Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Lot Ane Tak by Sania Chaudhary

حورین نے میڈیسن کھائی اور اب اس سے پوچھ رہی تھی
اب آپ کی باری بتایں کیا بات ہے (حورین نے دلچسپی سے پوچھا
میں نے بات کی تھی تمہارے بابا سے
پھر مان گئے کیا بابا (حورین نے بے چینی سے پوچھا جس پر ازلان کو وہ بہت کیوٹ لگی
بتایں بھی (حورین اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر دوبارہ بولی
ہاں مان گئے ہیں
سچ میں مان گئے (حور نے حوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ پوچھا
ہاں سچ میں اور اب تم آرام کرو کل ایک اور گڈ نیوز ملے گی تمہے (ازلان کہتے ہوے اٹھ کھڑا ہوا
کونسی نیوز ابھی بتایں نا (حور جلدی سے اٹھنے لگی لیکن چوٹ کی وجہ سے پھر لیٹ گئی
اس کے لئے تو کل کا انتظار کرو اوکے گڈ نائٹ (ازلان مسکراہٹ دباتے ہوے کہتا باہر نکل گیا
جب کے حور سوچ میں پڑ گئی کے کیا نیوز ہو سکتی ہے
اور اگلے حور کو اس حبر کے بارے میں پتا چل گیا جب مہر اور احراز کے رشتے کی بات کی گئی حور تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی کے اسکی جان سے عزیز دوست اسکے گھر آ جائے گی
مہر اور احراز کی منگنی کے بجاے سیدھا شادی رکھی گئی مہر کے پپرز کے بعد جو کے کچھ ہی دنوں تک تھے حور کا پاؤں پہلے سے بہتر تھا وہ ملازمہ کی مدد سے چلتی ہوئی مہر کے کمرے تک آئ
ارے حور تم یہاں مجھے بلا لیا ہوتا پاگل لڑکی (مہر نے حور کو دیکھا تو اسے سہارا دے کر بیڈ پر بٹھاتے ہوے بولی
میں تمہیں مبارک دینے آئ ہوں مہر بہت بہت مبارک ہو تمہیں یار تمہیں نہیں پتا میں کتنی خوش ہوں (حور خوش ہوتے ہوے بولی
مہر آگے سے کچھ نہیں بولی بس خاموشی سے بیڈ شیٹ پڑ انگلی پھیرتی رہی
مہر کیا تم خوش نہیں ہو (حور نے مہر سے پوچھا
پتا نہیں یار پڑ یہ سب اتنا جلدی ہو رہا ہے کے میرا دل اسیپٹ نہیں کر پا رہا (مہر ہنوز بیڈ شیٹ کی طرف دیکھتے ہوے بولی
مہر دیکھو اگر تم بھائ کی وجہ سے ٹینس ہو تو وہ تمہارے سمیت ہم سب کو پتا ہے کے وہ کتنے اچھے ہیں اور اگر تم پھر بھی مطمین نہیں ہو تو میں بھائ سے بات کرتی ہوں وہ آکر خود ہی تم سے بات کر لیں گے (حور نے آخری فقرہ مسکراہٹ دباتےہوے کہا جس پڑ مہر نے اسے گھوری سے نوازا
اچھا یہ بتاؤ واپس کب جانا ہے (حور نے مہر سے پوچھا
شائد کل جایں (مہر نے جواب دیا
ٹھیک ہے پھر میں اپنی تیاری کر لوں گی
حور اور مہر دونوں ازلان کے ساتھ شہر آ گئیںتھی حور اور مہر کے پپرز سٹارٹ تھے جس کی وجہ سے ان دونوں کو کسی چیز کا ہوش نہیں تھا بس ہر چیز بھلاے پپرز میں مصروف تھیں
حور نے تو پپرز کے بعد ازلان کا افس جوائن کر لینا تھا جب کے مہر کی شادی تھی پیپرز کے 10 دن بعد
پپرز حتم ہوے تودونوں کو ارد گرد کا کچھ ہوش آیا پہلے ایک ایک دن تو دونوں نے سونے میں گزارا اور پھر شاپنگ کی یاد آ گئی
دونوں نے اذلان کو پکڑا اور حوب چکر لگواے شاپنگ کے
ازلان مجھے آپ سے بات کرنی ہے (حور ازلان کے کمرے میں آتے ہوے بولی
یہ دیکھو میرے ہاتھ میں نہیں لے کر جا رہا تم دونوں کو شاپنگ کے لئے (ازلان نے با قائدہ ہاتھ جوڑتے ہوے کہا
کیوں نہیں لے کر جایں گے اب شادی ہو تو اتنی شاپنگ تو بنتی ہے نا (حور نے اپنے تئیں ایک اچھا جواب دیا
کتنی شاپنگ کرنی ہے تم لوگوں نے جو تم لوگوں کی مکمل ہی نہیں ہو رہی (ازلان نے جھنجھلاتے ہوے کہا
ٹھیک ہے آپ کو نہیں لے کر جانا نا لیں کر جایں ہم لوگ ڈرائیور کے ساتھ چلی جایں گی (حور نے غصے سے کہا
کوئی ضرورت نہیں ہے میں کچھ کام کر رہا ہوں وہ کر لوں پھر لے جاؤں گا(ازلان نے سنجیدگی سے کہا جس پر حور منہ بسورتی چلی گئی
پھر جو ازلان انہیں شاپنگ پڑ لے کر گیا تو مغرب کے بعد ہی واپسی ہوئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *