51.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

(فارم ہاؤس کا منظر)

زین کے فارم ہاؤس میں غصے کی فضا پھیلی ہوئی تھی۔ زین آگ بگولہ ادھر ادھر چکر کاٹ رہا تھا۔ جب اُس کی نظر دروازے پر پڑی تو وہ لمحہ بھر کو رُک گیا۔

سامنے مہرمہ کھڑی تھی، تھکی ہاری، آنکھوں میں آنسو اور بازوؤں میں بیٹے کو تھامے۔

زین کی آنکھوں میں غصہ بھڑک اُٹھا۔
“کہاں چلی گئی تھی تم؟ ملازمین نے بتایا تم میرے دوست مجتبا کے ساتھ نکل گئی تھی۔ اُس کا بستر گرم کرتے ہوئے موت نہیں آئی تمہیں؟ یا اُس کے ساتھ بھی دو گھنٹے کا نکاح کیا تھا؟”

مہرمہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اُس نے چیخ کر کہا:
“بس کرو! خدا کے لیے بس کر جاؤ زین۔ جاننا چاہتے ہو کیوں گئی تھی اُس کے ساتھ؟ وہ میرا شوہر تھا، اور اُس کے بھائی نے… جب اُس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا… میرے ساتھ زیادتی کی، پھر مجھے کوٹھے پر بیچ دیا۔ آج مجتبا اپنی غلطی سدھارنے آیا تھا، وہ مجھے واپس لایا تھا۔”
اُس کی آواز کانپ رہی تھی، آنکھوں سے آنسو برس رہے تھے۔
“لیکن میں اب اتنی گندی ہوچکی ہوں کہ اُس کی زندگی میں واپس نہیں جا سکتی۔ تمہیں میرے جسم سے مطلب تھا، اس لیے میں نے انکار نہیں کیا۔ صرف نکاح کی شرط رکھی۔ اگر نہیں کرنا چاہتے تو ابھی چلی جاتی ہوں یہاں سے!”

زین کا غصہ لمحہ بھر کو ٹھنڈا ہوگیا۔ اُس نے سنجیدگی سے مہرمہ کی طرف دیکھا اور پھر آہستہ سے کہا:
“جاؤ، کمرے میں جاکر دوبارہ تیار ہو جاؤ۔”

مہرمہ خاموشی سے بیٹے کو ساتھ لیے کمرے میں چلی گئی۔ اُس نے شہروز کو بستر پر لٹایا، آئینے کے سامنے بیٹھ کر میک اپ درست کیا، کپڑے سنوارے، پھر بچے کے پاس بیٹھ گئی اور اُسے سلانے لگی۔

تقریباً بیس منٹ بعد زین نے دروازہ کھولا۔
“پردہ کر لو، امام صاحب آگئے ہیں۔”

مہرمہ نے کانپتے ہاتھوں سے دوپٹہ منہ تک اوڑھ لیا۔ امام صاحب کونے میں بیٹھے تھے۔ اُن کی گہری آواز گونجی:
“مہرمہ بی بی، کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”

مہرمہ نے لرزتی سانس لی اور سر جھکا کر کہا:
“جی، مجھے قبول ہے۔”

یہ الفاظ اُس نے تین بار دہرائے۔ نکاح مکمل ہوا۔ امام صاحب باہر چلے گئے۔

کچھ لمحوں بعد کمرے میں ہلکی سی آہٹ ہوئی۔ مہرمہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ کوئی اُس کے قریب آکر بیٹھ گیا۔ آہستہ سے گھونگھٹ اٹھایا گیا۔

سامنے مجتبا تھا۔

مہرمہ کا سانس رُک سا گیا۔ آنکھیں حیرت اور آنسوؤں سے بھر گئیں۔ اُس نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں زین کھڑا مسکرا رہا تھا۔

زین نے نرمی سے کہا:
“مانا کہ میں حسن کا پجاری ہوں… لیکن حیوان نہیں۔ مجتبا میرا بھائی ہے۔ اگر تم اُس کی محبت ہو تو مجھ پر تم پر کوئی حق نہیں۔”

مہرمہ کی ہچکی بندھ گئی۔ اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

مجتبا نے آگے بڑھ کر اُسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔
“بس… مشکل کی گھڑیاں ختم ہوگئیں۔ اب ہم کبھی جدا نہیں ہوں گے۔”

مہرمہ نے دھیرے سے اُس کے سینے پر سر رکھا اور بھرائی آواز میں کہا:
“لیکن… آپ کے گھر والے مجھے کبھی قبول نہیں کریں گے۔”

مجتبا نے اُس کے آنسو صاف کیے۔
“میں نے وہ گھر اور وہ رشتے سب چھوڑ دیے ہیں جو اپنی خودغرضی میں اپنے ہی خون کو بیچ ڈالیں۔ اب صرف تم ہو، شہروز ہے… اور میرا پیار ہے۔”

مہرمہ نے لرزتی آواز میں کہا:
“مجھے یہاں سے لے جائیں، پلیز… مجھے یہاں سے لے جائیں۔”

مجتبا نے اُس کا ماتھا چوم کر بیٹے کو گود میں اٹھایا۔
“چلو… چلتے ہیں۔”

وہ زین کا شکریہ ادا کرنے گیا تو زین نے ہاتھ تھام کر کہا:
“شکریہ کی ضرورت نہیں، بھائی۔ بس خوش رہو تم دونوں۔”


(وہی پرانا فارم ہاؤس)

مجتبا مہرمہ کو وہیں لے آیا جہاں سے اُن کی کہانی شروع ہوئی تھی، دو سال پہلے۔ فارم ہاؤس میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔

مہرمہ نے شہروز کو بستر پر لٹایا۔ خود واش روم میں گئی، وضو کیا، چہرہ دھویا اور آئینے میں دیر تک خود کو دیکھتی رہی۔ کیا واقعی اُس کی زندگی بدل گئی تھی؟ کیا یہ سب خواب تھا یا حقیقت؟

باہر آئی تو دیکھا مجتبا پنکھے کی مرمت میں جُتا ہوا تھا۔ اُس نے حیرت سے پوچھا:
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟”

مجتبا نے پسینے میں بھیگی پیشانی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
“تم نے کہا تھا نا پنکھا خراب ہے۔”

مہرمہ ہنس پڑی:
“پنکھا نہیں، بٹن خراب تھا۔”

دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر بےاختیار قہقہہ لگا بیٹھے۔ اُن کی ہنسی سے بچہ جاگ گیا اور رونے لگا۔ مجتبا نے اُسے گود میں لے لیا۔
“آ جا میرے بیٹے، آج تو اپنے پاپا کے ساتھ سوئے گا۔”

مہرمہ اُسے پیار بھری نظروں سے دیکھتی رہی۔ پھر چپ چاپ باہر چلی گئی اور عشا کی نماز ادا کی۔

سجدے میں گر کر اُس نے روتے ہوئے دعا مانگی:
“یا اللہ، تیرا شکر ہے تُو نے میرا شوہر مجھے لوٹا دیا۔ میری عزت کو دوبارہ زندہ کردیا۔ مجتبا کو میرے ماضی کی وجہ سے کبھی مجھ سے نفرت نہ ہو۔”

جب وہ اٹھی تو دیکھا مجتبا اُس کے پیچھے کھڑا تھا۔ اُس نے آہستہ سے کہا:
“مہرمہ… مجھے معاف کردو کہ پہلے تم تک نہ پہنچ سکا۔ لیکن اب وعدہ کرتا ہوں… کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔”

پھر اُس نے پیار سے اُس کا ماتھا چوما۔

وہ دونوں کمرے میں لوٹ گئے۔ شہروز اُن کے درمیان پرسکون نیند سو رہا تھا۔

یہ اُن کی زندگی کے ایک نئے سفر کی شروعات تھی… جہاں اب مہرمہ اکیلی نہیں تھی۔


Epilogue

رات کی ٹھنڈی ہوا میں خاموشی بسی ہوئی تھی۔ فارم ہاؤس کے کمرے میں مدھم روشنی جل رہی تھی، اور باہر آسمان پر چاند اپنی روشنی بکھیر رہا تھا۔ مہرما اپنے بیٹے شہرور کو گود میں لیے کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔ وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھی، جیسے یقین ہی نہ آرہا ہو کہ یہ سب خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔

ماضی کی وہ کالی راتیں، وہ اذیتیں، وہ زنجیریں اور وہ بوجھ—سب اب پیچھے رہ گئے تھے۔ اس کا دل پہلی بار سکون میں دھڑک رہا تھا۔

پیچھے قدموں کی آہٹ آئی۔ وہ جانتی تھی کون ہے۔ پلٹی تو دیکھا، مجتبیٰ خاموشی سے دروازے کے پاس کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں تھکن بھی تھی اور سکون بھی۔

“اب بھی ڈرتی ہو؟” اس نے دھیرے سے پوچھا۔

مہرما کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ “ہاں… ڈرتی ہوں۔ یہ خوشی کہیں پھر چھن نہ جائے۔”

مجتبیٰ آگے بڑھا، اس کے قریب بیٹھ گیا۔ شہرور کو آہستگی سے اپنی گود میں لے لیا اور پھر مہرما کا ہاتھ پکڑ کر مضبوطی سے تھام لیا۔

“یہ خوشی اب کسی سے نہیں چھنے گی۔” اس کی آواز پر اعتماد تھی۔ “میں نے سب کچھ پیچھے چھوڑ دیا ہے—وہ گھر، وہ لوگ، وہ رشتے جو صرف زنجیر تھے۔ اب صرف ہم ہیں۔ تم، میں اور ہمارا بچہ۔ یہی میرا جہاں ہے۔”

مہرما نے اس کے سینے سے لگ کر آنکھیں بند کر لیں۔ دل میں برسوں سے جمی کالی گھٹائیں بکھر گئیں، جیسے کسی نے روشنی کی کھڑکی کھول دی ہو۔

مجتبیٰ نے شہرور کے ماتھے پر بوسہ دیا، پھر مہرما کے بالوں پر۔
“یہ وعدہ ہے میرا، مہرما۔ اب کبھی تمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ زندگی کے ہر موڑ پر تمہارے ساتھ رہوں گا۔”

کھڑکی کے پار چاندنی تیز ہوگئی۔ وہ رات جو کبھی اندھیروں کی علامت تھی، آج روشنی سے جگمگا رہی تھی۔

مہرما نے دل ہی دل میں دعا کی:
“یا اللہ! یہ سکون، یہ محبت، اور یہ رشتہ ہمیشہ سلامت رکھنا۔”

اور یوں ان دونوں کی کہانی، جو درد اور جدائی سے شروع ہوئی تھی، آخرکار محبت، اعتماد اور نئے آغاز پر ختم ہوئی۔


✨ The End