عادل نے سنان کو گود میں اٹھاتے ہوئے کہا تو وہ سر ہلاتے اٹھ گئی ۔
ابھی وہ شیشے کے سامنے کھڑی میک اپ کرنے ہی لگی تھی کہ عدید کی چار سالہ ثمرہ ہاتھ میں برش اور پونیاں لیے اندر آئی
“پھپھو میرے بال بنا دیں گی ؟ “وہ اس کے پاس آ کھڑی ہوئی
“ہاں کیوں نہیں گڑیا آؤ بیٹھو ۔”اس نے سٹول کھینچ کر اسے بٹھایا
“تمہاری ماں کہاں ہے ؟ جو یہاں آ پہنچی ۔”عادل نے اس کو تیکھے چتونوں سے گھورا جواب میں اس نے کندھے اچکا دیے ۔ اس کو فارغ کر کہ ہٹی ہی تھی کہ اسے خدیجہ بیگم نے بلا بھیجا ۔
“چلو بھئی مجھے لگتا ایسے ہی مہندی اٹینڈ کرنی پڑے گی۔” وہ بالوں کو ہاتھ سے ہی پیچھے کر کے بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر کندھے پر پھیلاتی باہر نکل گئی ۔نیچے آئی تو خدیجہ بیگم کو منتظر پایا
“یہ کیا ! تم ایسے ہی جاؤ گی ۔” اس کو سادہ حلیے میں دیکھ انہوں نے کہا
“خالہ میں تیار ہوئی تھی مگر سنان کی وجہ سے چینج کرنا پڑا ۔خیر آپ بتائیں کیوں بلایا ہے ؟”
“اماں جان کا بار بار بلاوا آ رہا ہے پھر واپس آ کر رامین کی بھی رسم کرنی ہے ۔ تم جاؤ تیار ہو کر آؤ اور اپنا زیور بھی پہن لینا ۔عورتیں باتیں بناتی ہیں ۔جاؤ شاباش ۔”خدیجہ بیگم نے اسے واپس بھیجا

Episodes

Episode 1

ہاجرہ شاہ ثریا شاہ کے ساتھ گاؤں کی عورتوں کے پاس بیٹھیں تھیں۔ فوزیہ بیگم کے میکے میں کوئی تقریب تھی اس لیے وہ سانیہ اور دریاب کے ساتھ کل سے وہاں گئی ہوئیں تھیں ۔ خدیجہ بیگم طبعیت کی ناسازی کے وجہ اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں۔ عائشہ اور رمل کچن میں رات کا کھانا بنا رہی تھیں۔ زروا اپنے کمرے میں یونی کا کام کرنے میں مصروف تھی غرض کہ سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے ۔ ایسے میں اگر بے فکری کی زندگی کا کوئی عملی نمونہ پیش کر رہا تھا تو وہ صرف امثال ہی تھی جو لاونج میں صوفے کے ساتھ ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی نہایت دلجمعی کے ساتھ ٹوم اینڈ جیری دیکھنے میں مشغول تھی ۔ساریہ بیگم لاونج میں داخل ہوئیں تو اسے ٹی وی اور وہ بھی کارٹونز میں مگن دیکھ کر کلس کر رہ گئیں ۔وہ کئی بار اسے کہہ چکی تھیں کہ وہ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹایا کرے مگر مجال ہے جو انکی بات کو وہ سرئیس لے جائے اور اگر وہ کبھی بھولے سے کچن میں داخل ہو بھی جاتی تو عادل شورڈال دیتا۔
“پتا نہیں یہ لڑکی کب سدھرے گی ۔” سر جھٹکتی ہوئی وہ اس کے آئیں
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ عائشہ اور رمل کچن میں اکیلی کام کر رہی ہیں ،اٹھو جا کہ ان کی ہیلپ کرو۔”اس کے ہاتھ سے ریموٹ لیتے ہوئے انہوں نےٹی وی آف کیا
“کیا یار ماما ریموٹ دیں نہ, سین مس ہو رہا ہے ۔”
” اٹھو کچن میں جاؤ, وہ لوگ تمہاری نوکر نہیں ہیں جو تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے شوہر کے کھانے پینے کا بھی خیال رکھیں اور تم نے کرنا ہی کیا ہوتا ہے۔ کم ازکم اپنےشوہر کی چھوٹی موٹی چیزوں کا ہی خیال رکھ لیا کرو۔”انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کچن میں لے جا کر چھوڑا
” عائشہ بیٹا اس کو بھی اپنے ساتھ کام پر لگاؤ۔ “
” کوئی بات نہیں خالہ ہم کر لیں گے۔ “عائشہ اس کے چہرے کے بگڑے زوایے دیکھ کر مسکرائی
” نہیں تم اسے کھڑا کرو اپنے پاس کچھ سیکھ جائے گی,شوہر والی ہو گئی ہے ،مگر حرام ہے جو اس لڑکی نے کھانا بنانا سیکھنےکی کوشش بھی کی ہو ۔”اسے ان کے پاس چھوڑ کر وہ کچن سے نکل گئی ان کے جانے کے بعد وہ اس کی طرف متوجہ ہوئیں
“لائیں دیں کیا کرنا ہے ۔”امثال نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گویا ان کی سات پشتوں پر احسان عظیم کیا
” ایسا کرو یہ پالک صاف کر دو اور مٹر بھی نکال دو آسانی سے ہو جائے گا۔”رمل نے مسکراتے ہوئے ٹوکری اس کی طرف بڑھائی
“ایسی سختیاں میری ساس کو کرنی چایئے تھی وہ تو کرتی نہیں اور سگی ماں ساری کسریں پوری کرتی ہیں ۔”بڑبڑاتی ہوئی وہ پالک کی ٹوکری لے کر وہیں فرش پر بیٹھ گئی اور پتےچننے لگی ۔ ایک ایک پتے کو اٹھا کر غور سے دیکھتی جھاڑ کر سائیڈ پر رکھ دیتی۔
“ژلے ہم نے پالک آج ہی پکانی ہے ۔”رمل نے اس کو ٹائم پاس کرتے دیکھ کر کہا
” اچھا ۔”اس نے یوں سر ہلایا جیسے مداخلت بری لگی ہو
“اچھا نہیں تیز ہاتھ چلاؤ،جس انداز میں تم کر رہی ہو اس طرح تو بات کل پرسوں تک جا پہنچے گی جب کہ ہمیں آج ہی چاہیئے۔”
“ٹھیک ہے بھئی جس کو دیکھو میری ساس بننے کی کوششوں میں ہے جبکہ میری اصلی ساس تو لگتا ہے اپنی فرائض سے نا آشنا ہے۔ بات کرتی ہوں ان سے اپنا چارج خود ہی سنبھالیں خوامخواہ اپنی ڈیوٹی کسی اور کو دے کر خود عیش کر رہی ہیں بھئی بیٹا بیاہا ہے پتہ تو چلنا چایئے۔”منہ بگاڑتے ہوئے وہ جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی ۔رمل اس کی بات سن کر بے ساختہ ہنسی
” پورا ڈرامہ ہو تم بھی۔”
” عاشی آپو آپ کو پتا ہے یہ پالک کا پتہ نہیں ہے۔ ” پالک کا معائنہ کرتے ہوئے اس نے کہا
” پالک ہی ہے اب جلدی کرو آج ہم لوگ پہلے ہی کافی لیٹ ہوگئے ہیں ۔ “عائشہ زرا کی زرا مڑ کر اس کے ہاتھ میں پتے کو دیکھتے ہوئے دوبارہ پین کی طرف متوجہ ہوئی
“نہیں آپو یہ محض پتہ نہیں یہ وٹامن ڈی ہے ،اے ہے۔ وٹامن سی ۔” اس نے پتہ اس کے سامنے لہرایا
” یہ نئی اطلاع دی ہے تم نے ۔ ” عائشہ پین میں گھی اور پیاز ڈال کر ٹماٹر کاٹنے لگی۔ اس سے باتوں کے ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ بھی تیزی سے حرکت کر رہے تھے جبکہ امثال کی صرف زبان ہی چل رہی رہی تھی
” اور آپکو پتہ وٹامنز تو ملتے ہی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ آنکھوں کو بھی راحت بخشتی ہے۔ کسی بھی سبز چیز کو دیکھو تو آنکھوں کو فرحت ملتی ہے۔ مطلب لذت ،غذائیت اور فرحت ایک ساتھ ۔”اس کی بات پر عائشہ اور رمل نے پہلے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر اسے جس کی زبان پوری رفتار اور سنجیدگی سے چل رہی تھی
” کسی پالک اگانے والے نے کیا خوب کہا ہے “
” کیا کہا تھا .میں بھول گئی .”اس نے ماتھے پر ہاتھ مارا ۔”
چلو کچھ نہ کچھ تو ضرور کہا ہوگا”
“ژلے کچھ نہیں کہا تھا۔ پلیز یہ صاف کر دو۔ نہیں تو مجھے دے دو۔ میں خود کر لیتی ہوں مہربانی ہو گی ۔”رمل نےعاجزی سے کہا ۔ وہ اب فارغ کھڑی اس کا منہ تک رہی تھی جو نہ تو اسے دے رہی تھی اور نہ ہی خود کر رہی تھی
“اوکے کر رہی ہوں۔ اتنی جلدی کیوں مچائی ہوئی ہے۔ کر رہی ہوں نہ ڈسٹرب تو نہ کریں۔” ان دونوں کو اپنی باتوں پر دھیان نہ دیتا پا کر کانوں میں ہینڈ فری لگا کر وہ پالک چننے لگی
“امثال ،امثال کدھر ہو؟”حسب معمول عادل نے لاونج میں داخل ہوتے ہی امثال کو آوازیں دینا شروع کر دیں تھیں۔ اسکی اواز سن کر امثال بھی جس کونے کھدرے میں ہوتی فوراً پہنچ جاتی مگر آج اسکی کئی آوازوں پر بھی وہ سامنے نہ آئی تو وہ کچن میں جا پہنچا۔ جہاں عائشہ اور رمل کام میں مصروف تھیں
” عائشہ امثال کدھر ہے ؟”
“بھابھی یہ بالآخر صاف ہو ہی گئی۔ اب آپ مجھے مٹر دیں میں وہ بھی نکال دیتی ہوں۔”اس کی آواز پر وہ تھوڑا آگے جھکا تو وہ کانوں میں ہینڈفری لگائے اپنے اردگرد سبزیوں کا بکھیڑا ڈالے بیٹھی تھی
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”عادل نے آگے بڑھ کر اسکے کانوں سے ہینڈ فری کھینچی اور پاس پڑا موبائل اٹھایا
” کیا ہے بھئی میں ایف ایم سن رہی تھی واپس کرو۔ جسکو دیکھو میری انٹرٹینمنٹ کے پیچھے پڑا ہے ۔ پہلے تمہاری ساس نے ریموٹ چھین لیا ہے اور اب تم۔”
“تم نیچے ٹھنڈے فرش پر کیوں بیٹھی ہو ؟اٹھو یہاں سے ۔”عادل نے بازو سے پکڑ کر اسے اٹھایا
“کیا ضرورت ہے اس سے کام کروانے کی کتنی بار منع کیا ۔خود کر لیا کریں نہیں تو یہ جو اتنے ملازم رکھے ہوئے ہوئے ہیں ان سے کروا لیا کریں۔ “اس کے ہاتھ اور کپڑے جھاڑتے ہوئے وہ خفگی سے بولا
” ہم بھی تو کر رہی ہیں۔ آپکی بیوی کوئی انوکھی تو نہیں اور وہ کوئ پہاڑ نہیں توڑ رہی۔سبزی کے دو پتے پی صاف کیے ہیں ،یہ تو کسی چار پانچ سال کے بچے کو بھی دیتے تو وہ بھی صاف کر دیتا۔اتنا تو آپ کی لاڈلی نے کام نہیں کیا جتنا یہ پمارا دماغ چاٹ گئ ہے۔”عائشہ کی بات پر اب کی بار امثال کا منہ کھلا
” بھابھی ! “
” کیا!سچ ہی تو کہہ رہی ہوں۔”
” میں ۔۔۔۔۔میں بھائی کو شکایت لگاؤں گی۔ “
” ہاں بتا دینا میں کوئی ان سے ڈرتی ہوں ۔”عائشہ نے گردن اکڑائی
” کون کس سے نہیں ڈرتا بھئی۔ “شہریار کچن میں داخل ہوتے ہوئے بولا تو وہ گڑبڑا گئی
“بھائی وہ بھابھی کہہ رہی ۔”
“ژلے گڑیا تم جاؤ نہ۔ لالہ کب سے کھڑے ہیں ،جا کہ ان کو کپڑے وغیرہ نکال کر دو۔” عائشہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے التجا کی
” اب ماما پوچھیں تو انہیں بتا دینا کہ میں نے آپ دونوں کی ہیلپ کی تھی ۔ورنہ خواہ مخواہ کی باتیں سنائیں گی ۔ چلو عادی ۔” وہ اس کا ہاتھ پکڑتی باہر نکل گئی
” بی بی جی! آپ کو لالہ بی بی بلا رہی ہیں۔”ملازمہ نے آ کر کہا تو رمل بھی ہاتھ دھو کر چلی گئی
“یہ ژلے کیا کہہ رہی تھی ؟”رمل کے جانے کے بعد شہریار نے عائشہ سے پوچھا ۔وہ آتے ہوئے اسکی اور امثال کی آخری بات سن چکا تھا
” کک ۔۔کچھ نہیں ۔۔ آپکو پتہ تو ہے ۔ ایسے ہی بولتی رہتی ہے۔”
” پکی بات ہے ؟” شہریار نے یقین دہانی چاہی
“اں۔۔۔ ہاں ہاں۔”
“اگر ایسی بات ہے تو پریشان کیوں ہو رہی ہیں اور اتنا پسینہ بھی آ رہا ہے ۔” شہریار نے انگوٹھے سے اسکی پیشانی سے پسینہ صاف کیا
“وہ شائد گرمی لگ رہی ہے اس لیے۔”
” جنوری کے مہینے میں گرمی۔ حیرت ہے۔ “شہریار نے مسکراہٹ دبائی
” ہاں وہ بس ایسے ہی۔ آپ جائیں میں آپکے لیے کافی لے کر آتی ہوں۔ ” وہ جانتی تھی کہ اس وقت کافی کا کہنے ہی آیا تھا۔وہ جانے کے لیے مڑا تو عائشہ نے سکھ کا سانس لیا
“توبہ ہے دونوں بہن بھائی بات پکڑ ہی لیتے ہیں۔ “عائشہ ہلکا سا بڑبڑائی
” کچھ کہا کیا ۔” اپنے پیچھے سے آتی شہریار کی آواز پر وہ اچھلی
” آرام سے ۔کیا ہو گیا،ابھی گر جاتیں تو۔” اس نے بروقت اسے سنبھالا
“ڈرا دیا آپ نے تو۔ یہ چھوٹے موٹے ہارٹ اٹیک دلانے کو ژلے ہی کافی ہوتی ہے آپ تو نہ شروع ہو جایا کریں ۔”عائشہ خفگی سے بولی
“تو ڈئیر وائفی اپنا دل تھوڑا مضبوط کر لیں اب تو ساری عمر ژلے کو بھی جھیلنا ہے اور اسکے بھائی کو بھی۔” وہ ہنستے ہوئے اسکا گال تھپتھپاتا باہر نکل گیا۔
” تم سے کتنی بار کہا ہے کہ میرے آنے سے پہلے اپنے کام نمٹا لیا کرو۔”عادل نے کمرے میں آتے ہوئے کہا۔
“میں کون سا خود گئی تھی ۔آپ کی ساس نے زبردستی کچن میں دھکیلا تھا ۔ کہتی ہیں اپنے شوہر کی زمہ داریاں خود ہی سنبھالو۔ وہ سب میری ملازم تھوڑی لگی ہوئی ہیں جو ساتھ میرا بھی کام کریں گی۔ “
” ایک تو یہ خالہ بھی کمال کرتی ہیں اور میں نے تم سے کہا تھا ہم شہر والے گھر میں شفٹ ہوجاتے ہیں۔ تم بھی تو نہیں مان رہی ہو۔ “
” تم تو صبح کے نکلے شام کو آتے ہو میں وہاں سارا دن اکیلی کیا کروں گی ۔”الماری میں سر گھسائے اس نے جواب دیا
” اسی لیے تو تمہیں فورس نہیں کیا۔”
” اچھا تم چینج کر لو ۔میں تمہارے لیے کافی لاتی ہوں ۔”
امثال نے الماری سے کپڑے نکال کر اسے تھمائے
” اوکے اور ہاں خود مت بنانے بیٹھ جانا ،عائشہ یا رمل سے کہہ کر بنوا لینا ۔ “واش روم جاتے عادل نے رک کر تاکید کی
“اوہ کم آن! اتنا تو میں کر ہی سکتی ہوں۔ ” وہ کہتی ہوئی باہر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آج کیوں نہ آفس سے چھٹی ماری جائے ۔”آفس جاتے ہوئے راستے میں بازل کو سوجھی
“آئیڈیا تو برا نہیں ہے مگر سوال یہ ہے کہ جایا کہاں جائے ۔” اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی امثال نے کہا
“کہیں لمبا گھومنے چلتے ہیں۔ آفس ٹائمنگ تک واپس آجائیں گے۔ “
“اوکے چلو ۔”
“ارے رکو رکو! وہ دیکھو گول گپے والا جا رہا ہے ۔”گاڑی ریورس کرو۔”امثال کو پاس سے گول گپے والاگزرتا دکھائی دیا تو وہ چیخی ۔بازل نے گاڑی ریورس کر کہ گول گپے کے ٹھیلے کے پاس جا کہ روکی
” آج شرط لگا کر کھاتے ہیں کہ کون سب سے زیادہ کھاتا ہے۔” امثال نے اپنی پلیٹ لیتے ہوئے کہا
“ٹھیک ہے ۔”
وہ دونوں ایک بعد ایک پلیٹ لے کر کھانے لگے۔ گول گپے والا ہونق بنا انہیں جلدی جلدی کھاتا دیکھ رہا تھا۔ چوتھی پلیٹ کے بعد بازل کی بس ہوئی
“تم ہار مان رہے ہو نہ۔”
امثال نے اپنی پانچویں پلیٹ میں سے دوسرا گول گپا اٹھایا۔ کھا تو وہ بھی بڑی مشکل سے رہی تھی مگر شرط ہارنا نہیں چاہتی تھی اس لیے آہستہ آہستہ تیسرا اٹھا کر کھانے لگی
“مان تو رہا ہوں لیکن اگر تم یہ ساری پلیٹ کھا لو تو میری جس جیکٹ پر تم نے پچھلے کئی دنوں سے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے وہ تمہاری ہوئی۔” بازل نے فراخ دلی سے آفر کی
“قائم رہو گے نہ؟” امثال نے یقین دہانی چاہی تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“نہیں کھائے جا رہے۔” امثال نے پلیٹ میں بچے ہوئے آدھے گول گپوں کو دیکھتے ہوئے کہا
” چلو اگر تم یہ کھا لیتی ہو تو کل امان بھائی کے ساتھ کراچی میٹینگ کے لیے میں چلا جاؤں گا۔”بازل نے دوسرا پتہ پھینکا کہ اس بار نہ نہیں کرے گی کیوں کہ جب سے امان نے اسے ساتھ جانے کا بولا تھا۔ تب سے وہ نہ نہ کر رہی تھی ۔ اس آفر پر امثال نے جیسے تیسے کر کہ پانچویں پلیٹ ختم کی۔ پیسے دے کر وہ گاڑی میں بیٹھے اور شہر کی طرف روانہ ہوئے
” میرا گلہ سوکھ رہا ہے ۔”تھوڑی ہی دیر بعد امثال کو گلہ سوکھتا ہوا محسوس ہوا تو اس نے بازل سے کہا
“کچھ نہیں ہوتا۔ تم یہ پانی پی لو۔”بازل نے پانی کی بوتل اس کی طرف بڑھائی۔ شہر پہنچ کر بازل نے آفس جانے کی بجائے شاپنگ مال کی طرف گاڑی موڑی۔ شاپنگ کرتے کرتے انہیں دو گھنٹے گزر گئے جس میں انہوں نے شاپنگ تو کچھ خاص نہیں کی تھی البتہ دکانداروں کی اچھی خاصی دوڑیں لگوا چکے تھے۔ ہمیشہ کی طرح امثال اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھی جو بازل بھی نوٹس کر رہا تھا
” کیا بات ہے ؟طبعیت ٹھیک ہے؟” بازل نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا
“پتا نہیں سینے میں جلن ہو رہی ہے۔ گلے میں بھی خراشیں پڑ رہی ہیں ۔ لگتا ہے گول گپے اپنا اثر دکھا رہے ہیں۔”
“فکر نہیں کرو ۔آؤ آئس کریم کھلاتا ہوں۔ ٹھیک ہو جاؤ گی ۔”بازل اسے لیے آئس کریم پارلر میں آیا ۔ سارے دن کی مٹر گشت کے بعد تھک کر انہوں نے گھر واپسی کا رخ کیا
” گھر جا کر کیا بتانا ہے کہ آفس سے کیوں غائب تھے ؟” امثال کا کہنا تھا کہ بازل نے بریک لگائی
” ژلے تمہاری آواز ۔”
“کیا ہوا میری؟ “
” یہ یہ کیا ہوا؟” امثال کے منہ سے بھاری اور پھنسی پھنسی آواز نکلی اور اگلے ہی لمحے گاڑی بازل کے قہقوں سے گونج اٹھی
” ژلے تمہاری آواز بلکل امریش پوری سے میچ کر رہی ہے اوہ گاڈ۔” اس نے ہنستے ہنستے سٹئیرنگ پر سر رکھا
” کمینے چول انسان! تم نے ہی گول گپے کھلائے تھے اور پھر رہی سہی کسر آئس کریم کھلا کر پوری کر دی ۔”امثال نے چیختے ہوئے اس کے بال نوچے وہ الگ بات تھی کہ چیخنے کے باوجود اس کی آواز بڑی مشکل سے بازل تک پہنچی تھی
” ہاں تو میں کب تمہارا ہاتھ پکڑ کر زبردستی کھلائے تھے نہ کھاتی۔” اس نے اکڑتے ہوئے کہا
” صیح کہتے ہیں لالچ بری بلا ہوتی ہے۔” بازل نے مصنوعی افسوس سے دائیں بائیں سر ہلاتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی
“گھر جا کہ کیا بتانا ہے ۔ ماما بہت ڈانٹیں گی” امثال گلے سے زیادہ ساریہ بیگم سے ہونے والی عزت افزائی کی تشویش تھی۔
“یہ تو کھانے سے پہلے سوچنا چایئے تھا نہ ۔”بازل نے بڑی صفائی سے خود کو اس سچویشن سے نکالا کہ امثال کو تو صرف ماما سے ڈانٹ پڑے گی مگر اسے ماما کی ڈانٹ ،شہریار اور عادل کی گھوریوں کے علاوہ عدید کا ایک آدھ ہاتھ بھی سہنا پڑے گا۔
” تم نے مجھے فورس کیا تھا ۔” امثال نے دوبارہ سے اس کے بال نوچنے کو ہاتھ بڑھایا۔
“سوچنا بھی مت ۔ورنہ میں یہیں سے غائب ہو جاؤں گا پھر اکیلی سنبھالتی رہنا ۔” اس نےجلدی سے سر پیچھے کیا
“اور میں نے فورس نہیں کیا تھا۔ جسٹ آفر کی تھی تم خود ہی گر پڑی ۔ اب کوشش کرنا کہ زیادہ ٹائم اپنا منہ بند ہی رکھو ورنہ پکڑے جائیں گے ۔ میں گھر پہنچ کر ڈاکٹر سے بات کر کہ کچھ لا دوں گا ۔اب واپس نہیں جا سکتے ۔دیر ہوجائے گی تو سب پریشان ہوں گے۔” بازل نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا
” تمہاری وجہ سے ہوا ہے یہ سب۔ اب میٹینگ کے لیے تم ہی جاؤ گے ۔”
ایک دوسرے کو الزام دیتے وہ حویلی پہنچ گئے۔امثال نے چھپ چھپاتے کچن میں گھس کر گرم پانی سے غرارے کیے۔قہوہ بنایا وہیں کھڑے ہو کہ پی کر اپنے کمرے میں کھسک گئی۔ ان دونوں کو یوں شرافت سے بغیر کوئی شور مچائے اپنے اپنے کمروں میں گھستے دیکھ کر ساریہ بیگم کو کافی حیرانگی ہوئی چونکہ رات کے کھانے کا بندوبست کرنا تھا اس لیے وہ انہیں نظر انداز کرتی خدیجہ بیگم کے ساتھ مصروف ہوگئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ژلے یہ گن الماری میں رکھ دو ۔کل اور پرسوں دو دن کی چھٹی لی ہے ۔”عادل نے گن اس کی طرف بڑھائی ۔ اس نے خاموشی سے پکڑ کر الماری میں رکھ دی۔ وہ جو توقع کر رہا تھا کہ چھٹیوں کی وجہ پوچھے گی مگر اس کی طرف سے خاموشی پا کر اسے اچنبھا ہوا ۔ وہ جب سے پولیس سٹیشن سے واپس آیا تھا اس کی چپ کو نوٹس کر رہا تھا کہاں اس کے پاس باتوں کی ایک لمبی لسٹ ہوتی تھی جو عادل کے کمرے میں آنے کے بعد کھلتی تو اس کے سونے کے بعد ہی بند ہوتی تھی اور وہ بھی بڑے دھیان سے اسکی سارے دن کی اوٹ پٹانگ حرکتوں اور باتوں کو سنتا تھا اور کہاں آج چپ کا روزہ رکھے ہوئے تھی ۔اس کے سلام کا جواب بھی اس نے محض سر ہلا کر دیا تھا۔
” چپ چپ سی ہو ۔کچھ ہوا ہے؟ ” اسے خاموشی سے کام کرتے دیکھ کر پوچھا تو امثال نے اس کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے سمائل پاس کی
“طبعیت تو ٹھیک ہے نہ ۔” جواب میں اس نے زور سے اثبات میں سر ہلایا
” کیا ہے؟ منہ سے بھی تو کچھ بولو ۔” اس کو خاموش دیکھ کر وہ جھنجھلایا
“تم کچھ بول کیوں نہیں رہی ہو۔ کچھ الٹا سیدھا تو نہیں کیا نہ؟ یہاں آؤ زرا۔”اس کی مسلسل خاموشی سے مشکوک ہوتے ہوئے اس نے اسے پاس بلایا
“ایویں ای ۔” اس کے اندر کے ایس پی کو جاگتے دیکھ کر امثال نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور جلدی سے باہر بھاگ گئی عادل کی پرسوچ نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا۔
جاری ہے

Similar Novels

You may also like these novels.

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

3.0 / 5 · 2 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Cousin MarriageFamily dramaInnocent Heroinelove story basedRomantic Love StoryRomantic Urdu Novels