Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Lot Ane Tak (Episode 13)

Tere Lot Ane Tak by Sania Chaudhary

دن تیزی سے گزر رہے تھے حور نے آنے کے بعد ازلان سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا

اور نا ہی ازلان کی طرف سے کوئی کال آئ پر اندر ہی اندر وہ ڈر رہی تھی کے ازلان کی یہ خاموشی طوفان سے پہلے والی خاموشی ثابت نا ہو بس ۔

وہانہی سوچوں میں گھری تھی جب مہر کی آواز پر چونکی ۔

کہاں کھوئی ہو میڈم

اوں ہوں کہیں نہیں (حور نے نفی میں سر ہلاتے ہوے کہا ۔

مہر بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گئی ۔

حور میں نے ایک بات نوٹ کی ہے ویسے (کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مہر بولی تھی

حور نے سوالیہ نظروں سے مہر کی جانب دیکھا ۔

تم کتنی بور ہو گئی ہو نا پہلے کی طرح بولتی ہو نا شرارتیں کرتی ہو (مہرکے لہجے میں شکوہ تھا فکر تھی ۔

کیا کروں مہر اب میرا دل ہی نہیں کرتا کچھ کرنے کو روح پے گھاؤ ہی ایسے لگے ہیں (حور دور خلاؤں میں دیکھتی ہوئی بولی

حور پلیز یار تم اداس نا ہو وقت کے ساتھ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا بس تم خوش رہا کرو

حورمخص مسکرا کے رہ گئی ۔

اچھا یہ بتاؤ شادی پے کیا پہننا ہے (مہر نے بات کا کا رخ بدلہ ۔

حور کی خالہ اور مہر کے ماموں کے بیٹے کی شادی تھی

ابھی تو سوچوں گی کے کیا پہنوں تم کیا پہنو گی

نہیں میں نے سوچا دونوں مل کر کریں گی (مہر نے جواب دیا ۔

اچھا اؤ ابھی دیکھ لیتی ہیں (حورکہتی ہوئی اٹھی

چلو (مہر بھی ساتھ ہو لی ۔

۔ ❤❤❤

شادی میں کچھ دن ہی رہ گئے تھے فرحانہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی ہوئیں تھیں جب یکدم نگاہ اٹھی اور پھر ساکت رہ گئی ۔

السلام عليكم ماما (وہ ان کے قریب آیا

کیسی ہیں آپ (اور ان کے سر پر بوسہ دیتے ہوے بولا جب کے وہ تو خیران تھیں ۔

لیکن اگلے ہی لمحےوہ ازلان کے سینے سے لگے رو رہی تھیں ۔

ماما کیا ہو گیا ہے آپ کو میں آ گیا ہوں نا ( ازلان نے کہتے ہوے انھیں چپ کروایا ۔

اتنے دنوں بعد اے ہو اور جو حال تم نے میری بچی کا کیا ہے نا اسکے لئے میں تمہیں کبھی معاف نا کروں (اب کے انہوں نے سخت لہجے میں سنائی ۔

ماما آپ بھی اتنے دنوں بعد آیا ہوں اور آپ کو بھی ان میڈم کی فکر ہے میری کوئی فکر نہیں ہے

اور جہاں تک بات اسکی ہے تو ماما وہ بیوی ہے اور یہ ہم دونوں کا معملا ہے (ازلان کہتے ہوے اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا ۔

کھانا کھاؤ گے نیچےہی لگواؤں یاکمرے میں بھیج دوں (پیچھے سے انکی خفگی سے بھرپور آواز آئ ۔

کمرے میں ہی بھیج دیں (وہ کہتا ہوا کمرے کی طرف بڑھ گیا

۔ ❤❤❤

اور شام تک سب کو علم ہو چکا تھا ازلان کی آمد کا

حور جو کے دن میں دو سے تین چکر تائی امی کی طرف لگا کر آتی تھی

آج ایک دفع بھی نہیں گئی تھی اور وہ جا کر اپنی شامت نہیں بلوانا چاہتی تھی

حور یار کیا اندھیرا کر کے بیٹھی ہو باہر نکلو دیکھو کتنا پیارا موسم ہے باہر (مہر اس کے کمرے میں آکر بولتی ہوئی کھڑکی سے پردے پیچھے کرنے لگی ۔

کچھ نہیں بس طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تو

کیا ہوا ہے تمہاری طبیعت کو (مہر فکرمندی سے بولی

کچھ نہیں ہوا اؤ لان میں چلتی ہیں تازہ ہوا کھاؤں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی (حور کہتی ہوئی اٹھی ۔

وہ دونوں لان میں آ گئیں کل ان سب کو شادی کے لئے نکلنا تھا ۔

وہ دونوں واک کر رہی تھیں اور دو آنکھیں مسلسل انہیں دیکھ رہی تھیں ۔

واک کرتے کرتے حور کو یک دم پتا نہیں کیا ہوا کے اگلے ہی پل وہ زمین بوس ہو چکی تھی اور مہر حواس باختہ سی ہو گئی

_____________

حور اٹھو حور (مہر اس پر جھکی اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ بے سدھ پڑی تھی اخراز اور بابا بھی گھر نہیں تھے

ابھی اسی کشمکش میں تھی کے ازلان آیا

پیچھے ہٹو (ازلان مہر کو کہتا ہوا جھکا اور حور کو کسی نازک کلی کی طرح اپنے بازؤوں میں اٹھایا اور اندر کی جانب بڑھ گیا اور مہر کو جھٹکا

تو تب لگا جب وہ اپنی حویلی کی طرف بڑھا

بھائی (مہر نے اسے پکارا لیکن وہ سنی ان سنی کرتا آگے بڑھ گیا ۔

جب کے مہر بھی پیچھے ہی تھی اس نے حور کو لے جا کراپنے کمرے میں بیڈ پر لٹایا اور لیڈی ڈاکٹر کو کال کی ۔

ماما اورتائی امی بھی پریشان سی کھڑی تھیں ۔

کچھ دیر بعد ڈاکٹر آئ تو سب کو کمرے سے باہر جانے کا بولا

کچھ ہی دیر بعد وہ کمرے سے باہر آئیں

مبارک ہو آپ سب کو شی از پریگنینٹ (ڈاکٹر کے کہنے پر سب کے چہروں پر خوشی کی لہڑ دوڑ گئی ۔

حور کو جب ہوش آیا تو خود کو اپنے کمرے کی بجاے ازلان کے کمرے میں دیکھ کر آنکھیں یکدم خیرت سے پھیل گئی ۔

حور بہت بہت مبارک ہو (حور ابھی سہی سے سمجھنے کی

کوشش کر رہی تھی جب مہر کی پرجوش آواز آئ ۔

حور نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگ گئی ۔

حور میں پھوپھو اور تم ماما بننے والی ہو ۔

حور تو خیرت سے منہ کھولے اسے دیکھنے لگی ۔

منہ تو بند کر لو (مہر کے کہنے پر اسے یکدم احساس ہوا ۔

کیا ہوا تم خوش نہیں ہو (مہر نے اسے خالی خالی نظروں سے دیکھتے پا کر استفسار کیا ۔

نہیں میں خوش ہوں (حور نے مسکرانے کی کوشش کی ۔

اچھا تم آرام کرو میں تمہارے لئے کچھ لے کر آتی ہوں (مہر کہتی ہوئی اٹھ کے چلی گئی ۔

اور وہ سوچوں میں گھری رہ گئی

اسے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کے وہ خوش ہے یا نہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کے کیا ہے

اسکا مستقبل سوچوں کا رخ ازلان کی طرف مڑ گیا کیا وہ خوش ہے یا نہیں اس نے تو محص انتقام کی خاطر شادی کی تھی تو اب کیا وہ ٹھیک ہو جائے گا یا ابھی بھی اسکا رویہ ویسا ہی رہے گا

۔ ۔ ❤❤❤

مہرکمرے کی چیزیں سمیٹ رہی تھی جب اخراز کمرے میں داخل ہوا دونوں کے درمیان لا تعلقی ہنوز تھی اخراز نے کافی کوشش کی تھی لیکن مہر کی طرف سے ہر دفع خاموشی ہوتی ۔

مہر بات سنو (اخراز نے مہر سے کہا ۔

جی (مہر اپنے کام میں مصروف رہتے ہوے بولی ۔

کب تک چلے گا یہ

کیا؟(مہر نے نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔

یہ سب یہ تمہاری بیگانگی یہ لا تعلقی یہ سب کب تک چلے گا ۔(اخراز نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوے کہا جو لے خلاف توقعاس نے چھڑایا نہیں تھا ۔

مہر میں کچھ پوچھ رہا ہوں (اخراز نے اسے خاموش پا کر دوبارہ سوال کیا ۔

اخراز میں آپ سے خفا نہیں ہوں نا ہی آپ سے لا تعلقی برت رہی ہوں پر میرا ذہن اتنا زیادہ ڈسٹرب ہو چکا تھا کے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی

میں میں کبھی آپ سے بیگانا ہو ہی نہیں سکتی میں نے انجانے میں ہی اتنے دن آپ سے رویہ برا رکھا مجھے معاف کر دیں میں سمجھ گئی ہوں غلطی میری ہے

مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا (مہر روتے ہوے اخراز سے کہ رہی تھی اور وہ وہ تو اس سب سے اتنا خوش تھا کے بیان سے باہر تھا ۔

چپ مہر اب نہیں رونا چپ میں خفا نہیں ہوں نا ہی مجھے کوئی گلہ ہے تم سے

(اخراز نے کہتے ہوے اسے اپنے باہوں کے حصار میں لایا دھندھ کے بادل جھٹ چکے تھے اب بس خوشیاں ہی خوشیاں تھیں اسکی زندگی میں ۔

۔ ۔❤❤❤

حورکمرے میں لیٹی ہوئی تھی کچھ دیر پہلے ہی مہر اسے دودھ دے کر گئی تھی کے پی لے لیکن اسے دودھ سے اتنی چڑ تھی کے اسنے کبھی پیا ہی نہیں تھا ۔

ازلان جب کمرے میں آیا تو ایک نظر حور پر ڈال کر واشروم کی طرف بڑھ گیا

واپس آیا تو تب بھی وہ ایسے ہی بی نیاز بیٹھی تھی ۔

ازلان کی نظر دودھ لے گلاس پر پڑھی ۔

حور دودھ کیوں پیا تم نے ؟(وہ حور کے سامنے بیٹھا قدرے نرم لہجے میں استفسار کر رہا تھا ۔

کیوں کے میں دودھ نہیں پیتی

تم نہیں پیتی لیکن یہ تمہاری صحت کے لئے ضروری ہے حور (ازلان نے کہتے ہوے دودھ کا گلاس حور کے ہونٹوں سے لگایا

حور (حور دودھ کا گلاس پیچھے کر رہی تھی جب ازلان نے تنبیہ کی ۔

مجبورا اسے دودھ پینے پڑا ۔

حور میں تم سے ایک بات کلئیر کر دینا چاہتا ہوں مجھے اپنی اولاد کی بہت فکر ہے اور یہ بات یاد رکھنا

ہمارے رشتے کی وجہ سے ہماری اولاد پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہیے اور نا ہی میں اس سلسلے میں کوئی کوتاہی یا غلطی برداشت کروں گا یہ بات اپنے دماغ میں بیٹھا لو ۔

آرام کرو تمہیں آرام کی ضرورت ہے (وہ کہتا ہوا اٹھ کر کمرے سے ملحقہ ٹیرس پر چلا گیا

جب کے حور تو خیران سی بیٹھی تھی ۔

۔ ❤❤❤

آج ان سب نے شادی پر جانا تھا حور اور ازلان ایک گاڑی میں جب کے بڑے ایک گاڑ ی میں اور مہر اور اخراز دونوں ایک گاڑی میں تھے

وہاں پوھنچ کر مرد تومردانے کی طرف بڑھ گئے جب کے حور اور مہر دونوں سب سے مل کر کزنز کے ساتھ بیٹھ گئیں اور ماما اور تائی دونوں بڑوں کے ساتھ بیٹھ گئیں ۔

آج مہندی کا فنکشن تھا اور کل بارات تھی لڑکیوں نے خوب ہلہ گلہ مچایاہوا تھا ساری کزنز ڈانس کرنے میں مصروف تھیں تو ایسے میں حور کیسے پیچھے رہ سکتی تھی

کچھ کزنز مہندی لگانے میں مصروف تھیں لیکن حور کو تو شروع سے مہندی سے الرجی تھی

وہ بڑے مگن سے انداز میں ڈانس کر رہی تھی جب نظر سامنے کھڑے ازلان پر پڑی تو یک دم رک گئی وہ خشمگی نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا ۔

شیزہ یہ میری زوجہ مخترمہ کو بھی مہندی لگا دو (ازلان نے جو کزن مہندی لگا رہی تھی اسے بولا

جب کے نظر حور پر تھی جب کے حور تو دنک سی ہو گئی تھی اسکی بات پر ۔

میں تو لگا دوں گی ازلان بھائی لیکن آپ پہلے اپنی زوجہ سے تو پوچھ لیں وہ لگوایں گی بھی یا نہیں (شیزہ نے حور کو پریشان دیکھ کر کہا ۔

میں کہ رہا ہوں نا تو اب تو یہ لگایں گی ہی کیوں حور (ازلان نے حور کو دیکھتے ہوے پوچھا ۔

حور واضح اسکی آنکھوں میں وارننگ دیکھ سکتی تھی اسکا سر میکانکی انداز میں اثبات میں ہل گیا ۔

وہ تو چلا گیا پر اب شیزہ حور کو پکڑے بھر بھر کر مہندی اسکے ہاتھوں پے لگا رہی تھی اور اسکا دل اتنا خراب ہو رہا تھا کے بس ۔۔۔۔

اور حور وہ یہ کیوں بھول گئی تھی کے یہاں ازلان بھی ہے جو کے اسے کبھی نہیں بخش سکتا ۔۔۔

____________

شیزہ حور کو لئے بیٹھی تھی اور بھر بھر کر مہندی لگا رہی تھی جب کے حور تو اس وقت کو کوس رہی تھی

جب اس نے ڈانس کیا تھا اسکی طبیعت خراب ہو رہی تھی لیکن ضبط کر کے بیٹھی تھی ۔

حورین تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا(شیزہ نے یک دم سر اٹھا کر حورین کی طرف دیکھ کر کہا ۔

ہاں ٹھیک ہوں میں (حورین نے بمشکل مسکراتے ہوے کہا ۔

تمہاری آنکھیں کیوں سرخ ہو رہی ہیں مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی (اس نے تشویش سے حور کی آنکھوں کو دیکھتے ہوے کہا جو کے بہت زیادہ سرخ ہو چکی تھیں ۔

ہاں بس سر میں درد ہے شائد اس وجہ سے (حور نے بہانہ بنایا ۔

شیزہ اثبات میں سر ہلاتی دوبارہ مہندی لگانے کی طرف متوجہ ہو گئی ۔

پھر کچھ ہی دیر میں حور کے دونوں ہاتھوں پر مہندی لگ چکی تھی وہ اٹھ کر جس کمرے میں ٹھہری تھی وہاں آ گئی ۔

مہندی کی خوشبوکی وجہ سے طبیعت زیادہ خراب ہو رہی تھی لیکن اب مہندی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی ۔

حور کا دل حراب ہو رہا تھا ۔وہ بار بار آنے والی ابکائی کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔

ازلان نے آتے وقت کچھ رقم حور کے بیگ میں رکھوائی تھی جو لینے کے لئے وہ اس کے پاس آیا ۔

حور کا دل اتنا خراب ہو رہا تھا وہ اٹھ کر واش روم چلی گئی ۔وہ جب باہر نکلی تو اس کا رنگ زرد پڑ چکا تھا ۔حور ٹشو سے منہ کو صاف کر رہی تھی ازلان اس کے پیچھے آکر کب کھڑا ہو گیا اسے معلوم ہی نہ ہوا ۔

ازلان کی آواز پر وہ چونک گئ

حورجو رقم میں نے تمہیں دی تھی وہ لا کے دو ۔وہ ہمیشہ کی طرح سخت لہجے میں بولا ۔

حور نے مڑ کار ازلان کی طرف دیکھا ۔آنکھیں سرخ تھیں اور ان میں پانی بھرا ہوا تھا

۔چہرہ بھی زرد ہو چکا تھا ۔ازلان حور کاچہرہ دیکھ کر پریشان ہو گیا ہوں تم ٹھیک تو ہو تمہارا رنگ اتنا زرد کیوں ہو گیا ہے ۔

وہ فکرمندی سے پوچھنے لگا حور کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ پھر ابکائی آنے پر وہ دوبارہ سے واش روم کی طرف بھاگی ۔

اذلان کو اس کی حالت دیکھ کر آ تشویش لاحق ہو رہی تھی ۔

حور کے باہر آنے پر اس نے حور کا ہاتھ تھام کر اسے بٹھایا ۔

کیا ہوا تمہیں حور (حور کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو چکے تھے۔

میں مہندی ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ دوبارہ سے اس کا دل خراب ہونے لگ گیا وہ کچھ بھی بول نہیں پا رہی تھی ۔

ازلان نے ایک نظر اس کے ہاتھوں پر ڈالی جو مہندی سے بھرے ہوئے تھے از لان نے اسے اٹھایا اور واش روم لے جا کر اس کے ہاتھ دھو دئیے ۔

مہندی جلدی اتار دی گئی اس کے باوجود مہندی کا رنگ کافی زیادہ آیا تھا ۔

از لان نے حور کا بازو تھام کر اسے اپنے ساتھ گاڑی تک لے آیا ۔اور کال کر کے مہر کو حور کی طبیعت کا بتادیا اور یہ بھی بتا دیا کہ وہ اسے یہاں سے لے کر جا رہا ہے ۔

وہ حور کولے کر سیدھا داکٹر پاس چلا گیا

ڈاکٹر نے حور کو چیک کیا ۔دیکھیں از لان حور کے کنڈیشن ویسے ہی خراب ہےاور انکا بےبی بھی بہت ویک ہے ۔

آپ ان کا بہت خیال رکھیں ۔اور جن چیزوں سے خور کو ایلرجی ہے ان سے تو خاص طور پر انہیں دور رکھیں ہوسکتا ہے کہ بےبی کو بھی پھر الرجی کا پرابلم ہو جائے ۔

اس لئے آپ تھوڑی احتیاط کریں

۔ڈاکٹر نے مزید ہدایت از لان کو دی ۔

ازلان نے خور کو تھاما اور اسے گاڑی تک لے آیا اس نے گاڑی سیدھا گھر کی طرف جانے والے راستےپر ڈال دی ۔

حورنڈھال سی بیک سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی ہوئی تھی

گاڑی پورچ میں رکھتے ہیں ازلان گاڑی سے باہر نکلا اور دوسری طرف آکر حور کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور اندر کی طرف بڑھ گیا

کمرے میں جاکر اسے بیڈ پر لٹایا اور خود باہر نکل گیا ۔

کچھ دیر بعد واپس آیا تو ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی ۔

حور اٹھو کھانا کھا لو (از لان نے ‏ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا ۔

اور خود پیٹھ پر بیٹھ کر ا سے کھانا کھلانے لگا ا سنے ایک شکوہ کناں نظر از لان پر ڈالی اور کھانا کھانے لگی

بس ( تھوڑا سا کھانے کے بعد حور نے نڈھال سی آواز میں کہا

ازلان نے اسے میڈیسن کی جو اس نے بغیر کسی بحث کے کھالی۔

اور کچھ ہی دیر میں سو گئی ازلان جب دوبارہ کمرے میں آیا تو نظر سوئی ہوئی حور کی ہاتھوں پر پری اس کے ہاتھ سرخ ہو چکے تھے

اذلان کوئی قدم شرمندگی نے اندھیرا اس کو حور کی نہ سہی لیکن اپنے بچے کی فکر ہونی چاہیے تھی

اور اسے ایسی احمقانہ حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی حور کے اوپر جتنا غصہ سہی لیکن اپنے بچے کے ساتھ وہ کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا

وہ تو پوری رات سکون سے سوئی رہی لیکن اذلان نے وہ رات سگریٹ پھونکتے ہوئے گزار دی ۔

صبح جب حور آنکھ کھلی تو کافی وقت ہو چکا تھا اس نے اپنی طبیعت کے پہلے سے بہتر محسوس کی جب وہ فریش ہو کر باہر نکلی تو ازلان کمرے میں ہی تھا اور ٹیبل پر ناشتہ پڑا ہوا تھا

وہ خاموشی سے ڈریسنگ کی طرف بڑھ گئی

حورناشتہ کر لو آ کر (کچھ دیر بعد اذان کی آواز آئ

حور خاموشی سے جاکر ناشتہ کرنے لگ گئی

طبیعت کیسی ہے تمہاری اب (از لان نے اپنا ناشتہ ختم کرتے ہوئے کہا لہجہ کسی تاثر سے عاری تھا ۔

ٹھیک ہوں پہلے سے (وہ کہہ کر دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوگئی

اگر تم بیٹر فیل نہیں کر رہی تو میں فون کرکے وہاں جانے سے ایکسکیوز کرلیتا ہوں (کچھ دیر بعد اس نے کہا

اور وہ سوچ رہی تھی کہ کیا اسے میری اتنی ہی پرواہ ہے

نہیں ٹھیک ہے پہلے سے میں چلی جاؤں گی (کچھ دیر بعد اس نے جواب دیا..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *