Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

“ژلے ۔”وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا۔اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا ۔اس نے سائیڈ لیمپ پر ہاتھ مارتے ہوئے لائٹ آن کی اور جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا ۔ہاتھ کانپنے کی وجہ سے آدھے سے زیادہ پانی نیچے بہہ گیا تھا ۔پانی پی کر اس نے خالی گلاس وہیں پھینک دیا
“یا اللہ اتنا بھیانک خواب ۔مم میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں ؟خواب میں بھی کیسے کر سکتا ہوں؟ میں اس کی جان کیسے لے سکتا ہوں؟” وہ منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑبڑایا ۔دراز سے پسٹل نکال کر کھڑکی کی طرف آیا اور پوری قوت سے باہر اچھال دی
“سوری رئیلی سوری میری وجہ سے تم ہرٹ ہوتی رہی ہو۔” الماری سے اس کی تصویر نکال کر دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ ریسٹورینٹ کی تصویر تھی جس میں وہ ہنستے ہوئے بازل کے سامنے سے پلیٹ اٹھا رہی تھی
“کاش تم مجھے پہلے مل گئی ہوتی ۔کاش میں کچھ ماہ پہلے پاکستان آ گیا ہوتا۔”
“تمہارا یہ ڈمپل بہت پیار ہے جب جب دیکھتا ہوں میری دل دھڑک اٹھتا ہے ۔” اس کی تصویر پر ہاتھ پھیرتے وہ اداسی سے مسکرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم واپس ڈیوٹی جوائن کر رہے ہو ۔”امثال کمرے داخل ہوئی تو عادل یونیفارم پہنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تھا
” کافی دن ہوگئے ہیں ۔اب تو تم بھی تنگ آ چکی ہو تو میں نے سوچا کہ چلا جاتا ہوں ۔”اس نے خود پر پرفیوم چھڑکتے ہوئے کہا
“ہاااا ۔۔ میں کب تنگ آئی تم سے ۔بلکہ مجھے لگتا ہے تم مجھ سے تنگ آ چکے ہو ۔”امثال نے اس کی کیپ اٹھا کر اپنے سر پر رکھی
“یہ کس نے کہہ دیا تم سے ۔”اس کی طرف گھوما
“بس مجھے لگا اور اس دن کیسے ان لڑکیوں کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے ۔”امثال کو وہ لڑکیاں پھر سے یاد آگئیں تھیں
“انسان خوبصورتی دیکھ کر خوش ہی ہوتا ہے ۔چاہے وہ چیزیں ہوں یا انسان ۔وہ بھی خوبصورت تھیں اوپر سے میری فینز بھی تو خوشی تو ہوتی ہے نہ۔”
“تمہارا مطلب ہے میں خوبصورت نہیں ہوں ۔”اس نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے گھورا تو اس نے اثبات میں سر ہلادیا
“تو تمہیں کیا لگا کہ تمہارے لیے کوئی آسمان سے حور اترے گی ۔جیسے تم ہو شکر کرو یہ بھی مل گئی۔ ورنہ تمہیں کون دیتا اپنی بیٹی ۔وہ تو میں تھی جس نے دادا جانی کی بات کا مان رکھتے ہوئے نکاح کے لیے ہامی بھر لی ورنہ کوئی پاگل ہی ہوتی جو تم سے شادی کرتی ۔”اس نے کیپ سیٹ کر کہ سیلفی لیتے ہوئے بے نیازی سے کہا
“تو مطلب میں تمہیں پاگل ہی سمجھوں ۔”عادل اس کی بات لیپٹ کر اسی کو واپس کی
“چھوڑو اس بات کو یہ بتاؤ کیپ کیسی لگ رہی ہے ۔”موبائل رکھ کر اس کی طرف اس کی مڑی
“بہت اچھی لگ رہی ہے ۔”اس کا گال کھینچتے ہوئے الماری سے پسٹل نکال کر چیک کرنے لگا
“عادی ۔”وہ اس کے پیچھے الماری کے پاس آئی
“ہوں۔” اس نے مصروف انداز میں جواب دیا
“مجھے بھی ایس پی بننا ہے ۔”پسٹل کو ہولسٹر میں رکھتے ہوئے اس کے ہاتھ تھمے۔ اس کی بیوی کے دماغ میں نئے نئے خیالات آتے ہی رہتے تھے ۔ وہ بھی کافی حد تک عادی ہوگیا تھا اس لیے دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا
“کیوں بزنس ایسوسیشن نے تمہیں نکال ہے دیا ہے؟”
“نہیں نہ مجھے بننا ہے۔ تم مجھے بتاؤ کیسے بنتے ہیں ۔مطلب کو نسا فارم فل کرنا ہوتا ہے ۔”
“کم آن ژلے! لوگوں کے پولیس محکمے کے بارے میں پہلے ہی کچھ اچھے خیالات نہیں ہیں ۔تم تو جوائن کر کہ تابوت میں آخری کیل ہی ٹھونک دو گی ۔”عادل نے مسکراتے ہوئے اس کے سر سے کیپ اتاری
“تمہارا مطلب ہے میں پاگل ہوں ؟”اس نے اسے گھورا
“ہنی بار بار ایسی باتیں نہیں پوچھا کرو اور نہ ہی مجھے بتاتے ہوئے اچھا لگتا ہے ۔”اس کا گال تھپتھپاتا وہ باہر کی جانب بڑھا
“عادی ! “وہ اس کے پیچھے سے چیخی
“کیا ہوا ! “اس نے مڑ کر حیرانی سے استفسار کیا
“میں بات کر رہی ہوں اور تم اگنور کر کہ جا رہے ہو ۔ یہ اتنی جلدی تھانے جانے کی ہی ہے یا کہیں اور بھی ٹائم دیا ہوا ہے۔”وہ مشکوک ہوئی۔
“لا حول ولا قوۃ ۔”اس نے زیرلب پڑھا
“کہو کیا رہ گیا ہے؟”وہ واپس آ کر بیٹھا
“خود تو جا رہے ہو اور میں؟ میں کب آزاد ہوں گی۔”
“کچھ دن اور صبر کر لو۔”
“میں نہیں کر رہی ویٹ ۔ تمہارا جو بھی مسئلہ ہے اسے نمٹاؤ اور اگر تم سے نہیں نمٹ رہا تو مجھے بتاؤ میں خود ہی دیکھ لیتی ہوں ۔بلکہ ایک کام کرو زرا اس صاحب سے تعارف تو کرواؤ جو میرا نام استمعال کر کہ تمہیں بلیک میل کر رہا ہے ۔میں بھی تو دیکھوں کون سی شکل ہے ۔”امثال نے سنجیدگی سے کہا ۔وہ تو اپنی بیوی کی جرات دیکھ کر رہ گیا
“اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود دیکھ لوں گا۔”
“خاک دیکھ لو گے دو مہینے ہونے کو آئے ہیں اور تم سے ایک بندہ ہینڈل نہیں ہو رہا ۔تمہاری جگہ میں ہوتی تو اب تک اس جیسے دس کسی کھاتے لگا چکی ہوتی ۔”اس نے سر جھٹکا
“دیکھو ژلے یہ کوئی چھوٹا موٹا کیس تو ہے نہیں کہ ایف آئی آر کاٹی تفتیش کی اور عدالت میں پیش کر دیا ۔ایسے لوگ بہت پاورفل ہوتے ہیں۔ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ان پر ہاتھ ڈالو تو ان کے پاس بچ نکلنے کے ایک سو ایک راستے ہوتے ہیں ۔جس نے کریم چچا پر اٹیک کیا تھا وہ بندہ بھی غائب تھا ۔کل ہی سوہا کا فون آیا تھا کہ وہ پکڑا گیا ہے آج وہیں جا رہا ہوں اور بھی کچھ ثبوت ہاتھ لگے ہیں ۔زیادہ دن نہیں لگیں گے بس کچھ ہی دن کی بات ہے ۔سمجھنے کی کوشش کرو۔ میری اپنی خیر ہے مگر تمہارا رسک نہیں لے سکتا۔”اس نے تفصیل بتاتے ہوئے آخر میں اسے سمجھانا چاہا
“میں کیا کروں۔ میرا بہت سا کام پینڈنگ میں ہے ۔ کتنے دنوں سے بازی اکیلا سنبھال رہا ہے وہ کیا کیا دیکھے اور بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کو وہ اکیلا نہیں دیکھ سکتا۔ بہت حرج ہو رہا ہے ۔شاہ ہاوس سار الٹا پڑا ہے ۔ورکرز کا تو تمہیں پتہ ہی ہے۔”
“اچھا ٹھیک ہے چلی جانا مگر آج نہیں کل ۔کام کے علاوہ میں تمہیں ادھر ادھر گھومتا نہ دیکھوں ورنہ پھر کہیں باہر نہیں جانے دوں گا ۔”عادل نے طویل سانس لیتے ہوئے کہا
“اب میں جاؤں یا کچھ اور رہتا ہے ۔”وہ اٹھتے ہوئے بولا
“انسپکیٹر سوہا کہا کرو ۔تمہاری بہن نہیں لگتی جو نام لے کر بلاتے ہو۔” اس نے منہ بنایا
“اور کچھ ؟ عادل نے سر کو خم دیتے ہوئے پوچھا
“نہیں بس تھینک یو۔ تم نہ بہت اچھے ہو ، یونیفارم میں اور بھی اچھے لگ رہے ہو۔”
“بٹرنگ ۔” اس کی ناک دباتے ہوئے وہ زور سے ہنسا
“کوئی نہیں۔ سچی بول رہی ہوں۔” اس نے برا مناتے ہوئے کہا
“مجھے پتہ ہے تم جھوٹ بول رہی ہو ۔جب بھی تمہیں کوئی کام ہوتا ہے ایسے ہی مکھن لگاتی ہو۔ بعد میں تو کون اور میں کون۔”
“میں سچ بول رہی ہوں ۔”اس نے اپنی بات پر زور دیا
“پتہ ہے نہ پولیس کو اپنی سچائی کا ثبوت دینا پڑتا ہے اگر تم بھی سچ بول رہی ہو تو ثبوت دو ۔”اس نے خاصی سنجیدگی سےکہا
“کیسا ثبوت ؟تم بتاؤ میں لا کر دیتی ہوں ۔” اس کی ایکسئاٹمنٹ پر اس کا قہقہ لگانے کو جی چاہا
“روز میں تمہیں خدا حافظ کہتا ہوں آج تم مجھے کہو تو مانوں گا ۔” عادل نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
“لو اس میں کیا بڑی بات ہے۔ ابھی کہہ دیتی ہوں خدا حافظ ۔اس نے کہنے کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی ہلایا
“ایسے نہیں جیسے میں کہتا ہوں ویسے کہو ۔” عادل نے فرمائش کی تو وہ خاموش ہوگئی
“کس سوچ میں پڑ گئی ۔ میں نے ایسا بھی کوئی مشکل کام نہیں بول دیا ۔”اس کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر اس کے سامنے چٹکی بجائی
“اوکے تم آنکھیں بند کرو اور تھوڑا نیچے جھکو ۔”امثال اس کے قریب ہوتے ہوئے بولی۔ تو وہ آنکھیں بند کر نیچے ہوا تو وہ اس کی پیشانی چوم کر پیچھے ہوئی
“اب جاؤ ۔”اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا
“کہاں جاؤں ۔”وہ اس کو نظریں چراتے دیکھ کر محظوط ہوا
“عادی جاؤ نہ ۔”اس نے دروازے کی طرف دھیکلا
“میری آفت شرماتے ہوئے اور بھی کیوٹ لگتی ہے ۔ا”س کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے اس نے چھیڑا
“اچھا اچھا جا رہا ہوں ۔”اس کو آنکھیں دکھاتا دیکھ کر وہ اس کی پیشانی چومتا باہر نکل گیا
“ایوں ای فری ہو رہا ہے ۔ “ٹیرس کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تو وہ جیپ میں بیٹھ رہا تھا اس کے دیکھنے پراس نے ہاتھ ہلایا ۔اس کی گاڑی جانے تک وہی کھڑی رہی ۔مڑ کر اندر آئی تو اس کا فون بج رہا تھا
“کیسے ہو عافین؟ “فون اٹھاتے ہوئے اس نے پوچھا
“میں ٹھیک ہوں ۔تم کیسی ہو ؟”
“الحمدللہ میں بھی ٹھیک ۔ تم اس دن اچانک ہی آئے اور اچانک ہی چلے گئے۔ تمہاری طبعیت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی ۔ خیریت تھی ؟”
” بس ایسے ہی کچھ اچھا فیل نہیں کر رہا تھا اس لیے آ گیا ۔ تم بتاؤ کیا کر رہی ہو؟”
“کچھ نہیں گھر پر ہوں ۔”وہ فون کان سے لگائے سیڑھیاں اترتی ہال میں آ بیٹھی
“آفس نہیں گئی ۔”
“کہاں یار ۔پتہ نہیں عادی کے مسئلے کب سولو ہوں گے اور کب میں آزادی کی سانس لوں گی ۔”اس نے بیزاری سے کہا
“کیسے مسئلے ۔” جان کر بھی انجان بنتے ہوئے اس نے پوچھا
“اس کا کوئی کیس ایشو ہے اور مخالف پارٹی مجھے فضول میں گھسیٹ رہی ہے ۔پتہ نہیں کیسے کمینے لوگ ہیں جو اپنی لڑائی میں عورتوں کو انوالو کر رہے ہیں۔”
“تم جانتی ہوں انہیں ۔”عافین نے جاننا چاہا کہ وہ کس حد تک جانتی ہے
“نہیں۔ خیر تم چھوڑو ۔ یہ بتاؤ کہ تم کہہ رہے تھے کہ کچھ دنوں کے لیے تمہیں کہیں جانا ہے ۔کب جا رہے ہو ؟”
“وہ پہلے کا پروگرام تھا۔ اب نہیں جاؤں گا ۔کچھ دنوں تک میری یہاں زیادہ ضرورت ہے ۔جب آفس جوائن کرو تو مجھے بتانا ۔”عافین نے اسے ٹالا
“عادی نے کہا تو ہے کل سے چلی جاؤں ۔ اب دیکھو ۔اس کا پتہ کہاں چلتا ہے کبھی ہاں تو کبھی نہ۔”
“چلو ٹھیک ہے اگر کل آؤ تو بتا دینا۔ابھی مجھے تھوڑا کام ہے ،پھر بات ہو گی ۔ خدا حافظ ۔”عافین نے فون بند کرتے ہوئے رشید کا نمبر ملایا
“مجھے تم سے ملنا ہے ۔جہاں کہیں بھی ہو ابھی کے ابھی فارم ہاوس پہنچو ۔ “دوسری طرف سے اس کی سنے بغیر اس نے کال کاٹ کر موبائل ساتھ والی سیٹ پر پھینکا اور گاڑی لے کر نکل گیا ۔فارم ہاوس پہنچ کر وہ کمرے میں بیٹھا بے چینی سے اس کا انتظار کر رہا تھا کہ رشید اندر آیا
“اتنی دیر میں کب سے ویٹ کر رہا ہوں ۔”
“سوری سر میں لیٹ ہو گیا۔ کہیں کیا کام تھا۔ “اس نے معذرت کرتے ہو کہا
“پرسوں کچی آبادی والے اڈے پر ریڈ ہوئی ہے۔ ڈیڈ کو اس بارے میں بتایا ہے تم نے۔”
“نہیں سر میں نے کال کی تھی ان کا نمبر نہیں لگا ۔میں دوبارہ کرتا ہوں۔” اس نے موبائل نکالتے ہوئے کہا
“نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ جب وہ واپس آئیں گے تو میں خود بات کر لوں گا ۔مجھے تم سے ایک اور کام تھا۔”
“جی سر حکم کریں ۔”اس نے مودبانہ انداز میں کہا تو عافین نے ایک چیک سائن کر کہ اس کے سامنے ٹیبل پر رکھا
“یہ دس لاکھ کا چیک ہے ۔ اٹھاؤ اسے ۔”اس نے حکمیہ انداز میں کہا ۔ اس نے حیرانگی سے اس کا بدلا انداز دیکھتے ہوئے اٹھا لیا
“تم ڈیڈ کے مینجر، رائٹ ہینڈ ، سب کچھ ہو۔ وہ کوئی بھی کام تمہیں بتائے بغیر نہیں کرتے ۔ جو کیس چل رہا ہے اس کو لے کر تم مجھے بغیر ان کی نظروں میں آئے، ان کے ہر قدم ، ہر ارادے سے آگاہ کرو گے ۔مگر خیال رکھنا انہیں اس بات کا پتہ نہیں چلنا چایئے۔”عافین نے ایک ہی سانس میں اپنی بات مکمل کرتے ہوئے حکم سنایا
“سر مگر ۔”وہ ہچکچایا
“اگر مگر کی گنجائش میں تمہیں دے ہی نہیں رہا۔ سو اس بات کو رہنے دو ۔ تم سے جو کہا گیا ہے وہ کرنا اور میری ایک بات یاد رکھنا مجھ سے غداری کی سزا تمہاری سوچ سے بھی زیادہ بری ہوگی ۔ “عافین کا لہجہ بے حد سرد تھا ۔ وہ جھرجھری لے کر رہ گیا
“جج جی سر۔ آپ کو کوئی شکائت نہیں ہو گی۔”
“اگر اپنا کام پورا کرو گے تو تمہیں تمہارا معاوضہ بھی پورا ملے گا ۔انسان کو گھر میں سو طرح کی ضرورتیں ہوتی ہیں تم میرا کام کرتے رہنا اور تمہاری ضرورتیں میرے زمے رہیں سمجھ رہے ہو نہ ۔” عافین نے گھر پر اچھا خاصا زور دیا اور اسکی ڈھکی چھپی دھمکی سن کر اس کا رنگ اڑا
“جی سر۔ سمجھ گیا ۔”
“گڈ انفارم کرتے رہنا ۔”اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا باہر نکل گیا
“تو عالم صاحب حقیقی معنوں میں آپ کی بربادی کے دن شروع ہوگئے ہیں ۔”رشید نے بڑبڑاتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے چیک کو دیکھا
“ایم سوری ڈیڈ مگر میں ژلے کو کوئی نقصان پہنچتا نہیں دیکھ سکتا ۔” اس نے سوچتے گاڑی کی پشت پر ٹیک لگائی۔جانتا تھا کہ واپس آنے پر جب انہیں پتہ چلے گا کہ ایک ہی ہفتے میں پہلے شپ اور پھر اڈے پر ریڈ کی وجہ سے انہیں بھاری نقصان ہوا ہے تو وہ لازمی کوئی ایکشن لیں گے اور انہیں امثال کی راہ تو اسی نے ہی دکھائی تھی اور اب اسی کو ہی انہیں روکنا بھی تھا
جاری ہے