Tere Lout Ane Tak by Sania Chaudhary NovelR50698 Tere Lot Ane Tak (Episode 01)
Rate this Novel
Tere Lot Ane Tak (Episode 01)
Tere Lot Ane Tak by Sania Chaudhary
وہ کمرے میں بیٹھاآفس کا کام رہا تھا جب دروازے پر ناک ہوا وہ جانتا تھا کہ اس وقت کون ہوسکتا ہے
میں آ جاؤں .اس نے دروازے سے جھانک کر پوچھا ۔تمہیں پہلے کبھی اجازت کی ضرورت ہوئی ہے ۔ازلان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔حورین دروازہ کھول کر اندر آ چکی تھی ۔اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں دو کافی کے کپ تھے ۔جنہیں دیکھ کر ازلان کی مسکراہٹ گہری ہو گئی اپنے لئے کافی بنا رہی تھی تو سوچا آپ کے لئے بھی بنا دوں
وہ ٹرے ٹیبل پر رکھی اور صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی
گھر میں تو آفس کا کام چھوڑ دیا کریں حورین اسے ہنوز فائلوں میں سر دیے دیکھتے ہوے بولی
لو کر دی بند اور کچھ (ازلان نے فائل بند کرکے اس سے مسکراتے ہوے پوچھا
یہ مہر کدھر ہے؟(ازلان نے کافی کا کپ اٹھاتے ہوے پوچھا
آپ کو تو پتا ہے انہیں سونے کی کتنی جلدی ہوتی ہے کب سے سو گئی ہیں وہ
آپ گاؤں کب جا رہے ہیں (حورین نے کافی کا سپ لیتے ہوے پوچھا
شائد کچھ دن تک کیوں کچھ منگوانا ہے (ازلان نے سوالیہ نظروں سے پوچھا
ایک ہیلپ کریں گی پلیز کیوں کے آپ کے علاوہ یہ کوئی نہیں کر سکتا (حور نے آنکھیں پٹپٹا تے ہوے کہا
زیادہ مکھن لگانے کی ضرورت نہیں ہے کام بتاؤ (ازلان نے مسکراہٹ روکتے ہوے کہا
وہ میں پارٹ ٹائم جاب کرنا چاہتی ہوں اور آپ بابا سے اجازت لے دیں (حورین نے لمحے بھر کے توقف سے بات کی
حور تم جانتی ہو تمہارے بابا کیا میں بھی اس حق میں نہیں ہوں اور ابھی تمہارے گریجویشن کے پیپرز ہونے والے ہیں نا (ازلان سنجیدگی سےاسے سمجھا رہا تھا
پڑ آپ جانتے ہیں کے مجھے کتنا شوق ہےاور اگر آپ بابا سے بات کریں گے تو وہ مان جایں گے پلیز آپ کو پتا ہے وہ آپ کی کوئی بات نہیں ٹالتے (حورین نے ملتجی لہجے میں کہا
ٹھیک ہے کر لوں گا بات پڑ تم میرے آفس میں میرے انڈر کام کرو گی اور وہ بھی صرف دو سے تین گھنٹے کیوں کے ساتھ پڑھائی بھی کرنی ہے اوکے (ازلان نے لمحہ بھر سوچنے کے بعد کہا
اوکے اوکے تھینک یو سو مچ (حورین نے مسرت جذبات میں کہا
اچھا یہ بتاؤ کے تیاری کیسی ہے
بہت اچھی تیاری ہے بس پپیرز ہوں تو جان چھوٹے (حور نے منہ بناتے ہوے کہا
ٹھیک ہے پھر پپرز کے بعد آفس جوائن کرنا ٹھیک ہے (ازلان نے خالی کپ ٹیبل پے رکھتے ہوے کہا
ٹھیک ہے(حور نے مسکراتے ہوے کہا
اچھا اب جا کر سو جاؤ ورنہ صبح پھر آنکھ نہیں کھلے گی (ازلان نے ازلی مسکراہٹ سے کہا
اوکے گڈ نائٹ (حورین نے کافی کے کپ ٹرے میں رکھے اور جاتے ہوے بولی
گڈ نائٹ
۔ ۔ ۔ ۔![]()
![]()
![]()
![]()
سندھ کے گاؤں میں مراد راؤ رہتے تھے جن کا شمار وہاں کےبڑے لوگوں میں ہوتا تھا اپنی زمینیں اور سیاست میں بھی تھے اور ان کے 2 بیٹے حماد راؤ اور ازلان راؤ تھے حماد ازلان سے دو سال بڑے تھے جب کے ایک بیٹی محرمہ تھی اور ان کے ایک چچا زاد بھائی ضرا ر جن کی حویلی ان کی حویلی کے بلکل ساتھ بنی ہوئی تھی ان کی 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی تھی جب کے بیٹا احراز گاؤں ہی ہوتا تھا اور سب سے چھوٹی بیٹی حورین تھی جو کے سب کو عزیز بھی بہت زیادہ تھی حورین اور مہر دونوں ازلان کے ساتھ شہر والے گھر رہتی تھیں پڑھائی کی وجہ سے مہر ایم ایس سی کے لاسٹ ا ئیر میں جب کے حورین گریجویشن کے آخری سال میں تھی
ازلان کو زمینوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی جسکی وجہ سے وہ شہر ہی رہتا تھا اور یہاں بزنس سیٹ کر رکھا تھا
ازلان اور حورین کی آپس میں بہت بنتی تھی حالانکے ازلان اس سے 8 سال بڑا تھا پڑ جب بھی حورین نے اپنی کوئی بات منوانی ہوتی تو وہ ازلان کو ہی کہتی تھی اور ازلان اسے اپنی زندگی میں حماد اور مہر کے علاوہ سب سے زیادہ عزیز حورین تھی اسکی وہ کوئی بات ٹال ہی نہیں سکتا تھا یہ بات سب جانتے تھےحورین مہر اور ازلان تینوں کراچی رہتے تھے حورین اور مہر پڑھائی کے سلسلے میں جب کے ازلان کا بزنس سیٹ تھا ادھر اور اب سیاست میں جانے کا حیال رکھتا تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اذلان ناشتہ کر رہا تھا جب حور آندھی طوفان کی طرح آئ
اذلان جلدی چلیں میرا امپورٹنٹ لیکچر ہے(وہ جلدی جلدی شال اوڑھتی ہوئی بولی
پہلے ناشتہ تو کر لو (ازلان نے نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوے کہا
نہیں نا ادھر ہی کھالوں گی مہر کا تو آف ہے وہ تو جایں گی نہیں آپ جلدی چلیں (وہ کہتی ہوئی باہر کی طرف بڑھی جب کے ازلان بھی اسکے پیچھے باہر کی طرف بڑھ گیا
ازلان باہر آیا تو حور پہلے سے ہی گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی
ازلان نے آکے دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ سمبھال لی اور گاڑی سٹارٹ کر کے گیٹ سے باہر نکالی ان کی گاڑی کے پیچھے ہی با وردی مسلح افراد کی ایک اور گاڑی نکلی جیسے دیکھتے ہی ہر بار کی طرح آج بھی حور کا منہ بن گیا
ازلان یہ ان سب کو کیا گھر سکون نہیں ملتا اتنا عجیب لگتا ہے (حور نے اتنے برے برے منہ بنا کر ازلان کو کہا جس پڑ اس نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی
یہ ہماری حفاظت کے لئے ہیں حور اور یہ ان کی ڈ یوٹی ہے (ازلان نے سنجیدگی سے کہا جس پڑ حور برے برے منہ بناتی باہر دیکھنے لگ گئی کالج آیا
1بجےمیں فری ہو جاؤں گی آ جائے گاپلیز
وہ بولتی ہوئی جلدی جلدی چیزیں سمبھالتی باہر بڑھی (جب کے ازلان نے مسکراتے ہوےاسے جاتا دیکھتا رہا اور پھر گاڑی آگے بھگا لی
۔ ۔ ![]()
![]()
۔ ۔ ۔ ۔
اس نے سارے لیکچر لئے اور اب فری ہو کر ٹائم دیکھا تو 1 بج چکا تھا وہ جلدی سے باہر کی طرف بڑھی اور گیٹ سے جھانکا لیکن ازلان ابھی تک نہیں آیا تھا
وہ مایوس سی واپس آئ اور فون نکال کر اسے کال کرنے لگی
اور دوسری طرف ازلان وہ صبح سے آفس میں نہایت مصروف تھا اور اسکے ذہن سے یہ نکل چکا تھا کے اسنے حور کو لینے جانا ہے یکدم اسکی نظر دیوار گیر گھڑی پڑ پڑی جو کے 1:15 کا پتا دے رہی تھی اسنے جلدی سے کام حتم کیا اور گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر کی طرف بڑھا جلدی جلدی ڈرائیو کرتا وہ کالج پوھنچا اور اور حور کو کال کرنے لگا کے حور کی کافی زیادہ کالز آئ ہوئیں تھیں موبائل سائلینٹ پے ہونے کی وجہ سے پتا نا چلا اسنے حور کو کال کی
باہر آ ؤ میں انتظار کر رہا ہوں (حور نے اوکے کہتے ہوے کال کاٹ دی
اذلان گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا بلیک پینٹ کے اوپر وائٹ شرٹ اور بلیک ہی کوٹ ڈالے بازو میں قیمتی گھڑی ڈالے اور آنکھوں پےگلا سز لگاے اپنی شاندار پرسنیلٹی سے ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلا حیت رکھتا تھا
کچھ ہی لمحے گزرے ہوں گے کے اسے حور آتی دکھائی دی بلیک کلر کی شال میں چمکتی رنگت لئے وہ گاڑی کی طرف آئ بیگ پچھلی سیٹ پڑ رکھا اور خود فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی ازلان کو گر بڑ کا احساس ہوا وہ گاڑی میں بیٹھا تو حور حلاف معمول چپ تھی اور اسکا رخ باہر کی جانب تھا
ازلان نے گاڑی سٹارٹ کی اور حور کی طرف دیکھا
حور ناراض ہو ؟(حور نے کوئی جواب نا دیا
ازلان نے حور کا رخ اپنی جانب کیا
لیکن ٹھٹھک گیا کیوں کے حور کی آنکھیں رونے کی چغلی کھا رہی تھیں
اسکو اس طرح دیکھ کر ازلان کے دل کو کچھ ہوا تھا
سوری یار میں بزی تھا اسلئے ٹائم کا پتا ہی نہیں چلا
مجھے نہیں آپ سے بات کر نی اگر آپ کو اب بھی یاد نا آتا تو (حور کہنے کے ساتھ ہی رو پڑی
اچھا رونا بند کرو اب تو میں آگیا ہوں نا اور پرومس نیکسٹ ٹائم لیٹ نہیں ہونگا (اس نے کہتے ساتھ ہی اسکےآنسو صاف کیے
اچھا اب سمائل کروپھر آئس کریم کھاتے ہیں (آئس کریم کا نام سنتے ہی حور کے چہرے پر سمائل آ گئی
تھوڑی ہی دیر بعد ازلان نے گاڑی آئس کریم پارلر کے سامنے روکی
میں بھی آؤں (ازلان باہر نکلنے لگا تو حورین بولی جس پڑ وہ اسے ایک گھوری سے نوازتا اندر چلا گیا
حور کو پتا پتا تھا کے ازلان نہیں لے کےجائے گا
کچھ دیر بعد ازلان آئس کریم لے کر آیا تو دونوں خاموشی سے کھانے لگے
حور نے اپنی آئس تھوڑی سی کھا کر ازلان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا
ازلان نے جب حور کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو اپنی آئس کریم مسکراتے ہوے اسے دے دی
جب کے حور نے اپنی آئس کریم ازلان کو دی اور اسکی لے کر کھانے لگی
یہ اسکی ہمیشہ سے عادت تھی کے اپنی تھوڑی سی کھا کر باقی اذلان کی کھاتی تھی
ازلان اور وہ گھر آے تو مہر لاؤنچ میں بیٹھی ہوئی تھی
السلام عليكم (ازلان اور حورین نے مشترکہ کہا
وعلیکم لسلام
آج آپ لوگ لیٹ نہیں ہو گئے (مہر نے ہاتھ میں پکڑی کتاب کو بند کرتے ہوے کہا
ہاں بس کوئی ناراض تھا تو آئس کریم کھلا کے اسکی ناراضگی دور کی اس وجہ سے لیٹ ہو گئے (ازلان نے حور کو دیکھتے ہوے کہا جس پڑ اس نے حفگی سے منہ پھلایا
اچھا آپ لوگ فریش ہو جا ئیں میں کھانا لگواتی ہوں(مہر نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوے کہا
وہ دونوں اپنے اپنے کمرے کی طرف روانہ ہو گئے جب کے مہر کچن کی طرف
۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
حورین تم ادھر بیٹھی ہو اور میں کب سے تمہیں ڈھونڈرہی ہوں (وہ چھت پے بیٹھی تھی جب مہر آئ
تمہیں پتا تو ہے کے میں فری ٹائم میں ادھر ہی ہوتی ہوں یالان میں (مہر کے دو سال بڑے ہونے کے با وجود حورین اور اسمیں بے تکلفی تھی
یار میں کیا سوچ رہی ہوں اس جمعہ کو بھائی گاؤں جا رہے ہیں تو ہم بھی چلیں (مہر اسکے سامنے والی کرسی پے بیٹھتے ہوے بولی
آئیڈیا تو اچھا ہے چلتے ہیں پڑ پھر کالج سے ایک دو چھٹیاں ہو جائیں گی(حورین نے پریشانی سے کہا
کچھ نہیں ہوتا یار میری بھی تو دو تین ہونگی نا (مہر نے کہا
پڑ پتا نہیں ازلان لے کے جا ئیں گے یا نہیں (حورین نے ایک اور نکتہ اٹھایا
تو ہم دونوں کس لئے ہیں کر لیں گی بھائی سے بات ٹھیک ہے نا (مہر نے اس سے تائد چھ
ہاں ٹھیک ہے
اچھا ایک کام تو کر دو بنانا شیک تو بنا لاؤ یار ( مہر نے متلجی لہجے میں کہا
بنا لاتی ہوں تم بھی کیا یاد کرو گی کے کس سے پالا پڑھا (حورین فراخ دلی سے کہتی ہوئی نیچے کی طرف گئی
نیچے آئ تو فل اندھیرا تھا اور اسے تو ویسے بھی اندھیرے سے ڈر لگتا تھا وہ کچن میں آئ
اسنے جلدی سے فریج سے دودھ نکالا کیلے کاٹے اور جلدی سے ساری چیزیں جگ میں ڈالیں اور جلدی سے سوئچ آن کر دیا پڑ اگلے ہی لمحے کچن اور حورن کا حال دیکھنے والا تھا
کیوں کے جلدی میں وہ ڈھکن بند کرنا ہی بھول گئی تھی اور اب سارا اب پورے کچن میں دودھ گرا ہوا تھا اور حورین پڑ بھی
اور ازلان جو پا نی لینےکچن میں آیا تھا حور کا حال دیکھ کر اپنی قہقہ کنٹرول نا کر سکا اور ہنستا ہی چلا گیا
میری حالت حراب ہوگئی ہے اور آپ کو ہنسی آرہی ہے (حور نےغصہ سے کہا
سوری یار (ازلان نے ہنسی ضبط کرتے ہوے کہا
حور غصے سے آگ بگولہ ہوتی کمرے کی طرف بڑھی جب پیچھے سے ازلان کی آواز آئ
ویسےحور ایک پک تو ہونی چاہیے اتنی پیاری لگ رہی ہو (حور نظر انداز کرتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی پڑ دل ہی دل میں وہ بدلہ لینے کا سوچنے لگی ازلان سے
____________
اوپر کمرے میں گئی تو مہر نے حیرانگی سے اسے دیکھا
یہ کیا ہوا ہے (مہر نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوے کہا
ہنس لو تم بھی جتنا ہنسنا ہے (حورین غصے سے کہتی ہوی کپڑے لے کر واشروم کی طرف بڑھ گئی
بیس منٹ بعد وہ باہر نکلی تو مہر کمرے میں نہیں تھی وہ ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ کر بال سلجھانے لگی کچھ دیر بعد مہر کمرے میں داحل ہوئی تو ہاتھ میں ٹر ے تھی جس میں دو گلاس تھے اسنے ٹرے سینٹر ٹیبل پڑ رکھی اور حورین کی طرف متوجہ ہوئی
حورین آ جاؤ یار شیک بنا کے لائی ہوں (حورین نے کوئی جواب نا دیا
اچھا نا یار سوری نا اب تم لگ ہی ایسی رہی تھی میرا کیا قصور (مہر نے مسکراتے ہوے کہا
ہاں ہاں اڑا لو مذاق تم بھی میرا جتنا اڑا سکتی ہو (اسے رہ رہ کر غصہ آرہا تھا
یار ناراض تو نا ہو نا (مہر نے کہا
ٹھیک ہے نہیں ہوتی پڑ تمہیں ایک کام میری مدد کرنی ہو گی (حور نے ایسے کہا جیسے مہر پڑ احسان عظیم کر رہی
کیسی ہیلپ (مہر نے گہر ے چتونوں سے اسے گھور کے پوچھا
تم کرو گی یا نہیں
اچھا یار ٹھیک ہے کروں گی اب آ بھی جاؤ (مہر کو اس کی باتوں سے حطرے کی بو آرہی تھی لیکن کیا کر سکتی تھی
۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
ازلان ناشتے ٹیبل پے آیا تو حور اور مہر پہلے سے ہی موجود تھیں جو کے حیرت کی بات تھی
وہ سلام کہ کر اپنی محصو ص کرسی کی طرف بڑھا پڑ یہ کیا اگلے ہی لمحے ازلان صاھب زمین بوس ہو چکے تھے
کیوں کے یہ کارنامہ حور اور مہر کا تھا
اور مہر اور حورین کے قہقے پورے ڈائننگ ہال میں گونج رہے تھے
کیوں کے یہ کارنامہ ان دونوں کا ہی تھا کے ازلان سے بدلہ لینے کے لئے اسکی چیئر کی ایک ٹانگ نیچے سے توڑ دی جسکی وجہ سے وہ بیٹھتے ہی گر گیا
لیکن دونوں کے قہقوں کو یک دم بریک لگی جب ازلان اپنی کمر پکڑ کے بیٹھا تھا اور آنکھیں بند تھیں
وہ دونوں جلدی سے اس کی طرف گئیں
بھائ کیا ہوا ازلان کیا ہوا ہے (وہ دونوں پریشانی سے بول رہی تھیں آنکھوں میں تیزی سے پانی جمع ہو رہا تھا جو کے باہر نکلنے کو بےتاب تھا
یکدم ہی ازلان نے آنکھیں کھولیں اور ان دونوں کے چہرے کو دیکھ کر قہقہ لگا کر رہ گیا
آپ مذاق کر رہے تھے (مہر نے حفگی سے کہا
تم لوگوں نے بھی تو کیا نا ویسے بہت پیاری شکلیں لگ رہیں تھیں تم دونوں کی (ازلان نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوے کہا
چلو اب جلدی سے ناشتہ کرو لیٹ ہو جاؤ گی ورنہ (ازلان کہتے ہوے چیئر پے بیٹھا اور ناشتہ شروع کیا جب کے وہ دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر رہ گئیں
۔ ![]()
![]()
![]()
بھائی آپ جمعہ کو گاؤں جا رہے ہیں نا (مہر نے ڈرائیو کرتے ازلان سے پوچھا
ہاں کیوں(ازلان نے سڑک پڑ دیکھتے ہوے کہا
میں نے اور حور نے بھی جانا ہے گاؤں (مہر نے کہا
لیکن تم لوگوں کو چھٹیاں تو نہیں ہیں
ہم لوگ لیوز لے لیں گی نا کچھ دن کی (جواب حور کی طرف سے آیا
ٹھیک ہے کر لینا تیاری (ازلان نے کہا اور دوبارہ ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہو گیا
۔ ![]()
![]()
![]()
کل جمعہ تھا اور اب وہ دونوں اپنی تیاری کرنے میں لگی ہوئیں تھیں جو کے اسطرح کر رہیں تھیں جیسے پتا نہیں کس کے ولیمے پے جانا ہو اور کتنا عرصہ رہنا ہو
یار حور یہ والا ڈریس دیکھو کیسا لگ رہا ہے ( مہر نے ایک ڈریس اپنے ساتھ لگاتے ہوے پوچھا
یہ والا نہیں اچھا لگ رہا یار وہ والا رکھو جو میں نے پسند کیا تھا تمہارے لئے (حور نے کہا
ہاں اس ڈریس کو تو میں بھول ہی گئی (مہر نے سر پے ہاتھ مارتے ہوے کہا
اچھا نا یہ دیکھو بلیک کلر کے شوز ہیں تمہارے پاس میرے ڈریس کے ساتھ کوئی اور میچ ہی نہیں ہو رہے (حور نے پریشانی سے کہا
ہاں ہیں جدھر میرے سارے شوز پڑے ہیں ادھر ہوں گے لے لو
دروازے پڑ نوک ہوا تو دونوں نے مڑ کر دیکھا دروازے کے بیچو بیچ ازلان کھڑا تھا ایک سائیڈ پڑ ٹیک لگاے بازو سینے پڑ لپیٹے
اگر آپ لوگوں کی تیاری ہو جائے تو میرا بیگ پیک کر دینا (ازلان نے ان دونوں کو اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھا تو کہا
ٹھیک ہے بھائی ہم اپنی پیکنگ کر کے آ کے کر دیتے ہیں
۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
مہر اور حور اپنی پیکنگ کرنے کے بعد ازلان کے کمرے میں گئیں اور اسکی پیکنگ کی ساری تیاری کے بعد ٹائم دیکھا تو رات کے بارہ بج رہے تھے
وہ دونوں جلدی سے سونے کے لئے لیٹیں اگلی صبح ازلان نے آفس کے کچھ کام کرنے کے بعد جانا تھا جب کے حور اور مہر تو یونی جانے سے ہی انکاری تھیں جب کے ازلان صبح ہی صبح آفس کے لئے نکل گیا تھا دن کے بارہ بجے ازلان گھر آیا تو مہر اور حور دونوں نک سک سے تیار بیٹھی تھیں
ازلان اتنی دیر لگا دی آپ نے ہم کب سے تیار بیٹھی ہیں (اذلان کو لاؤنج میں داحل ہوتا دیکھ کر حور نے کہا
تم لوگ سامان رکھواؤ میں بس 10 منٹ میں فریش ہو کر آیا (وہ کہتا ہوا اوپر کی طرف بڑھا
اگلے 15 منٹ میں وہ فریش ہو کر نیچے آیا بلیک کلر کے شلوار سوٹ میں کندھوں پڑ شال ڈالے وہ روایتی جاگیر دار لگ رہا تھا
وہ گاڑی کی طرف آیا جہاں مہر اور حور دونوں پچھلی سیٹ سمبھال چکی تھیں اس نے آکے ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی ان کی گاڑی کے آگے ایک باوردی مسلحہ افراد کی گاڑی نکلی اور ایک ان کی گاڑی کے پیچھے نکلی
مہر اور حور دونوں خاموش سے باہر دیکھنے میں مگن تھیں گاڑی محتلف سڑکوں پڑ رواں دوا ں تھیں
بھائی کوئی گانا ہی لگا دیں (بور ہوتی مہر نے ازلان سے کہا
تقریباً دو گھنٹوں کے سفر کے بعد ازلان نے ایک جگہ گاڑی روکی
اور وہ دونوں جو سوئی ہوئیں تھیں دونوں کو آواز دے کر اٹھایا
کیا ہوا آگیا گاؤں (حور نے مندی مندی آنکھیں کھولے پوچھا
نہیں ابھی کچھ کھا لو ابھی آدھا سفر ہے (ازلا ن نے کہا اور وہ تینوں ریسٹورنٹ گئے کھانا کھانے کے بعد دوبارہ سفر شروع کیا اور اب حور اور مہر کی نا حتم ہونے والی باتیں شروع ہو چکی تھیں جن میں ازلان بھی وفقے وقفے سے شامل تھا
گاڑی گاؤں جانے والی سڑک پڑ گامزن تھی جب گاؤں شروع ہوا تو سر سبز کھیت ہریالی زمینوں میں کام کرتے مرد اور عورتیں دوسرے گاؤں کی نسبت ان کا گاؤں بہتر تھا زیادہ تر سڑکیں پکی تھیں ان کی حویلیاں گاؤں کے وسط میں تھیں گاڑی جب حویلی کے پورچ میں جا کر رکی تو یہ دونوں جلدی سے اندر کی طرف بڑھیں جہاں مراد اور ضرار دونوں کی فیملیا ں موجود تھیں
السلام عليكم (دونوں نے با آوازکہا جس پڑ سب ان کی طرف متوجہ ہوے
وہ سب سے باری باری ملیں
پڑھائی کیسی جا رہی ہے آپ دونوں کی (مہر کے بابا نے پوچھا
بہت اچھی جا رہی ہے (دونوں نے یک زبان ہو کر کہا اور مراد راؤ سے تو حور کو ویسے ہی بہت انسیت تھی اور ہوتی کیوں نا وہ تھے ہی اتنے اچھے اور نرم مزاج
بابا اور چچا ذرا پوچھیں ان دونوں سے وہاں کون کون سی شیطانیاں کرتی رہتی ہیں (ازلان نے حور اور مہر کی طرف دیکھتے ہوے کہا جس پڑ ان دونوں کی شکلیں ایسی تھیں جیسے کہ رہی ہوں اپنی باری اے گی تو پوچھیں گی
ارے کیا کر دیا میری بیٹیوں نے (ضرار صاھب نے پوچھا
خود پوچھ لیں چچا ان دونوں سے (ازلان نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوے کہا
نہیں بابا کچھ بھی نہیں کیا ازلان تو ایسے ہی مذاق کر رہے ہیں ہیں نا مہر (اس سے۔ پہلے کے کوئی اور ان سے پوچھتا حور جلدی سے بولی اور مہر سے تائد چاہی
ہاں ہاں (مہر نے بھی زور شور سے سر ہلایا جس پڑ سب کے چہروں مسکراہٹ آ گئی
بابا بھائی کدھر ہیں (ازلان نے بابا سے پوچھا
بیٹا کیا بتاؤں وہی مسلہ ہے (مراد صاھب افسردہ ہوتے ہوے بولے
حورین اور مہر بیٹا آپ دونوں جاؤ فریش ہو جا کے (ضرار صاھب نے نرمی سے کہا جس پڑ وہ دونوں سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئیں مہر اپنے کمرے کی طرف جب کے حویلی کے اندر لگے دروازے جو کے دونوں حویلیوں کو جوڑتا تھا اس طرف بڑھی تا کے اپنے کمرے میں جا کے فریش ہو سکے
بابا کیا بھائی ابھی بھی اپنی ضد پڑ ہیں (اذلان نے اس ان دونوں کے جانے کے بعد پوچھا
بیٹا میری تو سمجھ میں نہیں آرہا کے یہ دونوں چلے کس پڑ گئے ہیں نا حماد مان رہا اور نا احراز
بابا میں بات کرتا ہوں دونوں سے آپ پریشان نہ ہوں (اذلان کے کہنے پڑ وہ ہلکا سا مسکرا ے
جاؤ اب تم بھی فریش ہو جا کے (ان کے کہنے پڑ وہ سر ہلاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا.
