Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Lot Ane Tak (Episode 18)

Tere Lot Ane Tak by Sania Chaudhary

دو دنوں سے حور اپنے روم میں سو رہی تھی اور ازلان کی بہت کوششوں کے بعد بھی اسکے ہاتھ نہیں آ رہی تھی

حور یار بھائ کہ رہے تھے کے تمہارا پاسپورٹ لیناہے انہوں نے (وہ اور مہر کچن میں تھی جب مہر یاد آنے پر بولی ۔

انہوں نے کیا کرنا ہے اچھا میں دے دوں گی (حور نے خیران ہوتے ہوے کہا ۔

حور ایک بات پوچھوں (مہر نے چاۓ کا کپ منہ سے لگاتے ہوے پوچھا ۔

ہاں پوچھو

بھائ اب ٹھیک ہیں نا تمہارے ساتھ مطلب تم نے بھائ کو معاف کر دیا نا (حور نے بات کرنے کے لئے منہ کھولا تھا جب مہر بولی

دیکھو حور بے شک وہ میرے بھائ ہیں لیکن انہوں نے بہت غلط کیا ہے تمہارے ساتھ تم چاہو تو انھیں سزا بھی دے سکتی ہو

ان سے علیحدہ بھی ہو سکتی ہو ہم سب کوئی مسلہ نہیں ہوگا لیکن حور یہ جو معاشرہ ہے نا یہ اس معاشرے میں مرد ذات کو غلط نہیں سمجھتا

سب قصور عورت کے حصے میں آتا ہے سارا الزام عورت کے سر ڈالا جاتا ہے اور یہ دنیا عورت کو پھر جینے نہیں دیتی اور اب تو بھائ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے

تم انہیں ایک موقع دے کر دیکھو وہ یقیناتمہاری امیدیں نہیں توڑیں گے (حور تو پہلے ہی اپنا دل اسکی طرف سے ہلکا کر چکی تھی

لیکن اب مہر کی باتیں سن کر تو جو باتیں تھیں وہ بھی ختم ہو گیں

کس سوچ میں گم ہو گئی کرو گی نا اعتبار (مہر نے اسکے سامنے چٹکی بجا تے ہوے کہا

ضرور کروں گی (حور نے مسکراتے ہوے کہا ۔

ویسے تمہیں ایک بات بتاؤں حور پر بھائ کو پتا چلنی چاہیے (مہر نے معنی حیز نظروں سے پوچھا ۔

ہاں بولو نہیں چلے گا پتا

تمہیں پتا ہے بھائ شادی سے پہلے کسی لڑکی کو پسند کرتے تھے بہت زیادہ انکی زندگی تھی وہ

(مہر مزے سے بتا رہی تھی اور حور کی شکل دیکھ کر اندر ہی اندر انجواے کر رہی تھی

ک کس کو کرتے تھے مذاق نا کرو مہر سچ سچ بتاؤ (حور نے پریشانی کے عالم میں پوچھا ۔

یہ تو اب تم ان سے ہی پوچھنا میں نے جتنا بتانا تھا بتا لیا (مہر کہتی ہوئی باہر جانے لگی ۔

مہر کی بچی اب پوری بات بتا کے جاؤ (حور پیچھے سے چیخی لیکن مہر سنی ان سنی کرتے ہنسی دباتی باہر بڑھ گئی جب کے حور غصے سے بڑ بڑ ا تی رہ گئی ۔

حور کچھ دیر بعد پاسپورٹ دینے کے حیال سے تائی امی کی طرف گئی راہداری عبور کرتے ہوے اپنے کمرے کی طرف بڑھی

دروازہ کھولا تو کمرہ خالی تھا ہر چیز ترتیب اور قرینے سے رکھی ہوئی تھی

اندر بڑھ کر سامان میں سے مطلوبہ چیز نکالی اور سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور باہر جانے لگی جب کھلے دروازے سے وہ اندر داخل ہوا

حور کو دیکھ کر چہرے پر شوخی آ گئی ۔

زہے نصیب آپ آے اپنے کمرے میں خدا کی قدرت

کبھی ہم آپ کو دیکھتے ہیں اور پھر بھی آپ کو ہی دیکھتے ہیں (ازلان کے شرارت سے کہنے پر حور نے خیران نظروں سے اسے دیکھا ۔

طبیعت ٹھیک ہے آپ کی (اس نے غصے سے ازلان سے پوچھا ۔

پہلے کا تو پتا نہیں لیکن اب بلکل ٹھیک ہے شکر ہے آپ کو یاد تو آیا کے آپکا ایک عدد معصوم سا شوہر بھی ہے

معصوم اور آپ رہنے دیں اور پیچھے ہٹیں مجھے جانے دیں (حور نے اسے راستے میں کھڑے دیکھ کر کہا ۔

واہ کوئی بات ہوئی ہے کیا جو مسز ازلان کے مزاج ہی نہیں مل رہے (ازلان نے تھوڑا سا اسکی طرف جھکتے ہوے کہا ۔

کچھ نہیں ہوا مجھے اور بات کی کیا کہی باتیں تو مجھے پتا ہی آج چلی ہیں (حور کا اشارہ مہر کی بات کی طرف تھا ۔

کونسی باتوں کی بات کر رہی ہو ( اب کی بار وہ سنجیدہ لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔

آپ تو ایسے بات کر رہے ہیں جیسے کسی بات کا علم ہی نہیں ہے آپ کو اتنے معصوم نا بنیں

(حور تو آج اپنے ازلی روپ میں آ چکی تھی

اور ازلان و حیرت کے ساتھ خوشی ہو رہی تھی اسکو اس طرح دیکھ کر

مجھے واقعی نہیں پتا تم بتاؤ گی تو پتا چلے گا نا

رہنے دیں سارا پتا چل چکا ہے مجھے بڑی پیار کی پینگیں چڑھائی تھیں نا آپ نے (حور نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوے کہا

اور ازلان وہ تو حور کی بات سن کر کھل کے ہنسا

کون سی پینگیں حور تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ضرور (ازلان نے ہنسی روکتے ہوے کہا

کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی مجھے مجھے مہر نے بتایا ہے کے آپ کسی کو پسند کرتے تھے

اور جب ہم فارم ہاؤس گئے تھے تب بھی تو میں نے آپ سے پوچھا تھا کے کون ہے وہ اور آپ نے کہا تھا ے کیوں بتاؤں اب بتایں کون تھی

وہ یا ابھی بھی ہے (اب کے حور نے ساری بات بتائی اور غصے سے پوچھا ۔

اچھا تو تم اسکی بات کر رہی ہو چ یار کیا بتاؤں شادی تو میں نے اسی سے کرنی تھی

لیکن پھر تم آگئی ہمارے درمیان (ازلان بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹا اور بظاہر سنجیدگی سے کہا لیکن آنکھوں میں شرارت سے کہا

جسے حور سمجھنے سے قاصر رہی ۔

تو اب کون سا دیر ہوئی ہے کر لیں اسی سے شادی اتنی ہی عزیز ہے

وہ آپ کو ایک دفع پتا چلنے دیں مجھے اسکا چھوڑوں گی نہیں اسے (حور غصے سے آگ بگولہ ہوتے ہوے بولی

اور ازلان بمشکل اپنے قہقے کو روک پایا ۔

آئیڈیا تو اچھا سوچتا ہوں کچھ (ازلان نے شرارت سے بھرپور آواز میں کہا

سوچیں سوچیں بتاتی ہوں بڑے بابا کو آپ کے سپوت کیا سوچ رہے ہیں (وہ بول کر جانے لگی

کہاں جا رہی ہو؟عشال کہاں ہے (ازلان اٹھتے ہوے بولا

شکر ہے آپ کو یاد آگیا کے آپ کی ایک عدد بیٹی بھی ہے اور مجھ سے تو آپ آیندہ کے بعد بات ہی مت کریے گا

( حور کہتی ہوئی باہر بڑھ گئی جب کے ازلان اسکو سوچتے ہوے ہنستا چلا گیا

۔ ۔ ۔

مہر بات سنو

جی بھائ بولیں (مہر اسکی طرف مرتے ہوے بولی

یہ ذرا بتانا پسند کرو گی کے تم نے میری بیوی کو کون سی پٹیاں پڑھائی ہیں

( ازلان خفگی سے اسے گھور رہا تھا

مہر ایک پل کو گربرائی پھر ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔

سچ ہی بتایا ہے اسے کوئی غلط بات تو نہیں کی میں نے

ہاں تو پھر پورا سچ بتاتے ہیں نا اب وہ پتا نہیں کیا کیا سمجھ کر بیٹھی ہے

اچھا تم نے اسے کچھ بتایا تو نہیں ہے نا

نہیں کچھ نہیں بتایا اسے کب جانا ہے آپ نے (مہر نے سوالیہ نظروں سے پوچھا

ہاں بس پانچ منٹ تک پورچ میں چھوڑ جانا اسے اور عشاl وہ سو گئی ہے نا ایک دفع پھر سوچ لو تنگ کرے گی تمہیں اگر اٹھ گئی تو

نہیں کرے گی تنگ بہت اٹیچ ہے مجھ سے آپ بے فکر رہیں

ٹھیک ہے پھر

۔ ۔ ۔ ۔

مہر کس کے ساتھ جانا ہے اور کون سی دوست نکل آئ ہے تمہاری پہلے تو کبھی ذکر نہیں کیا تم نے (حور جھجھلاتے ہوے بولی

ہے نا ایک دوست تمچلو بھی پہلے ہی لیٹ ہو گئی ہیں

اور مجھے اتنا تیار کر دیا ہے اور خود ہوئی نہیں ہو (حور نے اسے گھورتے ہوے کہا وہ لوگ پورچ تکآ گئیں تھیں

ہیپی برتھ ڈے مائے ڈیر سویٹ بہنا (مہر نے اسے گلے لگاتے ہوے کہا اور حیران سی کھڑی حور کو فرنٹ ڈور کھول کر بٹھایا ۔

حور کی ڈرائیونگ سیٹ کی طرف نگاہ پڑی تو ازلان مسکراتے ہوے اسے دیکھ رہا تھا پھر گاڑی سٹارٹ کر کے باہر نکالی

ویٹ مسز چل جائے گا پتا (وہ سڑک پے نظریں جمایں بولا

عشال اٹھ گئی تو رویے گی (حور نے اب کی بار پریشانی سے کہا

مہر اسکے پاس ہی ہو گی تم ٹینشن نا لو ہوں (ازلان کے کہنے پر وہ خاموش ہو گئی ۔

گاڑی انجان راستوں پر رواں تھی ۔

ازلان بتایں تو سہی کہاں لے کر جا رہے ہیں۔

ازلان نے کوئی جواب نا دیا ۔

کچھ دیر بعد گاڑی رکی ازلان باہر نکلا دوسری طرف سے آ کر دروازہ کھولا اورحور کے آگے اپنا ہاتھ کیا ۔

حور نے اس کا ہاتھ تھاما اور باہر نکلی آگے کا منظر دیکھ کر وہ حیران رہ گئی ایک خوبصورت منظر اسکے سامنے تھا

چلیں (ازلان اسکا ہاتھ تھامے ہوے آگے بڑھا

یہ ایک خوبصورت کاٹج تھا اور اسکے سامنے جھیل وہ اسے لئے آگے بڑھ رہا تھا

نیچے ہر طرف گلاب کے پھول تھے ریڈ ہارٹ شیپ بیلونز ہر جگہ پر تھے بلکل مدھم روشنی میں ایک جگہ پر بلکل جھیل کے سامنے ٹیبل اور چیرز تھیں ٹیبل پر ریڈ فلار ز تھے

اور ایک بکے پڑا تھا

ازلان نے بکے اٹھایا اور حور کے سامنے کیا

ہیپی برتھڈے مائے ڈیر سویٹ وائف مینی مینی ہیپی ریٹرن آف دی ڈے(Happy birth day my dear sweet wife many many happy return of the day

وہ دونوں بیٹھے کچھ ہی دیر میں ایک لڑکی آئ اسنے کیک ٹیبل پر رکھا

ہیپی برتھ ڈے میم (اسنے مسکرا کر حور کو وش کیا

تھینک یو (حور نے بھی مسکرا کر کہا

وہ چلی گئی ۔

کیک کاٹو (ازلان نے نائیف کی طرف اشارہ کیا حور نے کیک کاٹا اور ازلان کو کھلایا اور ازلان نے حور کو کھلاتے وقت اسکی ناک پر بھی لگا دیا ۔

اسنے گھور کر دیکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکے منہ پر لگا دیا

پھر دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر ہنس پڑے

پیچھے ہلکا ہلکا میوزک چل رہا تھا کچھ دیر بعد وہی لڑکی ڈنر لے کر آئ دونوں نے خاموشی سے ڈنر کیا ۔

ہمم کیسا لگا یہ سب (ڈنر کے بعد ازلان نے پوچھا

بہت بہت اچھا (حور کے چہرے سے خوشی صاف ظاہر ہو رہی تھی ۔

ہمم پھر چلو آج تمہیں بتاتا ہوں۔ کے وہ لڑکی کون تھی (ازلان کے کہنے پر اسکے چہرے کا رنگ یک دم متغیر ہوا ۔

ک کون تھی کیا وہ یہیں ہے ؟

بلکل یہاں ہے اور میرے سامنے ہے(ازلان کے کہنے پر حور نے ارد گرد دیکھا پھر بی یقینی سے اسکی طرف دیکھا ۔

بلکل میرے سامنے بیٹھی میری شریک حیات میری زندگی کی ساتھ وہ ہی لڑکی ہے جسے میں نے ازل سے چاہا ہے

جو میری زندگی ہے اور میں چاہتا ہوں لے ہملوگ سب بھول کر نئی زندگی شروع کریں (ازلان حور کا ہاتھ تھامے کہ رہا تھا اور وہ منہ کھولے سن رہی تھی ۔

مطلب آپ نے اور مہر نے مجھے بی وقوف بنایا مجھے کبھی بتایا ہی نہیں کچھ (کچھ دیر بعد حور خفگی سے بولی

ہم کیوں کے میں نے اسے منا کیا تھا اسلئے (ازلان کہتے ہوے اٹھا تھا گھٹنے کے بل بیٹھا

اور حور کے ہاتھ تھام کر باری باری خوبصورت کنگن پہناے جنمیں ہیرے جڑے ہوے تھے پھر حور کے ہاتھوں پر بوسہ دیتے ہوے اٹھا اور اسے بھی اٹھایا ۔

وہ دونوں جھیل کے کنارے واک کر رہے تھے

گھر کب جایں گے (باتیں کرتے ہوے حور نے اسکے سینے سے سر اٹھا کر پوچھا ۔

مم صبح جایں گے (ازلان کے کہنے پر اسکی پتلیاں خیرت سے پھیل گیں ۔

رات یہاں رہیں گے ؟

بلکل یہاں رہے گے ازلان نے کہتے ہوے اسکے سر پر بوسہ دیا

____________

سورج طلوح ہو چکا تھا کھڑ کیوں کے آگے دبیز پردے ہونے کی وجہ سے سورج کی کرنیں اندر آنے سے قاصر تھیں

آنکھ کھلنے پر کچھ دیر تک غائب دماغی سے لیٹی رہی پھر آہستہ آہستہ کل کی خوبصورت شام یاد آئ تو ہونٹوں کے کنارے خود بخود مسکراہٹ میں میں ڈھل گئے

اسی وقت واشروم کا دروازہ کھلا اور ازلان فریش فریش سا نکلا گیلے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے ۔

گڈ مارننگ (وہ ہشاش لہجے میں کہتا گلے میں موجود ٹاول حور کے اوپر پھینکا اور خود ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہو کر بال بنانے لگا

اور حور جو اب تک مسکرا رہی تھی اسکی اس حرکت پر اب اسے گھور رہی تھی

جلدی سے فریش ہو جاؤ ناشتہ کر کے گھر کے لئے نکلتے ہیں (وہ آئینے میں دیکھتا ہوا حور سے بولا

حور بیڈ سے اٹھی اور واشروم کی طرف بڑھی لیکن جاتے جاتے وہی ٹا ول ازلان پر پھینک کر جلدی جلدی واشروم میں گھس گئی ۔

ناشتہ کرنے کے بعد وہ لوگ گھر کے لئے نکلے

ازلان میں کیا سوچ رہی تھی (حور کچھ یاد آنے پر بولی

ہمم کیا سوچ رہی تھی

(وہ سڑک پر نظریں جمایے ہوے بولا

آپ ایسے سرپرائز دیتے رہا کریں نا میں بھی خوش رہوں گی آپ کو پتا ہے نا مجھے کتنا شوق ہے ان سب کا

(ازلان نے اسکی طرف دیکھا جسکے چہرے پر خوشی کے سچے رنگ تھے ۔

ہممم سوچ تو میں بھی رہا تھا کے مجھے ایسے سرپرائز دیتے رہنا چاہیے تا کے اپنی ہمسفر کے چہرے پر خوشی تو نظر آے جیسے اب آ رہی ہے

(ازلان کے کہنے پر وہ شرما کر منہ پر ہاتھ پھیرنے لگی جیسے اپنے چہرے کے تاثرات مٹانا چاہتی ہو ۔

بس اب تم دیکھتی جاؤ ابھی تو خوشیوں کا آغاز ہوا ہے اللہ‎ نے چاہا تو اب ہماری زندگی میں خوشیاں ہی ہونگی ہمیشہ (ازلان نے اسکا ہاتھ تھام کر سٹیرنگ پر رکھا اور اسکے ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔

آپ نہیں آئیں گے اندر (اترتے وقت حور نے پوچھا ۔

نہیں کچھ کام ہے تھوڑی دیر تک آ جاؤں گا (ازلان نے نرم لہجے میں کہا

حور اثبات میں سر ہلاتی اندر کی طرف بڑھ گئی ۔

لاؤنج میں سے اوازیں آ رہی تھیں وہ لاؤنج میں داخل ہوئی تو ساری حواتین اور عشال وہیں تھیں ۔

السلام عليكم (حور کہتی ہوئی آگے بڑھی اور عشال کو اٹھایا ۔

کیسا ہے میرا بچہ (اسکے پھولے ہوے سرخو سفید گالوں پر پیار کرتے ہوے حور نے پوچھا

ما تھیت ادان پاش دانا (میں ٹھیک ازلان پاس جانا )

وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بولتی حور کے ساتھ سب کو مسکرانے پر مجبور کر گئی ۔

بابا کہتے ہیں عشال اور بابا عشال کے لئے ٹویز لینے گئے ہیں نا (حور کہتی ہوئی مہر کے ساتھ بیٹھ گئی

جب کے عشال خوشی سے جھومتی اسکی گود سے اتر کر کھیلنے میں مگن ہو گئی ۔

بیٹا ازلان نہیں آیا (ماما نے پوچھا

نہیں ماما وہ کچھ کام تھا انھیں کہ رہے تھے تھوڑی دیرتک آ جایں گے

اچھا حور بیٹا آپ آرام کر لو تھوڑی دیر پھر شام کو تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ارے حورین یہ کنگن کتنے پیارے ہیں نا (تائی امی ابھی بات کر رہی تھیں جب مہر نے درمیان میں بات کاٹ دی

حور نا سمجھی سے تائی امی کو دیکھنے لگی

ہاں کتنے پیارے ہیں حورین یہ ازلان نے دیے ہیں (تائی امی بھی جلدی سے بولیں

جی انہوں نے دیے ہیں۔

مزہ آیا پھر کل کیسا لگا سرپرائز (مہر نے آہستگی سے پوچھا

بہت مزہ آیا میری زندگی کی سب سے خوبصورت شام تھی کل مہر میں بیان نہیں کر سکتی (حور ایک جذب کے عالم میں بول رہی تھی ۔

جب کے مہر اسکی باتوں پہ مسکراے جا رہی تھی ۔

کافی دیر باتیں کرنے کے بعد عشال کو لے کر اوپر آئ اسے سلاتے سلاتے خود بھی نیند کی وادیوں میں اتر گئی

جب آنکھ کھلی تو عشال غائب تھی اور ازلان کبڈ میں سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا ۔

عشال کہاں ہے اور آپ کب آے (حور نے بال سمیٹتے ہوے کہا

عشال کو مہر لے گئی ہے اور میں کچھ دیر پہلے آیا ہوں (ازلان نے بنا اسے دیکھے جواب دیا ۔

کیا ڈھونڈ رہے ہیں

اہاں کچھ نہیں کچھ ڈاکومینٹس تھے مل گئے (وہ کبڈ بند کرتے ہوے بولا ۔

آپ کہیں جا رہے ہیں کیا (حور اسکو بیگ میں ڈوکمنٹس رکھتے ہوے دیکھتے ہوے بولی ۔

بلکل لیکن میں نہیں ہم جا رہے ہیں (اسکے کہنے پر حور کی پتلیاں خیرت سے پھیل گیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *