51.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

کانفرنس روم میں ہلکی ہلکی سرگوشیاں، کاغذوں کی کھسکنے کی آواز، اور چمکدار میز پر قلم کی ہلکی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔
مجتبیٰ میز کے سرے پر بیٹھا سامنے رکھی پریزنٹیشن پر نظر دوڑ رہا تھا۔ لاہور کی نئی سیمنٹ پارٹی مستقبل کی شراکت داری، منصوبہ بندی اور فیصد کے بارے میں بات کر رہی تھی—مگر یہ سب اس کے کانوں تک جیسے پہنچ ہی نہیں رہا تھا۔

وہ ابھی کیا کر رہی ہو گی؟
کھانا کھایا ہے؟
کیا وہ بھی میرے بارے میں سوچتی ہے جیسے میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں؟

اس کا ہاتھ تھوڑی پر ٹکا ہوا تھا، جیسے اپنی سوچوں کی دوری کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہو—مگر وہ یہاں نہیں تھا۔ نہ اس میٹنگ میں، نہ اس شیشے کی عمارت میں—بلکہ اس خاموش فارمز ہاؤس میں، جہاں شاید وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی باہر دیکھ رہی ہو گی۔

“سر، آخری شق پر آپ کی منظوری چاہیے؟” منیجر کی آواز آئی۔

مجتبیٰ نے پلک جھپکی، خود کو حال میں لاتے ہوئے کہا، “منظور ہے۔”

میٹنگ مزید آدھے گھنٹے گھسٹتی رہی، پھر ختم ہوئی۔ سب نے ہاتھ ملایا اور کمرے سے نکل گئے۔
مجتبیٰ اپنی جگہ بیٹھا رہا، میز پر انگلیاں ہلکے ہلکے بجا رہا تھا۔
جیسے ہی آخری شخص باہر گیا، اس نے فوراً فون نکالا۔
انگوٹھا لمحے بھر کو رکا، مگر اس کا خیال آتے ہی یہ جھجک ختم ہو گئی۔

اس نے نمبر ملایا۔

پہلی گھنٹی پر ہی اس نے فون اٹھا لیا۔
“السلام علیکم!”

چند لمحوں کے لیے وہ خاموش رہا۔ بس آنکھیں بند کر کے اس کی آواز کو ایسے محسوس کیا جیسے سرد صبح میں دھوپ کا لمس۔

“وعلیکم السلام،” اس نے آخرکار آہستہ کہا۔ الفاظ جیسے سانس کے ساتھ نکلے۔

وہ چونکی، اس کی سانسوں کا فرق محسوس کرتے ہوئے بولی، “سانس اتنی تیز کیوں چل رہی ہے؟ کہیں بھاگ کر تو نہیں آ رہے؟”

اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ “یہ تمہاری آواز کا جادو ہے۔ پتہ نہیں تمہیں دیکھ کر کیا حال ہو گا میرا۔”

وہ شکر گزار تھی کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتا، کیونکہ اس کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی تھی۔ مگر اس نے لہجے میں شرارت ڈال کر کہا، “کیا یہ شادی صرف ایک سمجھوتا نہیں ہے؟”

اس کی مسکراہٹ مدھم ہو گئی—غصے سے نہیں بلکہ کسی بھاری احساس سے۔ “اب بھی تم یہی سمجھتی ہو؟”

کھڑکی کے پاس ٹیک لگاتے ہوئے اس نے شام کی ہوا کو چہرے پر محسوس کیا۔ “میری سوچ سے کوئی فرق پڑتا ہے؟”

وہ کرسی پر پیچھے ٹکا، چھت کو دیکھتے ہوئے بولا، “تم ہمیشہ منفی سوچتی اور بولتی ہو۔ ایک دن…” اس کا لہجہ نرم پڑ گیا، “ایک دن میں تمہیں بدل دوں گا۔”

اس نے آنکھیں بند کر کے دھیرے سے کہا، “میں اُس دن کا صبر سے انتظار کروں گی۔”

اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جو سیدھا اس کے دل تک اتر گیا۔ خدا جانے اس لمحے اس پر کیا گزری—شاید اس کی آواز کا اثر، شاید اس کا تنہا ہونا، یا شاید بس… وہ۔

“خیال رکھنا،” اس نے دھیرے سے کہا۔
پھر بنا سوچے، بنا ارادہ کیے، الفاظ خود بہ خود اس کے لبوں سے نکل گئے جیسے ہمیشہ سے وہیں تھے،
“I love you.”

اس کی آنکھیں یکدم کھل گئیں۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، کال ختم ہو گئی۔

وہ وہیں کھڑی رہی، فون اب بھی کان سے لگا ہوا، اور دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔