Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Lot Ane Tak (Episode 11)

Tere Lot Ane Tak by Sania Chaudhary

ہیلو (موبائل کان سے لگاتے ہوے اس نے کہا

تیار کیوں نہیں ہو رہی تم (حور کو اسکی آواز سے صاف لگ رہا تھا کے وہ غصے میں ہے ۔

حور نے آنکھیں بند کیں اور بولنا شروع کیا

اذلان آپ کیوں کر رہے ہیں ایسا میں میں تیار نہیں ہونگی م میں وہ ڈریس ڈ ڈال لوں گی پر تیار نہیں پلیز ۔ (حور کی آواز میں التجا تھی بے بسی تھی

تمہیں پتا ہے کل تمہارے انکار کی وجہ سے ہوا ہے سب اور اگر تم تیار نہیں ہونا چاہتی تو میں خود یہ کام کر لوں گا

اور میرے خیال میں پہلے والا طریقہ تمہارے لئے آسان ہوگا ( اتنا کہتے ہی فون بند ہوچکا تھا حور نے ایک نظر فون کو دیکھا اور باہر آ گئی ۔

اگلے دو گھنٹوں میں وہ دلہن بنی تیار تھی اسکالہنگا ریڈ اور گولڈن کلر کا تھا اور دوپٹہ ریڈ کلر کا جس پر کافی کام ہوا تھا ۔

لہنگے کے ساتھ کی جیولری تھی جب وہ تیار ہوئی تو آئینے میں اپنا آپ دیکھ کر حیران رہ گئی تھی

وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کے واقعی کسی حور کا گمان ہو رہا تھا ۔

بیوٹیشن اور سدرہ اسے اذلان کے روم میں بیٹھا کے جا چکی تھیں اور حور ان کے جانے کے بعد ایک دفع پھر آنسوں کو راستہ مل گیا تھا اسے پتا ہی نہیں چلا روتے روتے کب اسکی آنکھ لگی

اذلان کافی دیر سے گھر آیا تھا کمرے میں آ کر اذلان نے ایک نظر اسکے وجود پر ڈالی اور گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی پھر صوفے پے بیٹھ کر جوتے اتارے اور وارڈروب سے لباس نکال کر واشروم کی طرف بڑھ گیا کچھ دیر بعد واشروم سے نکلا

پھر ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر بال بناے خود پر پرفیوم سپرے کیا اور بیڈ کی طرف آ گیا ۔

وہ بیڈ کر اؤن سے ٹیک لگاے سو رہی تھی

آج وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کے اذلان کا دل چاہا سب کچھ بھول جائے لیکن وہ صرف ایک لمحے کی سوچ تھی

اگلے ہی لمحے اذلان نے ہاتھ بڑھا کر حور کے کان میں پہنے ہوے آویزے کو کھینچ ڈالا تھا جس کی وجہ سے حور کی آنکھ کھلی اور لبوں سے اک سسکی نکلی تھی ۔

جس کو نظر انداز کرتے ہوے اسنے دوسرے کان سے بھی آ ویزا کھینچ ڈالا

حور رخسار پر گرنے والے موتیوں کو روک نا سکی ۔

اسکا ہاتھ حور کے گلے میں پہنے لاکٹ کی طرف جا رہا تھا ۔

ازلان پلیز (حور نے کہتے ہوے نفی میں سر ہلایا

جاؤ اتارو ان سب چیزوں کو اور آئندہ کے بعد تم اسطرح کی کوئی چیز نہیں پہنو گی جاؤ (ازلان نے سرد لہجے میں کہا

حور فورا اٹھی اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہو کر باری باری سارے زیور اتارنے لگی

اذلان اٹھا اور حور کے پیچھے کھڑا ہو گیا

حور kا دوپٹہ پیچھے کر کے وہ اس کے گردن پر جھکا تھا لیکن اگلے ہی لمحے وہ پیچھے ہوا تھا اور اسکا دوپٹہ کھینچ کر اتار چکا تھا جسکی وجہ سے حور کے کئی بال ٹوٹ گئے تھے

ازلان نہیں (اسنے روتے ہوے نفی میں سر ہلایا پر ازلان کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا وہ روئی تھی لیکن اسکی سسکیاں اسکے مضبوط وجود میں دم توڑ گئی تھیں اسکی ہر مزاحمت بیقار گئی تھی

اک کانچ کی ہاں گریا تھی

پتھر کے دل سے پیار تھا

ٹوٹی وہ اس طرح سے کے ۔

ہاتھوں میں نا اختیار تھا

____________

سورج طلوح ہو چکا تھا پرندوں کی چہچہاہٹ شروع ہو چکی تھی اسکی آنکھ کھلی تو نظر اپنے ساتھ پڑی جہاں وہ اس کے بازو پرسر رکھے بے خبر سو رہی تھی

آنسو کے نشان اسکے رخسار پر تھے آنکھوں کے پپوٹے سوجے ہوے اس بات کی غمازی کر رہے تھے کے وہ پوری رات روتی رہی ہے

جانتے ہوے بھی وہ اسے دکھ دے چکا تھا

کے بے اختیار ہی وہ جھکا تھا اور اس کی سوجی ہوئی آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھو لیا اور اس کا سر آہستہ سے تکیے پر رکھ کر اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا ۔

جب واپس آیا تو وہ ویسے ہی سو رہی تھی ایک نظر اس پے ڈالتا وہ کمرے سے نکل گیا تھا کچھ سوچ کر کواٹر کی جانب بڑھا جہاں سدرہ اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ رہتی تھی

اسے ہدایت دے کر کے حور کو احتیاط سے ناشتے کے بعد میڈیسن دے دینا کیوں کے اسے ادراک ہو چکا تھا کے میڈم کو بخار ہے وہ آفس کے لئےروانہ ہو گیا ۔

۔ ۔ ❤❤❤

حور کی جب آنکھ کھلی تو سر میں درد ہو رہا تھا وہ بمشکل اٹھی اور فریش ہوئی رو رو کر اب تو آنسو بھی سوکھ چکے تھے ۔

وہ ابھی واشروم سے نکلی تھی کے سدرہ آ گئی اسکے ہاتھ میں غالبا ناشتے کی ٹرے تھی ۔

حورین باجی ناشتہ کر لیں (اسنے ٹرے حورین کے سامنے رکھتے ہوے کہا ۔

مجھے بھوک نہیں ہے ابھی جب ہوئی تو کر لوں گی (حور نے بمشکل مسکراتے ہوے کہا

باجی اذلان صاھب کہ کر گئے ہیں آپ کو ناشتہ بھی کروا دوں اور دوائی بھی کھلا دوں

اس کے کہنے پر حور کے دل میں درد کی لہر اٹھی تھی

کیا اسے واقعی اتنی پروا تھی

آپ جایں میں کر لوں گی (حور نے ان کی تسلی کی

وہ سر ہلاتی چلی گیں جب صبح سے دوپہر ہوئی اور حور کا ناشتہ پڑا پڑا ٹھنڈا ہو چکا تھا اور وہ بے سدھ بیڈ پر پڑی ہوئی تھی

۔ ۔ ❤❤❤

وہ ایک میٹنگ اٹینڈ کر کے ابھی روم میں آیا تھا کے اسکا موبائل بجا نمبر دیکھا تو مہر کا تھا

اس نے گہری سانس لیتے ہوے کال پک کی

السلام عليكم بھائ

وعلیکم السلام مہر بیٹا کیا حال ہے (اذلان نے نرم لہجے میں پوچھا

جی بھائ میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں اور حورین کیسی ہے

میں بھی ٹھیک ہوں اور حور بھی ٹھیک ہے آپ بتاؤ گھر میں سب ٹھیک ہے؟

جی بھائ سب ٹھیک ہیں بھائ آپ آفس میں ہیں ؟

جی بچے کیوں کوئی بات ہے کیا (اذلان کے لہجے میں فکر تھی ۔

نہیں بھائ وہ حورین سے بات کرنی تھی تو اسلئے پوچھا (مہر کی بات پر اسے یاد آیا کے صبح حورین کی طبیعت حراب تھی ۔

ہاں وہ آج گھر جا کر آپ کی بات کروا دوں گا (اذلان نے کہا پھر کچھ باتیں کرنے کے بعد فون رکھ دیا ۔

تھوڑی دیر ہی گزری تھی کے ایک بار پھر فون بجا اس دفع بنا دیکھے ہی کال اٹھائی لیکن اگلے الفاظ سنتے ہی اسنے فونبند کیا گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر نکل آیا ۔

گاڑی چلاتے ہوے ہی فون اٹھا کے کال کی اور اگلے کچھ ہی منٹوں میں وہ گھر تھا ۔

گاڑی سے اتر کر سیدھا اپنے کمرے کی طرف گیا۔

کمرے میں پہنچتے ہی نظر سیدھی حورین کے بے سدھ پڑے وجود پر پڑی اور پاس ہی سدرہ بیٹھی ہوئی تھی ۔

کیا ہوا ہے حور کو (اپنا لہجہ حتہ المقدور نارمل رکھتے ہوے پوچھا ۔

وہ جی صبح میں انہیں ناشتہ دینے آئ تھی تو انہوں کہا وہ خود کر لیں گی میں جی اپنے کاموں میں لگ گئی جب عصر کے وقت آئ تو یہ بیہوش پڑی تھی

تو میں کیا کہ کر گیا تھا کے حیال رکھنا حور کا (اذلان نے غصے سے کہا ابھی وہ اور کچھ کہتا جب ڈاکٹر کے انے کی اطلاح ملی جس کو اس نے راستے میں ہی کال کر دی تھی

ڈاکٹر چیک کرنے کے بعد اسکی طرف متوجہ ہوا ۔

کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے سردی کی وجہ سے بخار ہو گیا ہے اور کمزوری کی وجہ سے بیہوش ہو گئی ہیں یہ میڈیسن دیں ٹھیک ہو جایں گی ان شاءلله

شکریہ ڈاکٹر صاھب (اذلان نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور انھیں باہر تک چھوڑ کے آیا ایک گارڈ کو میڈ یسن لانے کا کہا اور خود کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔

پہلے حور کی طرف دیکھا پھر کچھ سوچ کر ملازمہ کو انڈے اور دودھ لانے کا کہا ۔

کچھ ہی دیر میں وہ دودھ اور انڈے لے کر آ گئی تھی اور اذلان کو مطلع کر کے اپنے کواٹر میں چلی گئی ۔

حور اٹھو شاباش کچھ کھا لو (ازلان نے اس کا گال تھتھپا کر اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن بے سود رہا ۔

اس نے بیڈ پر بیٹھ کر حور کو اٹھایا اور اپنے بازوکے حصار میں لے کر اسے کھلانے لگا ۔

حور بند آنکھوں سے اسکے سینے سے لگی کھا رہی تھی ۔

ب بس اور نہیں (اسنے تھوڑے سے انڈے کے پیس کھا کر اذلان کے سینے میں منہ چھپاتے ہوے کہا جیسے اس سے بچنا چاہ رہی ہو ۔

وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی ورنہ کبھی ایسی حرکت نا کرتی ۔

حور تھوڑا سا کھا لو (اس نے حور کو سیدھا کرتے ہوے کہا لیکن اسنے نفی میں سر ہلایا پھر اذلان نے بڑی مشکل سے اسے میڈیسن کھلائی اور لیٹا دیا ۔

وہ کمرے سے ملحقہ ٹیرس پر کھڑا تھا کافی دیر بعد جب کمرے میں گیا تو ٹھٹھک گیا ۔

حور کی بند آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے

اور غنودگی میں ہی وہ بڑبڑا رہی تھی

حور (اذلان نے پاس جا کر پکارا لیکن اسکی بڑ بڑا ہٹ جاری تھی ۔

ماما ۔ ۔ ۔ ماما آجایں مجھے ۔ ۔ ۔ لے جایں ماما (اذلان کو اسکی حالت پے بہت دکھ ہوا تھا ۔

وہ خاموشی سے اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا اور حور اسکی بڑ بڑ ا ہٹ بھی بند ہو چکی تھی ۔

صبح جب حور کی آنکھ کھلی تو کچھ محسوس ہونے پر چہرہ گھما کے دیکھا تو احساس ہوا کے وہ اذلان کے بازو پر سر رکھے سو رہی ہے اور اسکا ایک بازو حور کے اوپر رکھ کر اسے قید کیا ہوا تھا ۔

اس نے تھوڑا پیچھے کھسکنا چاہا لیکن اسکی گرفت مضبوط تھی ۔

وہ تھک کر وہیں سر رکھ کر آنکھیں موند گئی ۔

کچھ دیر بعد اذلان اٹھا جب فریش ہو کر آیا تو حور بھی اٹھ چکی تھی

کہاں جا رہی ہو (وہ باہر نکل رہی تھی جب اذلان کی آواز آئ

نا ناشتہ بنانے جا رہی ہوں (حور نے اپنے لہجے کو مضبوط بناتے ہوے کہا

چپ کر کے بیٹھی رہو یہاں سدرہ آ گئی ہو گی بنا دیا ہوگا اسنے ناشتہ (اذلان کے کہنے پر حور واپس آ کر بیٹھ گئی ۔

ایک اور بات حور وہ میڈیسن پڑی ہیں ناشتے کے بعد یاد سے کر لینا اس معاملے میں میں کوئی لاپرواہی برداشت نہیں کروں گا (وہ سخت لہجے میں کہتا ہوا باہر نکل گیا

_____________

حور جو کے لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھی ازلان کی گاڑی کا ہارن سنتے ہی اٹھی کچن کی طرف بڑھی

ازلان جب لاؤنج میں آیا تو حور ندارد تھی

وہ سیدھا اوپر کمرے میں چلا گیا

لیکن کمرے میں بھی وہ نہیں تھی

وہ فریش ہو کر نیچے آیا تو ڈائنینگ ٹیبل پر کھانا لگا ہوا تھا وہ ایک نظر ارد گرد ڈال کروہ کھانا کھانے بیٹھ گیا

کچھ دیر جب حور نظر نا آئ تو وہ اٹھ کھڑا ہوا اور لان کی طرف بڑھ گیا

اندازے کے مطابق وہ لان کے پچھلے حصے میں بنی سیڑیوں پر بیٹھی تھی

گھٹنوں پر سر رکھے وہ پتا نہیں آسمان پے کیا تلاش کر رہی تھی صبح والے کپڑوں میں ملبوس تھی جو کے شکن آلود ہو چکے تھے

بالوں کی چٹیابناے ہوے تھی جن میں کچھ شریر لیٹیں چٹیا سے نکل کر اس کے چہرے کے اطراف پھیلی ہوئیں تھیں اور دوپٹہ لا پرواہی سے کندھے پر جھول رہا تھا ۔

وہ ابھی اسکا جائزہ لینے میں مصروف تھا جب کسی کی نظروں کی تپش محسوس کر کے حور نے ارد گرد دیکھا تو ازلان کو کھڑے پایا ۔

اذلان اسکے دیکھنے پر سر جھٹکتے ہوے آگے بڑھا اور حور کے پاس جا کھڑا ہوا وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

کوئی کام ہے آپ کو (ازلان کی نظروں سے خائف ہو کر وہ بولی ۔

مہر تم سے بات کرنا چاہتی ہے کال کر لو اسے (اذلان نے کہتے ہوے فون حور کی طرف بڑھایا

جب کے مہر کے نام پر حور کے چہرے پر آتی مسکراہٹ کو ازلان نے بخوبی نوٹ کیا

حور موبائل پکڑنے لگی

جب اذلان نے فون والا ہاتھ پیچھے کر لیا ۔

ایک بات یاد رکھنا حور مہر سے اپنے یہاں جانے کی بات ہر گز مت کرنا کیوں تمہارے فرار کے سارے راستے تو میں مسدود کر ہی چکا ہوں ۔

(اتنا کہتے ہوے وہ اسکی طرف جھکا تھا جب کے حور کی آنکھوں میں خوف کے ڈورے نمایا ہوے تھے

یک لخت اسکی آنکھوں میں نمی آئ تھی پر اس سنگ دل کو کیا پروا تھی وہ تو بس اپنی کہے جا رہا تھا

یہ نا ہو

سو اگر تمہیں اب بھی یہاں سے جانے کا شوق ہوا تو یہ اسکے نتائج بھی سوچ لینا

(اس کے اور حور کے چہرے بلکل قریب تھے اتنے کے حور اسکی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی

اپنی بات کہ کر وہ پیچھے ہٹا اور جانے لگا کے یک دم رکا

اور ایک بات آئندہ میں جب گھر آوں تو تم مجھے سامنے چاہیے ہو (اپنی بات کہ کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہا ں سے چلا گیا

جب کے حور آنکھوں میں آئ نمی کو پیچھے دھکیلتی مہر کا نمبر ملانے لگی ۔

کچھ بیل کے بعد دوسری طرف سے کال اٹھا لی گئی تھی ۔

لیکن دوسری طرف سے آتی آواز سے آنکھیں ایک دفع پھر سے نم ہو چکی تھیں کچھ بولنے کی کوشش میں لب پھڑ پھڑا ے تھے

ب بھ بھائ (ٹوٹے پھوٹے لفظ ادا ہوے تھے کتنے دن بعد اپنے ماں جائے کی آواز سنی تھی ۔

کیسی ہے میری گڑیا (دوسری طرف سے اسکی پیار بھری آواز آئ تھی ۔

م میں ٹھیک ہوں بھائ آپ کیسے ہیں اور ماما بابا ۔مہر سب کیسے ہیں (جب بولنے لگی تو جواب کے ساتھ ہی سوال بھی کر ڈالا ۔

جس پر دوسری طرف اخراز ہنس دیا تھا

سب ٹھیک ہیں اور آپ کو بہت مس کرتے ہیں

میں بھی بہت مس کرتی ہوں سب کو کہتے ہوے

اس کی آنکھوں میں نمی در آئ تھی

حور بیٹے آپ ٹھیک ہو نا ؟ازلانکا رویہ آپ سے ٹھیک تو ہے نا (اخراز

کے لہجے میں تشویش تھی فکر تھی پیار تھا

اسکے اس لبوں لہجے پر حور کا دل کا سب کچھ اسے بتا دے پر پھر ازلان کی باتیں یاد آتے ہی وہ سوچوں کو جھٹک چکی تھی ۔

میں ٹھیک ہوں بھائ اور ازلان بھی ٹھیک ہیں میرے ساتھ (حور نے اپنے لہجے کو مضبوط بناتے ہوے کہا

دیکھو حور بیٹا مجھے پتا ہے کے وہ آپ کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے میں نے اسے کئی دفع کالز بھی کی ہے لیکن ۔ ۔ ۔

حیر آپ نا امید نا ہو وہ ٹھیک ہو جائے گا میں بھی پھر بات کروں گا آپ نے پریشان نہیں ہونا ٹھیک ہے نا ؟(اس نے بات کر کے آخر میں پوچھا

جی بھائ (پھر کافی دیر اس سے اور مہر سے باتیں کرنے کے بعد وہ فون بند کر کے اٹھی اور کمرے کی طرف بڑھ گئی یہ سوچ کر کے ازلان سو چکا ہو گا

لیکن اسکی سوچ کے بر عکس وہ جاگ رہا تھا حور خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی ۔

۔ ❤❤❤

اگلا دن حسب معمول گزرا تھا حور صبح ناشتہ تیار کر کے ازلان کے کہنے کے مطابق کمرے میں ہی لے آئ تھی وہ ناشتہ کرتا گاہے بگاہے اس پر بھی نظر ڈال رہا تھا جو بکھری چیزیں سمیٹ رہی تھی ۔

اذلان کی نظر اسکے حلیے پر گئی تو غصہ عود آیا وہ بلکل ملگجے سے حلیے میں تھی

حور بیڈ شیٹ ٹھیک کر کے مڑی تو ازلان بلکل اسکے پیچھے کھڑا تھا

وہ بیڈ پر گرنے کو تھی جب اذلان نے ہاتھ بڑھا کر اسے تھام لیا ۔

یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے تم نے (وہ اسکو پکڑے پکڑے سخت تیوروں سے اس سے پوچھ رہا تھا ۔

اور اسکے غصے سے ہی تو حور کی جان جاتی تھی ۔

ک کیا ہوا ہے میرے حلیے کو

(حور نے آہستگی سے پوچھا

یہ آخری بار کہ رہا ہوں حور آئندہ مجھے تم اس ملگجے حلیے میں نظر نا آو ورنہ بہت بری طرح پیش اوں گا

(وہ کہتے ہوے اسے چھوڑ کر ٹیبل سے اپنی فائلز اٹھاتا خدا حافظ بول کر باہر نکل گیا

جب کے حور اسکے نئے حکم پر غش کھا کر رہ گئی.

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *