Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Lot Ane Tak (Episode 02)

Tere Lot Ane Tak by Sania Chaudhary

اگلے دن صبح حور احراز کے ساتھ چیس کھیل رہی تھی اور اب اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کے کیا کرے کے جیت جائے وہ اسی سوچ میں تھی کے پیچھے سے کسی نے آکے ایسی چال چلی کے وہ جیت گئی

حوشی سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ازلان کھڑا تھا

یس شکر ہے آپ نے ٹائم پے آکے جیتا دیا ورنہ بھائی جیت جاتے (حور نے کہا

ویسے یہ تو چیٹنگ ہے ازلان (احراز مصنوئی حفگی سے کہا

کوئی چیٹنگ نہیں ہے آپ ہر دفع ہا ر کر ایسا ہی کہتے ہیں

اچھا حور آپ روم میں جاؤ میں نے کچھ بات کرنی ہے (ازلان نے حور کو دیکھتے ہوے کہا

ٹھیک ہے پڑ پہلے بھائی سے بولیں کے شام کو مجھے اور مہر کو باغ میں لے کر جایں گے (حور نے جاتے ہوے کہا

ٹھیک ہے لے جائے گا اب آپ جاؤ (ازلان کے کہنے کے ساتھ ہی حور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی

____________

حور کے جانے کے بعد ازلان احراز کی طرف متوجہ ہوا

کیا حال ہے بھئ کل سے آیا ہوا ہوں کوئی خبر ہی نہیں (ازلان احراز کی سامنے والی چیئر پے بیٹھتا ہوا بولا

بس تھوڑا مصروف تھا یار وقت ہی نہیں ملا (احراز نظریں چراتے ہوے بولا

وقت نہیں تھا یا ملنا نہیں چاہتے تھے (وہ بھی اسکی رگ رگ سے واقف تھا کیسے نا جان پا تا

احراز آگے سے کچھ نا بولا بس خاموشی سے ٹیبل کو گھوڑتا رہا

دیکھو احراز یار بابا نے مجھے بتایا ہے سب اور تم دونوں کی وجہ سے سارے ہی بہت پریشا ن ہیں کیوں سب کو پریشا ن کیا ہوا ہے

اتنی بڑی تو بات ہی نہیں ہے اگر تم بھی اسی جگہ فیکٹری لگانا چاہتے ہو تو تم دونوں مل کر کام کر لو ضروری تو نہیں کے الگ الگ لگاؤ (ازلان سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا اسے

پڑ یار فرض کرو اگر میں مان جاتا ہوں تو کیا حماد مانے گا اور اگر وہ بھی مان جائے پھر بھی ہمارا روز کسی نا کسی بات پر جھگڑا ہوگا کیوں کے ایک سلطنت میں دو بادشاہ تو نہیں رہ سکتے نا (احراز نے اپنا مد عا بیان کیا

یار میں بات کروں گا بھائ سے بھی پلیز تم لوگوں کے بیچ جو تلحیاں ہیں انہیں حتم کر لو تم لوگوں کی وجہ سے باقی رشتے بھی حراب ہو رہے ہیں (ازلان فکرمندی سے بول رہا تھا

ہوں میں کوشش کروں گا لیکن اگر حماد نے کچھ کیا تو میری ذمہ داری نا ہو گی

تم بتاؤ کیسا چل رہا ہے بزنیس (احراز نے بات بدلنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب بھی رہا

۔ ۔ ❤❤❤

حورین اور مہر احراز کے ساتھ زمینوں پے آئ تھیں احراز تو کسی مزارعے کے ساتھ بات کرنے لگ گیا جب کے وہ دونوں باغ کی طرف آ گئیں اور گھومتے پھرتے آموں کے درحتوں کی طرف آ گیں

یار مہر وہ دیکھو کیریاں چلو اتارتے ہیں نا ( حور پرجوش ہوتے ہوے بولی

یار نہیں نا گر جایں گی ( مہر نے حدشہ ظاہر کیا

کچھ نہیں ہوتا آجاؤ (حور لاپرواہی سے بولتی ہوئی چڑ ھنے لگی

جب کے مہر وہیں کھڑی تھی

حور نے ایک ٹہنی پڑ پاؤں رکھا لیکن وہ کمزور ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گئی نتیجہ حور بی بی ایک دل حراش چیح کے ساتھ زمین بوس ہو چکی تھی

مہر پریشانی سے اسکی طرف بڑھی

حور زیادہ تو نہیں لگی اٹھو ( مہر نے پریشان ہوتے ہوے کہا

مجھے بہت پین ہو رہی ہے مہر اٹھنے نہیں ہو رہا ( حور نے روتے روتے کہا

کیا ہوا ہے حور اسطرح کیوں بیٹھی ہو (احراز شائد حور کی چیح سن کر آیا تھا اور اب پوچھ رہا تھا

۔مہر نے ساری بات بتائی

ح

دھیان سے چرھناتھا نا بچے اب اٹھو شا باش

بھائ نہیں اٹھنے ہو رہا بہت پین ہو رہی ہے (حور ہنوز روتے ہوے بولی جس پڑ احراز نے اسے بازؤں میں اٹھایا اور گاڑی کی طرف بڑھا جب کے مہر بھی ساتھ ہی تھی

۔ _❤❤❤

بابا آپ نے بلایا تھا

ازلان کمرے میں داحل ہوتے ہوے بولا جب کے حماد پہلے سے ہی وہاں موجود تھا

آو بیٹا میں نے کچھ بات کرنی تھی (بابا نے مسکراتے ہوے کہا

جی بابا سب خیریت ہے (اس نے فکر مندی سے پوچھا

سب خیریت ہے بیٹے تم آو بیٹھو

ازلان بھی ایک صوفے پڑ بیٹھ گیا جب کے دوسرے پڑ حماد تھا اسنے آنکھوں میں اشارے سے پوچھا لیکن حماد نے لا علمی ظاہر کی

اب بیٹا میرے بعد اس گھر کے بڑے تم دونوں ہو تو میں چاہتا ہوں کے جو فیصلہ کروں تم لوگوں کی مرضی سے کروں

جی بابا آپ کا ہر فیصلہ منظور ہے آپ بولیں (حماد نے کہا جس کی ازلان نے بھی تائید کی

بیٹا بات یہ ہےکے ضرار نے مجھ سے مہر کی بات کی ہے احراز کے لئے مجھے تو کوئی عتراض نہیں ہے اپنے گھر کا بچا ہے بس تم دونوں کی راۓ لینی تھی

جی بابا مجھے تو کوئی عتراض نہیں ہے یقیناً وہ مہر کے لئے اچھا ساتھی ثابت ہو گا (اذلان نے کہا جب کے ہماد حاموش رہا

حماد بیٹا تم کیا کہتے ہو (اب کی بار انہوں نے حماد سے پوچھا

میں کیا کہ سکتا ہوں جیسے آپ کی مرضی (وہ اتنا کہتے ہوے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا

پتا نہیں کیا بنے گا اس کا مجھے تو بڑی فکر ہے اسکی (بابا نے پریشانی سے کہا

کوئی نہیں بابا میں سمجھا لوں گا آپ فکر نا کریں (ازلان نے اپنا ہاتھ انکے ہاتھ پڑ رکھتے ہوے کہا

بس بیٹا تم ہو تو کوئی فکر نہیں پھر میں کر دیتا ہوں ہاں ضرار کو

ٹھیک ہے بابا (ازلان نے کہا

اور ہاں وہ ہماری حور بیٹی آج گری ہے اسکی حبر لی کے نہیں (بابا نے مسکراتے ہوے پوچھا بیٹے کے دل کا حال وہ بھی جانتے تھے

بس بابا ابھی جاتا ہوں لیتا ہوں اسکی حبر (ازلان نے جھیمپتے ہوے کہا

جلدی جاؤ یہ نا ہو کے وہ ناراض ہو جا ے

۔ 💕💕💕💕

احراز اسے گھر لے آیا تھا اور ڈاکٹر کو بلایا تھا گرنے کی وجہ سے پاؤں کی ہڈی کافی متاثر ہوئی تھی تب سے سب گھر والے مہر اور اسی ماما بھی ادھر ہی تھے ابھی کچھ دیرپہلے گئے تھےاور اب اسکی ماما اسے دوائی کھلانے کی کوشش کر رہی تھیں جو کے وہ کھا نہیں رہی تھی تھک ہار کے وہ بھی چلی گیں

وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی جب نوک کی آواز پڑ آنکھیں کھولیں تو ازلان کھڑا تھا

لگتا ہے لوگوں نے تو آج سیلاب لے کے آنا ہے(اسنے حور کی سرح آنکھوں پڑ چوٹ کی جو کے رونے کی غمازی تھیں

آپ کو کیا فکر آپ تو جایں اپنے کام کریں (حور نے حفگی سے کہ کر منہ موڑ لیا

ارے ناراض کیوں ہو رہی ہو دیکھو کس لایا ہوں (ازلان کے کہنے کے باوجود اسنے نہیں دیکھا

ازلان نے اسکے منہ کے آگے چو کلیٹ کی جسے اسنے فورا پکڑ لی یہ تو اسکی فیورٹ تھی

اچھا اب یہ بتاؤ میڈیسن کیوں نہیں کھا رہی کیوں تنگ کر رہی ہو چچی کو

بس میرا نہیں دل کر تا اتنی کڑوی ہوتی ہے (حور نے ناک چر ھاتے ہوے کہا

میرے پاس تمہارے لئے ایک افر ہے (ازلان نے سوچتے ہوے کہا

کیسی افر (حور نے آنکھیں مٹکاتے ہوے پوچھا

یہی کے اگر تم میڈیسن کھالیتی ہو تو میں تمہارے فائدے کی ایک بات بتاؤں گا

پکی بات ہےاگر آپ اپنی بات سے مکر گے تو (حور نے تصدیق چاہی

پہلے کبھی مکرا ہوں

چلیں ٹھیک ہے مجھے منظور ہے (حور نے حامی بھر لی

____________

حورین نے میڈیسن کھائی اور اب اس سے پوچھ رہی تھی

اب آپ کی باری بتایں کیا بات ہے (حورین نے دلچسپی سے پوچھا

میں نے بات کی تھی تمہارے بابا سے

پھر مان گئے کیا بابا (حورین نے بے چینی سے پوچھا جس پر ازلان کو وہ بہت کیوٹ لگی

بتایں بھی (حورین اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر دوبارہ بولی

ہاں مان گئے ہیں

سچ میں مان گئے (حور نے حوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ پوچھا

ہاں سچ میں اور اب تم آرام کرو کل ایک اور گڈ نیوز ملے گی تمہے (ازلان کہتے ہوے اٹھ کھڑا ہوا

کونسی نیوز ابھی بتایں نا (حور جلدی سے اٹھنے لگی لیکن چوٹ کی وجہ سے پھر لیٹ گئی

اس کے لئے تو کل کا انتظار کرو اوکے گڈ نائٹ (ازلان مسکراہٹ دباتے ہوے کہتا باہر نکل گیا

جب کے حور سوچ میں پڑ گئی کے کیا نیوز ہو سکتی ہے

۔ ۔ ❤❤❤

اور اگلے حور کو اس حبر کے بارے میں پتا چل گیا جب مہر اور احراز کے رشتے کی بات کی گئی حور تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی کے اسکی جان سے عزیز دوست اسکے گھر آ جائے گی

مہر اور احراز کی منگنی کے بجاے سیدھا شادی رکھی گئی مہر کے پپرز کے بعد جو کے کچھ ہی دنوں تک تھے حور کا پاؤں پہلے سے بہتر تھا وہ ملازمہ کی مدد سے چلتی ہوئی مہر کے کمرے تک آئ

ارے حور تم یہاں مجھے بلا لیا ہوتا پاگل لڑکی (مہر نے حور کو دیکھا تو اسے سہارا دے کر بیڈ پر بٹھاتے ہوے بولی

میں تمہیں مبارک دینے آئ ہوں مہر بہت بہت مبارک ہو تمہیں یار تمہیں نہیں پتا میں کتنی خوش ہوں (حور خوش ہوتے ہوے بولی

مہر آگے سے کچھ نہیں بولی بس خاموشی سے بیڈ شیٹ پڑ انگلی پھیرتی رہی

مہر کیا تم خوش نہیں ہو (حور نے مہر سے پوچھا

پتا نہیں یار پڑ یہ سب اتنا جلدی ہو رہا ہے کے میرا دل اسیپٹ نہیں کر پا رہا (مہر ہنوز بیڈ شیٹ کی طرف دیکھتے ہوے بولی

مہر دیکھو اگر تم بھائ کی وجہ سے ٹینس ہو تو وہ تمہارے سمیت ہم سب کو پتا ہے کے وہ کتنے اچھے ہیں اور اگر تم پھر بھی مطمین نہیں ہو تو میں بھائ سے بات کرتی ہوں وہ آکر خود ہی تم سے بات کر لیں گے (حور نے آخری فقرہ مسکراہٹ دباتےہوے کہا جس پڑ مہر نے اسے گھوری سے نوازا

اچھا یہ بتاؤ واپس کب جانا ہے (حور نے مہر سے پوچھا

شائد کل جایں (مہر نے جواب دیا

ٹھیک ہے پھر میں اپنی تیاری کر لوں گی

۔ 💕💕💕💕

حور اور مہر دونوں ازلان کے ساتھ شہر آ گئیںتھی حور اور مہر کے پپرز سٹارٹ تھے جس کی وجہ سے ان دونوں کو کسی چیز کا ہوش نہیں تھا بس ہر چیز بھلاے پپرز میں مصروف تھیں

حور نے تو پپرز کے بعد ازلان کا افس جوائن کر لینا تھا جب کے مہر کی شادی تھی پیپرز کے 10 دن بعد

پپرز حتم ہوے تودونوں کو ارد گرد کا کچھ ہوش آیا پہلے ایک ایک دن تو دونوں نے سونے میں گزارا اور پھر شاپنگ کی یاد آ گئی

دونوں نے اذلان کو پکڑا اور حوب چکر لگواے شاپنگ کے

ازلان مجھے آپ سے بات کرنی ہے (حور ازلان کے کمرے میں آتے ہوے بولی

یہ دیکھو میرے ہاتھ میں نہیں لے کر جا رہا تم دونوں کو شاپنگ کے لئے (ازلان نے با قائدہ ہاتھ جوڑتے ہوے کہا

کیوں نہیں لے کر جایں گے اب شادی ہو تو اتنی شاپنگ تو بنتی ہے نا (حور نے اپنے تئیں ایک اچھا جواب دیا

کتنی شاپنگ کرنی ہے تم لوگوں نے جو تم لوگوں کی مکمل ہی نہیں ہو رہی (ازلان نے جھنجھلاتے ہوے کہا

ٹھیک ہے آپ کو نہیں لے کر جانا نا لیں کر جایں ہم لوگ ڈرائیور کے ساتھ چلی جایں گی (حور نے غصے سے کہا

کوئی ضرورت نہیں ہے میں کچھ کام کر رہا ہوں وہ کر لوں پھر لے جاؤں گا(ازلان نے سنجیدگی سے کہا جس پر حور منہ بسورتی چلی گئی

پھر جو ازلان انہیں شاپنگ پڑ لے کر گیا تو مغرب کے بعد ہی واپسی ہوئی

۔ ❤❤❤

یار مہر بات سنو (مہر روم میں تھی جب حور آئ

ہاں بولو (مہر نے بالوں کو برش کرتے ہوے کہا

بھائ آے ہیں یار جلدی سے تیار ہو جاؤ انھوں نے تمہیں لے کر شاپنگ پے جانا ہے(حور بیڈ پر بیٹھتے ہوے بولی

کون حماد بھائ آے ہیں کیا (مہر نے شیشے میں سے دیکھتے ہوے کہا

نہیں یار احراز بھائ آے ہیں ( مہر کا برش کرتا ہاتھ یک دم ساکت ہوا

کیا مطلب وہ مجھے کیوں لینے اے ہیں ( مہر آ کر بیڈ پڑ بیٹھی

کیا مطلب کیوں لینے آئیں ہیں برائیڈل ڈریس نہیں لینا کیا اب جلدی سے تیار ہو جاؤ بھائ انتظار کر رہے ہیں (حور نے مہر کی حیرت دور کی

تم بھی جاؤ گی نا (مہر نے پریشانی سے پوچھا

ہاں میں بھی جاؤں گی اب جلدی جاؤ اور تیار ہو (حور نے کہتے ہوے مہر کو ایک ڈریس نکال کے دیا

کچھ دیر بعد وہ تینوں مال میں تھے حور اور مہر ڈریس سلیکٹ کر رہیں تھیں

مہر یار کیا گونگی بن کے گھوم رہی ہو یہ ڈریس تمہارے لئے سلیکٹ کر رہی ہوں اور تم ہو کے کوئی جواب ہی نہیں دے رہی (حور نے جب مہر کو چپ چپ دیکھا تو غصے سے بولی

اب وہ کیا بتاتی کے وہ تو احراز کی وجہ سے چپ ہے

یہ کیسا ہو مہر (اب کی بار میں احراز نے ایک خوبصورت سا لہنگا مہر کو دکھاتے ہوے پوچھا

جو کے ریڈ کلر کا تھا اور اوپر گولڈن کا کام ہوا تھا

مہر نے حور کو تلاش کرنا چاہا جو کے شاپ کی دوسری طرف کھڑی کوئی ڈریس دیکھ رہی تھی

مہر کیا اچھا نہیں لگا (احراز نے مہر کو خاموش دیکھ کر دوبارہ پوچھا

ن نہیں بہت اچھا ہے (مہر جلدی سے بولی

ٹھیک ہے پھر یہ فائنل کر دیں (احراز نے اسے دیکھتے ہوے پوچھا جس پر مہر نے اثبات میں سر ہلایا

اتنے میں حور بھی ان تک آ گئی

کیا ہوا آیا کوئی پسند (حور نے آتے ہی پوچھا

ہاں یہ دیکھو کیسا ہے (احراز نے ڈریس حور کو دکھاتے ہوے پوچھا

بہت پیارا ہے (حور نے خوش دلی سے کہا

پھر ان لوگوں نے ولیمے اور مہندی کے ڈریس فائنل کیے اور کافی دیر بعد گھر گئے

۔ ❤❤❤

ازلان یار پھر کب تک کا ارادہ ہے گاؤں آنے کا (احراز نے ناشتہ کرتے ہوے ازلان سے پوچھا مہر اور حور بھی وہیں تھیں

بس ایک دو دن میں کچھ کام پینڈنگ پر ہیں وہ کر کے پھر آجاؤں گا

پھر میں کل جا رہا ہوں گاؤں تو حور لوگ میرے ساتھ آ جاتی ہیں (احراز نے اس سے پوچھا

ٹھیک ہے پھر تم لے جاؤ ویسے میری کوشش تو یہی ہوگی کے کل تک ہو جایں کام

تو ٹھیک ہے تم کل تک کر لو ختم پھر ساتھ ہی چلتے ہیں سارے (احراز نے راۓ دی جس پر سب ہی متفق تھے

پھر ازلان تو ناشتہ کر کے آفس چلا گیا جب کے احراز کو بھی کوئی کام تھا

اور اب صرف مہر اور حور رہ گیں تھیں جو کے اپنی پلاننگ کر رہیں تھیں

اور حور وہ تو ہمیشہ سے ڈانس کی شدا ی تھیاور اب بھی روم لاک کر کے یہی کر رہی تھی

یار مہر میں تو تمہاری شادی میں یہ والے سونگ پے ڈانس کروں گی (حور گانا سلیکٹ کرتے ہوے بولی

یار تمہیں پتا ہے بھائ اور بابا کو نہیں پسند (مہر نے اسے سمجھانا چاہا

کچھ نہیں ہوتا یار نہیں پتا چلے گا کسی کو بھی اور اگر چل بھی گیا تو کچھ نہیں کہیں گے (حور نے لا پرواہی سے کہا جس پر مہر نے سر جھٹکا کیوں کے حور بی بی کبھی نہیں سدھر سکتی

۔ ۔💕💕

حور مہر ازلان اور احراز چاروں اگلےدن ہی گاؤں آ گئے تھے مہر کو ما یوں بیٹھا دیا گیا تھا جسکی وجہ سے وہ زیادہ تر کمرے میں ہی رہتی تھی اور حور اسکو کمپنی دیتی رہتی تھی

مہر کی حالہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ حویلی آ چکی تھیں جن کی 2 بیٹیاں بڑی زینہ جو کے شادی شدہ تھی اور چھوٹی بیٹی زمل جو کے مہر سے ایک سال چھوٹی تھی اور ایک بیٹا حمزہ تھا جو کے ابھی کنوارہ تھا

حالہ کی دونوں بیٹیاں فیشن کے مقابلے میں سب کو پیچھے چھوڑ گئیں تھیں جس کی وجہ سے اذلان اور حماد لوگوں نے کزن ہونے کے با وجودبس سلام دعا تک ہی بات چیت رکھی تھی

لیکن زمل بی بی تو جب بھی آتی ازلان کے ارد گرد منڈلاتی رہتی تھی جس سے ازلان کو کافی چڑ ہوتی تھی

اور اس بات کا سب کو ہی پتا تھا اور ازلان کا حوب ہی مذاق بنتا

آج مہر کی مہندی تھی اورمہندی سے پہلے نکاح رکھا گیا تھا مہر نے سی گرین اور ییلو رنگ کا شرارا پہنا تھا ساتھ میں پھولوں کی جیولری ڈالے لایٹ سامیکپ کیا تا کے برات والے دن زیادہ روپ آے پر لا یٹ میک اپ میں بھی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی

اور حور اسنے بھی گرین اور پنک کلر کا شرارہ پہنا تھااور نفاست کے ساتھ کیے گئے میک اپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی

اور نکاح کے وقت مہر کے ساتھ ہی تھی حور کوئی نا کوئی شرا رت کر دیتی جس سے مہر روتے میں بھی مسکرا دیتی

نکاح کے بعد مہر کو اسٹیج پر لے جایا گیا کیوں کے نکاح ہو چکا تھا اسلئے بڑوں کی اجازت سے دونوں کی مہندی ساتھ رکھی گئی تا کے سب انجوے کر سکیں

حور مہر کو اسٹیج پر بیٹھا کر نیچے اتری تو نظریں یک دم ازلان کو ڈھونڈنے لگیں فنکشن اگر چہ مردوں اور عورتوں کا الگ الگ تھا حور نے سوچا شائد دوسری طرف ہو

اتنے میں اسے تائ امی نے بلا لیا

جی تائی

بیٹا دیکھو ذرا پھولوں کے گجرے اندر لاؤنج میں پرے ہوں گے وہ تو لے آو ذرا

جی میں ابھی لے آتی ہوں

(حور کہتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی راہداری عبور کرتے ہوے لاؤنج میں گئی گجرے والا ٹرے اٹھا کر پلٹی تو لاؤنج میں ازلان آتا دکھائی دیا جسکے چہرے پڑ تھکن کے آسار واضح تھے

ازلان آپ یہاں کیا کر رہے ہیں سب حیریت ہے (حور نے فکر مندی سے پوچھا

ہاں سب حیریت ہے بس سر میں درد ہو رہا ہے ایک کپ چاۓ بنا دو اور ساتھ میڈیسن بھی دے دینا (ازلان لاؤنج میں۔ پڑے صوفے پڑ بیٹھتے ہوے بولا

میں یہ تائی امی کو دے آوں پھر آ کے بنا دیتی ہوں

حورین کے کہنے پڑ ازلان نے اثبات میں سر ہلایا

وہ تائی امی کودے کر بتا آئ تھی اور آکر اذلان کے لئے چاۓ بنائی اور اور میڈیسن لے کر جا کے اسے دی

تم نے آج بھی مہندی نہیں لگوائی (ازلان نے چاۓ کا سپ لیتے ہوے اس سے پوچھا

آپ کو تو پتا ہے نا کے مجھے الرجی ہو جاتی ہو اور اگر لگوا لیتی تو پھر کچھ بھی انجوے نہیں کر سکتی تھی (حور دوسرے صوفے پے بیٹھتے ہوے بولی

ہوں اچھا کیا

ارے باہر فنکشن چل رہا ہے اور آپ دونوں ادھر کیا کر رہے ہیں (ابھی ازلان بات کر رہا تھا کے زمل آ گئی بظاہر اسکے چہرے پڑ مسکراہٹ تھی لیکن اندر سے اسکادل جل رہا تھا ازلان اور حور کو ایک ساتھ دیکھ کر جو کے ازلان با خوبی جانتا تھا

جی بس وہ ازلان کو چاۓ بنا کے دے رہی تھی آپ کو کوئی کام تھا (حورین نے خوش دلی سے کہا

کیوں ازلان کو کیا ہوا (زمل نے چہرے پڑ فکر مندی لاتے ہوے پوچھا

کچھ نہیں میرا دل کر رہا تھا چاۓ کا تو حور کو بولا (اس سے پہلے کے حور بولتی ازلان بول اٹھا اور ازلان کی بات پڑ حور منہ کھولے حقابقا دیکھ رہی تھی

اور زمل کے چہرے کے تاثرات دیکھنے والے تھے

میں ذرا باہر دیکھ لوں (حور اور زمل کو چھوڑ کر ازلان باہر نکل گیا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *